زہریلا پروپیگنڈہ
  26  اپریل‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

امریکہ بہادر نے افغانستان کے صوبے ننگرہار کے علاقے آچن میں انتہائی ہلاکت انگیزبم سے حملہ کیا ۔ امریکی دعوئوں کے مطابق یہ اب تک استعمال کیا جانے والا سب سے طاقتور غیر ایٹمی بم ہے ۔ سوشل میڈیا اور اخباری اطلاعات کے مطابق اس بم کو MOAB یعنی 'Mother of All Bombs' بھی کہا جارہاہے۔یہ حملہ داعش کے مرکز اور خفیہ غاروں پہ کئے جانے کے دعوے بھی کئے گئے ۔ اِ س بم کی ہلاکت انگیزی کی جتنی تشہیر کی گئی تھی اُس تناسب سے مبےّنہ دہشت گردوں کی ہلاکتوں کی تعداد کہیں کم بتائی گئی ۔ اِس بم کے استعمال اور اُس سے حاصل ہونے والے نتائج اور اہداف کی حقیقت پہ شکوک وشبہات کے گہرے بادل چھائے ہوئے ہیں ۔دُنیا بھر میں اس حملے کے حوالے سے پائی جانے والی معلومات کی بُنیاد محض امریکی دعوے ہیں۔ آزادانہ ذرائع سے تصدیق تقریباََ ناممکن ہے ۔امریکی دعوئوں کی حمایت اور تشہیر کیلئے مخصوص صحافتی زرائع اور سوشل میڈیا کا بھر پوراستعمال کیا گیا ۔ بظاہر تو یہ حملہ دہشت گردوں کے خلاف کیا گیا لیکن افغانستا ن میں جاری دہشت گردی کے حوالے سے امریکہ کے کردار اور پالیسیوں پہ بہت سے اعتراضات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ اِ س حملے کی بلند بانگ تشہیر سے کچھ عرصہ قبل امریکہ نے شام پہ کروز میزائل داغ کے مشرقِ وسطیٰ کے محاذ پہ اپنی دھاک بٹھانے کی کوشش کی تھی ۔ اِس کہانی میں اثر پیدا کرنے کیلئے امریکی صدر نے چینی سربراہ ِ مملکت کے ساتھ عشایئے کے بعد چاکلیٹ کیک کھانے کے دوران کروز میزائل کے حملے کا حکم صادر کرنے کی حکایت بیا ن کرکے امریکہ کے روایتی تکبّر اور اکھڑ پن کا بے شرمانہ اظہار بڑے بھونڈے انداز میں کیا تھا ۔معمولی سا فہم رکھنے والا ذہن بھی آسانی سے یہ سمجھ سکتا ہے کہ اِس حملے کے زریعے روس کو یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی تھی کہ وقت پڑنے پر 'امریکہ بہادر ' طاقت کے اندھے استعمال سے بھی دریغ نہیں کرے گا۔شام میں ان بڑی طاقتوں کی بمباری کا نشانہ کون بن رہاہے ؟ ۔ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی فرصت عالمی شہرت یافتہ صحافتی اداروں کو بالکل نہیں ۔ایسا ہی کچھ معاملہ افغانستان میں بھی نظر آتا ہے۔ افغانستان کی بساط پہ روس اور چین کے درمیان اشتراکِ عمل اور امن کے قیا م کیلئے پاکستان کی کاوشیں 'امریکہ بہادر ' کو ایک آنکھ نہیں بھارہیں ۔ طاقت کا گھمنڈ سرپہ ایسا سوار ہے کہ اپنی کسی بھی غلط پالیسی کو امریکی فیصلہ ساز تسلیم کرنے کیلئے تیار ہی نہیں ۔ ننگر ہار میں کیا گیا حملہ بھی درحقیقت دہشت گردی کے خاتمے سے زیادہ خطے میں امریکی دھاک بٹھانے کیلئے کیا گیا ۔ روس اور چین کو یہ پیغام دیاگیا کہ افغانستا ن میں کوئی بھی اقدام 'امریکہ بہادر ' کی مرضی کے خلاف کیا گیا تو اُس کا انجام تباہی ہی ہوگا ۔ پاکستان کے حوالے سے امریکہ کی شرانگیز پالیسی روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ پاکستان سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے جتھے دندناتے پھر رہے ہیں۔ پاکستان کی سرحدی چوکیوں پہ حملے جاری ہیں ۔ ' امریکہ بہادر' نے کبھی ان دہشت گردوں کے خلاف کوئی کاروائی کیو ں نہیں کی ؟۔ ان دہشت گردوں کے زریعے پاکستان پہ دبائو ڈال کے اپنی مرضی کی پالیسیاں تشکیل دینے کیلئے مجبور کیا جارہا ہے۔ ماضی میں افغان پالیسی کے حوالے سے امریکی اشاروں پہ چلنے کی روش نے پاکستان کو بے پناہ مسائل سے دوچار کئے رکھا۔ امریکہ نے پہلے بھی کبھی اپنی ناکامیوں کی ذمہ ّ داری قبُول نہیں کی اور آج بھی وہ کسی قسم کی ذمہ داری قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ۔ اپنی ناقص حکمت عملی اور ناکامی کا ملبہ پاکستان پہ ڈالنے کیلئے انتہائی متعصب اور جانبدار صحافتی حلقوں کا استعمال پورے زور و شور سے کیا جارہاہے ۔ اِ س زہریلی مُہم میں پاکستان سے شائع ہونے والے بعض انگریزی جرائد کے علاوہ نیوز ویک بھی پیش پیش ہے۔بنظرغائر جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سمجھنے میں زیادہ دیر نہیں لگتی کہ ' نیوز ویک ' کافی عرصے سے بعض علاقائی اور بین الاقوامی معاملات میں آزادانہ صحافت کے بجائے امریکہ کے ' ڈھنڈورچی ' کا کردار ادا کررہاہے۔ تقریباََ ڈیڑھ عشرے سے زائد مدت تک افغانستا ن میں ہر سیاہ و سفید کا فیصلہ کرنے والے امریکہ کی بدترین ناکامی پہ یہ نام نہاد عالمی شہرت کے حامل میگزین اور اِ ن کے ' ڈھنڈورچی ' صحافی ایک لفظ نہیں لکھ پاتے لیکن پاکستان کے خلاف من گھڑت الزامات عائد کرنے کیلئے ہمیشہ کمر بستہ رہتے ہیں۔نیوز ویک کی حالیہ اشاعت میں جیف اسٹین نامی صحافی نے بین الاقوامی کالعدم تنظیم کے سربراہ کی پاکستان میں موجودگی اور اُ س کے حساس اداروں سے تعلقات کا من گھڑت افسانہ تحلیق کیا ہے۔کچھ عرصہ قبل موصوف نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ امریکی ڈرون نے پاکستانی قبائلی علاقوں میں اُس تنظیم کے سربراہ کو ہلاک کردیا ہے ۔ اب افسانے میں ترمیم کرکے یہ کہانی گھڑ لی گئی ہے کہ ڈرون حملے میں کالعدم تنظیم کا سربراہ بال بال بچ نکلاتھا ۔ بے شرمی کی انتہا یہ ہے کہ انٹرنیٹ پہ دستیاب رپورٹ کے ساتھ ہی اِس ٹوپی ڈرامے کے متعلق وضاحتی نوٹ بھی لکھا گیا ہے ۔ اِ سی نیوز ویک میں کچھ عرصے قبل ایک پاکستانی 'جغادری صحافی ' نے امریکی جنرلز کے بیانات کو توڑ مروڑ کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ دہشت گردی کے بڑے مراکز پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پائے جاتے ہیں ۔ یہ الزام سفید جھوٹ سے بھی کچھ آگے کی چیز تھی ۔ پاکستان کے عسکری اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بے پناہ قربانیا ں دے کے قبائلی علاقوں سے دہشت گردوں کی جڑیں اکھاڑ پھینکی ہیں۔اِس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ آج تمام مفرور دہشت گرد امریکہ بہادر اور بھارت کی شر انگیز ، سرپرستی کی بدولت پاکستان میں دراندازی کرکے آگ اور خون کا کھیل کھیلنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ امریکہ اور بھارت کے گٹھ جوڑ سے جنم لینے والی دہشت گردی کے خلاف نیو ز ویک اور اِس قبیل کے دیگر جرائد ورسائل میں کوئی رپورٹ شائع نہیں ہوئی ۔اِس جانبدارانہ صحافت کی اصل حقیقت سے ہر باشعور فرد واقف ہے۔ کوفی عنان کے اِس اعترافِ جُرم کو کون جھٹلا سکتا ہے کہ عراق میں امریکہ کی جانب سے طاقت کے اندھے استعمال کے نتیجے میں داعش کا قیام ممکن ہوا ۔ شام اور لیبیا میں انسانیت سوز خون ریزی کا ذمہ دار کون ہے ؟ دوسری جنگ ِ عظیم سے آج تک عالمی مسائل کو مذاکرات کے بجائے طاقت اور تشدّدکے اندھے استعمال کے ذریعے حل کرنے کی امریکی روش نے دُنیا کو بدترین انسانی المیوں کے سوا کچھ نہیں دیا ۔مقامِ افسوس یہ ہے کہ ہمارے ملک میں بھی ایسے 'پڑھے لکھے ' جاہلوں کی کوئی کمی نہیں جو انتہائی متعصّب اور جانبدار غیر ملکی جرائد میں شائع ہونے والے ہر جھوٹ کے پلندے پہ یقین کرکے اپنے ہی اداروں کے خلاف زہر اُگلنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ۔ افغانستان میں قیامِ امن کے بغیر خطے میں استحکام نہیں آسکتا اور اِس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ ہر معاملے میں دھونس اور طاقت کے اندھے استعمال کی امریکی روش نے صورتحال کو بگاڑنے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved