ملک سنبھالیں۔ اصل مالک آپ ہیں
  5  مئی‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

روس کے قونصل جنرل نے 'یوم روس' کے موقع پر دعوت دے رکھی ہے۔ شہر قائد کے سبھی اہم حضرات و خواتین جمع ہیں۔ سرگوشیاں یہی ہیں کہ موجودہ حکمرانوں سے جان چھوٹے گی کہ نہیں۔ تاجر۔صنعت کار۔ دانشور سبھی مایوس ہیں۔ عدالت ڈھیل دے رہی ہے۔ فوج صرف ٹویٹ کررہی ہے۔ عام لوگ تقسیم کردیے گئے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی ریلیاں نکل رہی ہیں۔ کوئی چوک تحریر چوک نہیں بن رہا ہے۔ چین والے بھی صرف حکمرانوں کو خوش کررہے ہیں۔ عام لوگوں سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔ عام پاکستانی بھی پاک چین اقتصادی راہداری میں اپنا کردار اب تک نہیں جان سکا ہے۔ سیاسی پارٹیاں اسے تیار کررہی ہیں۔ نہ میڈیا کوئی تربیت دے رہا ہے۔ صرف مصالحے والوں نے کچھ با خبری دکھائی ہے اور چینی بریانی والا ایسا اشتہار بنایا ہے کہ پورے ملک کا موضوع بن گیا ہے۔ پورے میڈیا اور حکمرانوں سے یہ ہی زیادہ حساس ثابت ہوئے ہیں کہ وہ چینیوں کی آمد کو ایک خوشگوار جھونکا سمجھ رہے ہیں۔ اس تقریب میں صرف خواجہ جہانزیب تھے جو بے حد پُر امید تھے۔ وہ اپنے کاروبار سیاحت کے پیش نظر ملک میں گھومتے رہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ ملک میں تبدیلی آنے والی ہے۔ پاکستان آگے بڑھے گا۔ ان حکمرانوں سے نجات مل جائے گی۔ اسکی وجہ وہ یہ کہتے ہیں کہ وہ دور دراز علاقوں میں پاکستانیوں سے ملتے ہیں۔ ان میں بے حد سیاسی اور سماجی شعور پایا جاتا ہے۔ ایک حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ سمندر پار پاکستانیوں میں سے اکثر خاندان اب اپنے اہل خانہ سمیت پاکستان کے خوبصورت مقامات کے لیے بکنگ کروارہے ہیں بعض تو رمضان کا مبارک مہینہ ہنزہ گلگت میں گزارنے آرہے ہیں۔ یہ یقینا خوش آئند ہے۔ ان پاکستانیوں کا ان بچوں کو یہاں لے کر آنا جو کینیڈا، برطانیہ، یورپ، آسٹریلیا میں ہی پیدا ہوئے۔ پاکستان کے بارے میں کیا کیا خبریں سنتے ہیں پھر بھی وہ پاکستان آرہے ہیں۔ میرا بھی سیروں خون بڑھ رہا ہے ۔ حکمرانوں کی طرف دیکھنا ہی بند کریں کیونکہ ان کے دلوں آنکھوں اور ذہنوں پر مہریں ثبت کردی گئی ہیں۔ یہ جلسوں سے جائیں گے نہ جلوسوں سے۔ یہ آپ کے شعور کی بیداری سے بے اثر ہوں گے۔ آپ کو ہمت کرنی ہوگی ہاں میں آپ سے مخاطب ہوں۔ جن کی نظریں میری ان سطروں پر ہیں۔ جو میرے دل کی آواز سن رہے ہیں۔ آپ جو مجھے ایس ایم ایس بھیجتے ہیں۔ آپ جو مجھے خضدار سے گوادر اور لورا لائی سے فون کرتے ہیں۔ گلگت۔ چلاس۔ سکردو سے پیغام بھیجتے ہیں۔ باغ۔ راولا کوٹ۔ مظفر آباد۔ میرپور سے بہت حوصلہ بڑھانے والی تجاویز دیتے ہیں۔ لیّہ۔ ملتان۔ بہاولپور۔ کمالیہ۔ لاہور۔ مری سے مجھے میری غلطیوں کا احساس دلاتے ہیں۔ حیدر آباد۔ کراچی۔ سکھر سے اپنے مسائل سے آگاہ کرتے ہیں۔ پشاور۔ لنڈی کوتل۔کرک۔ فاٹا۔ کوہاٹ بنوں سے حقائق سے با خبر کرتے ہیں۔ میری معلومات میں اضافہ کرتے ہیں۔ اخبارات۔ چینلوں پر بہت سے واقعات آتے ہی نہیں ہیں۔ میرے علم میں وسعت آپ کے ان پیغامات سے ہی ہوتی ہے۔ میں اپ کا احسان مند ہوں۔ آپ کا شکر گزار ہوں۔ میں دن رات سوچتا رہتا ہوں کہ اب یہ عمر کا آخری حصّہ ہے۔ساتویں دہائی سے گزر رہا ہوں۔ اب تک نہ جانے کتنے الفاظ برت چکا ہوں۔ کتنی سطریں تخلیق کرچکا ہوں۔ اداریے۔ کالم۔ فیچر۔ غزلیں ۔ نظمیں۔ بیسیوں کتابیں ۔ پھر بھی وہ صبح نہیں دیکھ سکا ہوں۔ جس کا مجھے انتظارہے۔جس کی راہ تکتے تکتے میرے آبائو اجداد قبروں میں جا سوئے۔ ہم اور آپ مل جل کر کچھ نہ کچھ کرسکتے ہیں۔ پہلے تو صرف تعلیم کی طاقت تھی۔ اب تو آپ کو اور ہمیں تیز رفتار ٹیکنالوجی کی قوت مل چکی ہے۔ یہ موبائیل فون۔ اس وقت سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ انتہائی طاقت ور۔ مگر یہ خود کچھ نہیں کرسکتا۔ اسے انسانیت کا درد چاہئے اسے بھی حرف کا سہارا درکار ہے۔ اسے بھی سطریں چاہئیں۔ وہی اس کو با مقصد بناتی ہیں۔ بہت افسوس ہوتا ہے جب آپ اِدھر اُدھر نظریں دوڑاتے ہیں۔کسی راہبر کو تلاش کرتے ہیں۔ ایسا رہنما جو اپنے وطن کا درد رکھتا ہو۔ اس ملک کی غریب اکثریت کے تڑپتے دنوں اور جاگتی راتوں کا شُمار رکھتا ہو۔ جس کی نظر اپنے ماضی کے المیوں پر ہو۔ اور جس کی نگاہ آنے والے دنوں کے امکانات پر بھی۔ ملک میں جہاں مسائل کی آندھیاں چل رہی ہیں۔ وہاں وسائل بھی بے حساب ہیں۔ تم اللہ تعالیٰ کی کن کن نعمتوں کو جھٹلائوگے۔ مسائل ہیں وسائل ہیں۔ لیکن قیادت نہیں ہے۔ اگر قیادت نہیں ہے۔ توہم کیا اس پر صرف ماتم کرتے رہیں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہیں۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے بے مقصد تو نہیں اُتارا ہے۔ آپ میں سے ہر شخص کے اندر ایک قائد چھُپا ہے یہ جو بڑے محلّات میں اگتے ہیں۔ جو دوسرے ملکوں میں زندگی گزار کر آپ پر مسلط ہوجاتے ہیں۔ ہم قیادت صرف ان سے ہی کیوں وابستہ تصوّر کرلیتے ہیں۔ آپ بیٹھے بیٹھے یونہی باتیں نہ بنائیں۔ صرف میرے اور دوسروں کے کالم پڑھ کر مزے نہ لیں۔ ٹاک شوز میں بے مقصد بحث دیکھ کر صرف کڑھتے کیوں ہیں۔ اپنی آواز بلند کریں۔ فون کریں۔ فیس بک پر خود تبصرے کریں۔ اس سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ آپ اپنے محلّے اور گلی میں ایک دوسرے سے ملیں۔ چھٹی کے دن باری باری گھروں پر بیٹھک رکھیں۔ تھوڑا سا چائے کا خرچہ ہوگا۔ علاقائی۔ ملکی مسائل پر بات کریں۔ اپنے بزرگوں سے تجربہ کار لوگوں سے مسائل کے حل پر تجاویز مانگیں۔ آپ میں سے کوئی بھی اس کی رپورٹ مجھے ایس ایم ایس کردے۔ میں اسے اپنے کالم کی زینت بنائوں۔ 'اوصاف' پڑھنے والے تو اس میں شامل ہوں گے ہی۔'اوصاف' نہ پڑھنے والوں کو بھی چائے میں شامل کریں۔ ذرا غور کریں ان سب کا تجربہ۔ ان سب کی سچی سوچ۔ کیا قیادت کی یہی خصوصیات نہیں ہوتی ہیں۔ ان کے خلاف تو کوئی کرپشن کا مقدمہ بھی نہیں ہے۔ یہ کسی ایک سیاسی پارٹی کے کارکن بھی نہیں ہیں۔ اس لیے کسی ایک سیاسی لیڈر کے بے دام غلام بھی نہیں ہیں۔ چلئے اس سوچ کو ایک باقاعدہ اور با ضابطہ شکل دے دیتے ہیں۔ پہلے چار ہفتے ہم صرف مقامی مسائل کو اپنا موضوع بناتے ہیں۔ آپ کو روزانہ کن مشکلات کا سامنا کرناپڑتا ہے۔ ٹرانسپورٹ۔ خالص کھانے پینے کی اشیائ۔ دکانداروں کا رویہ۔ پولیس سے معاملات۔ محکمہ ڈاک کی کارکردگی۔ مارکیٹ یا بازار کی مشکلات۔ سرکاری اور پرائیویٹ درسگاہوں کے مسائل۔ لیڈر بھی صرف باتیں بناتے ہیں۔ آپ اور ہم بھی اگر یہی کرتے رہیں گے تو بات کیسے بنے گی۔ عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے آنکھیں کھلی رکھیں۔ سب کچھ دیکھیں آپس میں بات کریں۔موبائیل فون کو اپنا ذریعۂ اظہار بنائیں اپنی طاقت کا شعور حاصل کریں۔ آپ کسی سے کم نہیں ہیں۔ آپ۔ آپ کے بیٹے بیٹیاں۔ بہن بھائی۔ والدین اس ملک کے اصل مالک وہی ہیں۔ رمضان کا مبارک مہینہ آرہا ہے۔ رحمتیں برکتیں اور مغفرت لیے۔ یہ ہمارے احتساب کا مہینہ ہے۔ اس کی رحمتیں۔ برکتیں نعمتیں سمیٹتے ہوئے حرکت میں آئیں۔ اپنا پرچم بلند کریں۔ آپ کا آپس میں رابطہ اور رشتہ پختہ ہوگا تو یہ حکمران طبقے خود بے بس اور بے اثر ہوجائیں گے۔ مجھے آپ کے پیغام کا انتظار رہے گا۔ ایس ایم ایس کیجئے۔ اپنا اور شہر کا نام ضرور لکھیں۔0331-7806800


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved