''ہم تیار ہیں!'' بھارت کو پاک فوج کا جواب
  4  مئی‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
٭بھارت کے وزیر 'جنگ' ارون جیتلی نے دھمکی دی ہے کہ پاکستانی فوج کے ہاتھوں دوبھارتی فوجیوں کے سرکاٹے جانے کے جواب میں بھارت فوری جوابی کارروائی کرے گا۔ اس کے جواب میں پاک فوج کے ترجمان کا جواب آیا ہے کہ جوکچھ کرنا ہے کرکے دیکھ لو۔ ہم جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہیں اور یہ کہ ہم اپنی مرضی اور وقت کے مطابق جواب دیں گے! ٭سجن جندال کی مری میں وزیراعظم نوازشریف پراسرار ملاقات کے بارے میں بھارت کے سب سے بڑے اخبار ٹائمز آف انڈیا میں بھارتی دفاعی ماہرین کا تبصرہ! ''…سجن جندال ایسے موقع پر پاکستان گیا جب دونوں ملکوں میں مختلف سطحوں پر کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ جندال یقینی طورپر بیک ڈور پالیسی کے تحت، بھارتی حکومت کی اجازت سے ہی پاکستان گیا ہوگا تاکہ باہمی کشیدگی کو کم کرنے کے بارے میں بھارتی حکمرانوں کا کوئی پیغام پہنچا سکے۔ مگرہواوہی کچھ ہے جو ماضی میں ہوتا رہاہے کہ اس کی پاکستان یاترا کے فوراً بعد کشمیر میں بھارتی فوجیوں کے ساتھ پاکستانی فوج کے سلوک نے اسی طرح کشیدگی کو مزید بڑھکا دیا ہے جس طرح واجپائی کی لاہوریاترا اور قیام امن کے لاہور ڈیکلریشن کے بعد کشمیر میں کارگل کے خونریز واقعات نے اعلان لاہور کو ملیامیٹ کردیا تھا۔ ٹائمز آف انڈیا نے ایسی مزید مثالیں بھی دی ہیں۔ اس تجزیہ میں اشارا دیاگیا ہے کہ امن کے قیام کے بارے میں سیاسی قوتوں کی سوچ جو بھی ہو، بعض خاص قوتیں اس سوچ پر غالب آجاتی ہیں۔ ٭تمام اخبارات نے شہ سرخیوں کے ساتھ میاں نوازشریف کا بیان چھاپا ہے کہ ''میرے مخالفین گیدڑ ہیں '' اور یہ کہ ''100گیدڑ بھی ایک شیر کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے''۔ اس بات کا جواب تو مخالفین ہی دے سکتے ہیں۔ مجھے ایسے ہی1977ء میں ذوالفقار علی بھٹو کی زبان سے نکلے ہوئے کچھ اعلانا ت اور بیانات یاد آگئے کہ '' میراکوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا… میں جانتا ہوں ہاتھی کی نظر بہت تیز ہوتی ہے مگر میری کرسی بہت مضبوط ہے''۔اس وقت کی امریکہ کی حکمران پارٹی کاانتخابی نشان ہاتھی تھا … میں اس معاملہ کے سیاسی پہلو کو یہیں چھوڑتا ہوں البتہ مجھے گیدڑ کے بارے میں کچھ کہنا ہے۔ دنیا بھر میں تین قسم کے گیدڑ پائے جاتے ہیں۔ دونوں طرف دھاریوں والے افریقی گیدڑ، سنہری رنگ والے امریکی گیدڑ (COYOTES) اور سیاہ کھال والے ایشیائی اور یوریشین گیدڑ۔ حیواناتی ماہرین کے مطابق گیدڑ، بھیڑیئے اور کتے کا درمیانی جانور ہے جس کے دانت تو بھیڑیئے جیسے ہی ہوتے ہیں مگر جسمانی طورپر کتے کی طرح بزدل ہوتا ہے۔ وہ جنگل میں خرگوش اور چھوٹے جانوروں حتیٰ کہ چھوٹے موٹے سانپ کوبھی پکڑلیتا ہے اور قریبی بستی کے گھروں سے کوئی مرغی یا بطخ بھی اٹھالاتا ہے مگر کسی انسان کو دیکھ کربھاگ جاتا ہے۔ گیدڑ 16 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے بھاگ سکتا ہے۔ کھنڈرات میں چھپ کررہناپسند کرتا ہے۔ سارادن چھپا رہتاہے اور صبح سویرے یا شام کے وقت خوراک کی تلاش میں باہر نکلتا ہے۔ بائبل میں گیدڑ لفظ 14بار آیاہے۔ گیدڑ کو بھوک ستاتی ہے تو رات کے وقت جنگل میں لمبی آواز کے ساتھ ہُو ہُو کرنے لگتا ہے۔ گیدڑ کے لفظ کے ساتھ گیدڑ بھبکی کا لفظ عام استعمال ہوتاہے اس کے معنی دکھاوے کی دھمکی ہے جس پر عمل نہ ہوسکے۔ایک لفظ گیدڑ سنگھی بھی ہے یہ خوش قسمتی کی فرضی اصطلاح ہے۔ اچانک غیر متوقع طورپر اقتدار یا بڑاعہدہ حاصل کرنے کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ اسے کوئی گیدڑ سنگھی ہاتھ آگئی ہے۔ پتہ نہیں جن مخالفین کو میاں نوازشریف نے گیدڑ کہا ہے وہ کیاجواب دیتے ہیں ؟ ٭80سالہ غلام مصطفےٰ کھر کی ایک انٹرویو میں کی چند ''دلچسپ'' باتیں:۔'' نوازشریف اور آصف زرداری دونوں لوٹ مار کررہے ہیں… بھٹو کی سوچ میری سوچ کے بہت قریب تھی!! … مجھے بھٹو،بے نظیر بھٹو اور بلاول سے محبت ہے( آصف زرداری!!) جنرل چشتی نے میری جان بچائی (رات کے اندھیرے میں لندن فرار کرایا )… شہباز شریف میرے پائے کا لیڈر نہیں، اسے کیا جواب دوں؟( شہبازشریف رستم پنجاب ہے میں رستم زماں ہوں)۔ ٭ڈان نیوز لیکس کی رپورٹ ابھی تک باہر نہیںآئی۔ جب کہ پرنسپل انفارمیشن افسر راؤ تحسین اور خارجہ امور کے خصوصی معاون طارق فاطمی کوفارغ کیا جا چکا ہے۔ راؤ تحسین علی خاں پاکستان ریلوے کے سابق ڈائریکٹر جنرل تعلقات عامہ محمد یحییٰ خاں اور معروف سیاسی وسماجی رہنما بیگم مہناز رفیع کے صاحبزادے ہیں۔ نہایت صاف شفاف پیشہ ورانہ زندگی گزاری ہے۔ ایک سینئر بزرگ بیوروکریٹ کا تبصرہ معنی خیز ہے کہ کوئی بڑے سے بڑا سرکاری افسر''اوپر'' کے احکام کے بغیر اپنی مرضی سے کوئی پریس ریلیز جاری نہیں کرسکتا ۔ وزیراعظم ہاؤس کے پریس سیکرٹری کے طورپر راؤ تحسین کو جو بات ریلیز کرنے کے لیے کہی گئی اس نے پیشہ ورانہ نظم و ضبط کے تحت اس کی تعمیل کی ہے تو اس کے خلاف کارروائی کیوں؟ حقیقت یہ ہے کہ کہنے والا کوئی اور ہے، راؤ اور طارق فاطمی کو قربانی کے بکرے بناکر ''خاص'' نام کو بچالیاگیا ہے! ٭لیہ کے جلسے میں وزیراعظم نوازشریف نے جلسہ کے حاضرین سے کہا کہ آپ مجھ سے ایک میل دورہیں ۔ ایک میل میں1750گز، 5250 فُٹ ہوتے ہیں ۔ ایک قاری کے مطابق کیا وزیراعظم نے جلسہ سے ایک میل دور کسی سڑک پر کھڑے ہوکر تقریر کی ہے؟ میں کیا کہہ سکتا ہوں، لیہ والے بہتر بتا سکتے ہیں۔ ٭مقبوضہ کشمیر میں12اپریل کو خونریز واقعات کے باعث اننت ناگ میں بھارتی لو ک سبھا کے ضمنی انتخابات 23 مئی پر ملتوی کردیئے گئے تھے۔ الیکشن کمیشن نے23مئی کو70 ہزار فوجی مانگے تھے۔ بھارتی حکومت نے انکار کردیا اور صرف30 ہزار فوجی بھیجنے کی رضامندی ظاہر کی۔ اس پر 23 مئی کے انتخابات بھی ملتوی کردیئے گئے ہیں! مبصرین کے مطابق70 ہزار فوجی بھی آجائیں تو کشمیری ووٹروں کو ووٹ ڈالنے کے لیے کیسے لایاجائے گا؟ پچھلے انتخابات میں صرف دو فیصد ووٹ پڑے تھے، اب اتنے بھی نہیں پڑیں گے، پھر فوج کیا کرے گی؟ ادھر سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ پھر بھارتی حکومت پر برس پڑا ہے کہ خدا کے لئے کشمیر ی عوام اور پاکستان سے مذاکرات کرو! ( جندال کو اسی لئے بھیجاگیا تھا مگر!!) ٭حکومت نے عدالت میں بتایا کہ پوسٹ آفس کی وکالت کے لیے اس محکمہ کے پاس وکیل کی فیس کے پیسے نہیں ہیں اور خبریہ ہے کہ مری کے پوسٹ آفس کی آرائش و ازیبائش پر پانچ کروڑ روپے خرچ کئے گئے ہیں! ٭لاہور میں فاروق ستار کی دلچسپ باتیں! ''پنجاب میں جیتنے والا وزیر ، ہارنے والا مشیر،جو رہ گیا وہ سفیر!!… پنجاب کے بھائیو، ایک بار ہمیں بھی آزمالو،مزا نہ آئے تو پیسے واپس''۔ ٭سندھ کے ضلع عمر کوٹ کے تھانہ کنیری میں ایک وڈیرا نواب زاہد تالپور آیا۔ غصے کے عالم میں پولیس کے ایک اہلکار کو مارااورپھرتھانیدار کی کرسی پر بیٹھ گیا۔ تھانیدار نے احترام کے ساتھ کرسی خالی کرنے کی درخواست کی۔ وڈیرے نے کہا کہ فرش پر بیٹھ کر بات کرو، تم جانتے نہیں میں کون ہوں؟ تم ایم پی اے تیمور تالپور کے کہنے پر میرے خلاف کارروائی کررہے ہو۔ عمر کوٹ سے ڈی ایس پی شیر شاہ آیا۔ اس نے بھی احترام سے منت سماجت کی۔ وڈیر ے نے اس کی بھی ایسی تیسی کردی۔ بالآخر اعلیٰ حکام کے حکم پر وڈیرے کو حوالات میں بند کردیاگیا اوراس کے ساتھ احترام سے پیش آنے والے تھانیدار اور ڈی ایس پی دونوں معطل! ! ٭ایس ایم ایس: لوئرٹوپہ سے کوہالہ تک سڑک کی حالت انتہائی خراب ہے۔ دونوں طرف بہت سی بڑی آبادیاں شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ ہماری اپیل اوپر پہنچادیں کہ سڑک فوری طورپر مرمت کی جائے۔ محمد طاہر خاں دھیر کوٹ ضلع باغ (0313-5977974)

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
60%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
20%
پسند ںہیں آئی
20%



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved