فیصلے کی گھڑی آگئی!
  20  اپریل‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
٭آج دو بجے ! پانامہ کیس کا فیصلہ آرہاہے۔ عدالت نے تو جو فیصلہ سنانا ہے مگر پہلے ہی فیصلوں کا انبار لگ گیا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے لاؤڈ سپیکر اپنے اپنے فیصلے سنا رہے ہیں۔ ''فیصلہ ہمارے حق میں آرہاہے' نوازشریف کو کچھ نہیں ہوگا… نوازشریف کو جانا پڑے گا … فیصلہ ہمارے حق میں نہ ہوا تو ملک کمزور ہو جائے گا… شریف خاندان کاانجام سامنے آرہاہے … شریف خاندان پہلے سے زیادہ مضبوط ہو جائے گا…'' بھانت بھانت کی بولیاں! ججوں کی ذات کوبھی نشانہ بنانا شروع کردیا۔ اس اندیشہ کے تحت کہ کسی فریق کو فیصلہ پسند نہ آیا تو کیاصورت حال پیدا ہوسکتی ہے، اسلام آباد کی انتظامیہ نے پولیس ، رینجرز اورفوج کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے۔ مختلف سیاسی پارٹیوں نے اسلام آبا د اوردوسرے مقامات پراپنے مرکزی عہدیداروں کے ہنگامی اجلاس طلب کرلیے ہیں تاکہ فیصلہ کے بعد والی صور ت حال کے بارے میں لائحہ عمل تیار کیاجاسکے۔ بہرحال! آج کا دن بہت اہم ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے سے ملک کی سیاست پر گہرا اثر پڑے گا۔ آئیے دو بجے کے وقت کاانتظار کریں۔ ٭امریکہ کی قومی اسلامتی کا مشیر جنرل آرمیک ماسٹر بڑے طنطنے کے ساتھ پاکستان آیا۔ سول حکام کے علاوہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل جاوید قمر باجوہ سے بھی ملاقات کی۔ دہشت گردی کے انسداد کے لیے پاک فوج کی کارکردگی کو سراہا اور پھر حسب معمول پاکستان کو انتباہ کیا کہ وہ 'پراکسی' کی بجائے مذاکرات کاراستہ اختیار کرے۔ اس پر پاکستان کے سیاسی و فوجی حلقوں نے سخت رد عمل اور ناپسندیدگی کااظہار کیا ہے۔ پراکسی کا مطلب کسی کے خلاف بالواسطہ جنگ لڑنا اور ایسی لڑائی کے لیے اپنی سرزمین کو استعمال ہونے دیناہے۔ اس کے واضح معنی یہ تھے کہ پاکستان کی سرزمین افغانستان میں دہشت گردی کے لیے استعما ل ہورہی ہے۔ اس پر پاک فوج کے ذرائع نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی۔ پاکستان کے بارے میں امریکہ کا یہ رویہ نیا نہیں ہے بلکہ ہمیشہ اسی طرح پاکستان کو اپنی مطیع با جگزار ریاست سمجھتا رہا ہے۔ پیسے کی مار بھی کیا چیز ہے! چند ڈالروں کی چمک کس طرح خوار کردیتی ہے!! کچھ دینے کے لیے اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ کے بارے میں اسی طرح تحقیر آمیز رویہ اختیارکرے تو کیاجواب دیاجاسکتا ہے؟ ٭خبروں کے مطابق وزیراعظم نوازشریف نے بجلی کی لوڈشیڈنگ میں اضافہ پر سخت برہمی کااظہار کیا ہے کہ اس صورت حال پرقابو پانے کے لیے پہلے کوئی منصوبہ بندی کیوں نہیں کی گئی! وزیراعظم صاحب نے دو ڈھائی ماہ پیشتر ایک جلسے میں اعلان کیا تھاکہ ملک میں صرف چار گھنٹے کی لوڈشیڈنگ باقی رہ گئی ہے یہ بھی جلد ختم ہو جائے گی۔ یہ چار گھنٹے کی لوڈشیڈنگ بعض مقامات پر 20,18 گھنٹے تک پہنچ گئی ہے۔ میڈیا ایک عرصے سے شور مچا رہاہے۔ ایک عرصے سے ملک بھر میں ہنگاموں اور مظاہروں کی خبریں آرہی ہیں۔ حیرت ہے کسی نے وزیراعظم صاحب کو اس بارے میں مطلع نہیں کیا! محترم وزیراعظم صاحب! آپ ملک کی ہر اونچ نیچ کے خود ذمہ دا ر ہیں۔ ٭سندھ، خاص طورپر کراچی میں رینجرز کا امن آپریشن بند ہوگیاہے۔ سندھ کی حکومت نے رینجرز کو امن امان، بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان اور دہشت گرد ی کے مرتکب افراد کے خلاف گرفتاری وغیرہ کی کسی بھی کارروائی سے روک دیا ہے اور ایک اعلان جاری کیا ہے کہ رینجرز کا کام صرف وزیراعلیٰ ہاؤس اور دوسرے اہم دفاتر کی چو کیداری قسم کی حفاظت کرنی ہے۔ اس رویہ پر رینجرز کے تمام ارکان کو ان کے ہیڈکوارٹر میں واپس بلالیاگیا ہے۔ ان کے شکایات وغیرہ کے رابطہ نمبر بند کردیئے گئے ہیں صرف چند ایک مقامات پر سکیورٹی کے لیے کچھ عملہ باقی رہ گیا ہے۔ اس صورت حال کا جوبھی نتیجہ نکل سکتا ہے اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں ۔ یہ مسئلہ ڈاکٹر عاصم حسین، نثارمورائی اور دوسرے افراد کی گرفتاریوں سے ہوتا ہوا عزیر بلوچ اور اس کے ساتھیوں کی گرفتاری تک پہنچ گیا اور اب آگے بڑھ رہاتھا ۔پیپلز پارٹی کے سرپرست آصف زرداری تو ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری پر ہی آگ بگولا ہوگئے تھے۔ مزید برداشت کی تاب نہ رہی تو رینجرز سے ہر قسم کے اختیارات واپس لینے کی ہدایات جاری کردیں۔ سو اب اگرسندھ خاص طورپر کراچی میں خدانخواستہ بھتہ خوری، اغو ا برائے تاوان اور ٹارگٹ کلنگ پھر سے ابھر آئی تو اس کی وجہ سمجھ میں آسکتی ہے! بہرحال رینجرز نے کراچی میں امن قائم کرنے میں جو نمایاں اور قابل تحسین کردار کیا ہے، اس کااعتراف ضروری ہے۔ خداتعالیٰ میرے ملک کے ہر شہر کو محفوظ رکھے! ٭بھارت کی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کو شہید کئے جانے کے بارے میں الٰہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کردیا ہے جس کی رو سے مسجد کو شہید کرنے میں سرگرم حصہ لینے والے بی جے پی کے مرکزی لیڈروں ' کے ایل ایڈ وانی' واجپائی اوردووسرے افراد کے خلاف قانونی کارروائی روک دی گئی تھی۔ بابری مسجد کو25 برس پہلے'6 دسمبر1992ء کو انتہا پسند ہندوؤں نے حملہ کرکے شہید کردیا تھا۔ یہ کیس 25 برس سے چل رہاہے آج تک اس مسلم آزار کارروائی کے مرتکب کسی شخص کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی بلکہ یہ کہ ملک میں ہندوؤں کی اکثریت کے بل بوتے پر بی جے پی اقتدار میں آئی اور واجپائی اور ایڈوانی حکمران بن گئے۔ اب پھر بی جے پی ملک پر حکمران ہے جس کا لیڈر نریندر مودی مسلمانوں کے خلاف دشمنی میں ایڈوانی وغیرہ سے بھی دوہاتھ آگے ہے۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ 25 برسوں کے بعد آیا ہے، اس میں صرف یہ کیاگیا ہے کہ اس واقعہ کے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کو بحال کردیا گیا ہے! یہ کارروائی مزید کئی سال جاری رہ سکتی ہے ، بی جے پی کیسے اسے جاری رکھنا گوارا کرسکتی ہے؟ ٭ایک خبر: ایران نے گوادر سے ملنے والی پاکستان کی سرحد سے ذر افاصلے پر اپنی بندرگاہ ''بسا'' کو بحری بیڑے کے اڈے کے طورپر استعمال کرنے کااعلان کیا ہے۔ کہاگیا ہے کہ اس بندرگاہ سے خلیج فارس میں امریکہ اور دوسرے عناصر کی جنگی سرگرمیوں پر نظر رکھنے میں مدد ملے گی۔ ان دوسرے عناصر میں عرب ریاستوں کے علاو ہ خاص طورپر پاکستان اور چین شامل ہیں۔ گوادر کی بندرگاہ کی حفاظت کے لیے پاکستان کے علاوہ چین کے بحری جنگی جہاز بھی موجودرہتے ہیں۔ ان کی موجودگی بھارت کو برداشت نہیں ہورہی۔ بھارت پہلے ہی گوادر سے صرف72کلومیٹرکے فاصلہ پر واقع چاہ بہار بندرگاہ کو اپنی تحویل میں لے چکا ہے۔ نئے بحری اڈے کی بندرگاہ 'بسا 'پاکستان کی سرحد سے صر ف چند کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے ۔ ایران کی 11بندرگاہوں میں یہ بہت چھوٹی اور معمولی بندرگاہ ہے تاہم اس میں بحری اڈے سے بالکل سامنے یمن میں فوری فوجی امداد پہنچائی جاسکے گی۔ بھارت لازمی طورپر پاک سرحد سے صرف چندکلو میٹر دور اس بندرگاہ کو پاکستان کے خلاف سرگرمیوں کے لیے استعمال کرے گا۔ ٭ایس ایم ایس: پہلے بھی اپیلیں کرچکے ہیں۔ ہم پرانے پنشنروں کو صرف چھ ہزار روپے ماہوار پنشن ملتی ہے۔ اس سے کیسے گزارا ہوسکتاہے ؟ پنشن کم ازکم10ہزار تو کی جائے۔ جبار گاؤں WARANA MOSKAN ضلع کرک (0342-9048511) ٭محکمہ تعلیم کے اسسٹنٹ سٹور کیپر اور جونیئر کلرک کے عہدے برابرہیں۔ جونیئر کلرک کو11گریڈ دے دیا گیا ہے مگر اسسٹنٹ سٹور کیپر اب بھی 7ویں گریڈ میں کام کررہے ہیں۔ انہیں بھی ترقی کا حق اور 11واں گریڈ دیا جائے ۔ صرف دس اسامیاں ہیں، خزانے پر کوئی بوجھ نہیں پڑے گا۔ شوکت علی بنوں(0346-5597372)

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved