اندرونی محاذ
  17  اپریل‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
پاکستان بیک وقت تین محاذوں پہ نبرد آزماہے ۔ مشرِ قی محاذ پہ روائتی حریف بھارت کی ڈھٹائی اور ہٹ دھرمی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ۔ مغربی محاذپہ افغان سرزمین سے دراندازِی اور دہشت گردی کا معاملہ بھی روز روشن کی طر ح عیاں ہے۔افغان کٹھ پتلی حکومت اور مودی سرکار کی ملی بھگت کا خمیازہ تمام خطے کو بھگتنا پڑرہاہے ۔ تیسرا محاذ اپنے گھر میں کُھلاہواہے ۔اندرونی خلفشار معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہاہے ۔ کھل بھوشن یادو اور عزیر بلوچ کے اعترافی بیانات معمولی سی فہم رکھنے والے انسان کی بھی آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی ہیں ۔پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے ملک کے طول وعرض میں دہشت گردی کا جال پھیلایا گیا ۔ عہد حاضر کی اِ س بدترین ریاستی دہشت گردی کا کلنک بھارت کے ماتھے پہ سجاہے ۔ ہماری کمزوریوں اور خامیوں کو ایندھن بناکے تعصّب ،فرقہ واریت اور لاقانونیت کی آگ میں ہزاروں بے گناہوں کو جلاکر خاک کیا گیا ۔ دُشمن سے کیا گِلہ وہ تو اپنا کام کرتا رہا۔ مقامِ افسوس یہ ہے کہ دُشمن کو دہشت گردی کے لئے ’کارندے ‘ او ر’ ہرکارے‘ وافر مقدار میں ہمارے گھر سے ہی دستیاب ہوتے رہے ۔ ہماری معزز سیاسی جماعتوں کی سرپرستی میں اِن بھیڑیوں نے مظلوم عوام کا خون چوسا ۔ قتل وغارت گری کا بازار گرم کیا ۔ ملک کے وسائل کو لوٹا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناک کے نیچے ملکی قانون کی دھجیاں بکھیری گئیں۔ یہ المیہ ہے کہ قانون ساز اداروں کے معزز ارکان کی آشیر باد سے ٹکے بھاؤ بکنے والے گلی محلے کے ’ غُنڈے موالی‘ ملک کے سب سے بڑے شہر میں عوام کی تقدیر کے فیصلے کرنے لگے۔ اِ س حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ 1988 ؁ء کے بعد سے سندھ کے شہری علاقوں میں ہونے والا کوئی الیکشن بھی لسّانی دہشت گردی کے اثرات سے پاک نہیں تھا ۔ قومی سوچ اور تعمیری جذبہ رکھنے والی قدآور سیاسی شخصیات کو دھونس، دھاندلی اور تشدّد کے ذریعے عوامی نمائندگی سے محروم رکھا گیا ۔ اِ س زہریلی سیاست کے اثرات اب نمایاں ہوچکے ہیں۔کمال یہ ہے کہ ان دہشت گردوں کے سرپرست آج بھی اپنی ذمّہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں ۔صولت مرزا کی گرفتاری سے پھانسی تک کے واقعات پہ غور کریں۔ لندن سے چلائی جانے والی جماعت نے کمالِ ہوشیاری سے مُنہ ڈھیلا کرکے ' لاتعلقی ' کا اظہار کردیا ۔اب یہی قصہ ’ عزیر بلوچ‘کے معاملے میں دہرایا جارہاہے۔اُن کے ’ سرپرست ‘ اور ’رفیق ‘ بڑے اعتماد سے لاتعلقی کا اظہار فرمارہے ہیں۔یہ حقیقت البتّہ روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ کراچی میں لسّانی تشدّ د ایم کیو ایم اور پی پی پی کی سرپرستی میں کروایا گیا ۔ اِ س خونی کھیل کی سرپرستی ’ را ‘ نے کی اور اِ ن دونوں جماعتوں کی صفوں میں لسّانی فسادات کروانے والے عناصر پناہ لے کے بیٹھے رہے۔ حکومت نے قانون نا فذ کرنے والے اداروں کے ذریعے عوام کی جان و مال کا تحفظ کرنے کے بجائے چوروں لٹیروں اور دہشت گردوں کا تحفظ کیا ۔ اندرونی محاذ پہ جاری اِ س کشمکش کی کئی جہتیں اور بھی ہیں۔تلخ تجربات سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ نہ تو پولیس مجرموں کی سرکوبی کرسکتی ہے اور نہ ہی پراسیکیوشن گرفتار کئے گئے ملزموں پہ جرم ثابت کرواکے اُنہیں عدلیہ سے سزا دلواسکتی ہے ۔ جہاں تک عدلیہ کا تعلق ہے تو وہاں سے فیصلے کم اور سنسنی خیز ریمارکس زیادہ جاری کئے جاتے ہیں۔ ریاستی اداروں کی اِ س ناقابلِ تردید ناکامی کے باوجود حکمرانوں کے زبانی دعوؤں اور نعروں میں کوئی کمی نہیں دکھائی دیتی ۔ اپنی تمام ذمہّ داریاں بتدریج عسکری اداروں کے سپّرد کرکے حکمران طبقہ صرف پروٹوکول اور مراعات کا دانہ چگنے میں مصروف ہے۔ کھل بھوشن یادیو اور عزیر بلوچ کے ذریعے ' را ' کے نیٹ ورک پورے ملک میں سرگرم رہے ۔ان دہشت گردوں نے لسّانی بنیادوں پہ تشدّد کو فروغ دیا ۔ بلوچستان میں فرقہ ورانہ دہشت گردی کروائی ۔ عسکری اداروں پہ حملے کروائے ، عوامی مقامات اور اقلیتی عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا ۔ اِ ن چشم کُشا حقائق کے باوجود میڈیا کا ایک حلقہ اس خون ریزی اور فساد کی ذمہّ داری پاک فوج اور ریاستِ پاکستان پہ ڈالتا رہا۔ یہ طبقہ آج بھی بڑی ڈھٹائی سے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک رہاہے۔ بھارت کی سرحد پار دہشت گردی اور کشمیر میں عشروں سے جاری ننگی جارحیّت پہ اِن نام نہاد دانشوروں کی زبان نہیں کھلتی ۔ امریکہ کی متنازعہ پالیسیاں انہیں نظر نہیں آتیں ۔برطانیہ کی گود میں بیٹھے علیحدگی پسندوں اور الطاف حسین جیسے دہشت گردوں سے اُنہیں کوئی شکایت نہیں ۔ ان کی زبانیں صرف فوج کے خلاف دراز ہوتی ہیں۔ اُنہیں دہشت گردی صرف مدارس اور مساجد میں نظر آتی ہے۔ اُنہیں عریانی اور فحاشی سے کوئی تکلیف نہیں ۔ البتّہ حجاب اور شرم وحیاء کی تلقین انہیں گوارا نہیں ۔ اندرونی محاذ پہ جاری جنگ آسان نہیں ۔ اِ س معاملے میں ریاستی ادارے بڑی کوتاہی کے مرتکب ہوئے ہیں ۔غیر ملکی طاقتوں کے بے پناہ اثر ورسوخ کو طویل عرصے تک نظر انداز کئے رکھنے کی روِش بے حد نقصان دہ ثابت ہوئی ہے۔ انٹر نیٹ پہ خود رو جھاڑیوں کی طرح نمودار ہونے والی اِن گنت ’ مشکوک ‘ میڈیا ویب سائٹس اور بلاگز کے ذریعے ریاست کے خلاف صُبح و شام زہر اُگلا جارہاہے ۔ امریکی جاسوسوں کے ویزوں کا معاملہ ہو ، ایم کیو ایم اور پی پی پی کی سفاکانہ دہشت گردی ہو یا حکومتی اہل کاروں کی بے تحاشہ کرپشن ۔ ہر معاملے میں سنگین غفلت کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ کھل بھوشن یادیو کے معاملے پہ بھارتی وزیر خارجہ کا دھمکی آمیز لہجہ اور ہمارے دفتر خارجہ کا ’ڈھیلا ڈھالا ‘ ردِ عمل بھی کچھ کم معنی خیز نہیں ۔ کسی ’جغاوری دانش ور‘ نے وزیر اعظم کو یہ باور کرادیا ہے کہ بھارت کے خلاف خاموش رہنا ' تدبر ' کی علامت ہے اور محترم وزیر اعظم ، جو کہ خیر سے ہمارے وزیر خارجہ بھی ہیں، اس مشورے پہ دل وجان سے کاربند ہیں۔ حیرت اِ س بات پہ ہے کہ سیاسی مخالفین کے خلاف ' تحمل اور تدبر ' کی پالیسی بدل کیو ں جاتی ہے۔ یہ ایک افسوس ناک حقیقت ہے کہ ذاتی تنقید پہ سیخ پا ہونے والے ’ حکومتی ترجمان ‘ پاکستان پہ کی جانے والی بھارتی تنقید پہ ٹس سے مس نہیں ہوتے ۔ ایک عام آدمی کے لئے حکومتی ترجیحات کو سمجھنے کیلئے یہ مثال کافی ہے۔اندرونی محاذ پہ مزید غفلت کے ہم متحمل نہیں ہوسکتے ۔ اپنی آستینوں میں چھپے سانپوں کے سر کچلے بنا بھارتی دہشت گردی کے نیٹ ورکس کا خاتمہ ممکن نہیں۔ عسکری ادارے ہر شگاف کو پُر نہیں کرسکتے ۔ سول اداروں کی تطہیر اور فعالیت بہت بڑا چیلنج ہے۔ میڈیا پہ غیر ملکی سرمایہ کاری و تسّلط کا معاملہ بھی کچھ کم سنگین نہیں۔ اب اس غیر ذمہ دار میڈیا کی کوکھ سے ایک بھیانک سماجی اور نظریاتی تصّادم جنم لے رہاہے ۔ اِس اہم معاملے پہ چند گزارشات بشر طِ زندگی آئند ہ مضمون میں پیش کروں گا۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved