نوکر کی تے نخرہ کی؟
  21  اپریل‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
سرگودھا کے علاقے 95شمالی میں قائم درگاہ علی محمد گجر کے احاطے میں دربار کے متولی کے ہاتھوں تین خواتین سمیت بیس مریدوں کے لرزہ خیز قتل کی داستان ابھی زیادہ پرانی نہیں ہوئی... یہ وہ جعلی پیر تھا کہ جو اپنے مرید مردوں اور مریدنیوں کو ننگا کرکے دم کیا کرتا تھا... جعلی پیر کے ہاتھوں 20مریدوں کے خوفناک قتل کے باوجود... آج بھی پاکستان جعلی پیروں کی آمجگاہ بنا ہوا ہے کراچی سے لے کر پشاور' مظفرآباد' گلگت' بلستان سے لے کر گوادر تک ... جعلی عاملوں اور جعلی تعویذ گنڈے کرنے والے گندے انڈوں نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں... ان جعلی پیروں اور جعلی عاملوں کے ہاتھوں لاکھوں پاکستانی لٹ چکے ہیں... اور مزید لاکھوں ابھی لٹنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں' پاکستان جعلی پیروں جعلی عاملوں اور تعویذ فروشوں کے لئے جنت بنا ہوا ہے... ان جعلی پیروں اور جعلی عاملوں کے ہاتھوں... سینکڑوں پاکستانی خواتین اپنی عصمتیں تک گنوا بیٹھیں' سوال یہ ہے کہ ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹنے والی یہ موذی بیماری ان اینکرز مافیا کو نظر نہیں آتی کہ ... جو قانون توہین رسالت کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے ہوئے ہیں؟ جعلی پیروں' جعلی عاملوں' کالا جادو کرنے والے ابلیسی ٹولے کے خلاف پارلیمنٹ نے ابھی تک کیا قانون سازی کی؟ اور اگر نہیں کی تو کیوں؟ جعلی عاملوں' جعلی پیروں اور کالا جادو کرنے والوں کے خلاف پارلیمنٹ یا سینٹ نے کتنی قراردادیں پاس کیں؟ ٹی وی چینلز کی وہ ''اینکرز'' مافیا کہ جنہیں ملک میں ہونے والے ہر فساد کے پیچھے نعوذ باللہ توہین رسالت ایکٹ کا ہاتھ نظر آتا ہے' کیا ان کی ذمہ داری نہیں ہے کہ ملک کو جعلی پیروں' جعلی عاملوں اور کالا جادو کرنے والی ''مافیا'' سے ملک و قوم کو نجات دلانے کے لئے اس وقت تک ٹاک شوز اور دیگر پروگراموں میں ڈٹ کر آواز اٹھاتے رہیں... جب تک حکومت اس کام پہ آمادہ نہیں ہو جاتی... مگر ٹی وی چینلز کی مخصوص اینکرز مافیا یہ اس لئے نہیں کرے گی... کیونکہ پاکستانی قوم کو جعلی پیروں' جعلی عاملوں اور کالا جادو کرنے والے شیطانوں سے نجات دلانا عالمی ایجنڈا نہیں ہے... جہاں عالمی ایجنڈا نہ ہو وہاں ڈالر خور این جی اوز اور مخصوص اینکرز کے پائوں جلتے ہیں' مردان یونیورسٹی میں مشعال کا مارا جانا ایک المیہ تھا' سرگودھا کے دربار پر جعلی پیر کے ہاتھوں 20مریدوں کا مارا جانا بھی بدترین المیہ تھا... درباروں پہ خودکش حملے کرنے والے جانوروں سے بھی بدتر دہشت گردوں کے خلاف تو آپریشن ضرب عضب بھی ہوا اور اب آپریشن ردالفساد بھی جاری ہے... لیکن پیر اور مرشد ہونے کے دعویدار ایک بدمعاش کے ہاتھوں 20افراد کا قتل بھی کوئی کم جرم نہ تھا... لیکن ٹی وی چینلز نے اس خوفناک واردات کے خلاف وہ طوفان کھڑا کرنے کی کوشش نہیں کی' جو مشعال کے قتل کے بعد طوفان کھڑا کرنے کی کوششیں کیں' شاید اس لئے کہ ناموس رسالت کا قانون امریکہ' برطانیہ' فرانس اور دیگر مغربی طاقتوں کا بھی نشانہ ہے اور ان طاقتوں کے ڈالر خور ایجنٹ بھی انہیں جگہوں پر تاک' تاک کر نشانہ لگانے کے عادی ہیں... کہا جاتا ہے کہ ''نوکر کی تے نخرہ کی'' حالانکہ یہ بات بیوقوف اور پاگل کو بھی سمجھ میں آتی کہ ... مردان کی ولی خان یونیورسٹی میں ... جن لڑکوں نے مشعال کا قتل کیا... انہوں نے توہین رسالتۖ کے قانون سے متاثر ہو کر نہیں کیا تھا... بلکہ جس طرح مقتول مشعال سیکولر تھا... بالکل اسی طرح اس کو قتل کرنے والے بھی سیکولر نوجوان تھے' لیکن اس کے باوجود مولانا فضل الرحمن سمیت تمام مذہبی قائدین اگر ان خدشات کا اظہار کر رہے ہیں کہ مشعال کے کیس کی آڑ میں ناموس رسالت قانون پر شب خون مارنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں... تو اس کی کوئی بنیاد تو ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ پاکستان کو اس وقت دونوں طرف کے انتہا پسندوں نے یرغمال بنا رکھا ہے ... ایک طرف توہین رسالت کا الزام لگا کر مشعال کو قتل کرنے والے انتہا پسند ہیں تو دوسری طرف ٹی وی چینلز اور این جی اوز کے وہ انتہا پسند ہیں کہ جو پوپ پال کے ایجنڈے کو پورا کرنے کے لئے قانون توہین رسالت سے چھیڑ چھاڑ کرنے کے خواہشمند ہیں... ان دونوں انتہائوں سے پاکستان کو بچانا قومی سلامتی کے اداروں کی ذمہ داری ہے' میں نے پاکستان کے قومی سلامتی کے ضامن اداروں کی بات اس لئے کی ہے... کیونکہ حکومتی صفوں' قومی اسمبلی' سینٹ اور سیاسی جماعتوں میں بھی بعض ایسے لوگ گھسے ہوئے ہیں کہ ... این جی اوز اور اینکرز مافیا کی طرح ناموس رسالت کا قانون جن کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح چھبتا ہے' بہرحال اگر کسی کو پاکستان کے مسلمانوں کا امتحان مقصود ہے... تو اسے چاہیے کہ پھر وہ قانون ناموس رسالت کو چھیڑ کر دیکھے... پھر اسے پاکستان میں بسنے والے کروڑوں فرزندان توحید کے سخت ترین ردعمل کا بھی اندازہ ہو جائے گا۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 




  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved