یونیورسٹی میں جہالت اور جذباتیت۔ افسوس صد افسوس
  17  اپریل‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

پاکستان کے دریاؤ۔ پاکستان کے سر سبز پہاڑو۔ پاکستان کی حسین وادیو۔ پاکستان کے گہرے سمندر کی بندرگاہو۔ میرے وطن کے لہلہاتے کھیت۔ گھنے سایہ دار پیڑ۔ خوبصورت چہچہاتے پرندو ہم شرمندہ ہیں۔ ہم کفران نعمت کے مرتکب ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں کیسی کیسی نعمتوں سے نوازا۔ مگر ہم ان کی قدر نہیں کرتے۔ ہم علم حاصل نہیں کرنا چاہتے۔ ہم اپنے محل وقوع کی اہمیت نہیں سمجھتے۔ ہم زمینوں۔ کوہساروں میں چھپے خزانے باہر نہیں نکالتے۔ ہم جہالت اور جذباتیت کی زنجیریں توڑنا نہیں چاہتے۔ ہم اپنے مستقبل کو خود ہلاک کرتے ہیں۔ ہم اپنی تہذیب پر خنجر چلاتے ہیں۔ ہم اپنی اقدار پر نیزے مارتے ہیں۔ ہم تدبّر کو زخمی کرتے ہیں۔بصیرت پر سنگباری کرتے ہیں۔ یقیناًہم ظالموں میں سے ہیں۔ یہ قتل جس پر دنیا سوگوار ہے۔ مائیں غم زدہ ہیں۔ باپ اپنے دل پکڑ کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ یہ قتل کسی دینی مدرسے میں نہیں ہوا۔ کسی جنگل میں نہیں ہوا۔ کسی سنسان راہگزر پر نہیں ہوا۔ کسی خاندانی جھگڑے پر نہیں ہوا۔ کسی زن کے لیے ہوا نہ کسی زمین کے لیے۔ اور نہ ہی زر کے لیے۔ یہ ایک مادر علمی میں ہوا ایک درسگاہ میں۔ مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں۔ جہاں علم کی روشنی پھیلائی جاتی ہے۔ تعلیم کے موتی بانٹے جاتے ہیں۔ جہاں تحمل اور برداشت سکھایا جاتا ہے۔ جہاں کتابوں کے درمیان دن رات گزرتے ہیں۔ جہاں اسکالرز کے اقوال کی خوشبو پھیلی ہوئی ہے۔ جہاں صدیوں سے حکمت و دانائی کے جمع ہوتے ذخیرے نئی نسل تک منتقل ہوتے ہیں۔ جہاں جدید ٹیکنالوجی کی تربیت دی جاتی ہے۔ جہاں دنیا بھر میں سیکڑوں برسوں سے ہونے والی ایجادات سے مستفید ہوا جاتا ہے۔ جہاں پوری کائنات کے علوم و فنون کا نچوڑ لائبریری میں موجود ہوتا ہے۔ یہ تو کسی را کے ایجنٹ کی سازش نہیں ہے۔ نہ سی آئی اے کا کوئی منصوبہ تھا۔ نہ ہی موساد کا کوئی تازیانہ۔ یہ تو سب اپنے تھے۔ مارنے والے بھی۔ مرنے والا بھی۔ بلوہ کرنے والے بھی۔ یونیورسٹی کے گارڈز بھی۔ یونیورسٹی کے اساتذہ بھی۔ طالب علم بھی۔ یہاں کوئی افغان سرحد پار کرکے بم برسانے نہیں آیا تھا۔ اس کی ذمہ داری کسی جہادی تنظیم نے قبول نہیں کی۔ میرا نواسا مجھ سے پوچھ رہا ہے۔ آج کے دور میں۔ ہر وقت متحرک میڈیا کے ہوتے ہوئے ۔ آپریشن رد الفساد کے دوران۔ رینجرز۔ پولیس کے الرٹ ہوتے ہوئے مشعال خان کو کیوں نہ بچایا جاسکا۔ میرا مستقبل خوف زدہ ہے۔ میرے پوتے پوتیاں سکتے میں ہیں۔ کہہ رہے ہیں۔ٹیلی وژن آف کرو۔ یہ مناظر ہم سے نہیں دیکھے جاتے ۔ یہ کیسا معاشرہ آپ ہمارے لیے تیار کررہے ہیں۔ جس میں خواب و خیال تو کچلے ہی جاتے ہیں۔ زندگی بھی چھین لی جاتی ہے۔ پاکستان میں آئین کی حکمرانی ہے۔ آئین میں ترامیم ہوتی رہی ہیں۔ اعلیٰ عدالتیں بھی کام کررہی ہیں۔ ذیلی عدالتیں بھی۔ پولیس بھی ہے۔ فوج بھی۔ رینجرز بھی۔ ایلیٹ فورس۔ جانباز فورس۔ پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز۔ایک سے ایک بڑی خُفیہ ایجنسی۔ کروڑوں اربوں روپے کے فنڈز۔ لاکھوں این جی اوز۔ جو ملک سے بھی عطیات لیتی ہیں غیر ممالک سے بھی۔ اخبارات ہیں۔ میڈیا ہیں۔ سیاسی جماعتیں ہیں۔ پورے ملک میں پھیلی ہوئی ۔ کسی کو وفاق میں کسی کو صوبے میں حکومت ملی ہوئی ہے۔ وزیروں کی فوج ظفر موج ہے۔ مذہبی جماعتیں ہیں۔ دینی تنظیمیں ہیں۔ ہر روز ٹاک شوز ہورہے ہیں۔ ہر روز تقریریں نشر ہوتی ہیں۔ جلسے جلوس۔ صد سالہ تقریبات منائی جارہی ہیں۔ حکمرانوں کے شہزادے شہزادیاں تخت سنبھالنے کی تیاریاں کررہی ہیں۔ ان کے اتالیق مقرر کیے جاچکے ہیں۔ ملک بھر میں یونیورسٹیوں کا جال پھیلایا جارہا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ قائم کیے جارہے ہیں۔ اربوں روپے کے اخراجات ہورہے ہیں۔ سوشل میڈیا بھی بہت سرگرم ہے۔ کتنے ارسطو۔ کتنے افلاطون۔ کتنے سقراط۔ اس کے خانوں میں اپنی مقبولیت سے رنگ بھر رہے ہیں۔کیا کیا شوشے چھوڑے جاتے ہیں۔ کوئی مذہب کا سہارا لیتا ہے۔ کوئی حدیث کا۔ کوئی ادیبوں کے اقوال کا۔ کوئی شاعری کا۔ کتنے وکلاء ہیں۔ کالے کوٹ کالی ٹائیاں۔ قانونی پیروی کے دعوے۔ بھاری بھاری فیسیں۔ججوں کو اپنے دباؤ میں رکھنے کے لیے مظاہرے۔ اکیسویں صدی کے اس بھرپور منظر نامے میں مردان میں اپنے ہی ایک ہم وطن۔ نوجوان۔ کو جس بیدردی سے قتل کیا گیا ہے۔ میں تو لرز کر رہ گیا ہوں۔ دلیلیں عجز کا شکار ہورہی ہیں۔ کتابیں گریہ کناں ہیں۔ جدید دَور کے علوم تو بالکل نئی بات ہیں۔ انہی ایک دو صدیوں کا قصّہ ہے۔ مگر ہمارے اپنے دین متین کی تعلیمات تو پندرہ صدیوں سے موجود ہیں۔ تحمل۔ رواداری۔ برداشت یہ تو محسن انسانیت۔ پیغمبر آخر الزماں حضور اکرم ﷺ کے زمانے سے چلی آرہی ہیں۔ اسوۂ حسنہؐ تو ہمارے سامنے ایک ایک لمحے کا موجود ہے۔ خلفائے راشدین کے عظیم کردار۔ حسین روایات ہمارا اثاثہ ہیں۔ ائمہ کرام۔ علمائے کرام۔ شیوخ العظام۔اولیاء اللہ اور صوفیائے کرام سب کی تعلیمات ہمارا اپنا سرمایہ ہیں۔ مشعال خان تو ایک علامت بن گیا ہے۔ یہ ایک فرد کی بات نہیں ہے۔ ہمارے اجتماعی رویوں کی بات ہے۔ کوئی کچھ کہتا ہے۔ لکھتا ہے۔ اگر وہ قابل اعتراض ہے تو اسکے تدارک۔ اس پر گرفت کے لیے بے شُمار قوانین موجود ہیں۔ بے حساب ادارے قائم ہیں۔ ان تک اطلاع پہنچائی جائے۔ ان کو حرکت میں لایا جائے۔وہ قانونی دائرے میں رہتے ہوئے ساری کارروائی کریں۔ ہم میں سے کسی کو بھی یہ اختیار نہیں ہے کہ ہم خود ہی فیصلہ کرلیں اور خود ہی سزا بھی دے دیں۔ ہم والدین۔ دادا دادیوں۔نانا نانیوں۔ کو بھی سوچنا ہے کہ ہر وقت نگراں رہیں۔مستعد رہیں۔ ہماری آنے والی نسلیں خوف زدہ ہیں۔ اس خوف اور ڈر میں وہ ایک ذمہ دار شہری کیسے بن سکیں گی۔ وہ پھر ملک سے باہر نکل جانا چاہتی ہیں۔ حکمران طبقے تو اپنی جگہ مال مگن ہیں۔ انہیں ایسے واقعات سے کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔ وہ قیادت کے دعوے ضرور کرتے ہیں لیکن قیادت کی ایک بھی خوبی ان میں نہیں ہے۔ سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ یہ بربریت ایک یونیورسٹی میں ہوئی ہے ۔ مذہب کے نام پر ہوئی ہے۔ اس کے لیے تو ہائیر ایجوکیشن اور ساری یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں کو سر جوڑ کر بیٹھ جانا چاہئے۔ اپنے اپنے اداروں میں جھانکنا چاہئے۔ علم کا حصول تو تحمل اور برداشت پیدا کرتا ہے۔ تعلیم تو رواداری سکھاتی ہے۔ تدریس سے تو علم پیدا ہوتا ہے۔ اس واقعے سے صاف صاف پتہ چلتا ہے کہ تعلیم صرف زبانی جمع خرچ یا امتحانوں میں کامیابی تک محدود ہے۔ تربیت نہیں دی جارہی ہے۔ انسانیت کے ارفع و اعلیٰ اصول نہیں پڑھائے جارہے ہیں۔ اسلام کا سلامتی کا درس نہیں دیا جارہا ہے۔ پڑھائی اتنی کمزور ہے کہ باہر کے افکار اورپروپیگنڈہ زیادہ اثر انگیز ہورہا ہے۔ یونیورسٹیاں بھی غور کریں۔ میڈیا بھی اپنے پروگراموں کا تجزیہ کریں۔ اسے ایک فرد کا قتل نہ سمجھیں۔ ملک اور معاشرے کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے۔ ایس ایم ایس کیجئے۔0331-7806800


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved