غیرت نام تھا جس کا گئی تیمور کے گھر سے
  24  اپریل‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

گزشتہ روز حکیم الامت علامہ محمد اقبال کی برسی تھی اور پاکستانی فضا پانامہ فیصلے کے بعد سوگوار تھی۔ عوامی توقع تھی کہ فیصلہ وزیر اعظم میاں نواز شریف کے خلاف آئے گا لیکن معاملہ لٹک گیا ہے۔ میری افسردگی جس وجہ کی بنیاد پر ہے وہ عدالت عظمی کے فیصلے کے بعد حکمران جماعت کی قیادت کا رویہ ہے۔ گاہے سوچتا ہوں کہ قوموں کی زندگی میں وہ ادوار کتنے تکلیف دہ ہوتے ہوں گے جب قیادت کے منصب پر ایسے افراد فائز ہوں جنہیں اپنے منصب کے تقدس کی پرواہ ہو اور نہ اپنی عزت کا خیال۔ عدالت عظمی کے دو سینئر ترین ججوں نے وزیر اعظم کے بارے میں فیصلہ دیا ہے کہ وہ صادق اور امین نہیں ہیں لیکن۔ یہاں مٹھائیاں بانٹی جا رہی ہیں کہ نا اہلی سے بچ گئے ہیں۔ آصف علی زرداری نے بہتر اور بر محل بات کی کہ مٹھائیاں بانٹنے والوں کو شرم آنی چاہئے۔ عدالت عظمی کے بنچ میں شامل پانچ ججوں میں سے کسی ایک نے بھی وزیر اعظم کو معصوم اور بے گناہ قرار نہیں دیا بلکہ متفقہ طور پر جو سوالات اٹھائے ہیں ان کا تعلق دولت کی بیرون ملک منتقلی اور لندن جائیدادوں کی ملکیت سے ہے۔ واضح دکھائی دیتا ہے کہ وزیر اعظم معزز جج صاحبان کو لندن پراپرٹی کے متعلق مطمئن کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے قوم اور پارلیمنٹ میں جو خطاب کیا اور عدالت عظمی میں جو جواب داخل کرایا ان سب میں تضاد عیاں ہے۔ اس کا اظہار ان معزز جج صاحبان نے بھی کیا ہے جنہوں نے وقتی طور پر وزیر اعظم کو نا اہل قرار دینے سے گریز کیا ہے۔ 540صفحات پر مشتمل فیصلے میں کوئی ایک جملہ بھی وزیر اعظم نواز شریف کی معصومیت اور بے گناہی کے بارے میں نہیں ہے مگر اس کے باوجود خوشیاں منائی جا رہی ہیں اور مٹھائیاں کھائی اور کھلائی جا رہی ہیں۔ کسی معاشرے میں اخلاقی گراوٹ کا عالم اور کیا ہوگا؟ میں ان کالموں میں لکھتا آیا ہوں کہ اپنے اقتدار کو ناگزیر سمجھنے والوں نے اس ملک اور جمہوریت کا بیڑہ غرق کیا ہے۔ جن ملکوں میں اقدار کو اہمیت حاصل ہے اور جہاں یہ سمجھا جاتا ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے کے لئے اعلی ترین اخلاقیات کامظاہرہ کرنا چاہئے وہاں کیا اس طرح کی ڈھٹائی دیکھنے میں آتی ہے۔ عدالت عظمی کے تفصیلی فیصلے کی روشنی میں وزیر اعظم کو اپنے منصب پر رہنے کا کوئی حق حاصل نہیں رہا لیکن مجال ہے جو انہوں نے اشارے کنائیے میں بھی اپنے مستعفی ہونے کی بات کی ہو۔ وہ تازندگی وزیر اعظم رہنا چاہتے ہیں۔بادشاہت کے انداز و اطوار یہی ہوتے ہیں۔ عدالت عظمی کے فیصلے کے بعد نواز شریف کی حیثیت جناب آصف علی زرداری سے بھی کم تر ہوگئی ہے کہ آصف زرداری ہمیشہ ملزم رہے جبکہ نواز شریف کے بارے میں عدالت عظمی کے حاضر ججوں نے کہا ہے کہ وہ صادق اور امین نہیں ہیں۔ یہ وہ جج صاحبان ہیں جنہیں مستقبل میں اس ملک کا چیف جسٹس بننا ہے۔ ذرا تصور کیجئے کہ جسٹس آصف سعید کھوسہ ملک کی سب سے بڑی عدالت کے سربراہ ہیں اور قاضی القضا کے جلیل القدر منصب پر فائز شخص اپنے وزیر اعظم کے بارے میں یہ گمان رکھتا ہے کہ وہ ایک سچا اور امانت دار شخص نہیں ہے۔ کیا اس طرح ملک آگے بڑھتے ہیں؟ کیا اپنی ہستی کو ملک سے برتر سمجھنا وطن عزیز کی خدمت ہے یا صورتحال کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے از خود پیچھے ہٹ جانا زیادہ با وقار قدم ہوتا۔ سمجھ نہیں آرہا کہ وزیر اعظم اس فیصلے کے بعد بین الاقوامی کمیونٹی کا سامنا کیسے کریں گے۔ قوم جان لے کہ وطن عزیز میں جمہوریت کی بد نامی اور آمریت کو راہ دینے کے ذمہ دار ا یسے ہی سیاستدان ہیں۔ پاکستان میں مارشل لاؤں کی تاریخ پڑھ لیں آپ کو ایک قدر مشترک ملے گی اور وہ ہے اہل سیاست کا غیر ذمہ دارانہ کردار۔ مجھے ایسے لوگوں کو ''رہنما'' لکھتے ہوئے دکھ ہوتا ہے۔ یہ کیسے رہنما ہیں جو صحیح راستہ دکھانے کی بجائے قوم کو راستے کی بھول بھلیوں میں الجھانے والے ہیں۔ مفاد پرستوں کا ٹولہ نام بدل بدل کر پاکستان پر حکومت کرتا آیا ہے۔ ہماری تاریخ میں کسی معراج خالد کا کوئی سراغ نہیں ملتا ہے۔ عیاں ہے کہ میاں نواز شریف پانامہ کیس سے بچ نہیں سکتے۔ آج فیصلہ نہیں ہوا تو 60دنوں کے بعد یہ حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی ۔وقتی طور پر نا امیدی ضرور ہوئی ہے مگر یہ ناکامی نہیں ہے۔ فیض نے کہا تھا دل نا امید تو نہیں ناکام ہی تو ہے لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے دست فلک میں گردش تقدیر تو نہیں دست فلک میں گردش ایام ہی تو ہے آج میاں نواز شریف اگر بچ نکلے ہیں تو وہ سدا بچ نہیں سکتے۔ قانون کی گرفت میں آنا نوشتہ دیوار ہے مگر بچ بھی نکلے تو عوام کی عدالت سے بچ نہ پائیں گے۔ میں نے پانامہ فیصلے کے بعد جس طرح عام آدمی کو غم و غصے میں دیکھا ہے اس کو ملحوظ رکھ کر یہ دعوی کیا جاسکتا ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں مسلم لیگ ن کا گراف نچلی حدوں کو چھوئے گا۔ آپ زیادہ عرصہ سارے لوگوں کو بے وقوف نہیں بنا سکتے۔ کوئی وقت تھا آپ آصف زرداری پر تہمت لگاتے تھے آج یہ بات کھل کر سامنے آگئی ہے کہ آصف زرداری کے سرے محل کی داستانیں بیان کرتے وقت آپ غیر قانونی دولت کے سہارے لندن کی جائیدادیں خریدنے میں مصروف تھے۔ دنیا مکافات عمل ہے ' آپ نے بے نظیر بھٹو پر الزام عائد کیا کہ وہ سیکورٹی رسک ہیں۔ آج بحیثیت وزیر اعظم ملک کے اعلی ترین حلقوں کے نزدیک آپ کی یہی پوزیشن بنتی جارہی ہے۔ یعنی سیکورٹی رسک اور کرپٹ ہونے کے الزامات آج آپ کی جانب پلٹ آئے ہیں۔ آ پ بے نظیر بھٹو اور آصف زرداری سے زیادہ جمہوریت پسند ہونے کا دعوی کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہیں چنانچہ کرپشن والی جمہوریت اگر انہیں بچا نہ پائی تو آپ کرپشن کرپشن اور جمہوریت جمہوریت کرتے کہاں تک بچ پائیں گے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
75%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
25%
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved