جہالت اور جذبات کا ملاپ انتہائی خطرناک
  14  اپریل‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

نصف صدی سے زیادہ عرصہ ہوگیا ہے۔ حالات کا مشاہدہ کرتے۔ پھر ان کا تجزیہ کرتے۔ دل کو یہ تسکین ہے کہ جو کچھ لکھا۔ وہ حرف غلط ثابت نہیں ہوا۔ ہم نے اس وقت فوجی اور منتخب آمروں کے غلط کو غلط اور صحیح کو صحیح کہا۔ جب سارے تجزیہ کار ان کو قوم کی آخری امید قرار دے رہے تھے ۔ اس کے نتیجے میں جیل کی کوٹھڑی میں بھی کچھ عرصہ گزارا۔ بے روزگاری بھی رہی۔ لیکن اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رہا۔ دولت تو نہیں کمائی۔ مگر عزت ہر دور میں ملتی رہی۔ اب بہت ہی عجیب و غریب دَور آیا ہے۔ حکومت کے مزے لوٹنے والے صبح سے رات تک سرکاری خرچ پر ایک ایک لمحہ گزارنے والے بھی اپوزیشن کے لہجے میں بات کررہے ہیں۔ اکثریت بہت ہی مشکل سے زندگی بسر کررہی ہے مگر ان کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے ایک بھی ایسا قدم نہیں اٹھارہے جس سے بے روزگاروں کو روزگار مل سکے۔ جس سے عام لوگوں کی فی کس آمدنی میں اضافہ ہوسکے۔ میں نے ایک آمر کے زمانے میں ایک دعائیہ نظم لکھی تھی۔ اس سے پہلے کہ عقیدوں کی تجارت سیکھوں اس سے پہلے کہ میں طاقت کی عبادت سیکھوں اس سے پہلے کہ حقائق میں خیانت سیکھوں اس سے پہلے کہ تعلق میںر ذالت سیکھوں ربّ کعبہ میرے ہاتھوں سے قلم لے لینا انگلیاں شل ہوں مری جسم سے دم لے لینا میں اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہر لمحے ادا کرتا ہوں کہ ابھی تک اس نے مجھے عقیدوں کی تجارت سے بچا رکھا ہے۔ میں حقائق میں خیانت سے گریز کرتا ہوں۔ طاقت کی عبادت کی طرف مائل ہی نہیں ہوتا۔ تعلقات کا احترام کرتا ہوں۔ کسی چھوٹے سے بھی تو تڑاخ سے بات نہیں کرتا ہوں۔ لیکن اب بہت ہی پریشان کن صورت حال ہے۔ تجزیے روزانہ ہورہے ہیں۔ غلط ثابت ہوتے ہیں۔ کوئی شرمندہ نہیں ہوتا ہے۔ اظہار کی آزادی کے لیے ہم میں سے کتنے جاں سے گزر گئے۔ کتنے گھر اُجڑ گئے۔ اب جب یہ آزادی میسر آئی ہے۔24گھنٹے کچھ نہ کچھ بولا جارہا ہے۔ لیکن عوام کے مسائل حل نہیں ہورہے ہیں۔ ملک کو استحکام نہیں مل رہا ہے۔ صبح سے ایک کشمکش نظر آتی ہے۔ فوجی اور سیاسی قیادت کے درمیان۔ سیاسی قیادتوں کے مابین۔ مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے بیچ میں۔فرقوں کے مسالک کے تصادم ہیں۔ ملک کے انتظامی سربراہ وزیر اعظم یہ نہیں بتاتے کہ ہماری سمت کیا ہے۔ ہم کس طرف جارہے ہیں۔ ہماری معیشت کیا ہے۔ آزاد ہے۔ ملی جلی ہے۔ پابند ہے۔ آزادیٔ اظہار اور جمہوریت افراتفری اور نفسا نفسی کا سبب بن رہی ہے ۔ استحکام کا نہیں۔ میڈیا اتنا آزاد ہوگیا ہے کہ ناظرین۔ قارئین اور سامعین اب یہ سوال کرنے لگ گئے ہیں کہ کیا میڈیا ذمہ دار ہے کیا میڈیا مایوسی پھیلارہا ہے۔ ہر محفل میں یہ سوال ہوتا ہے۔ میڈیا نے بہت سے دیکھنے والوں کو اعصابی بیماریوں میں مبتلا کردیا ہے۔ موت کی خبر یا خوشی کی ،ایک سے لہجے میں سنائی جاتی ہے۔ کراچی کلب۔ پاکستان کے سب سے بڑے تجارتی مرکز کے شہریوں کی ایک اچھی تفریح گاہ ہے۔ زیادہ تر تجارت پیشہ اس کے ارکان ہیں۔ خاص طور پر میمن برادری۔ انہوں نے اس ہفتے مکالمے کا موضوع یہی رکھا ۔ کیا ہمارا میڈیا ہمارے معاشرے کا حقیقی عکاس ہے مختلف شعبوں سے 21نمائندہ شخصیتوں کو مدعو کیا گیا تھا۔ صدرت اُردو کے مقبول شاعر۔ سائنسدان اور کئی نسلوں کے استاد ڈاکٹر قاسم پیرزادہ کی تھی۔ ساحر لودھی بھی تھے۔ اداکار شکیل۔ آصف رضا میر۔سنگیتا۔ حنا دلپذیر ۔زیبا بختیار۔ صلاح الدین صلو۔ مصطفی قریشی۔ وسیم بادامی۔ مولانا اسد تھانوی۔ مظہر عباس۔ جنرل(ر) تنویر نقوی۔ اور یہ خاکسار۔ سب نے ہی میڈیا کو حقیقی عکاس ماننے سے انکار کردیا۔ خبروں کے علاوہ ٹاک شوز۔ ڈراموں کا بھی ذکر رہا۔ پی ٹی وی کے دور کی تعریف ہوتی رہی۔ سامعین تالیاں بجاتے رہے۔ میں میڈیا سے 55سال سے وابستہ ہوں۔ مجھے شرم آتی ہے۔ جب میرے ہم وطن بزرگ۔ مائیں۔ بیٹیاں۔ بہنیں میڈیا سے گلے شکوے کرتے نظر آتے ہیں۔ میں نے اپنی نئی انگریزی کتاب INDIFFERENCE IN THE TIMES OF EXTREMISM میں ایک مضمون اسی عنوان کے تحت شامل کیا ہے MEDIA WINS FREEDOM BUT LOSES RESPECT ''میڈیا نے آزادی حاصل کرلی۔ عزت کھودی۔''میڈیا مالکان۔ سینئر اینکر پرسنز کو اس پر غور کرنا چاہئے اس محفل کے صدر۔ قاسم پیر زادہ نے معاشرے کی تصویر کھینچتے ہوئے کہا کہ اب وہی قومیں ترقی کرسکتی ہیں جو علم پر مبنی ہوں گی۔ پاکستان کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ہم جہالت اور جذباتیت دونوں کا شکار ہیں۔جہالت اور جذباتیت دونوں اکٹھے ہوں تو بڑا مہلک ہتھیار بن جاتے ہیں۔ پیر زادہ صاحب کا یہ جملہ ہمارے مرض کی بالکل درست تشخیص ہے۔ پاکستانی قوم جاہل بھی ہے اور جذباتی بھی۔ ہمارے حکمراں اور غیر ملکی طاقتیں۔ اور خاص طور پر بین الاقوامی کمپنیاں۔ ہماری جہالت اور جذباتیت سے ہی فائدہ اٹھارہی ہیں۔ اربوں ڈالر کمارہی ہیں۔ چند حکمراں خاندان قوم کو جاہل رکھنے کے لیے پالیسیاں بناتے ہیں اور جذباتی رکھنے کے لیے مذہب اور وطن کا سہارا لیتے ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام نے صد سالہ تقریبات منعقد کیں۔ مولانا فضل الرحمن کی تقریر کو سب نے سراہا ہے۔ امام کعبہ کی موجودگی نے اس کی توقیر میں اضافہ کیا ہے۔جمعیت علمائے اسلام۔ جمعیت علمائے ہند سے آغاز ہوئی تھی۔ میرے والد محترم صوفی شیر محمد اس سے ہندوستان سے بھی وابستہ رہے۔ پاکستان میں بھی۔ لیکن جمعیت علمائے ہند اور آج کی جمعیت علمائے اسلام میں وہی فرق ہے جو بھٹو کی پی پی پی اور آج کی پی پی پی میں ہے۔ جمعیت علمائے ہند نے تو اب سیاست ترک کرکے اپنے آپ کو فلاحی کاموں کے لیے وقف کرلیا ہے۔ دہلی میں ان کے صدر دفاتر میں میرا جانا ہوا تھا۔ پورے ہندوستان میں مسلمانوں کی معاشرتی ۔ عائلی۔ معاشی خدمات میں مصروف ہیں۔ پاکستان اس وقت جن بحرانوں سے گزر رہا ہے۔ اس کی مذہبی جہتیں بھی ہیں۔ خاص طور پر دہشت گردی اور انتہا پسندی میں تو مذہب کا سہارا ہی لیا جارہا ہے۔ اس انتہا پسندی کو علمائے حق ہی ختم کرسکتے ہیں۔ اسلام اعتدال کا مذہب ہے۔ محبت۔ امن و آشتی کا۔ لیکن مسجدیں اور مدارس۔ دوریاں بڑھاتے ہیں۔ ہمارے علما تو بنی اسرائیل کے انبیا کا درجہ رکھتے ہیں۔ بر صغیر میں علما اور صوفیا نے اسلام کی اشاعت کی ۔ مذہبی جراید۔ کتابیں۔ اس سلسلے میں مرکزی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ انتہا پسند نوجوانوں سے مکالمہ علما کو ہی کرنا چاہئے۔ یہ وزیر داخلہ۔ جنرلوں یا پولیس افسروں کا کام نہیں ہے۔ ہتھیاروں کا مقابلہ ہتھیاروں سے ہوسکتا ہے لیکن عقائد اور مسلک کو ہتھیاروں سے کچلا نہیں جاسکتا۔ اور نہ ہی ڈالر۔ درہم یا دینار سے خریدا جاسکتا ہے۔ اس ضمن میں پاکستان کے علما کا کردار مثالی ہے نہ ذمہ دارانہ۔ان علما کا یہ فرض ہے کہ وہ اسلامی ملکوں کے نوجوانوں کے درمیان رشتے استوار کریں۔ اسلامی ملکوں میں کیا تحریکیں چل رہی ہیں۔ نوجوانوں کی سوچ کیا ہے۔ جامعة الازہر۔ سعودی عرب اور ایران کے دارُالعلوموں میں کیا پڑھایا جارہا ہے۔ ملائشیا انڈونیشیا میں کونسی تحریکیں سرگرم ہیں۔ علما کو چاہئے کہ وہ پاکستانی نوجوان کو ان سے آگاہ کریں۔ اتحاد بین المسلمین کا یہی طریقہ ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے۔ایس ایم ایس کیجئے۔0331-7806800


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved