شیر ہمارا
  5  مئی‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

ہمارے یار خاص تبر یز میاں کے مطابق جنگل کے بادشاہ ببر شیر پر اتنی تحقیق نیشنل جیوگرافک اور ڈسکوری چینلز کے محققین نے نہیںکی جتنی کہ ہمارے نیوز اینکرز فرما چکے ہیں۔ شیر یا اس قبیل کے کسی بھی درندے پر تحقیق دقت طلب اور مہنگا شوق ہے۔ ہماری ذاتی رائے میں کسی بھی درندے پہ تحقیق کیلئے جستجو، لمبی رقم ، کھلاُ ڈُلا ٹائم ، ہمت اور بندے کا تھوڑا سا کھسکا ہوا ہونا ضروری ہے۔ وگرنہ ابتدائی چار نعمتیں دستیاب ہوں تو بندہ جنگل میں دھکے کھا کھا کے اپنا اور جنگل کے بادشاہ سلامت کا سکون کیوں برباد کرے۔خیر سے ہمارے اینکر صاحبان ببر شیر پہ یہ تحقیق بغیر وسائل کے ہے جاری رکھے ہوئے ہیں۔جستجو کی ہمارے اینکرز میں کمی کوئی نہیں۔رقم خیر سے چینل دیتا کوئی نہیں ہمت اور کھسکے ہوئے ہونے کے متعلق آپ حسب ذوق رائے قائم کر سکتے ہیں کیونکہ ہمیں اور تبریز میاں کو اپنی عزت عزیز ہے۔آجا کے ایک ٹائم رہ جاتا ہے جس کی خیر سے ہمارے ملک میں کوئی کمی نہیں۔خیر سے شیر ہماری حکمراں جماعت ن لیگ کا انتخابی نشان ہے۔یہ انتخابی نشان پارٹی کا' ٹریڈ مارک' اور ' روحانی ورثہ ' ٹائپ کی چیز بن چکاہے۔یہ امر بھی بے حد دل چسپ ہے کہ حکمراں جماعت ملک پہ ویسے ہی حکومت کر رہی ہے جیسی کہ ایک شیر کو جنگل میں کرنی چاہئے۔اگر آپ یہ کہیں اور سمجھیں کہ مملکت خداداد میں جنگل کا قانون ہے تو ہمیں اس پہ اعتراض کرنے کی کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی۔البتہ اس رائے سے اتفاق کرنے کیلئے تبریز میاںکے پاس بہت سی وجوہات موجود ہیں ۔ ان میں سے کچھ قابل بیان جبکہ بہت سی ناقابل بیان بھی ہیں۔ یہی کوئی چند برس پرانا قصہ ہے کہ لاہور میں واقع ماڈل ٹاون نامی جنگل میں کچھ وحشی شیروںنے کچھ انسانوں کو چیرپھاڑ دیا تھا۔ ہمارے اینکرز اور کیمرو مین کب پیھچے رہنے والے تھے۔ یہ تمام مناظر انہوں نے کیمرے میںمحفوظ کرلیئے بالکل نیشنل جیوگرافک اورڈسکوری چینل کی طرح۔ افریقہ میں شیر کا شکار بننے والے ہرن، گائے یا بھیڑ کے بچوں اور ماڈل ٹاون کے جنگل میںمارے جانے والے انسان کے بچوں میں کافی مماثلت تھی۔ فرق صرف یہ تھا کہ افریقہ کا شیر چار ٹانگوں والا جبکہ لاہوری شیر دو ٹانگوں والے تھے۔ خیر بات یہاں سے شروع ہوئی تھی کہ ہمارے اینکرز شیر پر تحقیق کئے جارہے ہیں۔ کیونکہ یہ ن لیگ کانشان ہے۔ ن لیگ کاہر رہنما اپنی ذات میں ایک شیربنا پھر رھا ہے۔ اینکرز کا اس معاملے میں کچھ زیادہ قصور نہیں۔دراصل شیر خود بہت شریر ہے اور را ہ چلتے پنگے لینے اور لوگوں کو اپنے پیچھے لگانے کا عادی ہے۔ ابھی چند روز قبل شیر اوکاڑہ اور لیہ کے جنگل میں شاہی دربار سے حطاب فرماتے ہوئے آپے سے باہر ہو گیا۔ شیر نے اعلان کیا بلکہ بڑھک ماری کہ " شیر کسی سے نہیں ڈرتا ۔ سو گیڈر بھی آ جا ئیں تو شیر کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے" اس دلیرانہ بیان ، عاجزانہ طرز تکلم اور دانشورانہ اظہار رائے کے بعد ن لیگی حلقوں میںجوش ومسرت کی لہر بڑے زور سے دوڑگئی ہے ۔جبکہ بعض بدنیت اینکرز اور سیاسی مخالفین کے منہ سوج کے کپاُ ہوچکے ہیں۔ تبر یز میاں بھی ہمارے بادشاہ سلامت ببر شیر پہ تحقیق کرنے والوں کی صف میں شامل ہوچکے ہیں۔اس نیک کام کا آغاز انہوں نے انتہائی معصومانہ تحقیقی سوالات کے ذریعے کر دیا ہے اگر چہ ہماری نیک تمنائیں انکے ساتھ ہیں تاہم صرف ایک چھوٹا سے اعتراض ہے کہ جو سوالات شیر سے کرنے تھے وہ انہوں نے ہم سے کیوں پوچھے ہیں؟ دوسرا اعتراض یہ ہے کہ شیر کا غصہ ہم پہ اتارنے کے بجائے براہ راست اس سے یعنی کہ شیر سے ہی دودو ہاتھ کر لیتے توبہتر ہوتا۔پیشہ ورانہ خیانت کا تقا ضہ ہے کہ یہ سوالات قارئین اور بادشاہ سلامت ببر شیر کی بارگاہ والیٰ نیاز میں پیش کئے جائیں۔ملاحظہ فرمائے تبریز میاں کے کھٹے میھٹے سوالات ۔ سوال نمبر 1 اگر یہ مان لیا جائے کہ سو گیدڑ مل کر شیر کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے تو پھر آخر کتنے گیدڑ مل کر شیر کا کچھ بگاڑ سکتے ہیں۔؟ (بلے اور تیر والی جماعتوں کے حضرات کی حصوصی توجہ درکار ہے) سوال نمبر 2 ۔ اگر سو سے زیادہ گیدڑ جمع ہو جائیں تو شیر کا کیا بنے گا؟ اس پہلو پر روشنی ڈالیں کہ اگر گیدڑ الیکشن والے دن ہزاروں کی تعداد میں کسی پولنگ اسٹیشن پہ دانتوں میں بیلٹ پیپر دباکر شیر کو گھیرا ڈال لیں تو کس کی جیت ہو گی۔ )بقول تبریز میاں اب تیرا کیا ہو گا کالیا؟( سوال نمبر 3ْ۔ ببرشیر نے گیدڑ کس کو کہا ہے؟ عوام کو ، بلے والی جماعت کے کارکنوں کو یا تیر والی جماعت کے حامیوں کو۔؟ سوال نمبر 4۔ " شیر غریب عوام کے کچن میں گھس کے آٹا ، دال اور سبزی بھی کھا گیا ہے"یہ مصالحہ دار بیان لاہو ر کے کس دل جلے اور بڑ بولے صحافی کا ہے۔ حوالہ دینے کے ساتھ مختصر تشریحی نوٹ بھی لکھیں۔ سوال نمبر 5۔ " اب شیر خیبر سے کراچی تک مخالفوں کا پیچھا کرے گا" یہ بیان ببر شیر کے کس درباری نے دیا ہے، کیوں دیا ہے اور کہا ں دیا ہے؟ یہ بھی واضح کریں کہ شیر تعا قب کے لئیے خیبر سے کراچی تک کس روٹ پہ دوڑیں لگائے گا۔ اس ضمن میں اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ اور بلے والی جماعت کے مؤقف پہ خصوصی تجزیہ پیش کریں۔ ہمارے واجب الاحترام تحقیقاتی رپوٹر ' ہمدم شیدائی' نے ابھی ابھی بریکنگ نیوز دی ہے کہ ہمارے سیاسی ببر شیر کی حرکتوں پہ افریقہ کے اصلی شیروں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ معاملے کی سنگینی کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ ممباسا میں واقع" آل افریقہ ببر شیر یونائیڈ ایسوسی ایشن" کے جنرل سیکرٹیری(حالیہ مقیم کراچی چڑیا گھر) نے ایک بے ضا بطہ بیان کے ذریعے سیاسی شیروں کی قابل اعتراض حرکات کی پرزور دھاڑ سے مذمت کی ہے۔حضرت کے بیان کا خلا صہ کچھ یوں ہے ۔ اول ہم (یعنی کہ اصلی ببر شیر) تمام سیاسی شیروں سے مکمل لا تعلقی کا اعلان کرتے ہیں۔ ہمارا سیاسی شیروں کی کرپشن ، خون ریزی ، غیر ملکی جائیدادوں اور منی لانڈرنگ سے کوئی واسطہ نہیں ۔ دوئم۔ جنگل کے شیر صرف پیٹ کی بھوک مٹانے کے لئیے شکار کرتے ہیں۔ ہم ان سب سیاسی شیروں کی مذمت کرتے ہیں جو ہمہ وقت نیت کی بھوک مٹانے کے لئے اپنی ہی نسل کو چیڑپھاڑ رہے ہیں۔ سوئم۔ شیر برادری انتخابی دھاندلیوں ، جعلی جلسوں اور جھوٹے نعروں پہ یقین نہیں رکھتی ۔ چہارم۔ ہم جس جنگل میں پیدا ہوتے ہیں اُسی میں جیتے اور اُسی میں مرتے ہیں۔ نہ تو ہم جنگل لوٹ کے بھاگتے ہیں اور نہ پرائے جنگلوں میں جائیدادیں بناتے ہیں۔ پنجم۔ ببر شیر برادری خاندانی سیاست بلکہ ہر قسم کی سیاست پہ لعنت بھیجتی ہے۔ ششم۔ ببرشیر برادری بالعموم اور ہماری شیرنیاں بالخصوص سوشل میڈیا یعنی کہ فیس بک ، واٹس ایپ اور ٹوٹیرپہ بکواس بازی سے مکمل پرہیز برتتے ہیں۔ قارئین محترم یہ سوالات تبریز میاں کے شریر اور زرخیز ذہن کی پیداوار ہیں ۔اچھے لگے تو ہنس لیں۔سمجھ میں آئیں تو رو لیں ۔برے لگیں تو آپ کا ہمارا کچھ لینا دینا نہیں۔آپ جانیں تبریز میاں جانیںاور ببر شیر ایسوسی ایشن جانے ۔ہمیں یقین ہے کہ آپ ہمارا ، تبریز میاں کا اور ہمارے اخبار کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے بالکل اُسی طرح جیسا کہ لیک ہونے والی رپورٹ شائع کر نے والوں کا کچھ نہیں بگڑا۔ لیجئے باہر گلی میں ترانہ شروع ہو گیا ''ہمت ،غیرت ،عزت والا۔۔۔ شیر ہمارا۔۔۔۔شیر ہمارا''۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved