والدین کے لئے پریشان کن واقعات
  21  اپریل‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
ضلع گجرات کے علاقے کنجاہ میں طارق نامی ایک شخص اپنا ایک ڈیپارٹمنٹل سٹور چلاتا ہے ۔ سٹور چلانے میں اس کے بیٹے اس کی مدد کرتے ہیں۔ خریداری کے لئے آنے والوں میں ہر صنف اور عمر کے لوگ تھے۔ طارق کی اولاد یعنی سٹور چلانے میں معاون بیٹے جوان ہیں۔ انہوں نے شیطانی کھیل کھیلنے کا فیصلہ کیا۔ اور اس سٹور پر خریداری کے لئے آنے والی کمسن اور معصوم بچیوں کی تصاویر بناتے۔ پھر انہیں ایڈٹ کرتے اور انہی بچیوں کی تصاویر کو قابل اعتراض تصویروں میں تبدیل کریت۔ اور پھر وہی قابل اعتراض تصاویر ان نوجوان لڑکیوں کو دکھاتے۔ انہیں بلیک میل کرتے اور پھر ان کے ساتھ غیر اخلاقی حرکات کا ارتکاب کرتے۔ اس شیطانی کام کے لئے وہ اپنے ڈیپارٹمنٹل سٹور کی بالائی منزل میں موجود کمروں کو استعمال کرتے جبکہ کمروں میں کیمرے بھی نصب کئے ہوئے تھے۔ اس طرح ان کی ویڈیوز بناتے۔ یہ معاملہ اسی طرح چلتا رہتا اگر نویں جماعت کی کمسن طالبہ کے والد سے بلیک میلنگ کے ذریعے ایک لاکھ روپے طلب نہ کرتے۔ اس نویں جماعت کی طالبہ کے والد کو ملزمان نے فون کیا اور ایک لاکھ روپے طلب کئے۔ عدم ادائیگی کی صورت میں اس کی بیٹی کی قابل اعتراض ویڈیو کو انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کرنے کی دھمکی دی۔ اگر بچی کا والدہ بھی باقیوں کی طرح خاموشی سے ایک لاکھ روپے کی ادائیگی کر دیتا تو یہ معاملہ اسی طرح چلتا رہتا۔ لیکن واس والد نے جرات کی اور اس معاملے کی اطلاع پولیس کو کر دی۔ پولیس نے لڑکی کی نشاندہی پر مذکورہ مقام پر چھاپہ مارا اور وہاں سے مختلف طالبات کی 117قابل اعتراض ویڈیوز اور لگ بھگ 7 سو تصاویر برآمد کیں۔ اس سے ملتا جلتا ایک اور واقعہ ایک انگریزی روزنامے میں رپورٹ کیا گیا ہے سرگودھا کا رہائشی سعادت امین بچوں کو کمپیوٹر کی تعلیم دینے کے بہانے گھر بلاتا تھا۔ ان بچوں کی عمر 8 سال سے 14سال کے درمیان تھی۔ ان بچوں کی فحش اور عریاں تصویر بناتا' ویڈیوزتیار کرتا اور پھر ان فحش تصاویر اور ویڈیوز کو فروخت کرتا۔ یاد رہے کہ سعادت امین بہت بڑا ہیکر ہے ۔ کمپیوٹر کا ماہر ہے۔ آن لائن اس کی ملاقات ناروے کے رہائشی جیمز سٹارم سے ہوئی۔ وہی بھی اس قسم کے کاروبار میں ملوث تھا۔ سعادت نے اپنے اس مکروہ اور شیطانی کاروبار کے لئے تقریباً 25پاکستانی بچے استعمال کئے جبکہ اپنے اس کاروبار کے لئے اس نے کچھ ویڈیوز روس اور بنگلہ دیش کی ویب سائٹس سے حاصل کیں۔ ان ویب سائٹس پر ایسی ویڈیوز قیمتاً بیچی جاتی ہیں لیکن یو ای ٹی ٹیکسلا سے انجینئرنگ کی ڈگری کے حامل سعادت اس ویب سائٹس کو ہیک کرتا اور پھر وہاں سے چوری شدہ فحش ویڈیوز ناروے کے جیمز کو فروخت کرتا۔ اس بات کا انکشاف اس وقت ہوا جب ناروے کا رہائشی جیمز گرفتار ہوا۔ اس نے اپنی پولیس کو بتایا کہ اس کے ساتھ اس کاروبار میں پاکستان کے شہر سرگودھا سے تعلق رکھنے والا سعادت امین بھی شریک ہے۔ ایف آئی اے کو جب اس حوالے سے معلومات ملیں تو انہوں نے سرگودھا میں اس شخص کے گھر چھاپہ مارا اور سعادت امین کو گرفتار کرلیا۔ دوران تفتیش اس نے بتایا کہ وہ متاثرین بچوں کے والدین کو اس کام کے عوض تین ہزار روپے سے پانچ ہزار روپے تک ادا کرتا تھا جبکہ اسے ایک ویڈیو کے ایک سو سے چار سو ڈالر معاوضہ ملتا تھا۔ ایف آئی اے کے مطابق ملزم کے قبضے سے مختلف ویب سائٹس سے ہیک کی گئیں تقریباً65ہزار بچوں کے ویڈیو کلپس برآمد ہوئے ہیں جبکہ ملزم2007ء سے اس کاروبار میں ملوث ہے ملزم کا آبائی گائوں ملکوال منڈی بہائوالدین ہے مگر وہ اس مکروہ دھندے کے لئے سرگودھا کے شہر رہائش اختیار کی اب وہ ایف آئی اے کی تحویل میں ہے۔ یہ انٹرنیٹ کی دنیا ہے اس طرح کے اور بھی بہت سے واقعات اس ملک کے مختلف حصوں میں ہو رہے ہونگے جو ابھی تک رپورٹ نہیں ہوسکے۔ ہر بچے کے ہاتھ میں موبائل فون ہے۔ اور موبائل فون بھی سمارٹ کہ جس سے انٹرنیٹ کی دنیا تک رسائی آسان ہوسکے۔ زمانہ طالب علمی سے اس قسم کا شوق بچوں اور نوجوانوں کے لئے انتہائی تباہ کن ثابت ہو رہا ہے۔ والدین نہ چاہتے ہوئے بھی بچوں کے مطالبے پر فوراً ڈھیر ہو جاتے ہیں اور اگر والدین بچوں کی ضد اور بالخصوص موبائل سیٹ لینے کی ضد ماننے کے لئے تیار نہ ہو تو بچوں کی محبت میں ماں کا دل سیج جاتا ہے انہیں یہ معلوم نہیں کہ اس سمارٹ فون کے نتائج کتنے بھیانک ہوتے ہیں۔ سمارٹ فون کا مطلب انٹرنیٹ کا کنکشن بھی ہے اور انٹرنیٹ کنکشن کا مطلب بچوں کو ایسی دنیا میں دھکیلنا جو ان کے مستقبل کے لئے تباہ کن ہے۔ بالخصوص اگر والدین انٹرمیڈیٹ تک کی عمر یک بچوں کو پیار محبت کے اظہار کے طور پر سمارٹ فون خرید کر دیتے ہیں تو ایسے والدین خود ان بچوں کے ساتھ زیادتی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ اس نازک دور میں والدین کو اپنے بچوں پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ ذرا سی غفلت زندگی کی بربادی کے لئے کافی ہے اب وہ دور نہیں کہ جب والدین اعتماد اور بھروسے پر بچوں سے لاپرواہی برتتے تھے مگر اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک معقول عمر تک بچوں اور بچیوں کو موبائل فون سے دور رکھیں اور اگر آپ نے یہ سوچ کر بچوں کو موبائل فون خرید کر دے دیا ہے کہ ان پر سخت نگرانی کریں گے تو پھر یہ بات ایسے والدین کی خام خیالی ہے۔ پوری رات بچوں کے پاس ہے ایسے والدین کب تک اپنے بچوں کا پہرہ دیں گے۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved