چترال‘ حب‘ مردان‘ ناروال اور قانون توہین رسالت
  8  مئی‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

جمعرات کے دن بلوچستان کے شہر حب میں نبی کریمﷺ کی شان اقدس میں توہین آمیز مواد شیئر کرنے پر ہندو تاجر پرکاش کمار کے خلاف عوامی احتجاج اس حد تک بڑھا کہ پولیس اور ایف سی کو مسلمان مظاہرین کے خلاف آنسو گیس اور لاٹھی چارج کرنا پڑا... یہاں تک کہ مظاہرین پر فائرنگ بھی ہوئی... جس کی وجہ سے ایک مقامی نوجوان جام شہادت نوش کر گیا... حب کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہم نے گستاخ ملزم کو گرفتار کرلیا ہے‘ مگر مظاہرین کہتے تھے کہ ملزم ہمارے حوالے کرو... ہم اس گستاخ ملزم کو اپنے ہاتھوں سے سزا دیں گے۔ غالباً 21اپریل جمعتہ المبارک کے دن چترال کی مرکزی مسجد میں رشید احمد نام کا ایک ملعون منبر پر چڑھ کر عوام کے سامنے نبوت کا دعویٰ کرتے ہوئے توہین رسالت کا ارتکاب کرتا ہے‘ عوام مشتعل ہو کر اس ملعون کذاب کو مارنے دوڑتے ہیں... ایسے میں شاہی مسجد کے خطیب مولانا خلیق الزمان آگے بڑھتے ہیں اور اپنی جان پر کھیل کر مشتعل عوام کے ہاتھوں سے اس ملعون کو نکال کر پولیس کے حوالے کرتے ہیں... اس واقعے کا غور طلب پہلو یہ ہے کہ مسجد میں خطبہ جاری تھا کہ ملعون رشید احمد نے امام صاحب سے مائیک چھین کر ہزاروں نمازیوں کی موجودگی میں دعوی نبوتؐ کر ڈالا... کہا جاتا ہے کہ اگر مولانا خلیق الزمان بھپرے ہوئے مجمعے سے اس ملعون کو بچانے کی جرات نہ کرتے تو عوام آناً فاناً اس کی تکہ بوٹی کر دیتے۔ اس سے قبل ناروال کی بچیوں آمنہ‘ افشاں اور رضیہ نے 13سال سے توہین رسالتؐ کے مقدمہ میں نامزد ملزم فضل عباس کو قتل کرکے خود ہی گرفتاری بھی پیش کر دی... مقامی پولیس کے مطابق تینوں لڑکیوں نے اپنے اقبالی بیان میں کہا کہ ان کا کسی بھی مذہبی جماعت یا مذہبی رہنما سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی انہوں نے یہ قتل کسی کے اکسانے پر کیا... مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں طلبہ کے ایک ہجوم کے ہاتھوں توہین رسالت کے الزام میں مارے جانے والے مشعال کا قتل بھی سب کے سامنے ہے... اس قتل کے جرم میں اب تک چالیس سے زائد نوجوان گرفتار بھی ہوچکے ہیں... مندرجہ بالا چاروں واقعات یہ بات ثابت کر رہے ہیں کہ پاکستان کے مسلمان... توہین رسالت اور گستاخان رسولؐ کے معاملے پر پولیس‘ انتظامیہ اور حکومت پر اعتماد کرنے کے لئے قطعاً تیار نہیں ہیں... اس لئے ان کی کوشش ہوتی ہے کہ توہین رسالتؐ کے مرتکب ملعون کو موقع پر ہی اپنے ہاتھوں سے سزا دیں تو بہتر ہے... ورنہ حکمران ایسے ملزم کو پروٹوکول دے کر کسی یورپی ملک میں رخصت کر یں گے۔ یہ تاثر علط ہے یا درست؟ بہرحال عوام کے ذہنوں کو مکمل طور پر اپنی گرفت میں لئے ہوئے ہے... عوام یہ کہتے ہیں کہ جس ملک میں سیاسی مخالفین کو پھانسیاں دینے کا رواج موجود ہے... ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی پر آج بھی بڑی شدت سے بحث‘ مباحثے ہوتے ہیں... اس ملک میں 70سالوں میں اگر کسی ایک گستاخ کو بھی پھانسی پر چڑھایا گیا ہو تو اس کی مثال پیش کی جائے... اس نکتے پر بھی غور کی ضرورت ہے کہ مشعال کے واقعہ میں چالیس کے لگ بھگ جوان گرفتار ہیں... وزیراعظم سے لے کر وزیراعلیٰ تک ... دانشوروں سے لے کر اینکرز تک امریکہ سے لے کر اقوام متحدہ تک... سب ہی اس قتل کی مذمت بھی کر چکے اور سب نے ہی قتل میں ملوث نوجوانوں کو سخت سزائیں دلانے کے اعلانات بھی کئے... مگر اس کے فوراً بعد ناروال میں تین لڑکیوں نے ایک گستاخ کو قتل کر ڈالا جبکہ چترال اورحب میں ہزاروں مظاہرین گستاخوں کی گرفتار کے باوجود انتظامیہ سے اس لئے بھڑ گئے کہ ملعون گستاخوں کو وہ خود سزا دیں گے... آخر یہ سب کیا ہے؟ اور کیوں ہے؟ عوام کے ان رویوں کی ذمہ داری ان حکمرانوں اور سیاست دانوں پر عائد ہوتی ہے کہ جو پاکستان سے زیادہ امریکہ کے وفاداری کا دم بھرتے رہے ہیں‘ عوام کے ان رویوں کا ذمہ دار وہ وزیراعظم اور سندھ کا گورنر ہے کہ جو نظریہ پاکستان کی موجودگی کے باوجود پاکستان کو لبرل اور سیکولر قرار دیتے ہیں۔ عوام کی کے ان شدت پسندانہ رویوں کے ذمہ دار وہ حکمران اور میڈیا ہے کہ جنہیں پاکستانی عوام کے مفادات سے زیادہ اپنے خاندانوں یا غیر ملکی آقاؤں کے مفادات کی فکر لاحق رہتی ہے... حکمران اپنے ذاتی مخالفین یا امریکہ کے مخالفین کو تو زمین کی تہہ سیبھی ڈھونڈ نکالتے ہیں... مگر توہین کے مرتکب شیطان دندناتے ہوئے پھرتے ہیں انہیں کوئی پوچھنے کے لئے بھی تیار نہیں ہوتا۔ سوال یہ بھی ہے کہ اسلام آباد سے لے کر مردان‘ چترال‘ ناروال سے لے کر حب بلوچستان تک‘ تھوڑے تھوڑے وقفے سے ہونے والے ان گھناؤنے واقعات کے پیچھے کوئی خاص مقاصد تو کار فرما نہیں ہیں؟ کہیں یہ سارا جال اس لئے تو نہیں بنا جارہا تاکہ قانون توہین رسالت کے خلاف سازش کی جائے؟ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی امیر شیخ الحدیث مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر کا یہ مطالبہ بالکل درست ہے کہ حکومت توہین رسالت کے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچائے ... تاکہ یورپ کی خوشنودی کے لئے ’’گستاخی‘‘ کرنے والے شیطانوں کے دلوں میں قانون کا خوف بیٹھ سکے‘ جب ’’گستاخی‘‘ کا ارتکاب کرنے والے یا ’’گستاخی‘‘ کے الزام کی زد میں آنے والے ملعونوں کو امریکی حکمرانوں اور پوپ پال کی سرپرستی ملنے کا اندیشہ موجود رہے گا... جب گستاخی کے الزام میں گرفتار ملعونین کو سیکولر میڈیا اپنے کندھوں پر بٹھالے گا... اور راتوں‘ رات انہیں مظلوم ہیرو کے طور پر پیش کرنا شروع کر دیا جائے گا تو عوام کی نفسیات پر اس کے نہایت برے اثرات مرتب ہوں گے‘ حالانکہ لوگ جانتے ہیں کہ کسی ہجوم یا گروہ کو قانون ہاتھ میں لے کر کسی دوسرے کو سزا دینا غیر قانونی عمل ہے... لیکن گستاخوں کے خلاف جب وہ حکمرانوں اور میڈیا کی نرم مزاجی دیکھتے ہیں تو پھر بے اختیار ہو کر وہ کچھ کر گزرتے ہیں کہ جو انہیں نہیں کرنا چاہیے تھا۔ امریکی پٹاری کے دانش چوروں اور اینکرز مافیا کی طرف سے علماء یا مذہبی جماعتوں کے خلاف یہ پروپیگنڈہ بھی کیا جاتا ہے کہ ’’مولوی‘‘ عوام کو گستاخوں کے خلاف تشدد پر ابھارتے ہیں... حالانکہ یہ جھوٹا اور مکروہ پروپیگنڈہ ہے... چترال کی شاہی مسجد کے خطیب مولانا خلیق الزمان کا اس حوالے سے شاندار کردار سب کے سامنے ہے... لیکن کیا مجال ہے کہ کسی اینکر‘ اینکرنی یا تجزیہ گار نے مولانا خلیق الزمان کے اس سنہرے کردار کے حوالے سے کوئی ٹاک شو کرنے کی جرات بھی کی ہو؟ کیوں؟ اس لئے کہ انہیں مولویوں کی تعریف جو کرنا پڑتی... بھلا موٹی موٹی تنخواہوں پر ان کے مالکوں نے انہیں اس لئے تھوڑا رکھا ہوا ہے کہ وہ مولویوں کی تعریفیں کرتے پھریں؟ میرا بلوچستان کے علاقے حب میں درجنوں بار جانا ہوا ... جب کہ چترال کی شاہی مسجد میں بھی ایک مرتبہ خطاب کی سعادت حاصل ہوئی... یہاں بسنے والے عوام مخلص پاکستانی اور سچے مسلمان ہیں‘ حکومت نے اگر توہین رسالت کے مجرموں کو قانون کے مطابق سزاؤں کے عمل سے گزارنا شروع کر دیا... تو ملک کے عوام کا بھی قانون پر اعتماد بڑھے گا۔۔ توہین رسالت کا جرم ثابت ہونے کے بعد عدالت کے ذریعے سزا پانے والی ملعونہ آسیہ مسیح کا کیس حکومت کے لئے امتحان ہے... اگر حکومت آسیہ مسیح کو پھانسی دینے میں کامیاب ہوگئی تو پاکستان کے 20کروڑ مسلمانوں کا قانون پر اعتماد بھی بڑھے گا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved