نظریاتی یا اجرتی قاتل؟
  4  مئی‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

طالبان ترجمان احسان اللہ احسان کے اعترافی بیان کے بعد ہماری آنکھیںکھل جانی چاہئیں۔ یہاں لوگ بحث کرتے ہیں کہ دوسروں کو کیا تکلیف ہے کہ وہ پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کریں۔ ان مباحثوں کے بقول اپنے دشمن ہم خود ہیں۔ دلیل کے طور پروہ ایسی تنظیموں کی مثالیں دیتے ہیں جو سکولوں ''مسجدوں اور بازاروں پر حملہ کرتی ہیں اور مذہب کے نام پر ایک دوسرے کاگلا کاٹنے کی سرگرمیوں میں ملوث ہوتی ہیں۔ یقینا ظاہری طور پر پاکستان سے تعلق رکھنے والے یہ جنونی گروہ ہمیں برسرپیکار دکھائی دیتے ہیں لیکن یہ لوگ کن بین الاقوامی قوتوں کے ہاتھوں استعمال ہوتے ہیں اور کن کے ایجنڈے پر پاکستان کو نشانہ بناتے ہیں اس کا اعتراف طالبان کے ترجمان نے یہ کہہ کر واضح کر دیا ہے کہ ''سازشی تھیوری''اور ''خوف کی نفسیات'' بے جا نہیں ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ ایک ''پیچیدہ معاملہ'' ہے چنانچہ اس کے اہداف ابتدا میں جو بتائے گئے تھے ان سے ہٹ کر اور بعض مواقع پر ان سے متضاد عملی اقدامات اٹھائے گئے۔ ہمارے یہاں جو این جی او مارکہ دانش پائی جاتی ہے وہ ہماری آزاد سوچ کو مفلوج کر کے ہمیں اہل مغرب کی اپنائی گئی پالیسی کی تقلید پر مجبور کرتی رہتی ہے۔ یہ لوگ میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں اور سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت ملک کے سیکورٹی اداروں کو دبائو میں لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ دوسری طرف وہ مذہبی طبقہ ہے جو خاص مائنڈ سیٹ رکھتا ہے اور جسے سمجھانے میں ہمیں برسوں لگ گئے کہ مذہب کے نام پر جو فساد برپا کیا جا رہا ہے اس کے پیچھے بیرونی قوتیں ہیں۔ ان قوتوں نے پاکستان میں خانہ جنگی کا منصوبہ بنایا ہے جس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ امریکہ اسامہ بن لادن اورالقاعدہ کے پیچھے سات سمندر پار کر کے افغانستان آیا۔ دنیا بھر کی فوجیں امریکی افواج کے ہمراہ تھیں اور سب مل کر طالبان کے امیر ملا عمر اور القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کومنطقی انجام تک پہنچانے کے درپے تھیں۔ یہ تو تھی ظاہری اپروچ درونِ خانہ معاملات کچھ اور تھے۔ امریکی اسامہ بن لادن کو مارنا نہ چاہتے تھے ۔ امریکی چاہتے تھے کہ اسامہ بن لادن مفرور رہے اور جنگ لمبی سے لمبی ہوتی جائے۔ کیسی عجیب بات ہے کہ امریکہ نے متعدد بار اسامہ بن لادن کو فرار ہونے کا موقع فراہم کیا۔ صدر بش کی ری پبلکن پارٹی کا اقتدار ختم ہوا اور ڈیموکریٹس برسراقتدار آئے تو یہ راز کھلا کہ امریکی انتظامیہ افغان صدر حامد کرزئی کو منع کرتی رہی ہے کہ اسامہ کو مارنا نہیں ہے۔ ہیلری کلنٹن نے بطور وزیر خارجہ امریکی سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی میں بتایا کہ انہیں حامد کرزئی نے شکوہ کیا ہے کیونکہ ان کے بقول انہیں امریکی پالیسی کی سمجھ نہیں آ رہی۔ حامد کرزئی نے ہیلری کلنٹن کو بتایا کہ انہیں امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ نے دو مرتبہ کہا کہ اسامہ بن لادن کو مارنا نہیں ہے۔ یہ بات ہیلری کلنٹن نے چونکہ خارجہ امور کمیٹی میں بتائی لہٰذا یہ ریکارڈ پر موجود ہے۔ ذرا تصور کیجئے کہ افغانستان کو آگ و بارود کے سمندر میں دھکیلنے والے امریکہ کی ظاہری اور اندرونی پالیسی میں کتنا فرق تھا۔ ہمارے لوگ ہمیں طعنہ دیتے ہیں کہ ہم نے اچھے اور برے طالبان کا کھیل کھیلا اور دوغلی پالیسی اختیار کی۔ جب ہمیں آگ کے کھیل میں دھکیلنے والے دوغلی پالیسی پر عمل پیرا تھے تو صاف بات ہے کہ ہماری سلامتی کے اداروں نے ایسی پالیسی اختیار کی تاکہ تمام لوگ ہمارے دشمن نہ بن جائیں۔ اس حکمت عملی کی وجہ سے آج ہم بعض طالبان گروہوں پر اثرانداز ہو کر افغانستان میں قیام امن کے عمل میں اپنا کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ افغان طالبان پر پاکستانی اثر ورسوخ اگر نہ ہوتا تو آج ہمارا پڑوسی ملک افغانستان مکمل طور پر ہندوستان اور ہمارے دشمنوں کے اشاروں پر ناچ رہا ہوتا۔ تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ ریاستی اداروں کا ہمیشہ ٹکرا رہا ہے چونکہ اس کی پشت پناہی کرنے والے ممالک میں ہمارا ازلی دشمن بھارت پیش پیش تھا۔ آج یہ بات کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان ہو یا جماعت الاحرار کے روپ میں دہشت گرد عناصر کی نئی صف بندی ہو یہ سب پاکستان مخالف ہیں اور اسلام کا نام لے کر بھارت و اسرائیل کے ایجنڈے کے تحت اپنی کارروائیاں کرتے ہیں۔احسان اللہ احسان کے اعترافی بیان کے بعد پاکستان میں موجود ان کے ہمدردوں کو ہوش آ جانا چاہیے۔ چونکہ یہ لوگ پاکستان کے بھی دشمن ہیں اور اسلام کے بھی دشمن ہیں۔ اسلام اور اسلامی تعلیمات سے انکا کوئی تعلق نہیں ہے یہ لوگ پیشہ ور قاتل ہیں جو ہر کارروائی کا باقاعدہ معاوضہ وصول کرتے ہیں۔ دکھ اس بات کا ہے کہ اسلام امن کا مذہب تھا لیکن ان لوگوں کی جرمانہ کارروائیوں کی وجہ سے اسلام کا غلط امیج دنیا کے سامنے گیا۔ پاکستان میں عدم استحکام پھیلانے کے لئے یہ دہشت گرد عناصر جس نچلی سطح تک اتر گئے اس کو دیکھ کر بھی بعض لوگوں کی آنکھوں سے پٹی نہیں اتری اور وہ ان کے حق میں دلیلیں تراشتے رہتے ہیں اور وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ اسلام کی سربلندی اور مذہبی حکومت کے قیام کا مژدہ سناتے ہیں مگر اب یہ بے نقاب ہوتے جارہے ہیں۔ پاکستان میں کوئی وقت تھا کہ طالبان کے حامیوں کی بڑی تعداد تھی۔ چونکہ عوام سمجھتے تھے کہ یہ امریکی جنگ کے خلاف برسرپیکار ہیں مگر رفتہ رفتہ ان کی حقیقت سامنے آنے لگی۔ مقام شکر ہے کہ آج پاکستانی عوام نے بحیثیت قوم ان دہشت گرد عناصر کو رد کر دیا ہے اور ان کے خلاف کارروائی کرنے کے حوالے سے آج دو رائے موجود نہیں ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ اس کا کریڈٹ پاکستان کی مذہبی جماعتوں کو بھی جاتا ہے جنہوں نے اپنے موقف سے رجوع کیا اور پاکستان کی سلامتی کی خاطر پاکستان کے اندر کی جانے والی ہر کارروائی کے ذمہ داران سے ناطہ توڑنے کا فیصلہ کیا۔ آج ہم کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان میں اگر کالعدم تحریک طالبان کا کوئی ہمدرد ہے تو وہ یا تو اجرتی قاتل ہے یا پھر نہایت گمراہ اور بھٹکا ہوا انسان جسے اسلام اور اسلامی تعلیمات کا کچھ پتہ نہیں اور نہ اسلام کے نام پر حاصل کیے گئے وطن عزیز پاکستان کی اہمیت کا کوئی احساس ہے۔ ان شا اللہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کی نیت رکھنے والے سب لو گ خود برباد ہوں گے اور ہمارا وطن تاقیامت قائم رہے گا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved