تین دن۔ تین نسلیں آپس میں ملتی رہیں
  28  اپریل‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
جناب احسن اقبال کے ولولہ انگیز دعوے۔ عرفان صدیقی کے تاریخ و ادب کے فروغ کے لیے عزائم۔ عطاء الحق قاسمی کا لطائف بھرا بیانیہ سن کر ہم پاک چائنہ فرینڈ شپ سینٹر کے مرکزی ہال سے باہر نکل رہے ہیں۔ ایک دم شور مچتا ہے ۔ راستہ دے دیجئے۔ ایمرجنسی ہے۔ ایک کرسی پر ایک نوجوان خاتون بے ہوش ہے۔ اسے اٹھائے ہوئے تیز تیز قدموں سے لوگ باہر جارہے ہیں۔ ذوالقرنین جمیل صدر انجمن ترقی اردو پاکستان کی آواز سب سے بلند ہے۔ خاتون اپنی کتاب پیش کرنے کے لیے اسٹیج پر چڑھی تھی کہ اسٹیج کے درمیان بنے ایک چوکور گڑھے میں پھسل کر گر گئی ہے۔ راجو جمیل ایسے ڈیزائن پر احتجاج کررہے ہیں۔ کہ ایسا خلا کیوں رکھا گیا۔ اسے ڈھانپنا چاہئے تھا۔ آس پاس سے لوگ کہہ رہے ہیں اس میں پہلے بھی حادثے ہوچکے ہیں۔ اس میں غبارے رکھ دیے جاتے ہیں۔اگلے روز یہ اندوہناک خبر آئی ہے کہ یہ نوجوان خاتون دنیا چھوڑ گئیں۔ ایک کہانی اور ادھوری رہ گئی ہے۔ یہ جوانمرگ۔ جواں سال شاعرہ فرزانہ ناز تھیں۔ 1991 میں یہ غنچہ کھلا۔ 2017میں مرجھا گیا۔ سوشل میڈیا میں ان کی کتاب 'ہجرت مجھ سے لپٹ گئی ' کے اوراق سامنے آرہے ہیں۔ مجھے ان سے ملنے کا اتفاق نہیں ہوا۔ لیکن میں اس خبر کے بعد سے غم زدہ ہوں۔ ایک زندگی کا یوں اچانک اختتام۔ موت کا یقینا ایک دن معین ہے۔ لیکن جہاں سینکڑوں بچے آرہے ہیں۔ خواتین۔ حضرات۔ وہاں ڈاکٹر کا انتظام بھی ہونا چاہئے۔ اسٹریچر کا بھی۔ اور ایمبولینس کا بھی۔ ہال کے ڈیزائن میں اگر یہ خامی ہے تو ہال کے منتظمین کو اس کا تدارک کرنا چاہئے۔ آٹھواں کتاب میلہ بہت ہی پُر وقار۔ متنوع اور خیال انگیز ہے ۔ ملک کے ہر گوشے سے اہل کتاب آئے ہوئے ہیں۔ فیس بک پر ملنے والے یہاں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے ہوسٹلوں میں مل رہے ہیں۔ ایک دوسرے کا دُکھ درد جان رہے ہیں۔ فرزانہ ناز کا میں دم آخر چہرہ نہیں دیکھ سکا۔ فیس بک پر دیکھ رہا ہوں۔ آنکھوں میں کتنے خواب چمک رہے ہیں۔پیشانی پر کتنی نظمیں درج ہیں۔ قدرت اتنی جلد کیوں واپس بلالیتی ہے۔ نسرین سید نے اپنی پوسٹ میں فرزانہ ناز کی یہ پنجابی نظم لکھی ہے۔ میں مٹی دا اک کھڈونا (میں مٹی کا ایک کھلونا) مٹیوں بنیا۔ مٹی ہونا (مٹی سے بنا۔ مٹی ہونا ہے) کیہڑیاں بڑکاں۔ کاہدے دعوے (کیسی بڑھکیں۔ کیسے دعوے) کوئی پتہ نہیں کل دا منیوں (کوئی خبر نہیں کل کی مجھے) مٹی دی اک ڈھیری دے وچ (مٹی کے ایک ڈھیر میں) کیہڑا چکے ۔ کیہڑا پاوے ( کون اٹھائے گا۔ کون ڈالے گا) اس عمر میں اسے اس حقیقت کا احساس تھا۔ ہمارے حکمرانوں کو اس سے کہیں زیادہ برسوں زندگی گزارنے کے بعد بھی معلوم نہیں ہے۔ میاں نواز شریف۔ آصف علی زرداری۔ عمران خان ۔ مولانا فضل الرحمن۔ بلاول بھٹو زرداری۔ شہباز شریف۔ مراد علی شاہ۔ پرویز خٹک۔ ثناء اللہ زہری سب مٹی کے کھلونے ہیں۔ مٹی سے بنے ہیں۔ مٹی میں مل جائیں گے ان کے دعوے ان کے نعرے سب مٹی میں دفن ہوجائیں گے۔ فرزانہ ناز ان سب سے زیادہ با خبر تھی۔ کتاب زیست کا وہ آخری ورق لکھ کر کتاب میلے میں سب کو اداس چھوڑ گئی میری عرفان صدیقی صاحب سے گزارش ہوگی کہ ان کے اہل خانہ کو سرکاری خزانے سے مالی مدد دی جائے۔ اس کے نام پر اسلام اباد میں کوئی سڑک۔ اور بچوں کی تعلیم سرکاری خرچ پر۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں یہاں عرفان صدیقی صاحب کے خیال ہم نفساں۔ حرف سے عشق۔ کتاب کی قدر کا ذکر ضرور کروں گا۔ کسی وزارت میں کوئی صاحب علم و ذؤق آجائے تو ماحول بدل جاتا ہے۔ قواعد و ضوابط رُکاوٹ نہیں بلکہ معاون بن جاتے ہیں۔ نیشنل بک فائونڈیشن۔ اکادمی ادبیات۔ لوک ورثہ۔سب متحرک ہوگئے۔ فعال ہوگئے۔ اکادمی ادبیات کی کانفرنس میں تو میں نہیں جاسکا تھا۔ وہاں عرفان صدیقی صاحب وزیر اعظم سے 50کروڑ کی گرانٹ علم و ادب کے فروغ کے لیے جاری کروانے میں کامیاب ہوئے۔ کتاب میلے میں سفیران کتاب سے خطاب میں انہوں نے بتایا کہ تمام مراحل طے کرتے ہوئے یہ خطیر رقم تاریخ۔ ادبی ورثہ ڈویژن کے کھاتوں میں منتقل ہوچکی ہے۔ ادب۔ ثقافت۔ زبان کے سب معاملات کو آگے لے جانے میں اصل کردار عطاء الحق قاسمی صاحب کا ہے۔ جو وزیر اعظم کے بے تکلف دوستوں میں سے ہیں۔ اپنی بات منوانا جانتے ہیں۔ نیشنل بک فائونڈیشن کو پہلے جناب مظہر الاسلام نے بھی بہت سرگرم اور منظّم کیا تھا۔ لیکن ڈاکٹر انعام الحق جاوید نے اور زیادہ مضبوط بنیادوں پر متحرک کیا ہے۔ انہیں حکومت کی سرپرستی بھی حاصل ہے۔ اور احباب ادب کی بھی۔ اس کتاب میلے کے موضوعات میں بھی بہت تنوع تھا۔ چین پاک اقتصادی راہداری اس وقت ملک کے گلی کوچوں کاموضوع ہے۔ اس کا جائزہ بھی اقتصادی۔ علمی۔ ثقافتی بنیادوں پر کیا گیا۔ شعر و ادب۔ علاقائی زبانوں۔ افسانہ۔ ناول۔ نسائی شعور۔ بچوں کا ادب۔ صوفیائے کرام۔ مصنف اور ناشر کے مسائل سب ہی زیر غور آئے اور یہ نوید بھی کہ اس سال بھی نیشنل بک فائونڈیشن نے کروڑوں روپے کی کتابیں بیچیں۔ عطاء الحق قاسمی۔ عرفان صدیقی۔ ڈاکٹر انعام الحق جاوید۔ ڈاکٹر قاسم بگھیو۔ افتخار عارف سبھی مبارکباد کے مستحق ہیں۔ بات وہی ہے کہ کسی کلیدی عہدے پر اگر ایسی شخصیت کی تقرری کی جائے۔ جو اس کی حقدار ہو اس کے رموز و اسرار جانتی ہو۔ اس محکمے کی ضروریات سے واقف ہو۔ زندگی میں ایسی خدمات انجام دے چکی ہو۔ تو یہ ادارہ اپنی ذمہ داریاں بھرپور انجام دینے لگتا ہے۔ آپ اندازہ کیجئے۔ جہاں کھمبوں پر کرینہ کپور۔ کترینہ کیف۔ کرشمہ کپور لٹکتی تھیں۔ وہاں اب حامد میر۔ عقیل عباس جعفری۔ فاضل جمیلی آویزاں نظر آتے ہیں۔ یہ اہل قلم کی عزت افزائی ہے۔ اور عوام سے ان کا رابطہ استوار کرنا۔ تین دن تینوں نسلیں بچے۔ نوجوان بزرگ بڑی تعداد میں جمع ہوتے رہے۔ ایک دوسرے کے جذبات سے واقف ہوتے رہے۔ کتاب کے فروغ کے لیے یہاں بہت سی تجاویز پر بات ہوئی۔ الیکٹرونک میڈیا کے دَور میں۔ جدید ٹیکنالوجی کے شور میں کتاب کیسے آگے بڑھ سکتی ہے۔ نوجوانوں کا دل کیسے جیت سکتی ہے۔ اسی میں اصل رمز پوشیدہ ہے۔ نوجوانوں کے لیے ہمیں اپنے اساتذہ۔ اور عظیم قلمکاروں کے اقتباسات موبائیل فون کی اسکرین تک پہنچانے ہوں گے۔ نوجوان بہت اچھا ذوق رکھتے ہیں۔ پیاسے بھی ہیں۔ پہلے پیاسا کنوئیں تک جاتا تھا۔ اب ٹیکنالوجی نے یہ محاورہ بدل دیا ہے۔ اب کنوئوں کو پیاسے کے لبوں تک لے جانا ہوتا ہے۔ ان جراتمند ادیبوں کی تحریریں ہم نوجوانوں کے ذہنوں میں اتاریں گے تو وہ آج کے منافق۔ کاذب اور خائن حکمرانوں کے چہروں سے نقاب اتاریں گے۔ بہت سے دوست احباب سے ملاقاتیں ہوئیں۔ جنرل(ر) فیض چشتی بھی کتاب ڈھونڈتے ملے۔ کرنل ابدال بیلا۔ جبارمرزا ۔ مسعود مفتی اور بہت سے۔ محبوب ظفر نے تو کامیاب نظامت کا ریکارڈ قائم کردیا۔ ہر لمحے ہر ملاقات سے انسان بہت کچھ سیکھتا ہے۔ جناب اکبر حسین اکبر نے گلگت بلتستان کے تاریخ اور جغرافیے سے آگاہ کیا ان سے تفصیلی مذاکرہ ہوگا۔ ملک ظاہر جان انجان اورکزئی نے فاٹا کی جو صورت حال بتائی اس نے تو مجھے چونکا کر رکھ دیا ہے۔داخلی بے گھروں کے مسائل کتنے پیچیدہ ہیں۔ ان سے بھی کسی وقت ایک نشست ہوگی۔ خوشی یہ ہوئی کہ 'اوصاف' کے قارئین کا حلقہ آزاد کشمیر۔ گلگت۔ فاٹا۔ کے پی کے ہر جگہ مضبوط ہے۔ 'اوصاف' ایک معتبر حوالہ ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے۔ ایس ایم ایس کیجئے۔ 0331-7806800

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved