پاکستانی شیر 'ہندوستان اور ڈان لیکس کے گیڈر
  5  مئی‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
کہاںجنگل کے شیر اور گیڈر؟ اور کہاں اشرف المخلوقات حضرت انسان؟ لیکن آج کل نجانے کیوں ہمارے سیاست دانوں کو شیر اور گیڈر کی نسبتوں کا امیں بننے کا شوق چرایا ہوا ہے...جناب نواز شریف کہتے ہیں کہ '' سو گیڈر مل کر بھی ''شیر'' کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے'' ویسے مشہور اسلامی جرنیل سلطان فتح علی ٹیپو نے کہا تھا کہ ''شیر'' کی ایک دن کی زندگی گیڈر کی صدر سالہ زندگی سے بہتر ہے'' اسلامی جرنیل کا یہ تاریخی جملہ نجانے سیکولر روشن خیالی کے پیمانے پر پورا بھی اترتا ہے یا نہیں؟... بہرحال حکمرانوں کو شیر بننے اور مخالفین کو گیڈر بنانے کا شوق چرایا ہوا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ ''شیر'' کن کے لئے ہیں؟ اپنی ہی قوم کے لئے یا پھر اسلام اور پاکستان دشمنوں کے لئے؟ جہاں تک اسلام اور پاکستان دشمنوں کا تعلق ہے وہ تو خیر سے دندناتے ہوئے پھر رہے ہیں کیا مجال ہے کہ ہمارے ان ''شیر'' حکمرانوں نے انہیں کبھی گھور کر بھی دیکھا ہو... بلکہ پاکستان کے سب سے بڑے ازلی دشمن بھارت کے ساتھ تو ان کی محبت ختم ہونے میں ہی نہیں آرہی... بھارت کا پتہ' پتہ' بوٹا' بوٹا... پاکستانیوں کے خون کا پیاسا بنا ہوا ہے... بھارت کی جن دوکانوں پہ پاکستانی کپڑا پڑا مل جائے... ہندو بلوائی ان دوکانوں کو جلا دیتے ہیں... جن سینمائوں میں کسی پاکستانی کی فلم ریلیز کی جائے... اس سینما پر حملہ کر دیتے ہیں' پاکستانی اداکار' فنکار' گلوکار انڈیا میں جائیں... تو وہاں انہیں دھمکیاں دیکر ملک سے بھاگنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ ابھی بدھ کے دن کی ہی بات ہے کہ 50 پاکستانی طالب علموں کو انتہا پسند ہندوئوں کے حملے سے بچنے کے لئے ہندوستان سے بھاگنا پڑا' خبروں کے مطابق پاکستانی سکولوں کے 50طالب علم اور ان کے اساتذہ یکم مئی کو سٹوڈنٹس ایکسچینج پروگرام کے تحت بھارت کے دورے پر گئے تھے' لیکن جس پر شوسینا اور بحرنگ دل کے ہندو شدت پسندوں نے پاکستانی طالب علموں کی میزبان این جی اوز کو دھمکیاں دینا شروع کر دیں... رپورٹ کے مطابق بھارتی انتہا پسندوں کی دھمکیوں کی وجہ سے پاکستانی طالب علم اور اساتذہ شدید خوف و ہراس میں مبتلا ہوگئے... جنہیں سخت سیکورٹی میں بھارت سے واپس پاکستان بھیج دیا گیا' لاہور میں میڈیا نے جب بچوں سے بات کرنا چاہی تو وہ سخت خوفزدہ اور سہمے ہوئے تھے۔ پاکستان کے ''شیر'' وزیراعظم... اپنے بھارتی ہم منصب کو ذرا فون کرکے پوچھیں تو سہی کہ 50 پاکستانی بچوں کو ڈرا دھمکا کر بھارت بدر کرنے کا کیا مطلب تھا؟ اگر ان کی نریندر مودی نہیں سنتا تو ''شیر'' وزیراعظم کو چاہیے کہ وہ اپنے خاندانی دوست سجن جندال کو بھی فون لگائیں۔ ہمارے وزیراعظم اگر اسلامی جرنیل کے اس تاریخی جملے کہ ''شیر کی ایک دن کی زندگی گیڈر کی صد سالہ زندگی سے بہتر ہے'' کو حرز جان بنا لیتے تو کیا مودی جیسے موذی کو جرات ہوتی کہ وہ پاکستان کے 50 بچوں کے ساتھ غیر انسانی رویہ اختیار کرتا؟ ہرگز نہیں' پہلی بات یہ ہے کہ ان پچاس پاکستانی طالب علموں کو بھارت کے دورے پر روانہ ہی کیوں کیا گیا؟ ہمارے وطن میں یہ کون سے بے عزت لوگ ہیں کہ جو بھارتی ہندوئوں سے گالیاںا ور جوتے کھا کر بھی پھر منہ اٹھائے وہاں جانے کے لئے تیار رہتے ہیں' حکومت کی ذمہ داری ہے کہ جن لوگوں نے ان خطرناک حالات میں بھی 50 پاکستانی طالب علموں کو انڈیا کے دورے پر روانہ کرکے ان کی زندگیوں کو خطرات سے دوچار کرنے کی کوشش کی' ایسے مکروہ کرداروں کو فی الفور گرفتار کرکے نمونہ عبرت بنایا جائے' جب بھارتی ہندو کسی پاکستانی کا ہندوستان میں آنا قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں تو پاکستان میں موجود انڈین لابی کے گماشتے پاکستانیوں کو ہندوستان کیوں بھیجتے ہیں؟ وزیراعظم نواز شریف نے سچ فرمایا کہ سو گیڈر مل کر بھی شیر کا مقابلہ نہیں کر سکتے ... جناب والا ! ان ہندوستانی گیڈروں کا کیا کریں کہ جو روز مقبوضہ کشمیر کے بچوں اور بچیوں پر قیامت خیز مظالم ڈھاتے ہیں جو کشمیر کے بچوں اور بچیوں کے خون کے ساتھ ہولی کھیلتے ہیں... جناب وزیراعظم! تسلیم کہ آپ ''شیر'' ہیں مگر ڈان لیکس کے سیکنڈل میں ملوث ان ''گیڈروں'' کو سزا کون دے گا کہ جنہوں نے دنیا میں پاک فوج کو بدنام کرنے کی کوشش کی تھی' یہ نہیں ہوسکتا کہ جس ملک کا وزیراعظم ''شیر'' ہو' پھر اس ملک میں ڈان لیکس اور کلبھوشن اینڈ کمپنی کے گیڈر دندناتے ہوئے پھریں؟

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved