سپریم کورٹ یا جی ایچ کیو نہیں‘ اپنے دل کی طرف دیکھئے
  10  اپریل‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

اللہ تعالیٰ نے ہمیں کیا نہیں دیا۔اپنے آپ کو ہم بد قسمت کیوں کہیں۔ ہم اس کی کن کن نعمتوں کو جھٹلائیں گے۔ یہ کیوں نہ مان لیں کہ ہم نا اہل ہیں۔ کام سے جی چراتے ہیں۔ اس انتظار میں رہتے ہیں کہ کوئی دوسرا آئے اور ہمارا کام کردے۔ 1965میں انتظار کرتے رہے امریکہ ہمارا ساتھ دے گا۔ 1971میں تو ساتھ میں امریکی بحری بیڑے کا انتظار رہا۔ اب ہم نے سب کچھ چین پر چھوڑ دیا ہے۔ پہلے تصور یہ تھا کہ ہم امریکہ کی ضرورت ہیں اس لیے وہ پاکستان کو ٹوٹنے نہیں دے گا۔ اب ساری اُمیدیں چین سے وابستہ ہوگئی ہیں۔ لیکن خود ہم سارے ایسے کام کررہے ہیں جن سے پاکستان کے مختلف علاقوں میں دوریاں پیدا ہوتی ہیں۔ قدرت نے پاکستان کو کونسی نعمت اور طاقت نہیں دی جو ایک ملک کو مستحکم اور خوشحالی کرنے کے لیے مضبوط بنیاد ہوتی ہے۔70سال پہلے جب قائد اعظم کی قیادت میں ہم نے یہ عظیم ملک حاصل کیا اس وقت بھی ہماری زمینوں کے نیچے۔ پہاڑوں کے سینے میں تیل۔ گیس۔ تانبا۔ قیمتی پتھر موجود تھے۔ اس وقت بھی پانی کے ذخائر کی ضرورت تھی۔ لیکن ہم امریکی امداد پر بھروسہ کرتے رہے۔ ٹرینیں۔ ٹرک۔ پاکستانی جھنڈے اور امریکی جھنڈے کو ہاتھ ملاتا دکھاتے رہے۔ ہم اپنی گندم بھول کر امریکی گندم کھاتے رہے۔ اپنی گایوں۔ بھینسوں کا دودھ بھول کر خشک دودھ کے ڈبوں سے دودھ بناکر پیتے رہے۔ بے چارہ غالب کہتا رہا قرض کی پیتے تھے مے اور یہ سمجھتے تھے کہ ہاں رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن ادھر ہمارے پاکستان کا خواب دیکھنے والے کہتے رہے۔ اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی ہماری پرواز میں کوتاہی آتی رہی۔ بلکہ ہمارے پر ہی کاٹ دیے گئے۔ ہم زندہ ہوتے ہوئے مردوں کے برابر تھے مگر ہم غیر ملکی رزق کو ہی من و سلویٰ سمجھتے رہے۔ آج بھی ہم سنبھلنے کو تیار نہیں ہیں۔ دیکھ رہے ہیں۔ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے۔ بھارت نے کتنے ڈیم بنالیے ہیں وہاں زراعت کتنی ترقی کررہی ہے۔ سبز انقلاب بھارتی پنجاب میں آیا ہوا ہے ۔ہم ابھی تک وہی صوبائیت میں لپٹے ہوئے ہیں۔ سائنسی انداز میں سوچتے ہی نہیں ہیں۔ جو فیصہ انجینئروں کو کرنا چاہئے ۔ وہ سیاستدان کررہے ہیں قوم پرست کررہے ہیں ۔ سب سے بڑی ضرورت توانائی ہے۔ بجلی ہے۔ لیکن وہی ہماری ترجیح نہیں ہے۔ میں سوچ رہا تھا کہ کالا باغ ڈیم یا کسی بھی نام سے کوئی بڑا ڈیم سی پیک کا حصّہ کیوں نہیں ہے۔ چین کے جب لاکھوں کارکن یہاں کام کررہے ہوں گے۔ جب اس کے اربوں ڈالر کے منصوبے زیر تکمیل ہوں گے تو بجلی کی بہت زیادہ ضرورت تو اس کو بھی ہوگی۔ میں نے آپ سے پوچھا تھا کہ کالا باغ ڈیم سی پیک کا حصّہ کیوں نہیں بن سکتا۔چین تو ہم سب کا دوست ہے۔ چین اور بھارت کا آپس میں تصادم بھی ہے۔ چین کی دانش پر پنجاب کو بھی اعتبار ہے۔ سندھ بھی چین کو پاکستان کا دوست خیال کرتا ہے۔ کے پی کے کو بھی چین پر بھروسہ ہے۔ بلوچستان بھی سی پیک کے فیوض سے بہرہ مند ہورہا ہے۔ چین سے کیوں نہ مشورہ کرلیا جائے اس سے سائنسی۔ انجینئرنگ کی بنیاد پر کیوں نہ رائے لی جائے۔ رانا سہیل خلیل پور سیالکوٹ سے کہتے ہیں:اگر ہم اور ہماری حکومت چین پر زور دے تو وہ کالا باغ ڈیم بناسکتا ہے ۔آزاد جموں کشمیر میں چوکی سے ایم ثاقب کی رائے یہ ہے کہ اگر کالا باغ ڈیم نہیں بن سکتا تو چین سے چھوٹے چھوٹے ڈیم بنوائیں۔ اس پر مزید پیغامات کا بھی انتطار رہے گا۔ امریکہ سے پاکستان کی دوستی پر زیادہ تر پیغامات امریکہ کے خلاف ہی ہیں۔ ایم نواز گوجر خان سے کہتے ہیں۔امریکہ جانتا ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر قیادت کے پاس اچھا موقع ہے کہ سی پیک کی صورت میں کالا باغ ڈیم بنوالے۔ کیونکہ اب نہیں تو کبھی نہیں۔ لیکن پاکستان کے سیاستدان تو وطن سے کھلواڑ کررہے ہیں۔ پوری قوم کو بے وقوف بنایا ہوا ہے۔ اے رزاق باغ آزاد کشمیر سے کہتے ہیں: امریکہ تو کسی بھی مسلم ملک کو ترقی کرتا نہیں دیکھ سکتا۔ ہر اسلامی ملک میں انتشار پھیلانا اس کا مشن ہے۔ جس میں وہ اب تک کامیاب ہے۔ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے پانچ دریاؤں سے نوازا تھا۔ پانی بھی وافر مقدار میں تھا۔ اتنے بڑے سیلاب آتے تھے بستیاں بہہ جاتی تھیں۔ ہم ہجرت کرکے جھنگ میں آباد ہوئے تھے۔1948 اور 1951 میں سیلاب آئے۔ 1951 کا بہت ہی خطرناک تھا۔ ہم اپنے گھروں کو ڈوبتے ہوتے دیکھتے رہے۔ ایک بنیادی ضرورت کو ہم نے جذباتی نعرے بازی کی نذر کردیا ہے۔ پھر لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاج کرنے نکلتے ہیں۔ بجلی کمپنیوں کے باہر احتجاج کرتے ہیں۔ ریکوڈک۔ سینے میں اربوں ڈالر کا سونا تانبا لیے فرہاد کے تیشے کا منتظر ہے۔ اس پر کام ہورہا تھا۔چلّی کی ایک کمپنی نے یہاں ایئرپورٹ بنایا۔ مزدوروں کے کوارٹر بنائے ۔ روز کچھ معدنی دولت نکلتی تھی۔ پاکستان کو روزانہ کئی ہزار ڈالر ملتے تھے۔ لیکن عدلیہ کی آزادی کو یہ آمدنی ایک آنکھ نہیں بھائی۔ کام روک دیا گیا۔ کئی سال ہوگئے ہیں عالمی عدالت میں پاکستان مقدمہ ہار گیا ہے۔ جرمانے کے طور پر بڑی رقم دینا ہوگی۔ اس منصوبے میں تحقیق اور دریافت کے مطابق پاکستان کو اتنی آمدنی ہوسکتی ہے کہ ہم سب قرضے اتار سکتے ہیں۔ یہ بیورو کریسی پاکستان کو قرضوں سے آزاد دیکھنا ہی نہیں چاہتی۔ تھر کا کوئلہ سالہا سال سے بیانات کی بھینٹ چڑھ رہا ہے۔ تیل ہمارے پاس ہے گیس ہمارے پاس۔ انتہائی قیمتی پتھر۔ لیکن ہم نہ اسکولوں میں مقامی معیشت پڑھاتے ہیں۔ نہ خود کفالت کا درس دیتے ہیں۔ جوانوں کو یہی بتایا جاتا ہے کہ امریکہ کی کسی یونیورسٹی میں داخلہ مل جائے تو زندگی سنور جائے گی۔ بزنس ایجوکیشن دی جارہی ہے۔ زرعی تعلیم۔ معدنی تعلیم نہیں دی جاتی۔ جیالوجی(ارضیات) کے شعبے بتدریج بند ہورہے ہیں۔ اب سب کو انتظار ہے پانامہ کیس کے فیصلے کا۔ جیسے اس کے آتے ہی ملک میں دودھ کی نہریں بہنے لگیں گی۔ ملک سے کرپشن ختم ہوجائے گی۔ خلق خدا راج کرے گی۔ واقعی اگر ایسا ہوسکتا ہے تو کیا ہم اس کی تیاری کررہے ہیں۔ فیصلہ جو بھی ہو۔ اس کے نتیجے میں جو کچھ ہوسکتا ہے ۔ کیا پاکستان مسلم لیگ(ن) اسکی تیاری کررہی ہے۔ کیاپی پی پی نے کوئی حکمتِ عملی بنائی ہے کیا پی ٹی آئی نے کوئی متبادل اقدامات کیے ہیں۔ اس میں بھی ہم یہی سوچ رہے ہیں کہ سب کچھ از خود ہوجائے گا۔ ہم بنیادی طور پر نا شکرے اور کام چور ہیں۔ 70سال میں ہم نے الٹا سفر زیادہ کیا ہے۔ آگے کم گئے ہیں۔ کسی نہ کسی یونیورسٹی کو یہ طے کرنا چاہئے کہ ہم اصولاً کتنے سال پیچھے ہیں۔ اپنے وسائل دریافت کرنے میں لوگوں کی زندگی آسان بنانے میں۔ کبھی ہم جی ایچ کیو کی طرف دیکھتے ہیں کوئی مسیحا وہاں سے ظہور پذیر ہوگا۔ کبھی سپریم کورٹ سے سار امیدیں باندھ لیتے ہیں۔ ہم میں جس کو جو کچھ کرنا چاہئے وہ نہیں کرتے۔ایک سنجیدہ مسئلہ فاٹا کے طلبہ کا ہے۔ جن کے وظائف ایک سال سے بند ہیں۔ ہمیں یہ اطلاع زرمین خان نے گورنمنٹ ڈگری کالج جمرود سے دی ہے۔ یہ بہت زیادتی ہے۔ سجاد صاحب سوشل ایکشن پلان ٹیچر ایسوسی ایشن گلگت بلتستان کے جنرل سیکرٹری ہیں۔ یہ ٹیچرز 20سال سے ڈیوٹی دے رہے ہیں۔ تنخواہ صرف 5ہزار روپے ماہانہ۔ وہ بھی دسمبر2016سے بند ہے۔ وفاق اور صوبہ انہیں مستقل بھی نہیں کررہے ہیں۔ راجن پور سے حبیب اللہ صاحب کو شکایت ہے کہ ہم فوج کی اپنے شہدا کے لیے اسکیموں کا ذکر کرتے ہوئے پولیس کے شہداء کی بات کیوں کررہے ہیں۔ پولیس تو کوئی کام رشوت کے بغیر نہیں کرتی۔ ہر ایک کو تنگ کرتی ہے آپ کو پولیس سے کیوں اتنی ہمدردی ہے۔ آپ بتائیے کیا یہ صحیح کہہ رہے ہیں۔ کیا پولیس کے شہیدوں کیلئے بھی بھرپور اسکیمیں نہیں ہونی چاہئیں۔ ایس ایم ایس کیجئے ۔0331-7806800


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved