اسامہ بن لادن اور امریکہ
  4  مئی‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
اگر امریکہ کے کہنے پر میں ''اسامہ بن لادن'' کو قاتل یا دہشت گرد مان لوں تو پھر مجھے عراق کے ان15 لاکھ سے زائد مسلمانوں کہ جس میں لاکھوں عورتیں اور معصوم بچے بھی شامل تھے اور وہ امریکیوں کے بموں کا نشانہ بن کر شہید ہوئے کو بھی دہشت گرد ماننا پڑے گا… نائن الیون کے بعد امریکی اتحادی فوجوں کے مظالم کا نشانہ بن کر شہادتوں کا جام نوش کرنے والے کئی لاکھ بے گناہ افغانوں کو بھی ''دہشت گرد'' ماننا پڑے گا۔ آج گلی گلی میں شور ہے کہ ''حرمین شریفین'' خطرات کی زد میں ہیں'1997-98 ء میں جب یہی بات اسامہ بن لادن کیا کرتا تھا تو کوئی یقین کرنے کے لئے تیار نہ تھا' دنیا میں اگر حق گوئی و بے باکی اور غیر جانبداری کی روایت موجود ہوتی تو کوئی تجزیہ نگار' کالم نگار یا اینکر جرات کرکے قوم کو بتاتا تو سہی کہ امت مسلمہ پر ڈھائے جانے والے یہود و ہنود اور نصاریٰ کے مظالم اور حرمین شریفین پر منڈلاتے خطرات کے حوالے سے اسامہ بن لادن اپنی زندگی میں جن خدشدشات کا اظہار کیا کرتا تھا … وہ آج 2017 ء میں بھی حرف بحرف درست ثابت ہو رہے ہیں۔ چھ سال ہوگئے غریب الدیار مجاہد اسامہ بن لادن کو شہید ہوئے … مگر اس کے باوجود امریکہ اور اس کے حواری افغانستان سے اپنی فوجیں نکالنے کے لئے تیار نہیں ہیں تو کیوں؟ اگر دنیا میں ہونے والی ساری بربادیوں' تباہیوں اور دہشت گردی کا ذمہ دار اسامہ بن لادن ہی تھا تو اس کی شہادت کے چھ برس بعد بھی شام دہشت و بربریت کی آگ میں کیوں جل رہا ہے ؟ حلب و ادلب کے ہزاروں معصوم بچے اور لاکھوں عورتیں زخمی زخمی وجود لیے ہوئے پناہ گاہوں کی تلاش میں ماری ماری کیوں پھر رہی ہیں؟ اگر دنیا میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعات کا منصوبہ ساز اسامہ بن لادن ہی تھا تو اس کی شہادت کے چھ سال گزرنے کے بعد بھی بھارت میں ''گائے'' کے تحفظ کے نام پر مسلمانوں کو زندہ کیوں جلایا جارہا ؟ دہشت گرد تو اسامہ بن لادن تھا … اور اسے شہید بھی کر دیا گیا … مگر گجرات میں دو ہزار سے زائد مسلمانوں کے غلیظ ترین قاتل نریندر مودی کو ہندوستان کا وزیراعظم کس نے بنایا؟ آج اگر پورا ہندوستان' ہندو انتہا پسندی اور لادینیت کی شدت پسندی میں جل بھن رہا ہے تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ کیا اسامہ بن لادن کو شہید کرکے اس کا لاشہ غائب کرنے کے بعد عالم اسلام محفوظ ہوگیا؟ کیا اسامہ بن لادن کو جسمانی طور پر ختم کرکے امریکہ سمیت طاغوتی طاقتیں محفوظ ہوچکی ہیں؟ اسامہ بن لادن' ملا محمد عمر مجاہد' پرویز مشرف' بل کلنٹن ' جارج ڈبلیو بش' آصف علی زرداری ' بارک اوبامہ' یہ وہ سارے نام ہیں کہ ''انسانیت'' کے لئے ان کی خدمات یا ''انسانیت'' پر ڈھائے جانے والے ان کے مظالم … دنیا کے سامنے ہیں … اسامہ بن لادن اور ملا محمد عمر کا اس حوالے سے کردار روشن تھا اور روشن رہے گا' آنے والا مورخ ملا محمد عمر کے بارے میں یہ بات لکھنے پر اپنے آپ کو مجبور کر پائے گا کہ جب مظلوم انسانوں کی خریدو فروخت کا اتوار بازار امریکیوں نے سجا رکھا تھا … اور ایک ''کمانڈو'' ڈاکٹر عافیہ صدیقی سمیت سینکڑوں نوجوان امریکیوں کو فروخت کرکے بدلے میں ڈالروں سے جھولیاں بھر رہا تھا … تب قندھار کا بوریا نشین مرد درویش ملا محمد عمر بپھرے ہوئے امریکیوں سے اسامہ بن لادن کے حوالے سے ثبوت مانگتے ہوئے ان سے کہہ رہا تھا کہ ''اسامہ'' افغانوں کا مہمان ہے … اگر اس کے خلاف دہشت گردی کے ثبوت ہیں تو ہماری سپریم کورٹ میں پیش کیے جائیں … افغانستان کے سپریم قاضی ثبوت دیکھنے کے بعد اسامہ بن لادن کی زندگی کا فیصلہ کریں گے' لیکن امریکہ یہ بات بھول جائے کہ ہم ڈیزی کٹر بموں اور امریکہ کی طاقت سے خوفزدہ ہوکر اپنے ''مہمان'' کو اس کے حوالے کر دیں گے ' اقتدار طالبان کے پاس رہے یا نہ رہے … مگر ملا محمد عمر' تاریخ کے اوراق پہ انسان ''فروش'' نہیں بلکہ انسانوں کی حفاظت کرنے والے کے طور پر زندہ رہنا چاہتاہے۔ ملا محمد عمر ' اسامہ بن لادن کیا شاندار کردار تھے؟ پارس تھے ' پارس' جس پر ہاتھ رکھا … اسے سونا بنا دیا … لوگوں نے ان سے انٹرویو لے کر لاکھوں کروڑوں کمائے … ان سے ہاتھ ملا کر دنیا والوں سے ''ایوارڈ'' وصول کیے … ان کا کھاکر ان سے کرائے وصول کرکے بھی دنیا میں شہرت کی بلندیوں کو چھوا' مگر انہیں نہ کسی کے سونے سے غرض' نہ چاندی اور ہیرے جواہرات سے کوئی سروکار … بلکہ اسامہ بن لادن تو خود دنیا کا امیر ترین انسان تھا … اس سے ''وصولیاں'' کرنے والوں میں آج اتنی بھی اخلاقی جرات نہیں وہ دنیا والوں کو کھل کر بتاسکیں کہ وہ اسے آج کیا سمجھتے ہیں؟ دہشت گرد یا مجاہد؟ ''اسامہ'' امریکہ کے حوالے سے سچ بولتا تھا یا امریکہ اسامہ بن لادن کے حوالے سے ؟ اسامہ بن لادن کو تو امریکہ اور اس کے حواریوں کی دنیا سے منہ موڑے ہوئے 6 سال بیت چکے ہیں … مگر ''دنیا'' آج بھی جلتا ہوا شعلہ بنی ہوئی ہے ''دنیا'' آج بھی مظلوموں پر اسی طرح تنگ ہے جس طرح 6 سال پہلے تھی ' دنیا آج بھی شام میں انسانوں کا قتل عام دیکھ رہی ہے … دنیا آج بھی بھارت کی سرزمین پر مسلمانوں کا تڑپنا' پھڑکنا اور پھر قبرستانوں کا رزق بن جانا دیکھ رہی ہے … دنیا آج بھی حرمین الشریفین کی طرف بڑھتے ہوئے خطرات کھلی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے … کہا جاتا تھا کہ دنیا میں تباہی و بربادی اور دہشت گردی کی اصل جڑ اسامہ بن لادن ہے … جس دن وہ مارا گیا دنیا پرسکون ہو جائے گی … امن کا گہوارہ بن جائے گی … 6 سال بیت گئے اسامہ بن لادن کی شہادت کو … مگر ''دنیا'' کے ملکوں میں فسادات اور تباہی و بربادی تو پہلے سے بھی زیادہ بڑھتی ہوئی نظر آرہی ہے … یہ سب کچھ دیکھ کر فیصلہ کیجئے کہ اصل دہشت گرد کون تھا ' اسامہ بن لادن یا امریکہ؟ اگر اسامہ ہوتا تو اس کی شہادت کے بعد دہشت گردی دنیا سے ختم ہو جاتی ' جی ہاں اصل دہشت گرد امریکہ ہے … تبھی تو آج بھی دنیا بھر میں مسلمانوں کا خون پانی سے بھی زیادہ سستا سمجھ کے بہایا جارہا ہے۔ اپنے بھی خفا مجھ سے بیگانے بھی ناخوش میں زہر ہلاہل کر کبھی کہہ نہ سکا قند

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved