کیا یہ فیصلہ ملک کی تقدیر بدلے گا
  21  اپریل‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

فیصلہ آگیا ہے۔ کیا اس فیصلے سے ملک کی تقدیر سنور جائے گی۔ کیا اب پاکستان سے کرپشن کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہوجائے گا۔ کیا حکمران طبقہ اپنی لوٹی ہوئی دولت۔ سرکاری خزانے میں واپس ڈال دے گا۔ کیا اب قومی سیاسی پارٹیاں اپنی صفوں سے کرپٹ عناصر کو نکال باہر کریں گی۔ ملک کی تاریخ گواہ ہے کہ عدالتی فیصلوں نے ہمیشہ طاقت وروں کا ساتھ دیا ہے۔ جب تک غاصب ملک میں سیاہ و سفید کے مالک رہے ہیں۔ ان کو نظریۂ ضرورت کے تحت جائز قرار دیا گیا۔ بلکہ ان کو آئین میں ترمیم کا حق بھی دے دیا گیا۔ جس کے لیے عام دنوں میں پارلیمنٹ کی دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے۔ عدالتی فیصلوں نے بہت سے بے گناہوں کو پھانسی چڑھادیا۔ لیکن گناہ گاروں کو بہت سی قانونی موشگافیوں پر چھوڑ دیا گیا۔ 1947سے لے کر اب تک عدالتوں کی تاریخ ایسی ہی نا انصافیوں سے بھری پڑی ہے۔ عدالتوں سے عدل کے علاوہ سب کچھ ملتا ہے۔ انہیں ہم بہت عزت وقار دیتے ہیں۔ ان کے جملوں کو سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں۔ لیکن ان کے فیصلے معاشرے میں تبدیلیاں نہیں لاسکے ہیں۔ عدلیہ کی آزادی کے لیے کتنے نوجوانوں نے قربانیاں دیں۔ کتنی امیدیں باندھی گئیں۔ اعتزاز احسن کی نظم سن کر کتنے نوجوان وکلا طاقت کے نشے میں بد مست ہوگئے۔ بہت سے کہتے تھے جسٹس افتخار چوہدری بحال ہوگئے تو ملک سے آمریت ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے گی ۔ حقیقی جمہوریت آجائے گی۔ اعلیٰ عہدوں پر نا اہل افسر مقرر نہیں کیے جائیں گے۔ ہر سائل کو انصاف ملے گا۔ ذیلی عدالتوں سے رشوت۔ سفارش ختم ہوجائے گی۔ لیکن کیا ہوا۔ عدالتی حرکیت (جوڈیشنل ایکٹو ازم) کے نتیجے میں ہم کہاں کھڑے ہیں۔ اور اس مقبول ترین چیف جسٹس کی پارٹی میں کتنے لوگ شامل ہوئے ہیں۔ اس وقت ان کی حمایت کرنے والے سیاسی رہنما اور سیاسی کارکن سب اپنی اپنی بد عنوان پارٹیوں سے اسی طرح وابستہ ہیں۔ سیاسی حکمرانوں۔ فوجی حکمرانوں اور اعلیٰ عدالتوں کسی نے اس مملکت کو مملکت کی طرح با اختیار بنانے کے لیے فیصلے نہیں کیے۔ State with in State۔ مملکت کے اندر مملکتیں قائم کرنے سے سارا نظام ناکام ہوجاتا ہے۔ مملکت ایک ہوتی ہے۔ اس کے امکانات کی پیروی سب کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ مملکت کا اپنا ایک دائرۂ اختیار ہوتا ہے۔ جہاں یہ شروع ہو۔ وہاں حکومت کا اختیار بھی ختم ہوجاتا ہے۔ فوج کا بھی۔ اور عدالت کا بھی۔ ہم گزشتہ 70سال میں یہ دائرۂ اختیار طے نہیں کر پائے۔ مملکت کے دائرے میں حکومت مداخلت کرتی ہے۔ حکومت کے دائرے میں مملکت کی مداخلت رہی ہے۔ آج یہ حال ہے کہ ہم کو خبر نہیں ہے کہ حکومت کے اختیارات کی حد کہاں ختم ہورہی ہے۔ مملکت کا دائرہ کہاں سے شروع ہورہا ہے۔ کونسا ادارہ مملکت کا ہے کونسا حکومت کا۔ فوج کو مملکت کے تابع ہونا چاہئے۔ یا حکومت کے۔ پارلیمنٹ کیا سپریم کورٹ سے بالاتر ہے ۔ پارلیمنٹ کیا مملکت کی علامت ہے۔ یا حکومت کی۔ تصور تو یہ ہے کہ ایک علاقے میں رہنے والے تمام شہری ایک مملکت کو جنم دیتے ہیں۔ یہ مملکت اور شہری آپس میں معاہدہ کرتے ہیں کہ مملکت ان شہریوں کے جان مال کی حفاظت کرے گی۔ ایک فوج کے ذریعے۔ ایک حکومتی نظام کے ذریعے۔ شہری اس کے لیے مملکت کو ٹیکس دیں گے تاکہ وہ سرکاری اہلکاروں اور فوج کی تنخواہیں دے سکے۔ ان کی ضروریات پوری کرسکے۔ مملکت قوانین بنائے گی جس کااطلاق سب پر یکساں ہوگا۔ کوئی قانون سے بالاتر نہیں ہوگا۔ کسی کو استثنیٰ نہیں مل سکتا۔ لیکن ہماری بد قسمتی کہ پاکستان میں قائد اعظم کی رحلت کے بعد نا اہلیوں کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا۔ مملکت اور شہریوں کو ایک طرف ہٹا کر بیورو کریٹ۔ جو عوام کے خادم تھے۔ انہوں نے وسائل پر قبضہ کرلیا۔ غلام محمد۔ چوہدری محمد علی۔ اسکندر مرزا اسکی بڑی علامتیں ہیں۔ پھر فوج نے 1954سے ملکی امور میں مداخلت شروع کردی۔ مملکت کی علامت آئین ۔ صدر۔ فوج ۔ بیورو کریسی اور اعلیٰ عدلیہ ہوتی ہیں۔ حکمران آتے جاتے رہتے ہیں۔ یہ علامات والے مملکت کو مستقبل بنیادوں پر چلاتے ہیں۔ جن عہدوں کو آئینی کہا جاتا ہے۔وہ بھی مملکت کی علامت ہوتے ہیں مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ سب متنازع ہوگئے۔ ان کی تقدیس اور احترام ختم ہوتا گیا۔ اس وقت مملکت پاکستان کے اندر کئی کئی مملکتیں ہیں۔ عدلیہ اپنی جگہ ایک مملکت ہے۔ حکمران طبقہ اپنی جگہ۔ جاگیردار۔ سردار۔ شہروں میں بدمعاش ۔ لینڈ مافیا۔ واٹر مافیا۔ اسکول مافیا۔ یونیورسٹیوں کی انتظامیہ بھی ایک مافیا ہے۔ مشعال خان کے المیے نے یہ ظاہر بھی کردیا ہے ۔ مسجدوں۔ مدرسوں میں بھی مملکتیں قائم ہیں۔ علماء بھی اپنی مملکت قائم کیے ہوئے ہیں۔ State with in State۔ کا تصور یہ ہوتا ہے کہ ملکی قوانین کے نفاذ کے بجائے کوئی ادارہ یا فرد اپنا قانون چلارہا ہو۔ ملکی قانون سے جب یہ ذاتی قانون متصادم ہوتے ہیں تو عام لوگ انصاف سے محروم ہوتے ہیں۔ کچلے جاتے ہیں۔ بازاروں۔ مارکیٹوں میں گاہکوں کے ساتھ یہی ہورہا ہے۔ پرائیویٹ سیکورٹی گارڈز ایک نئی مملکت آگئی ہے۔ یہ اپنا قانون چلاتے ہیں۔ کوئی نہیں پوچھتا کہ انہیں کس اختیار کے تحت سڑک بند کرنے کا اختیار ہے۔ مالک کی حفاظت کے لیے وہ سڑک بند کردیتے ہیں۔ میڈیا اپنا قانون چلاتا ہے۔ اس سارے منظر نامے میں مملکت کہاں ہے۔ ریاست کہاں ہے۔ ہر طرف حکومتیں ہی حکومتیں ہیں ۔ حکمران ہی حکمران ہیں۔ ایک جنگل بنا ہوا ہے۔ طاقتور جانوروں کی حکمرانی ہے۔ باقی جانور اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ حکمران طبقے ہیں۔ با اثر شخصیتیں ہیں۔ کوئی نظام نہیں ہے۔ کوئی لیڈر شپ نہیں ہے۔ ایسے ماحول کو افراتفری اور طوائف الملوکی کہا جاتا ہے۔ ضرورت ہے سب کو تربیت کی ۔ ڈسپلن کی۔ سب مل جل کر ایک نظام لاسکتے ہیں۔ ایک سسٹم قائم کرسکتے ہیں۔ موجودہ صورتِ حال میں تو لگتا ہے کہ ادارے ایک دوسرے کے خلاف تلواریں سونت کر کھڑے ہیں۔ ہر ایک دوسرے کی نسبت اپنے آپ کو زیادہ محب وطن۔ زیادہ مسلمان۔ اور زیادہ ایماندار سمجھتا ہے۔ وہ کسی کو بھی حق دینے کو تیار نہیں کہ وہ فیصلہ کرے۔ ہمارے ادارے خود سر ہوگئے ہیں۔ ایک اور المیہ یہ ہوا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ہماری سرکاری درسگاہوں میں امتحان میں کامیابی کے طریقے محنت اور ذہانت سے ہٹ کر نقل ۔رشوت ہوگئے۔ 1980کے اوائل سے شروع ہونے والے اس سلسلے کے نتیجے میں پاس ہونے والے اب ملک بھر میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔ اعلیٰ کلیدی عہدوں پر تقرری کا معیار اہلیت نہیں۔ وفاداری ہے۔ یہی حال سب اداروں کا ہے۔ ذہانت۔ تدبر۔ دانشمندی کا داخلہ عدل کے ایوانوں میں ہے نہ منتخب اداروں میں ہے۔ میڈیا میں بھی یہی حال ہے اس وقت فیصلے یہی لوگ کررہے ہیں۔ تجزیے ان کے ہی سامنے آرہے ہیں۔ 20کروڑ ان جملوں۔ فیصلوں مباحث میں پرورش پارہے ہیں۔ نیم حکیم خطرۂ جان۔ نیم ملاں خطرۂ ایمان۔ ہر طرف نیم یعنی دو نمبر کا راج ہے۔ اس لیے ہم کو یہ سب کچھ دیکھنا پڑرہا ہے۔ فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ یہ دو نمبری ختم کی جائے۔ تبھی ایک نمبری آئے گی۔ تبھی ہر ایک کو انصاف ملے گا۔ آپ بتائیے کہ دو نمبری ختم کرنے کے لیے آپ کے پاس کیا نسخہ ہے۔ کیا طریقہ آپ بہتر سمجھتے ہیں ۔ کیا اس فیصلے سے دو نمبری ختم ہوگی۔ ایس ایم ایس کیجئے۔ 0331-7806800


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved