50 بچے بحفاظت واپس آگئے!
  5  مئی‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭پاکستان کے 50بچوں کی خونخوار بھارت سے واپسی ، ایران کے وزیر خارجہ کی انتہائی ہنگامی آمد… سول بزرجمہروں کا مسلسل فوج پربرسنا … کابل میں حکمت یار گلبدن کے استقبال کے موقع پر خودکش حملہ… ڈاکٹر عاصم کی بیرون ملک روانگی پھر رک گئی… پاک بھارت کشیدگی پر امریکہ کی تشویش وغیرہ...! ان ساری خبروں میں سے میری زیادہ توجہ پاکستان کے50 بچوں کی بھارت سے بحفاظت واپسی پر ہے۔ خدا تعالیٰ کا شکرہے کہ دس بارہ سال کے ان بچوں کے 'والی وارث' والدین نے انہیں نہایت سنگین حالات میں محض بھارت نوازی کے لئے اس کے خونخوار شکنجے میں کس دیا تھا۔ اس پر خود بھارتی حکومت نے اعتراض کردیا اور ان بچوں کی واپسی کا حکم جاری کردیا۔ یہ تفصیل تو اخبارات میں چھپ چکی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان معصوم کم سن بچوں کو کس مقصد کی خاطر ایسے نازک اورسنگین حالات میں بھارت بھیجا گیا جب سرحد وں پر دوطرفہ فائرنگ اور مقبوضہ کشمیر نے حساس اور نازک حالات سے دونوں طرف جنگی فضا پیدا ہوچکی ہے؟ ایک دوسرے کے خلاف اپنی مرضی کے مطابق محاذ کھولنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں! ایسے تشویش ناک حالات میں اک دم 50 چھوٹے چھوٹے بچوں کو انتہا پسنددرندہ صفت ہندوؤں اور ان کی حکومت کے حوالے کردیاگیا! کیوں؟ ان چھوٹے بچوں' وہ بھی اک دم 50' نے بھارت میں کون سی سفارت کاری دکھانی تھی؟ کون سے کھیلوں میں حصہ لینا تھا؟ کون سی فلسفیانہ تقریریں کرناتھیں؟ اللہ تعالیٰ کا ایک بار پھرشکر کہ یہ بچے واپس آگئے ،ورنہ کسی انتہا پسندہندو تنظیم نے ان کو اغوا کرلیاہوتا تو کیسی قیامت ٹوٹ پڑتی!انتہا ہوگئی ہے، مادرانہ اور پدرانہ سرپرستی کی بجائے ان بچوں کے بھارت پرستی کے جنون میں مبتلا والدین کے بارے میں کیا کہاجائے؟ مگر پھروزارت داخلہ نے ان بچوں کو بھارتی سرحد کے پار جانے کی اجازت کیوں دی! بھارت نے ہماری کھیلوں کی متعدد ٹیموں کو ویزے دینے سے انکار کردیا ہے، ہمیں خوفناک جنگی کارروائیوں کی دھمکیاں دے رہاہے اور ہم اپنے معصوم بچوں کواس کے حوالے کررہے ہیں! کیا وزارت داخلہ میں پاکستان سے دلچسپی رکھنے والے کوئی عناصر موجود نہیں؟ ٭ویسے داخلہ ، اطلاعات اوردفاع کی وزارتوں کو توبار بار فوج پر چڑھائی کرنے ہی سے فرصت نہیںمل رہی۔ وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر اطلاعات ( اب سابق ) پرویز رشید اور اب حال ہی میں وزیر داخلہ کی طرف سے پاک فوج کے بارے میں باربار تلخ ریمارکس! یہ باتیں کس انتہائی مایوسی کا ردعمل دکھائی دے رہی ہیں؟ٹھیک ہے، ان کالموں میں واضح بھی کیاگیا ہے کہ تمام ملکی ادارے ملک کی پارلیمنٹ اور رائے عامہ سے منتخب ہونے والی حکومت کے ماتحت اورتابع فرمان ہوتے ہیں۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ سول بزرجمہر ان اداروں کی توقیر،وقار اور قومی خدمات کو پس پشت ڈال کر اپنی نادرشاہی جبلت کا مظاہرہ شروع کردیں۔کل ہی کی بات ہے کہ ایک نہایت دیانت دار، صاف شفاف کرداروالے فرض شناس اعلیٰ افسر راؤ تحسین علی خاں کو پرنسپل انفارمیشن افسر کے عہدہ سے اس حقارت آمیز انداز میں فارغ کیاگیا کہ اس نے عمربھرکے نظم و ضبط کے سارے آداب کو ایک طرف ڈال کر اپنی عزت نفس اور وقار کے تحفظ کے لیے سپریم کورٹ جانے کا اعلان کردیا! یہ تو ایک عام افسر کی بات ہے یہاں تو ملک میں قدم قدم پر قربانیاں دینے والی انتہائی منظم اور باکردار فوج کو بھی مسلسل ہو ٹنگ اور طنزو تشنیع کا نشانہ بنانے سے دریغ نہیں کیاجارہا۔ ایک نام نہاد اعلیٰ سطح کے اجلاس میں فوج کے خلاف نازیبا باتیں کہی جاتی ہیں پھران باتوں کو اس منصوبہ بندی کے ساتھ میڈیا میں پہنچایا جاتا ہے کہ اندرون ملک فوج کی تحقیر اورہتک کے ساتھ بیرون ملک بات پھیل جاتی ہے اور بھارتی میڈیا بڑھ چڑھ کراسے اچھال دیتاہے۔اور ستم یہ ہے کہ مریم نام کی دو خواتین' ایک سرکاری، ایک غیر سرکاری ، ہر دوچارگھنٹے کے بعد کوئی نہ کوئی نیا ٹویٹ جاری کررہی ہیں ۔ مگر جب انتہائی صبراور برداشت کے بعد فوج ایک ٹویٹ کے ذریعے اپنے خلاف ایک ہتک آمیز ٹویٹ کو مسترد کردیتی ہے تو یوں آسمان سر پر اٹھالیا جاتا ہے گویا کوئی قیامت ٹوٹ پڑی ہے۔ میں پھرواضح کردوں کہ فوج سول حکومت کاایک ماتحت ادارہ ہے اور نظم وضبط کے آداب اوراصولوں کے تحت سول حکومت کی بالا دستی اور احکام کی تعمیل کی پابندہے مگر پھر کون سی حکومت؟ جس کا کوئی سرپیر ہی نہیں ۔ چار سال سے کوئی وزیرخارجہ نہیں، ایک غیر منتخب مشیر خارجہ خارجی امور سرانجام دے رہاہے۔ثقافتی ادارے ایک غیر منتخب سابق بیوروکریٹ کے حوالے کئے ہوئے ہیں۔ وزارت دفاع کوبجلی پانی کے وزیر کو اضافی تحفہ کے طورپر دیاگیا ہے۔وزیراعظم کو غیر ملکی اداروں اوراندرون ملک ہر روز ایک جلسے میں تقریروں سے ہی فرصت نہیں اور ملک کی کشتی خداکے سہارے چلی جارہی ہے! ویسے میں یہاں آخر میں ایک کھلا سوال کررہاہوں کہ وزیراعظم ، چودھری نثار علی،خواجہ آصف اور پرویز رشید( اب سابق) صاحبان صرف اتنی بات بتا دیں کہ اس وقت کون سا ادارہ ملک کو بچارہاہے ؟ پارلیمنٹ، نیب، الیکشن کمیشن، سی بی آر، صوبائی حکومتیںاور اسمبلیاں؟ کوئی نام تو بتائیں جس نے ملک کے تحفظ کے لیے سرحدوں پراور ملک کے اندر دہشت گردی سے نمٹتے ہوئے بیش بہا قربانیاں دی ہوں! میرا دل ذکر کرتے ہوئے دہل جاتا ہے مگر کیاکبھی کسی '' نہائت محب وطن'' ادارے نے پشاور کے آرمی سکول جیسے روح فرسا سانحے کاسامناکیاہے؟ شریف خاندان ، زرداری خاندان، چودھری خاندان،فضل الرحمان خاندان، اسفندیارخاں، فاروق ستار ایسے دوسرے خاندانوں نے تحریک پاکستان کے قیام کے دوران کتنی جانی و مالی قربانیاں دیں ؟ کسی ایک قربانی کا نام بتادیں!اور آپ لوگ اس عظیم جانباز فوج کا تمسخر اڑا رہے ہیں جواس عظیم وطن کے تحفظ کے لیے قدم قدم پر قربانیاں دے رہی ہے۔آپ لوگ ان عظیم الشان قربانیوں کوسلام نہیں کرسکتے تو محض چند نام نہاد ضابطوں کی مالا جپنے کی بجائے اپنی زبانوں کوہی قابو میں رکھیں! ٭قارئین کرام! شائد آپ کو میری یہ تحریر ضرورت سے زیادہ جذباتی لگ رہی ہو!مگر ہر بات کی انتہا ہوتی ہے۔ عدالتوں میں موجودہ اور سابق حکومتی بزرجمہروں ، ہر بڑے سرکاری افسر، مختلف اداروں حتیٰ کہ بعض یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں کی بدترین کرپشن کے جوشرمناک مناظر سامنے آرہے ہیں ، اس پر میرے جیسا شخص کیسے اور کب تک خاموش رہے ،جس نے کم سنی میں اپنے سگے چچا اورخاندان کے دوسرے افراد کو عین سرحد پر شہید اورزخمی ہوتے دیکھا ہے؟مگریہ معاملہ صرف میرا ہی نہیں اس ملک کے لیے 1947ء میں 10لاکھ افراد کی قربانیاں دینے والے ان ہزاروں لاکھو ں خاندانوں کا بھی ہے جنہوں نے یہاں آکر نہایت مشکل حالات میں صفر درجے سے زندگی شروع کی اور پھر70 برس تک خونخوار مگرمچھوں ، شارک مچھلیوں، بھیڑیوں اور چمگادڑوں کے ہاتھوں اس عظیم وطن کو لٹتے ہوئے دیکھتے آرہے ہیں! کیسے کیسے لوگ حکومتی خانقاہوں کے گدی نشین بن بیٹھے! کتنے نوحے لکھے جائیں پڑھے جائیں؟ میںسب پہلے بھی کرتاآیا ہوں، ایک بار پھر اپنی عظیم، دلیرجانباز مسلح افواج کو ان کی فرض شناسی، دیانت دارانہ قومی خدمات اور عظیم قربانیوں کوسلام کرتا ہوں۔ ٭پاکستان سے مشیر امور خارجہ، پارلیمانی وفداور اعلیٰ سطح کافوجی وفد کابل گئے۔ اشرف غنی نام کے امریکہ اور بھارت کے قدم بوس کٹھ پتلی صدر سے ملاقات کی۔ باہمی تعاون وافہام تفہیم کی خوبصورت باتیں کیں۔ اس نے ان سے پورااتفاق کیا۔اسے پاکستان آنے کی دعوت دی گئی اس نے فوراً قبول کرلی۔ ان لوگوں نے پاکستان واپس آکر حالات بہتر اور خوش آئند ہونے اور افغان صدر کی آمد کی محبت بھری باتیں اور خوش خبریاںسنائیں۔ آخر ی روز کی خوش خبری کے اگلے روز اشرف غنی کا دوٹوک بیان آگیا ہے کہ پاکستان جانے کا سوال ہی پیدا ہی نہیں ہوتا ۔ اس وقت تک نہیں جاؤنگا جب تک پاکستان کابل، قندھار اور مزارشریف پر بم باری کے حملے کرنے والے ذمہ داروں کو افغانستان کے سپرد نہیں کرتا۔ یہ واضح اعلان ہے کہ پاکستان افغانستان میں دہشت گردی کرارہا ہے!کیا فرماتے ہیں جناب سرتاج عزیز اور سپیکر ایاز صادق بیچ اس مسئلہ کے ؟


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved