انصاف کے تقاضے اور جے آئی ٹی
  27  اپریل‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

ہمارے ہاں عجیب نظام انصاف ہے۔ دنیا میں انصاف کا نظام جہاں بھی قائم ہے اس کی روح ہے کہ عدالتی فیصلہ ایسا ہو کہ انصاف ہوتا دکھائی دے۔ انصاف کا معیار ہمیشہ ''بلیک اینڈ وائٹ'' ہوتا ہے' انصاف گرے ایریاز کے پیچھے ''چھپن چھپائی'' کھیلنے کا نام نہیں ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کے نظام انصاف سے عام آدمی کا اعتماد اٹھ گیا ہے جس کی وجہ مبہم عدالتی فیصلے ہیں اور طاقتور طبقات کا سزا سے بچ نکلنا ہے۔ پانامہ پیپرز پر عدالتی فیصلہ آیا ہے جس پر سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ وزیراعظم کے ہوتے ہوئے جے آئی ٹی کی کیا حیثیت ہوگی اور وہ کیسے آزادانہ طور پر ملک کے چیف ایگزیکٹو کے خلاف کریمنل انوسٹی گیشن کرسکے گی۔ ہم جس ملک کے شہری ہیں وہاں ہر شخص الاماشاء اللہ ہے اس معاشرے میں اول تو مکمل ایماندار شخص تلاش کرنا ایک ناممکن عمل ہے' فرض کریں ایماندار اور فرض شناس لوگوں پر مشتمل مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بن بھی جاتی ہے تو حکومت اس کو کیا آزادانہ کام کرنے دے گی۔ یہ وہ ملک ہے جہاں ججوں پر دبائو ڈالنے سے دریغ نہیں کیا جاتا' جہاں جلسہ عام میں کھڑے ہوکر برملا کہا جات اہے کہ وزیراعظم کی زندگی کی کتاب مکمل ہے لیکن آپ کو پڑھنا نہیں آتی اور جہاں ججوں کو ہراساں کرنے کے لئے عدالت پر حملہ بھی کر دیا جاتا ہے وہاں کیا جے آئی ٹی ہوگی اور کیا اس کی حیثیت؟؟ پانامہ مقدمہ کا فیصلہ وطن عزیز میں عجیب و غریب فیصلوں یک روایت توڑ نہیں سکا ہے۔ 540 صفحات کا فیصلہ پڑھ کر لوگ حیران ہوتے ہیں کہ ایک جملہ بھی وزیراعظم کی معصومیت اور بے گناہی کے بارے میں نہیں ہے لیکن حتمی فیصلے میں وزیراعظم بچ نکلے ہیں۔ ایسا ہی ایک فیصلہ دھاندلی پر بننے والے جیوڈیشل کمیشن کی رپورٹ تھی۔237 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں وسیع پیمانے پر ہونے والی عمومی بدانتظامی کے علاوہ ان گیارہ ریٹرننگ افسروں کے حلقوں کی بدانتظامی کی داستان شامل ہے جہاں مسلم لیگ ن جیتی اور وہاں لاکھوں کے حساب میں اضافی بیلٹ پیپر بھیجے گئے۔ اس ہوش ربا داستان کو بیان کرنے کے بعد رپورٹ کا اختتام اس جملے پر ہوا کہ ''منظم دھاندلی'' ثابت نہیں ہوئی۔ دلچسپ بات یہ ہوئی کہ ریٹرننگ افسروں کو بلانے کا اقدام جیوڈیشل کمیشن کا تھا مگر ایک بھی ریٹرننگ افسر فارم14 پیش نہ کرسکا اور کوئی ایک بھی ایسا نہ تھا جس نے کہا ہو کہ اضافی بیلٹ پیپرز کے غلط استعمال کا خواہ مخواہ شور مچایا جارہا ہے اور یہ کہ اس نے اضافی بیلٹ پیپرز کا مکمل ریکارڈ جیوڈیشل کمیشن کے سامنے رکھ دیا ہو۔ کیا اس ''منظم بدانتظامی'' کی گرفت ضروری نہ تھی؟ لیکن ایک قدم بھی ایسا نہ اٹھایا گیا جس سے انصاف ہوتا دکھائی دیتا۔ سارا ملبہ ٹرمز آف ریفرنس پر ڈال کر جیوڈیشل کمیشن رپورٹ داخل دفتر ہوگئی۔ کسی کو سزا ملی اور نہ کوئی برطرف ہوا۔ سزا و جزا کے تصور کے بغیر معاشرے آخر کب تک چل سکتے ہیں؟ پاکستانی معاشرہ روبہ زوال ہے اور زوال کا عمل رکنے میں نہیں آرہا ہے۔ عدالتی نظام تباہی کے کنارے پر ہے ' بعض کے نزدیک تو یہ تباہ ہوچکا ہے۔ اس نظام میں طاقتور کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کی سہولت موجود ہے مگر یہ نظام طاقتور کو سزا دینے کی اہلیت سے محروم ہوچکا ہے۔ یہاں انکوائریاں ہوتی ہیں اور جیوڈیشل کمیشن بنتے ہیں مگر رپورٹیں منظر عام پر آتی ہیں اور نہ کوئی گرفت میں آتاہے۔ جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کے براے میں بدگمانی بھی یہی ہے۔ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے جے آئی ٹی کو مستردکر دیاہے لیکن عدالتی حکم کے تحت اسے بننا ہے۔ اب مسئلہ عدالت کی اپنی ساکھ ہے۔ کوئی وقت تھا جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کا قیام بڑی اہمیت رکھتا تھا مگر جے آئی ٹی کی فائنڈنگ پر بھی سوالہ نشان اٹھنے لگے ہیں اور مزید خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب جے آئی ٹی رپورٹ منظر عام پر آنے میں غیر ضروری تاخیر کر دی جاتی ہے۔ ڈان لیکس کے مسئلہ پر جے آئی ٹی بنی آج تک اس کی رپورٹ منظر عام پر نہ آسکی ہے حالانکہ جے آئی ٹی بناتے وقت کہا گیا کہ ایک آدھ ہفتے میں قوم کو تحقیقات سے آگاہ کر دیا جائے گا۔ میرا احساس ہے کہ عدالت عظمیٰ اس حقیقت کو پیش نظر رکھ کر نہ صرف ایک اچھی جے آئی ٹی تشکیل دے گی بلکہ وہ اس بات کو یقینی بنائے گی کہ غیر جانبدار اور مبنی برحقائق رپورٹ عدالت کے سامنے پیش ہوسکے۔ پیپلز پارٹی جے آئی ٹی کے حوالے سے جن تحفظات کا اظہار کررہی ہے وہ بے جا نہیں ہیں مگر سوال یہ ہے کہ عدالتی فیصلے کے بعد اپوزیشن جماعتوں کے پاس قانونی آپشنز کیا بچے ہیں؟ ایک آپشن عدالتی فیصلہ پر نظرثانی کا ہے۔ دادو جلسے میں عمران خان نے اس آپشن کو ایکسرسائز کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ اگر عدالت عظمیٰ کا فل بنچ بنتا ہے اور عدکالت 5 رکنی بنچ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے وزیراعظم کو نااہل قرار دیتی ہے یا پھر جے آئی ٹی کی رپورٹ تک وزیراعظم کو اپنے عہدے سے الگ ہونے کا حکم دیتی ہے تو یہ ایک ایسا فیصلہ ہوگا جس کی تحسین ملک کے طول و عرض میں ہوگی۔ میرے خیال میں عدالتی نظرثانی کے لئے رجوع کرنا تحریک انصاف کا ایک مستحسن فیصلہ ہے۔ اس اقدام سے عدالت عظمیٰ کو بھی موقع ملے گا کہ وہ نظام انصاف کے بارے میں عوام میں پھیلے جانے وای تشویش کا ازالہ کرسکے۔ پانامہ کیس میں انصاف کا تقاضا ہے کہ وزیراعظم عہدہ چھوڑیں تاکہ تحقیقات آزادانہ طور پر ہوسکیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
75%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
25%


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved