اس ملک میں کوئی صادق اور امین ہے؟
  24  اپریل‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

یہ ہفتہ قیامت کا ہفتہ تھا۔ اس ہفتے اعلیٰ عدالتوں کے ججوں نے جرأت کو خیرباد کہہ دیا۔ اس ہفتے اکثریتی حکمراں پارٹی نے جھوٹ۔ ڈھٹائی اور بے شرمی میں ٹاپ پوزیشن حاصل کی۔ اس ہفتے وکلا نے خموشی کے ریکارڈ توڑ دیے۔ اس ہفتے میڈیا نے جانبداری کی تمام حدیں پار کرلیں۔ اس ہفتے پاکستان میں لیڈر شپ کی کمی اور شدت سے محسوس کی گئی۔ بے بس۔ بے کس۔ بے بہرہ اور محروم قوم حیرت اور کرب سے دونوں طرف سے مٹھائیاں تقسیم ہوتی دیکھتی رہی۔ دالبندین سے واہگہ تک گوادر سے خیبر تک مایوسی کی شدت میں اور اضافہ ہوگیا۔ ہٹلر کے وزیر اطلاعات گوئبلز کی روح حکمراں پارٹی کے مرد اور خاتون وزراء میں حلول کرکے اس اصول کا عملی مظاہرہ کرتی رہی کہ جھوٹ اتنا بولو اتنا بولو کہ سچ لگنے لگے۔ مسلم لیگ(ن) کے سادہ لوح۔ وفادار کارکن واقعی یہ سمجھ رہے ہیں کہ وزیر اعظم ہر الزام سے بری ہوگئے ہیں۔ وہ یہ جاننے کی کوشش بھی نہیں کررہے کہ پانچ میں سے دو فاضل ججوں نے یہ کہا ہے کہ وزیر اعظم صادق اور امین نہیں رہے۔ اس کا کیا مطلب ہے کہ وزیرا عظم کاذب اور خائن ہوگئے ہیں۔ باقی 3ججوں نے یہ نہیں کہا کہ وزیر اعظم صادق اور امین ہیں بلکہ کچھ اور ٹیسٹ کرانے کو کہا ہے۔ پانچوں ججوں میں سے کسی نے وزیر اعظم کو صادق اور امین نہیں کہا۔ جس کا مطلب ہے کہ وزیر اعظم کی طرف سے کئی کروڑ روپے سرکاری خزانے سے فیس لینے والے وکیلوں کے دلائل تسلیم نہیں کیے گئے ۔ لاکھوں روپے خرچ کرکے جو دستاویزات باہر سے منگوائی گئیں وہ بھی قبو ل نہیں کی گئیں۔ اگر ان دستاویزات کی قانونی حیثیت ہوتی تو یہ 3جج بھی جے آئی ٹی کے حق میں نہ ہوتے بلکہ وزیر اعظم کو بری کردیتے ۔ جن ججز کو وزیراعظم کے حق میں سمجھا جارہا ہے ۔ جو مسلم لیگ(ن) کی نظر میں اس وقت ہیرو ہیں انہوں نے تو وزیر اعظم کی حیثیت ایک بہت ہی خطرناک ملزم کی تسلیم کی ہے کہ انہیں ملک کے عام افسروں کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا ہے یہ صادق اور امین نہ کہنے سے بھی بڑی سزا ہے۔ سوچئے کہ ایک ملک کا انتظامی سربراہ۔ کروڑوں ووٹوں سے منتخب ہونے والا عوامی نمائندہ اپنے خلاف الزامات کی وضاحت کے لیے ان افسروں کے سامنے پیش ہوگا جو اس کے وزراء اور سیکرٹریوں کے ماتحت ہیں۔ اس سے زیادہ بے عزتی اور کیا ہوسکتی ہے۔ ان ججوں نے تو اس کو اس قابل بھی نہیں سمجھا کہ وہ سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے حاضر یا ریٹائرڈ ججوں کے سامنے پیش ہوں۔ اگر یہ تین جج بھی انہیں صادق اور امین نہ رہنے کا فیصلہ دیتے۔ وزیر اعظم گھر چلے جاتے تو وہ سیاسی طور پر مظلوم ہوجاتے اور الیکشن میں اس کا فائدہ ہوتا۔ لیکن اب کتنی پستی ہوگی۔ کتنی ذلت ہوگی کہ جو وزیر اعظم سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے سامنے پیش ہونے سے بچنے کے لیے سپریم کورٹ پر یلغار کروادیتا تھا اب ایف آئی اے کے دفتر میں پیش ہورہا ہوگا۔ ہیں آج کیوں ذلیل کہ کل تک نہ تھی پسند گستاخئ فرشتہ بھی اپنی جناب میں اس جے آئی ٹی (مشترکہ تحقیقاتی ٹیم) میں عدالتِ عظمیٰ نے نہ جانے کس کس ادارے کے افسروں کو شامل کردیا ہے۔ آئی ایس آئی۔ اور ایم آئی کو بھی لے لیا ہے۔ حالانکہ سیاسی معاملات میں ان کا کوئی دخل نہیں ہونا چاہئے۔ اس پر کوئی احتجاج نہیں کررہا ہے۔ کونسا آئین اسکی اجازت دیتا ہے۔ یا یہ معاملہ بھی نیشنل ایکشن پلان کا حصّہ بنادیا گیا ہے۔ جمع کرتے ہو کیوں رقیبوں کو اک تماشا ہوا گلہ نہ ہوا اعلیٰ ترین عدالت کے ججوں کے فیصلے۔ اکثریتی حکمراں پارٹی کے جشن۔ پی ٹی آئی کے بیانات نے ثابت کردیا ہے کہ یہ بد قسمت قوم اور وسائل سے مالا مال ملک لیڈر شپ سے محروم ہے۔ راستہ دکھانے والا کوئی نہیں۔ ہر ادارے میں غلام بیٹھے ہیں۔ اور وہ آگے بھی غلام ہی ڈھونڈتے ہیں۔ اعلیٰ اور آزاد دماغوں کی یہاں کوئی قدر نہیں ہے۔ درمیانے درجے کے ذہن درکار ہیں۔ اس لیے قیمتی معدنیات۔ 12کروڑ نوجوان۔ حساس ترین جغرافیائی پوزیشن ہونے کے باوجود یہ ملک آگے نہیں بڑھ پاتا۔ حال کے چند لاکھ یا کروڑ روپ مستقبل کے اربوں ڈالرز سے زیادہ قیمتی سمجھے جاتے ہیں۔ ہاتھ میں جو شکار آگیا ہے وہ جھاڑی میں دو پرندوں سے بہتر ہے۔ سیاسی پارٹیوں کے عہدیدار اور کارکن غلامی اور قبائلی دَور کی یادیں تازہ کرتے ہیں۔ پاکستان کا درد رکھنے والوں کو اس فیصلے نے تو مایوس کیا ہی تھا لیکن مسلم لیگ(ن) کے وزراء۔ لیڈروں اور کارکنوں کے جوش و خروش نے زیادہ مایوس کیا۔ ان کی سوچ پر تالے لگادیے گئے ہیں۔ آنکھوں سے بینائی چھین لی گئی ہے۔ انہیں دن میں بھی نظر آنا بند ہوگیا ہے۔ میں تو تاریخ سے یہ سوال کرتا ہوں ۔ اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑاتا ہوں کہ جب ہمیں پاکستان جیسی نعمت عطا کی ہر لحاظ سے ایک طاقت ور۔ امیر ملک۔ تو ہمیں اچھی قیادت کیوں عطا نہیں کی۔ ہمیں آزمائش در آزمائش میں کیوں ڈالا جاتا ہے۔ جنرل (ر) راحیل شریف نے ایک بہترین لیڈر ہونے کا عملی مظاہرہ کیا۔ صحیح فیصلہ صحیح وقت پر۔ جہاں ضرورت ہے وہاں پہنچ جاتے تھے۔ صرف فوجیوں کو ہی نہیں قوم کو ایک ولولۂ تازہ ملتا تھا۔ ان کے سامنے پاکستان کی صورتِ حال تھی۔ ضرورت یہاں تھی قیادت کی۔ ایک صادق۔ ایک امین پاکستان میں چاہئے تھا۔ پرانی سیاست گری خوار ہوچکی ہے۔ سب کو موقع مل چکا ہے ۔ نواز شریف کو 3بار۔ زرداری کو ایک بار۔ عمران خان کو صوبے میں موقع ملا سب نے مایوس کیا۔ ایسے میں جنرل راحیل شریف جراتمند قائد کی ملک میں ضرورت تھی۔ وہ سعودی عرب میں ایک ایسی فورس کی قیادت کے لیے چلے گئے جس کے ابھی اغراض و مقاصد بھی واضح نہیں ہیں۔ نیٹو۔ امریکہ اور یورپ کا بازوئے شمشیر زن ہے۔ اس کے قواعد و ضوابط بالکل واضح ہیں۔ امریکہ کے مفادات کی حفاظت کرنا۔ امریکہ فوجی ۔ سیاسی۔ مالی معاملات میں ایک سپر طاقت ہے۔ اسلامی فوجی اتحاد کیا اسلامی نیٹو بن سکتا ہے۔ کیا اس فورس کا سربراہ اسلامی ملکوں میں نیا ولولہ پیدا کرسکتا ہے۔ جبکہ تمام اسلامی ملکوں کے عوام اپنے بادشاہوں۔ حکمرانوں سے نالاں ہیں نہ وہاں اسلامی اصولوں پر عمل ہوتا ہے۔ نہ جمہوریت پر۔ جنرل راحیل شریف کی قائدانہ صلاحیتیں کیا وہاں صرف پیشہ ورانہ امور تک محدود رہیں گی۔ ملک کی خدمت میں ان کا کئی سال کا تجربہ اس ملک کے عوام کے کام تو نہیں آئے گا۔ لیکن پھر مرے دل سے صدا آتی ہے کہ وہ اس ملک کو بہترین قیادت دینے والے جنرل(ر) پرویز مشرف کے ساتھ اس ملک۔ حکومت اور عوام کا سلوک دیکھ چکے ہیں۔ اس کے بعد وہ سیاست میں آنے کی ہمت کیسے کرسکتے تھے۔ خدایا کیا ہم بھیڑوں کی رکھوالی یہی بھیڑیے کرتے رہیں گے۔ سی پیک کے اربوں ڈالر خرچ کرنے کے لیے بھی تو کسی صادق اور امین حکمران کی ضرورت ہے۔ کیا ہمارے مقدر سے اب ٹھیکیدار کھیلیں گے۔ آپ بتائیں کہ بھیڑیوں اور ٹھیکیداروں کا راستہ روکنے کے لیے کیا کیا جائے۔ ایس ایم ایس کیجئے۔0331-7806800


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved