بین الاقوامی حکمران مستحکم پاکستان نہیں چاہتے
  1  مئی‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
حکمرانوں کے اونچے اونچے محلوں میں۔ حکومتی ایوانوں میں دیکھیں کچھ بھی تبدیل نہیں ہورہا ہے۔ کچھ بھی بہتر نہیں ہورہا ہے۔ کوئی ایسی خبر نہیں آتی۔ جس سے میرے آپ کے اور ہم جیسے کروڑوں کے حالات بدل سکیں۔ پاکستان آس پاس کے ہمسایوں کی طرح ہی آگے بڑھتا نظر آئے۔ لیکن ہم جب پرائیویٹ اداروں میں جاتے ہیں وہاں پاکستان کامیاب ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ سنگ میل عبور کررہا ہے ۔منزلوں کو چھورہا ہے۔ اپنے ماہنامہ ’اطراف‘ کے لیے میں مختلف اداروں کے سربراہوں سے ملتا ہوں۔ وہ مستقبل کے لیے بڑے بڑے منصوبے بنارہے ہیں۔ معاہدے کررہے ہیں۔ آئندہ ماہ ’یونیورسٹی نمبر‘شائع کرنا ہے۔بڑی بڑی پرائیویٹ یونیورسٹیوں کے مالکان۔ وائس چانسلروں سے گفتگو کررہا ہوں وہاں پاکستان کا درد ملتا ہے۔ ایسے شہری تیار کیے جارہے ہیں۔ جن کی ملک اور معاشرے کو ضرورت ہے سب کا عزم یہی ہے ۔ مستقبل کی قیادت کی تعمیر ان درسگاہوں سے فارغ التحصیل اپنے اپنے کاروبار چلارہے ہیں۔ اپنے خاندانی کاروبار کو نئے خطوط پر منتظم کررہے ہیں۔ اس طرح یہ تو امید کی جاسکتی ہے کہ ہماری معیشت مستحکم ہوتی جائے گی۔ لیکن ہماری سیاسی قیادتوں میں کوئی بہتری نہیں آئے گی۔ کیونکہ سیاست جاگیرداروں کی یر غمال بنی ہوئی ہے۔ جاگیردار پڑھنا نہیں چاہتے۔ تربیت حاصل کرنا نہیں چاہتے ۔ اور سیاست سے دستبردار بھی ہونا نہیں چاہتے۔ اس میں دو بڑے عوامل ہیں۔ ایک تو یہ کہ بڑے جاگیردار خاندانوں میں پہلے بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کا بھی رواج ہوتا تھا۔ پنجاب۔ سندھ۔ بلوچستان۔ سرحد سب بڑے خاندان اپنی اولادوں کو برطانیہ امریکہ بھیجتے تھے۔ 1980 کے بعد یہ سلسلہ نظر نہیں آتا۔ اس کے ساتھ ہی یہ غضب ہوا کہ کالجوں یونیورسٹیوں میں طلبہ یونینوں پر پابندی بھی اسی دَور میں عائد کی گئی۔ طالب علم اپنے لیڈر باضابطہ منتخب کرتے تھے۔ جمہوریت کا آغاز یہیں سے ہوجاتا تھا۔کالج یونیورسٹی کا نظم و نسق ۔ انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات ۔ یہ سب تربیت کا حصہ تھے۔ ملکی امور۔ علمی معاملات پر مباحثے اور تقریری مقابلے ہوتے تھے ان کے لیے تیاری کرنا پڑتی تھی۔ اساتذہ سے رہنمائی لی جاتی تھی۔ سیاسی پارٹیوں کے قائدین میں اب ان خصوصیات کا فقدان دکھائی دیتا ہے۔ جب قیادت میں اہلیت نہ ہو تو فکری اور عملی انتشار ناگزیر ہوتا ہے۔ یہ ہمارا مقدر بنا ہوا ہے امید یہ رکھنی چاہئے کہ اس وقت پرائیویٹ یونیورسٹیوں سے بزنس ایجوکیشن میں جو لیڈر تیار کیے جارہے ہیں وہ ملک کا نظم و نسق سنبھالنے کی طرف متوجہ ہوں۔ سیاست کو اپنے لیے شجر ممنوعہ خیال نہ کریں تو حالات بدل سکتے ہیں۔ اب دنیا میں سیاست اور معیشت یکجا ہورہے ہیں۔ اب آئیے۔ اسلام آباد میں جلسے کی طرف۔ آپ میں سے کچھ اس میں شریک ہوئے ہوں گے۔ کچھ نے ٹی وی چینلوں پر دیکھا ہوگا۔ بر صغیر کی سیاسی مذہبی تاریخ میں جلسوں کا مرکزی کردار رہا ہے۔ اب پیغام دینے کے بہت ذرائع آگئے ہیں۔ ریڈیو۔ ٹی وی۔ پرائیویٹ چینل۔ سوشل میڈیا۔ اس کے باوجود جلسے کی کشش موجود ہے۔ اب بھی جلسے ذہن کو بدلنے کا کردار ادا کرسکتے ہیں۔یہ اپنے محبوب سے روبرو ملاقات ہوتی ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ بعض جلسوں نے ملکوں کی تقدیر بدل دی ہے۔ بعض سے شہروں میں کایا پلٹ ہوئی ہے لیکن اس کے لیے باقاعدہ تیاری کی جاتی تھی۔ ہر پہلو کا جائزہ لیا جاتا تھا۔ کونسا لفظ کہاں بولنا ہے تقریروں کی ابتدا ہوتی تھی۔ راستے میں اِدھر اُدھر لے جاکر پھر کلائمکس( آخری مرحلے) تک پہنچا جاتا تھا۔ غیر ملکی سامراج کے خلاف انگریز کے خلاف ہندوؤں کے خلاف جلسے بڑے کامیاب اور نتیجہ خیز ہوتے تھے۔ بڑے بڑے شعلہ بیاں مقرر پیدا ہوئے۔ بہت کم رہ گئے ہیں لوگ جنہوں نے مجلس احرار اسلام کے قائدین کی تقریریں سنی ہیں۔ میں خوش نصیب ہوں کہ ایک یا دو بار مجھے سید عطاء اللہ شاہ بخاری کا خطاب سننے کا شرف حاصل ہوا۔ مجمع مسحور ہوکر رہ جاتا تھا۔ اگلا لفظ سننے کی بے تابی۔ بات کانوں سے ہوتی دل میں اترتی تھی۔شورش کاشمیری۔ صحافی بھی تھے۔ شاعر بھی۔ لیکن خطیب بھی بے بدل تھے۔ الفاظ کا چناؤ۔ شعروں کا انتخاب۔ مجلس احرار اسلام کے بہت سے لیڈر۔ پھر نئی سیاسی پارٹیوں میں شامل ہوتے گئے۔ ان کا اثاثہ بنتے گئے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کئی کئی گھنٹے تقریر کا ملکہ رکھتے تھے۔ مجمع بالکل ہمہ تن متوجہ رہتا۔ ان کی خبر کہیں نہیں شائع ہوتی تھی۔ سوائے روزنامہ ’نوائے وقت‘ اور مشرقی پاکستان میں ’پاکستان آبزرور‘ کے۔ عوام سے ان کا رابطہ جلسوں کے ذریعے ہی ہوتا تھا۔ انہوں نے میڈیا کی پرواہ کیے بغیر کراچی سے عوامی رابطہ شروع کیا۔ پشاور تک پہنچے۔ ایک لہر چل پڑی تھی۔ ان کی تقریر میں بھی ابتدا۔ کہانیاں واقعات۔ انکشافات اور ایک کلائمیکس۔ اور مطالبات ہوتے تھے۔ مولانا عبدالحمید خان بھاشانی بھی کئی کئی گھنٹے مجمع کو مخاطب کرسکتے تھے۔ بہت سادہ زبان۔ اُردو۔ بنگالی یہی حال شیخ مجیب الرحمن کی تقریروں کا ہوتا تھا۔ ان کا پیغام بھی تقریروں سے ہی منتقل ہوا۔نوابزادہ نصر اللہ خان کی تقریروں میں بھی اتار چڑھاؤ ابتدا۔ انتہا۔ ہوتی تھی۔ مگر ان کی خصوصیت اساتذہ کے اشعار کا بر محل استعمال ہوتا تھا۔ عبدالصمد خان اچکزئی۔ خان عبدالغفار خان بھی اپنے سامعین سے براہِ راست مکالمہ کرتے۔ اپنی بات ان کے دلوں میں اتارتے ۔ مجاہداوّل سردار عبدالقیوم خان کی تقریروں میں بھی اپنے اسلاف کا پرتو تھا۔ ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین نے بھی جلسوں سے ہی اپنی پارٹی کو منظم کیا۔ وہ ایک دو تین کہہ کر مجمع کو خاموش بھی کرسکتے تھے۔ اور جوش بھی دلاتے تھے۔ بلوچستان سے امان اللہ گچکی۔ طاہر محمد خان یاد آتے ہیں۔ بر صغیر کے علمائے کرام بھی فن تقریر میں لاجواب قدرت رکھتے تھے۔ مذہبی جلسے بھی عشاء کے بعد فجر تک جاری رہنے کی روایت تھی۔ بعض علماء کا خطاب سننے کے لیے عقیدت مند طویل سفر کرکے جلسہ گاہ پہنچتے تھے۔ اس وقت بھی یقیناًآزاد کشمیر ۔گلگت بلتستان۔ فاٹا۔ پنجاب۔ سندھ۔ بلوچستان۔ کے پی کے میں ایسے لیڈر ہوں گے جو اپنے خطاب کے ذریعے سامعین تک اپنا درد منتقل کرتے ہیں۔ نشتر پارک۔ موچی دروازہ۔ بازار قصہ خوانی۔ کوئٹہ کا چوک۔ (نام یاد نہیں آرہا)۔ ملتان۔ قاسم باغ۔ لاہور۔ ناصر باغ میں یہ آوازیں اب بھی گونجتی ہوں گی۔ میں یہ سب کچھ اس لیے یاد دلارہا ہوں کہ جلسہ اکیلا خود سب کچھ نہیں کرسکتا۔ اس سے پیشتر بڑی تیاریاں کرنی ہوتی ہیں۔ اور اس کے بعد بھی۔ پھر اب جلسوں میں لوگ پیسے دے کر کھینچ کر لانے پڑتے ہیں۔ایک دَور تھا جب کامیاب جلسے کا تصوّر یہ تھا کہ صرف اسی علاقے کے سامعین ہونے چاہئیں۔ باہر سے سامعین نہ لائے جائیں۔ اگر آتے بھی تھے تو چھپایا جاتا تھا۔ بسیں کہیں دور کھڑی کی جاتی تھیں۔ اب تو فخر سے بتایا جاتا ہے کہ فلاں شہر سے فلاں لیڈر کی سربراہی میں 40بسیں پہنچ گئی ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ آپ کے پاس پیغام کیا ہے۔ آپ کا ایجنڈا کیا ہے۔ حکومتیں گرانا بہت پرانا شوق ہوگیا ہے۔ جماعت اسلامی اس میں پیش پیش رہی ہے۔ لیکن پھر وجہ شہرت یہی بن جاتی ہے۔ حکومت بنانے کے لیے عوام ایسی جماعتوں کا ساتھ نہیں دیتے۔ پی ٹی آئی کی وجہ شہرت ’ گو نواز گو‘ بن رہی ہے۔ اس میں کامیابی ہو بھی جائے تو تخت سنبھالنے کوئی اور آتا ہے۔ مسئلے کا حل صرف نواز حکومت کا خاتمہ نہیں ہے۔ وقت کا تقاضا یہ ہے کہ پاکستان میں ایسی انتظامیہ بر سر اقتدار آئے جو پاکستان کو خود کفالت کی طرف لے جائے۔ قرضوں سے نجات دلائے۔ چین پاک اقتصادی راہداری میں پاکستان اپنا حصہ بھی ڈالے۔ ایسی قیادت کو کم از کم تین حکومتی ادوار ملنے چاہئیں۔ کوئی موجودہ پارٹی بھی اس وقت عوام کو یہ اعتبار اور اعتماد نہیں دے سکتی ہے اس لیے ریلیاں۔ جلسے بے نتیجہ رہتے ہیں۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ امریکہ۔ یورپی یونین۔ بھارت سب پاکستان کو کسی نہ کسی بحران میں مبتلا رکھنا چاہتے ہیں۔ مستحکم پاکستان کسی کے حق میں نہیں ہے۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ۔ سیاسی جماعتیں۔ عدلیہ۔ میڈیا بھی اس بین الاقوامی ایجنڈے کی تکمیل میں اپنا اپنا کردار ادا کررہا ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے۔ ایس ایم ایس کیجئے۔0331-7806800

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved