عمران خان اور ان کے سیاسی حریف
  11  اپریل‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
عمران خان نے جو بیان صدر ٹرمپ کے بارے میں دیا ہے کہ ان کے سیاسی حریف ایسا بیان دینے کی جرات کر سکتے ہیں؟ عمران خان اور دوسری قومی قیادت میں یہ بنیادی فرق ہے ۔ عمران خان اپنی سوچ کا آدمی ہے جبکہ ان کے سیاسی حریف کوئی کام کرنے سے پہلے یا کوئی بیان دینے سے پہلے اس بات کو دھیان میں رکھتے ہیں کہ مغربی ممالک کی قیادت اس کو کس طرح سے لے گی۔ کیا نواز شریف اور آصف علی زرداری امریکی صدر ٹرمپ کے بارے میں یہ بیان دے سکتے ہیں جو عمران خان نے دیا ہے؟ عمران خان سے امریکی صدر کے بارے میں سوال پوچھا گیا تو انہوں نے لگی لپٹی رکھے بغیر کہہ دیا کہ وہ ان کی سوچ سے زیادہ برے نکلے ہیں۔ پاکستان میں سیاسی بونے اور نام نہاد دانشور بالشتیے کہہ سکتے ہیں کہ بین الاقوامی شخصیات کے حوالے سے گفتگو محتاط رہ کر کرنی چاہیے۔ درحقیقت اپنی منافقانہ سوچ پر پردہ ڈالنے کے لئے یہ لوگ احتیاط کے دامن میں پناہ لیتے ہیں وگرنہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں فرانسیسی صدر اور جرمن چانسلر انجیلامرکل اپنا بے لاگ تبصرہ دینے میں ہچکچائے اور نہ انہوں نے سفارتی الفاظ کا سہارا لیکر گول مول باتیں کیں۔ آصف زرداری اور نواز شریف کا ''پتا'' نہیں کہ وہ یوں آزادانہ اپنی رائے کا اظہار کر سکیں۔ جن کے صدقے ان لوگوں کو اقتدار تک پہنچنا نصیب ہوتا ہے انہیں ناراض کرنے کا رسک یہ کیسے لے سکتے ہیں؟ یہ لوگ عمران خان کو طنعہ دیتے ہیں کہ ان میں میچورٹی نہیں ہے حالانکہ عمران خان کی نگرانی میں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے جو طرز حکمرانی متعارف کرایا ہے وہ ان کے اعلیٰ ویژن کا آئینہ دار ہے ۔ اداروں کو استحکام دینے اور انسانی ترقی کے لئے وسائل کی منصفانہ تقسیم کی باتیں عمران خان ہی کر سکتا ہے ' ان کے فرشتوں کو بھی انسانی ترقی کا مفہوم معلوم نہ ہوگا کہ وہ اس منزل کے حصول کے لئے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں۔ عمران خان نے درست کہا ہے کہ نواز شریف کی ترقی کا ماڈل سڑکیں اورفلائی اوور بنانا ہے۔ انسانی ترقی کا ماڈل ان کے پیش نظر ہوتا تو میٹرو بس پر اربوں روپے لگانے کی بجائے وہ صحت اور تعلیم پر توجہ دیتے۔ عمران خان غلطی کرتا ہے تو فوراً رجوع کرلیتا ہے لیکن یہ لوگ غلطی پر اصرار کرتے ہیں اور یوں تباہی کا عمل رکنے کی بجائے اور تیزی سے آگے بڑھتا ہے۔ وقت کے دانشور نے ہمیشہ یہ جملہ لکھا اور کیا خوب لکھا کہ انسان غلطی سے نہیں غلطی پر اصرار سے تباہ ہوتا ہے ۔ عمران کے رجوع کرنے کا عمل ایک مثبت عمل ہے مگر اس کو بنیاد بنا کر سیاسی حریف عمران کو یوٹرن خان کا نام دیتے ہیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ عمران نے خیبرپختونخواہ میں مستقل مزاجی سے حکومت کی ہے اور اس کی پالیسیوں میں ایک تسلسل موجود ہے۔ بیانات یا غصے میں کہا گیا کوئی ایک آدھ جملہ واپس لینا یوٹرن نہیں ہے اصل یوٹرن یہ ہے کہ آپ کوئی پالیسی دیں اور پھر واپس لے لیں یا پھر حکومتی عمال کو پے در پے تبدیل کرنے کی روش اختیار کرکے اپنے فیصلوں کی خود سے نفی کر دیں جیسا کہ ہمیں سندھ میں دکھائی دیا ہے۔ ایک اور آئی جی حکومت سندھ کے نشانے پر ہے۔ گزشتہ 9 سالوں میں ایک خبر کے مطابق پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت گیارہ آجی جیز کو تبدیل کر بیٹھی ہے۔ یہ کیسی مستقل مزاجی ہے؟ عمران خان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد ناصر خان درانی کو خیبرپختونخواہ کا آئی جی بنایا اور آج چار سال گزر جانے کے بعد بھی وہی آئی جی کے منصب پر براجمان ہیں۔ اس دور میں پیپلزپارٹی دو وزرائے اعلیٰ تبدیل کر بیٹھی ہے جبکہ عمران خان کی چوائس اول دن پرویز خٹک بنے اور آج بھی وہ پورے اختیار کے ساتھ وزارت اعلیٰ کے منصب پر تشریف فرما ہیں۔ زرداری دبئی بیٹھے ہوں یا وہاں بیٹھ کر ریمورٹ کنٹرول کے ذریعے وزارت اعلیٰ چلانے کو اعزاز سمجھتے ہیں جبکہ عمران خان نے اپنے وزیراعلیٰ کو اختیار دیا ہے ۔ عمران خان کا یہ طرز حکمرانی انہیں اپنے سیاسی حریفوں سے ممتاز کرتا ہے کہ وہ ذمہ داری' اختیار اور احتساب کے تین نکاتی گورننس سٹائل پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کی اس خوبی کا اعتراف آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا صاحب نے بھی برملا کیا۔ آجی پنجاب ایک ٹی وی پروگرام میں تشریف فرما تھے۔ جہاں خیبرپختونخواہ پولیس اور پنجاب پولیس کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے پروگرام کے میزبان نے ان سے خیبرپختونخواہ کی پولیس کی بہتری کے حوالے سے جب پوچھا تو انہوں نے نشاندہی کی کہ وہاں پولیس کی کارکردگی بہتر بنانے اور اسے سیاسی مداخلت سے پاک رکھنے کے لئے ایک اچھا قانون موجود ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسا کوئی قانون پنجاب میں نہیں ہے اور یہ ہے پنجاب کے حکمرانوں کا اصل چہرہ اور ان کے دعوئوں کی حقیقت کے اندر سے سب کچھ ویسے کا ویسا ہے جیسا 1998ء میں تھا یا اس سے بھی پیچھے چلیں جائیں تو 1985ء میں شریف فیملی کے طرز حکمرانی میں دکھائی دیتا تھا۔ پولیس کی وردیاں تبدیل ہونے سے کیا ہوگا کہ اندر سے وہی میلاپن رہے گا چونکہ پولیس کو آزادانہ طریقے سے کام کرنے نہیں دیا جارہا۔ ذمہ داری' اختیار اور احتساب' جی ہاں یہی قاعدہ کی بات ہے جو دانستہ فراموش کی جاتی رہی ہے ۔ عمران خان کو طعنہ دینے والے یہ بات کیوں بھول جاتے ہیں کہ اس نے خیبرپختونخواہ میں ادارے بنانے اور ان کے استحکام کا سوچا اور اس پر مستقل مزاجی سے کام کیا۔ کیا کوئی صوبہ بشمول پنجاب جہاں ترقی کے بڑے دعوے کئے جاتے ہیں خیبرپختونخواہ کے مقابلے کا لوکل گورنمنٹ سسٹم متعارف کراسکا ہے؟ ایک ایسا زبردست بلدیاتی نظام جہاں اختیار صحیح معنوں میں گائوں کی نچلی سطح تک منتقل کیا گیا۔ ویلج کونسل کی سطح تک وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنانے والے عمران خان کو سیاسی بالشیتے طعنے دیتے ہیں کہ اس کو سیاست نہیں آتی۔ پاکستان کا عام آدمی سمجھ چکا بلکہ عمران خان کو واقعتاً ان جیسی گندی سیاست نہیں آتی۔ ایک ایسی مکروہ سیاست جس کا اولین درس مغرب کی غلامی سے شروع ہوتا ہے اور مغرب کے غلام بن کر یہ سکہ بند سیاستدان اپنے ملک کے عوام کا جینا دوبھر کر دیتے ہیں چنانچہ اول و آخر ان کی سیاست کا مضمون ہے کہ اقتدار حاصل کرنا ہے اور برسراقتدار رہنا ہے چاہے اس کی کوئی بھی قیمت ادا کیوں نہ کرنا پڑے۔ عمران خان ان سٹیئریو ٹائپ کرداروں سے الگ تھلگ اپنے مزاج اور اپنی سوچ کا آدمی ہے۔ وہ ان سے کہیں بڑھ کر ویژ نری ہے لیکن تواتر سے جھوٹ بول بول کر گوئبلز کے ان شاگردوں نے عمران خان کی شخصیت کو مضحکہ خیز بنانے کی مذموم کوشش کی ہے۔ ان کی سازباز اور ان کا گٹھ جوڑ عیاں ہوچکا' عوام ایسے لوگوں کے بہکاوے میں اب کیوں آئیں گے کہ پاکستان کی تنزلی اور عوام کی پستی کا ذمہ دار بلاواسطہ یہی نام نہاد سیاسی مافیا ہے۔ جوں جوں الیکشن قریب آئیں گے ان کا گراف گرے گا کہ پانچ سال کا یہ عہد بھی تمام ہوا مگر عوام کے مسائل میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے ۔ عوام کا معیار زندگی پہلے کی نسبت بہتر ہونے کی بجائے نیچے آیا ہے جبکہ عوام کے نام نہاد رہنمائوں کے خزانے پہلے کے مقابلے اور بڑھ گئے ہیں جو اپنے آپ کو پرو پاکستان کہتے تھے ان کے دعوئوں کی قلعی بھی کھل گئی ہے کہ ان پانچ سالوں میں پاکستان پر غیر ملکی قرضوں کا جو بوجھ لادھ دیا گیا ہے گزشتہ 69 سالوں میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
89%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
11%



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved