بھارتی شدّت پسندی کے شعلے
  21  اپریل‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
مقبوضہ کشمیر میں بھارت جو کچھ کررہاہے اُس کے منفی اثرات صدیوں تک خطے میں باقی رہیں گے۔طاقت کے اندھے استعمال سے صر ف نفرت جنم لیتی ہے۔نہتے کشمیریوں پہ مظالم ڈھانے کیلئے بھارت کے پاس ریاستی طاقت کی کمی نہیں ہے اور اِ س ریاستی طاقت کو کشمیر یوں کے خلاف غیر انسانی تشدّد میں استعمال کرنے کا جواز فراہم کرنے کیلئے مذ ہبی منافرت کی بھی کمی نہیں ۔ بھارتی جمہوریہ نے سیکولرازم کا نقاب اوڑھ کر شدت پسند ہندو ریاست بننے کا سفر نہایت برق رفتاری سے طے کیا ہے۔ آئین میں درج سیکولرازم اور مساوات کے اُصول ِ نقش برآب ثابت ہوچکے ہیں۔بی جے پی کی انتخابی فتح اور مودی جیسے سکہ بند شدت پسند ہندو رہنماکا ایوانِ اقتدار تک پہنچنا بھارتی سیکولر طاقتوں کیلئے خطرے کی گھنٹی سے کم نہ تھا ۔ اوّل تو سیکولرازم کی دعوے دار بھارتی سیاسی جماعتوں کی اپنی تاریخ مذہبی منافرت اور ریاستی تشدد کے حوالے سے بے حد مشکوک رہی ہے۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ وہ جماعت اقتدار میں آگئی جو سیکولرازم یا مذہبی رواداری کا برائے نام بھی تذ کرہ کرنے کو تیارنہیں تھی ۔بی جے پی نے مذہبی منافرت کے ذریعے عوامی جذبات کو مشتعل کرکے انتخابات جیتنے کے فن میں مہارت حاصل کرلی ہے۔ نریندر مودی نے بدترین مُسلم کش فسادات کے ذریعے انتخابی فتوحات کیلئے ہندو ووٹرز کو اشتعال دلایا۔مُسلم اقلیت کے خلاف منافرت پھیلاکے بی جے پی کو 'ہندو جنتا' کی سب سے بڑی خیر خواہ جماعت کے طور پہ متعارف کروایا۔بی جے پی کے اُمیدوار انتخابی مہم کے دوران مساجد گرانے ، گرجا گھر وں کو ڈھانے اور تمام اقلیتوں کو روندنے کے دعوے کرتے رہے۔'مہان بھارت ماتا' کے آئین میں درج سیکولرازم اور مساوات کے اصولوں کو ہندو شدّت پسندی کے ہتھوڑے سے کچل کے بی جے پی نے ایوانِ اقتدار تک پہنچنے کا راستہ ہموار کرلیا۔ دُنیا کی اس سب سے بڑی نام نہاد جمہوریہ کے وزیر پاکستان کو دہشت گردی کے ذریعے سبق سکھانے کے دعوے کرتے ہیں۔بی جے پی کا مرکزی رہنماببانگ دھل پاکستان کے چار ٹکڑے کرنے کا دعویٰ کرتا ہے۔ قومی سلامتی کا مشیر سرحد پار دہشت گردی کے واقعات سُنا کر داد وصول کرتا ہے۔ وزیر اعظم پڑوسی ملک کا پانی بند کرنے کی دھمکیاں دیتا ہے۔ بھارت ماتا کے سیکولرازم کی کوکھ سے جنم لینے والے شدّت پسندی کے خوفناک دور کی یہ چند جھلکیاں برّ صغیر کے تاریک مستقبل کا پتہ دے رہی ہیں۔اِس خطے کی بدنصیبی ہے کہ سیکولرازم کی پرچارک کانگریس نے عشروں تک کشمیر کے عوام کے بنیادی حقوق عضب کرکے نہ ختم ہونے والے تنازعے کی بنیادیں بارود سے بھر دیں۔ دوسری جانب چین جیسے بڑے ملک سے سرحدی تنازعات کو جنگ کی سطح تک پُہنچایا ۔ سیاچین گلیشئیر پہ دراندازی کے ذریعے پاکستان کو ایک نئے عسکری محاذ پہ اُلجھایا ۔تبّت کے مسئلے کو ہوادے کے چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی ۔ بنگلہ دیش کی علیحدگی کیلئے 'مکتی باہنی ' کے دہشت گردوں کے ذریعے آگ اور خون کا ہولناک کھیل کھیلا۔ بھارت میں بسنے والی سکھ اقلےّت کو ریاستی طاقت سے اِس شدّت کیساتھ کچلا کہ ردِ عمل میں وزیر اعظم اندراگاندھی اپنے دو سکھ بارڈی گارڈز کے ہاتھوں قتل ہوئیں۔ اُنہیںشدّت پسندانہ پالیسیوں کے تسلسل کے نتیجے میں تامل باغیوں کے خودکش حملے کے نتیجے میں وزیر اعظم راجیو گاندھی کو بھی جان سے ہاتھ دھونا پڑے۔ یہ بدترین ریاستی تشدد ، مذہبی منافرت اور سرحد پار دہشت گردی تو بھارت کی نام نہاد سیکولر قیادت نے کروائی تھی ۔اب تو خیر سے سارے معاملات ُاس جماعت کے ہاتھ میں ہیں جو کہ کھلم کھلا مذہبی منافرت ، مُسلم کش نظریات اور ہندو توا کی نفرت انگیز سیاست کی علمبردار ہے۔مودی کی فتح سے ہندو شدت پسندی کا خوفناک سیلاب اُٹھا تھا۔ اُتر پردیش کے سیاسی افق پہ یوگی کی آمد اُس سیلاب کی وہ طاقت ور لہر ہے جو بھارت ماتا کا بچھا کھچا امن اور رہی سہی ساکھ بھی تباہ کرکے چھوڑے گی ۔مودی کے نزدیک فسادات میں شہید ہونے والے مظلوم مسلمانوں کی زندگی کی اہمیت سڑک پہ گاڑی کے نیچے آنے والے لاوارث کتّے بلیوں سے زیادہ نہیں۔اُتر پردیش کے نئے 'مہامنتری ' مسلمان عورتوں کی لاشوں کی آبروریزی کرنے کو روا سمجھتے ہیں۔ یہ ہے بھارتی شدت پسندی کا وہ آتش فشاں جس نے پورے خطے کے امن کو تہہ و بالا کر رکھا ہے۔ برّصغیر میں ہتھیاروں کی دوڑ کا سہرا بھی بھارت کے سر ہے۔ پاکستان کو ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ میں بھارت کے جارحانہ رویے نے دھکیلا۔مجھے حیرت ان صحافتی حلقوں پہ ہوتی ہے جو سامنے نظر آنے والے حقائق سے آنکھیں چُراکے اپنی توپوں کا رُخ ہمیشہ پاکستان کی طر ف کئے رکھتے ہیں ۔ پاک بھارت دو طرفہ تعلقات کی خرابی کی بنیادی ذمہ داری بھارت پہ عائد ہوتی ہے۔ نہ کل بھارت کی نیت ٹھیک تھی اور نہ ہی آج وہ خطے میں پائیدار امن کا خواہاں ہے۔پاکستان کا وجود بھارت کیلئے ناقابلِ برداشت ہے ۔چین کے خلاف اُس کے عزائم کبھی اچھے نہیں رہے ۔نیپال اور سری لنکا کو اپنی کالونیا ں بنانے کے لئے ہر اوچھا ہتھکنڈا بھارت نے استعمال کیا ہے ۔مقبوضہ کشمیر میں عہد حاضر کا بد ترین انسانی المیہ انسانی ضمیر کو جھنجوڑ رہاہے ۔ اہل کشمیر کو بھارتی جمہوریہ سے نسل کشی ، عصمت دری ، جبری گرفتاریاں ، آنکھوں کا نور چھیننے والی گولیاں اور تشدد ہی ملاہے ۔ مشرقیِ پنجاب کے سکھ آج بھی گولڈن ٹیمپل کی بے حرمتی اور ہزاروں بے گناہ سکھوں کے قتل پہ نوحہ خواں ہے۔ مجھے حیرت ہوتی ہے جب بعض صحافتی حلقے شدت پسند بھارت سے دو طرفہ تعلقات بحال کرنے کیلئے تجارتی روابطہ اور فنونِ لطیفہ کا سہارا لینے کا مشورہ دیتے ہیں۔کیا یہ لوگ اتنے ہی بھولے ہیں کہ 'مودی' اور' یو گی' کی 'زعفرانی قبائوں' میں چھپے زہریلے ہتھیار انہیں نظر نہیں آتے ۔ بھارت میں شدت پسندوں کی انتخابی فتح پورے خطے کے امن کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے ۔ہندوستان میں بسنے والی اقلیتوں کہ سر پہ تو پہلے ہی مذہبی منافرت کی ننگی تلوار لٹک رہی تھی۔بی جے پی کی شدت پسندانہ سوچ کا ایوان ِ اقتدار میں نفوذ وسیع پیمانے پہ بربادی کا پیش خیمہ ثابت ہورہاہے۔اہل کشمیر کیلئے ظلم کی سیاہ رات طویل ہوتی نظر آرہی ہے۔ پاکستان اور مسلمانوں سے منافرت کے اظہار کیلئے بھارتی جمہوریہ کو ایک جانب کشمیر کی وادی بھی دستیاب ہے اور دوسری جانب پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کیلئے ' بھاڑے کے ٹٹو ' بھی۔ کھل بھوشن یادو اور عزیر بلوچ کی گرفتاری بھارت کیلئے ایک تازیانہ ہے ۔حیرت انگیز طور پہ اُن گرفتاریوں کے بعد پاکستان میں بھی کچھ لوگ مُنہ پھلائے بیٹھے ہیں۔یہ کبھی بال نوچ نوچ کے عسکری اداروں کو صلواتیں سناتے ہیںاور کبھی خطے میں ہونے والے ہر غلط کام کو پاکستان سے منسوب کرکے بھارت کے کالے کرتوتوں پہ پردہ ڈالتے ہیں۔ وطن ِ عزیز کے طول وعرض میں دہشت گردی کے خلاف تاریخی جدوجہد جاری رکھنے کیساتھ ساتھ عسکری وسیاسی قیادت کو اس پہلو پہ بھی غور کرنا چاہیے کہ بھارت میں تیزی سے ابھرنے والی زہریلی شدت پسندی سے کس طرح نمٹا جائے ۔ مسئلہ کشمیر ،پاک افغان کشیدہ تعلقات، مشرقی سرحدوں پہ عسکری جارحیت اور لامتناہی عدم استحکام کی جڑیں اِسی بھارتی شدت پسندی سے جُڑی ہیں۔اور یہ ایک طے شدہ حقیقت ہے کہ بھارتی شدت پسندی کے شعلے تمام خطے کو جلاکر خاکستر کرسکتے ہیں۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved