غبارے سے ہوا نکل گئی
  21  اپریل‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
٭فیصلہ آگیا۔ غبارے سے ہوا نکل گئی، میاں نواز شریف بچ گئے۔ فیصلہ دوبجے ہونا تھا، میری میز پر ایک بجے ہی آگیا تھا۔ ظاہر ہے وزیراعظم ہاؤس میں بہت پہلے پہنچ چکا تھا۔ اسی لئے بڑے رعب داب اور طنطنے کیساتھ گزشتہ روز وزیراعظم کے آئندہ کئی دنوں کے پروگراموں کا اعلان کیا جا رہاتھا ! مریم نواز بھی ایک روز پہلے گھرمیں اطمینان بخش خوشی کے ٹویٹ جاری کررہی تھی۔ سو فیصلہ آیا، ساری بڑھکیں ہوا میں اڑ گئیں۔ لال حویلی کا منہ پھاڑ دعویٰ کہ سپریم کورٹ سے کرپشن کا جنازہ نکلے گا، عمران خاں کے بلند بانگ دعوے کہ ملک کی سیاست کانقشہ بدل جائے گا، سارے دعوے، ساری بڑھکیں بھک سے اڑ گئیں ! وزیراعظم وہیں کے وہیں موجود' اور اپوزیشن کا عالم کہ محاوروں کے مطابق سانپ تو نکل گیا اس کی لکیر کو پیٹ رہی ہے! کمیشن کی بجائے کمیٹی آگئی۔فیصلے میں کہاگیا ہے کہ اس کیس میں واضح شواہد اور ثبوت سامنے نہیں آئے ، یہ پتہ نہیں چل سکا کہ شریف خاندان کی دولت کس طرح قطر منتقل ہوئی؟ اور اب سات روز میںایک مشترکہ ٹیم بنے گی جودو ماہ میں تحقیقات مکمل کرے گی۔ یہ نہیں بتایا گیا کہ جو کام سپریم کورٹ کا پانچ سینئر ججوں کا بنچ کئی ماہ کی سماعت اور تحقیقات میں نہ کرسکا، ایک کم تر، درجے کی عام کمیٹی دوماہ میں کیسے مکمل کرسکے گی؟یہ کمیٹی اگر دو ماہ میں ایسانہ کرسکی تو پھر کیا ہوگا؟ مزید توسیع ! تاریخ بتاتی ہے کہ اس سے پہلے ایسی کمیٹیاں اور کمیشن کبھی مقررہ وقت میں اپنے فرائض مقررہ وقت میں انجام نہیں دے سکے۔ اب ایک اور تحقیقاتی کمیٹی!!ایک پراناشعر یاد آرہاہے کہ میز لگے گا، جام آئے گا، پھرصراحی آئے گی مگرنہ جانے ساقی کب آئے گا؟ اگلے چند مہینے کمیٹی کی ابتدائی کارروائی میں گزر جائیں گے۔ پھر تحقیقاتی رپورٹ لکھنے میں کئی ہفتے لگ جائیں گے اس کے بعد یہ رپورٹ سپریم کورٹ کوجائے گی۔ وہ اسے الیکشن کمیشن کو بھیج دے گی اور الیکشن کمیشن!! اس کی یہ مجال کہ وزیراعظم کے خلاف کوئی فیصلہ سناسکے! بالآخرعام انتخابات سر پر آجائیں گے، سب لوگ ان کی تیاریوں میں مصروف ہو جائیں گے، اور پانامہ کیس منہ دیکھتا رہ جائے گا۔ فیصلے میں بتایاگیا ہے کہ جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار کی رائے میں میاں نوازشریف بطور وزیراعظم صادق اور امین نہیں رہے اور اس عہدہ کے لیے نااہل ہوچکے ہیں ۔ دوسرے تین ججوں نے انہیں نااہل قرارنہیں دیا اور مزید تحقیقات کے لیے کمیٹی کا اعلان کردیا۔ میں پہلے ہی اُردو کا محاورہ درج کر چکا ہوں کہ '' بداچھا بد نام برا''! جسٹس آصف سعید کھوسہ بہت صاف ذہن والے نہائت دیانت دار اور انصاف پسند جج ہیں۔ تاریخی اہمیت کے کئی فیصلے دے چکے ہیں۔2018ء میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بننے والے ہیں۔ جسٹس گلزار احمد بھی انتہائی انصاف پسند دیانت دار سچے جج کی شہرت رکھتے ہیں۔ فیصلہ تو جوبھی ہے ، کیا ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے دواعلیٰ سینئر ججوں کی رائے نظر انداز کی جاسکتی ہے کہ '' وزیراعظم صادق اور امین نہیں رہے اور نااہل قرارپاتے ہیں''۔یہ انتہائی سخت باتیں ہیں۔ کوئی جشن منانے کی جائے وزیراعظم کو اخلاقی طورپر قوم سے معذرت کرکے اس عہدہ سے الگ ہوجاناچاہئے تھا ، بہت سے ملکوں کی مثالیں موجود ہیں۔ مگر اقتدار کی کرسی کیسے چھوڑی جائے، انجام چاہے کچھ بھی ہو؟ ذوالفقار علی بھٹو نے بھی کہا تھاکہ میری کرسی بہت مضبوط ہے ، پھر؟ ٭اب اور کیا لکھوں؟ فیصلے کا اعلان تو دو بجے ہوناتھا ، مجھ تک یہ فیصلہ ایک بجے دوپہر ہی پہنچ گیا تھا۔یہ پورے ملک میں بھی پھیل چکا ہوگا۔ ظاہر ہے جو فیصلہ 23فروری کو محفوظ کیاگیا وہ ایک ماہ تک کیسے محفوظ رہ سکتا ہے؟ مریم نواز نے گزشتہ روز ایسے ہی بیان جاری نہیں کردیا تھا کہ گھر میں سب لوگ مطمئن ہیں اور لاہور میں ایسے ہی میاں نواز شریف کے لیے خون بہا دینے کے بینر نہیں لگ گئے تھے! فیصلہ اگر23 فروری کو ہی آجاتا تو مختلف صورت حال ہوتی۔ میں شروع سے کہتاچلا آیاہوں کہ یہ تاریخ کا سب سے بڑا فیصلہ نہیں ، محض ایک شخص کے وزیراعظم ہونے یا نہ ہونے کا معاملہ ہے۔ اسے بعض اینکر پرسنوں اور ''بہت سینئر'' تجزیہ نگاروں نے جس طرح ایٹم بم جیسے دھماکہ والا کیس بناکر پیش کیا اس پر حیرت ہورہی ہے۔ اس فیصلہ کا تعلق نہ تو حکومت سے تھانہ ہی کوئی انقلابی تبدیلی آنی تھی۔ میاں نوازشریف چلے جاتے تو کیا فرق پڑ جاتا؟اور اب نہیں جائیں گے تو کیا فر ق پڑ جائے گا؟ سپریم کورٹ باربار کہتی رہی کہ آدھاسچ اور آدھا جھوٹ بولا جارہاہے ، او ر یہ کہ اس کے سامنے دونوں طرف سے واضح ثبوت پیش نہیں کیے گئے۔ پھرکوئی بھی عدالت پاکستان کی ہویا برطانیہ کی ، نامکمل شواہد پر مکمل فیصلے کیسے دے سکتی ہے؟ ٭اور اب! عدالت نے کمیٹی کی طرز کاکمیشن بنانے کااعلان کردیا ہے۔ اس سے پہلے ایسے بے شمار کمیشن بنتے رہے ہیں، کیا حاصل ہوا؟ کہاں گیا حمود الرحمان کمیشن کا فیصلہ؟ کہاں گئی اقبال ٹاؤن میں14 افراد کے قتل والے تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ؟ اور ایسے بہت سے دوسرے فیصلے اور رپورٹیں ؟ اب ایک اورکمیٹی نما کمیشن بنے گا جس کی ابتدائی تیاریوں میں ہی کئی دن بلکہ ہفتے لگ جائیں گے۔ پھر مختلف فریقوں کو نوٹس جاری ہوں گے اور فریقوں کا معاملہ یہ ہے کہ عمران خاں نے خود عدالتی کمیشن کا مطالبہ کیا۔ وزیراعظم نے کسی ریٹائرڈ جج کی زیر قیادت کمیشن کا اعلان کر دیا۔ عمران خاں نے اسے مسترد کرکے حاضر سروس جج پر مشتمل کمیشن کا مطالبہ کیا۔ سپریم کورٹ نے پہلے اسے مسترد کردیا پھر آمادگی ظاہر کی تو عمران خاں نے اپناہی مطالبہ مسترد کردیا۔ اس پر سپریم کورٹ نے خود سماعت شروع کر دی۔ 126دنوں میں26سماعتیں، طویل بحثیں، دلائل اور سیاسی نمبرداروں کی عدالت سے باہر آکر بڑھکیں:'' سپریم کورٹ سے کرپشن کا جنازہ نکلے گا ،فیصلہ صدیوں تک یاد رہے گا''اور اب کیا ہوگا؟ کچھ بھی نہیں ہوگا؟ میاں نواز شریف کے دفتر نے تو گزشتہ روز ان کے بطور وزیراعظم آئندہ کئی دنوں کے پروگرام کا اعلان کردیا تھا۔ یہ کیسے ہوا کہ عدالت کا فیصلہ ایک دن بعد آناتھااس روز سے ان کا وزیراعظم کا عہدہ خالی بھی ہوسکتاتھا، مگرآئندہ کے پروگراموں کا اعلان کس اطمینان بخش اطلاع کے تحت کیاجارہا تھا؟ ٭سپریم کورٹ کے فیصلے سے ہٹ کر ایک دوسرا منظر نامہ دیکھ رہاہوں۔ اُردو کا پرانا محاورہ ہے ، ''بد اچھا بدنام برا''۔ پانامہ کیس میں مختلف چہروں پر جو خاک اڑی ہے، جو خفیہ باتیں ، اربوں کھربوں کے اثاثے، ان کے خفیہ کاروباری راز، ملک کی دولت سمیٹنے اور باہر لے جانے کے قصے اور کیسی کیسی مکاریاں ، ریاکاریاں سامنے آئی ہیں کہ سن کرانسان سر پیٹ لے۔ ٭پھر وہی لوڈشیڈنگ کا گھسا پٹا اعلان کہ ہم اگلے سال بارہ ہزار میگاواٹ یونٹ لارہے ہیں۔ اس وقت تک اذیت برداشت کرتے رہو اور بجلی کے محکمہ کا اعلان کہ بجلی جتنی مرضی پیدا کرلو، ہمارے پاس اسے ملک میں تقسیم کرنے کاکوئی اضافی انتظام ہی نہیں، ہزاروں کلو میٹر نئی ٹرانسمیشن لائنیں ، ہزاروں نئے ٹرانسفارمر چاہئیں مگر ہمارے پاس تو کچھ بھی نہیں! اس فاضل بجلی کا کیاکریںگے؟ ٭آصف زرداری نے کہاہے کہ نوازشریف نے بہت بددیانتی کی ،اب میں اس کافون نہیں اٹھاؤنگا۔ اس کامطلب یہ ہے کہ آصف زداری خودبہت دیانت دار ہیں! ٭قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرسید خورشیدشاہ20 اپریل کو64 برس کے ہوگئے۔ اسمبلی میں ان کے چیمبر میں سالگرہ منائی گئی۔ اپنے پرائے بہت سے لوگ آئے۔ ان میں وزارت اطلاعات کے کشتہ ستم وزیر پرویز رشید بھی موجود تھے۔ انہوں نے مبارکباد دی مگر کیسی کہ شاہ صاحب !''آپ ہزاروں سال سلامت رہیں، اپوزیشن لیڈر بنے رہیں اور ہمارے کان کھینچتے رہیں!''اس کے معنی نکلتے ہیں کہ خورشید صاحب کے ساتھ پرویز رشید بھی ہزاروں سال موجود رہیں گے،مگر کیا اسی حیثیت میں؟

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved