بعض تنقیدی سوالات اور ان کے جوابات
  21  اپریل‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
گزشتہ کالم ''جمعیت کا تین روزہ اجتماع'' کے حوالے سے متعدد قارئین نے ای میلز' ٹیکسٹ میسجز اور سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے، بعض نے تنقید کرتے ہوئے سنجیدہ سوالات اٹھائے جن کے جوابات کے لیے ایک نیا کالم لکھنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ ایک قاری نے تبصرہ کرتے ہوئے جو معروضات پیش کی ہیں وہ کچھ اس طرح سے ہیں۔ ''مصدق صاحب! آج آپ کا کالم پڑھا۔ آپ نے بہت سارے حقائق پیش کیے۔ لیکن حقائق کا آپ نے غلط استعمال کیا ہے۔ وہ اس لیے کہ پاکستان جب بن رہا تھا تو جو دو قومی نظریہ پیش کیا گیا تھا وہ کس اسلام کے مطابق صحیح تھا؟ذرا جمعیت علمائے ہند کو غلط ثابت کیجئے نا۔ دوسری بات انڈین نیشنلزم کی ہے تو شاید آپ نبی ۖ کی اس ریاست کو بھول گئے ہیں جس میں آپۖ نے قریبا 12مختلف مذاہب کے لوگوںکو اکٹھاکرکے مدینہ کی ریاست کو تشکیل دیا تھا۔ کیا وہ نیشنلزم نہیں تھا؟ اگر نہیں تو پھر اسے کیا کہیں گے؟ ذرا پوچھیں تو مولانا شبیر احمد عثمانی' مولانا مودودی' وغیرہ سے جنہوں نے انڈین نیشنلزم ٹھکرایا اور پاکستان کی سپورٹ کی کہ کس اسلام کے مطابق یہ ٹھیک ہے کہ کلمے کی بنیاد پر ایک ملک کے درمیان مستقل دیوار قائم کرکے اسے دو ٹکڑوں میں بانٹا جائے؟'' میرا تاثر ہے کہ مذکورہ بالا الفاظ لکھنے والے صاحب کا تعلق جمعیت علمائے اسلام سے ہے یا وہ اس سے ہمدردی رکھتا ہے۔ چنانچہ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ مجھے وضاحت کے لیے کچھ لکھنا چاہیے۔ پہلی بات دو قومی نظریہ کے بارے میں ہے کہ وہ کس اسلام کے مطابق صحیح ہے؟ میرا احساس ہے کہ سوال تحریک پاکستان کے تناظر میں ہے ورنہ ایک مسلمان دو قومی نظریہ کوغیر اسلامی کہنے کی جرات کیسے کر سکتا ہے؟ اسلامی نکتہ نگاہ سے تمام مومنین بھائی ہیں(سور الحجرات) جب کہ تمام کفر ایک ملت ہے۔ قرآن کریم کی سورہ التغابن کی آیت نمبر 2پڑھ لیجئے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ''اور وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا ہے اور تم میں سے بعض کافر ہیں اور بعض مومن۔'' یوں دو قومی نظریہ کی تخلیق برصغیرمیں نہیں ہوئی بلکہ آج سے چودہ سو برس پہلے مکہ مکرمہ میں اس وقت ہوئی جب ایمان لانے والے ایک قوم بن گئے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا انکار کرنے والے دوسری قوم سمجھے گئے۔ خون کے رشتے تو دو حصوں میں بٹ گئے جب کہ فارس کے سلمان ، روم کے صہیب اور حبشہ کے بلال کو مسلمان قوم کے افراد قرار دیا گیا۔ تحریک پاکستان اس دو قومی نظریہ کی بنیاد پر شروع ہوئی جس کی ابتدا مکہ مکرمہ سے ہوئی اور برصغیر پاک و ہند میں جس کی آبیاری مجدد الف ثانی اور شاہ ولی اللہ رحم اللہ علیہ جیسی اعلی شخصیات نے کی۔ بھگتی تحریک اور اکبری الحاد جس دور میں متحدہ قومیت کے راگ الاپ رہے تھے اس دور میں مسلمانوں نے شیخ احمد سرہندی کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں مجدد الف ثانی کا خطاب عطا کیا۔ دو قومی نظریہ تو مسلمانوں کے ایمان کا حصہ ہے۔ تمام دنیا کے مسلمان ایک قوم ہیں جب کہ اللہ کی وحدانیت اور محمدۖ کی رسالت کا انکار کرنے والے ہمارے نزدیک دوسری قوم ہیں۔ اب آئیے اس جانب کہ انڈین نیشنلزم کیسے غلط تھا؟ انڈین نیشنلزم کا مطلب صاف لفظوں میں ہندو اکثریت کو تسلیم کرنا اور مسلمانوں کو ان کے رحم و کرم پرچھوڑ دینا تھا۔ دوسری جانب پاکستان کا تصور تھا جس کامطلب تھاکہ مسلمانوں کا ملک ہو گا جہاں مسلمانوں پرمسلمانوں کی حکومت ہو گی۔ اب فیصلہ کیجئے کہ دنوں میں سے کون سی بات درست تھی۔ انڈین سیکولرازم کے تحت مسلمان جس طرح کی زندگی آج وہندستان میں گزار رہے ہیں اس کو ہی پیشِ نظر رکھ لیں تو 1947 میں تقسیم ہند کا فیصلہ درست نہیں بلکہ بالکل درست لگتا ہے۔ انگریز کے چلے جانے کے بعد اصل مسئلہ جانشینی کا تھا اور یہ وہ سوال تھا جس نے بہت سوں کی آنکھیں کھول دی تھیں۔ مسلمانوں پر مسلمانوں کی حکومت کے مقابلے میں مسلمانوں پر ہندوں کی حکومت کا فلسفہ قبول کرکے جمعیت علمائے ہند نے اسلام اور مسلمانوں کی کیسے اور کس طرح خدمت کرنے کی کوشش کی کم از کم میں اس کو سمجھنے سے قاصر ہوں۔ کانگریس کے ہمنوا یہ وہ مسلمان تھے جو پہلے اپنی تحریروں اور تقریروں کے ذریعے کبھی یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے کہ ترکی میں خلافت عثمانیہ کا خاتمہ ہو گیا تو معاذ اللہ اسلام کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔ دلیل یہ تھی کہ خلافت یعنی مرکزی حکومت کے بغیر اسلامی تعلیمات پر مکمل عمل درآمد ہونا ممکن نہیں ہے۔ یقین نہ آئے تو مولانا ابو الکلام آزاد کی کتاب ''مسئلہ خلافت'' پڑھ لیجئے۔ مولانا عبید اللہ سندھی نے قرآن کریم کی آیت مبارکہ '' نہ بنائیں مسلمان کافروں کو دوست مسلمانوں کو چھوڑ کر'' کی تشریح میں جو کچھ لکھا ہے اس کو پڑھئے اور پھر 40کی دہائی میں مولانا کا کردار دیکھ لیجئے تو حیرت ہوتی ہے کہ ایک طرف مرکزی حکومت کی ضرورت کی باتیں جب کہ دوسری طرف پاکستان کی مخالفت ہے ۔ جہاں تک کلمہ کی بنیاد پرایک ملک کے درمیان مستقل دیوار کھڑی کر دینے کا سوال ہے تو یاد رہے کہ اسلام انسانوں کے درمیان دیواریں کھڑی نہیں کرتا بلکہ کلمے کی بنیاد پر ایک عالمگیر بھائی چارے کی دعوت دیتا ہے۔ رہی بات تقسیم ہند کی تو بحیثیت مسلمان ہمارے پاس چوائس کیا تھی؟ اپنے آپ کو ہندو اکثریت کے رحم و کرم پرچھوڑ دیتے یا مسلمانوں کی اکثریت والے علاقوں میں اپنے لیے ایک الگ وطن پاکستان کا مطالبہ کرتے۔ برصغیر کے مسلمانوں کا فیصلہ تھا کہ پاکستان حاصل کیا جائے۔ 1946 کے انتخابات میں مجلس قانون ساز کی 100فیصد نشستیں مسلم لیگ کو ملنا پاکستان کے حق میں عام المسلمین کا ریفرنڈم تھا۔ پاکستان کی تائید و حمایت میں ان کے علاقوں کے مسلمان بھی تھے جنہیں معلوم تھا کہ ان کے علاقے پاکستان کا حصہ نہیں ہوں گے۔ کانگریس اور جمعیت علمائے ہند کے موقف کے ساتھ جو مسلمان کھڑے تھے ان کی تعداد چند فیصد سے زیادہ نہ تھی۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 




  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved