جامعہ فتحیہ لاہور میں احکام القرآن اور عصرِ حاضر کا پروگرام
  8  مئی‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

سالِ رواں کے دوران مجھے جامعہ فتحیہ اچھرہ لاہور میں احکام القرآن اور عصرِ حاضر کے موضوع پر مسلسل محاضرات کا موقع ملا۔ دو دو ہفتے کے وقفہ سے چودہ محاضرات ہوئے اور خاندانی نظام کے احکام و مسائل زیادہ تر زیر بحث رہے۔ اچھرہ لاہور کے ذیلدار روڈ پر واقع جامعہ فتحیہ لاہور کے قدیم ترین دینی مدارس میں سے ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 1857 کے ہنگاموں کے بعد جب دارالعلوم دیوبند اور دیگر دینی مدارس کے قیام کا سلسلہ شروع ہوا تو لاہور میں سب سے پہلے نیلا گنبد میں رحیم بخش مرحوم نامی تاجر کی مساعی سے مدرسہ رحیمیہ قائم ہوا تھا اور پھرا نجمن حنفیہ اور انجمن حمایت اسلام کے تحت مختلف مدارس کا آغاز ہوا۔ اسی دوران اچھرہ میں وہاں کے ایک مخیر بزرگ میاں امام الدین (وفات 1906) نے اپنے لائق فرزند حافظ فتح محمد کے لیے 1875 میں مدرسہ فتحیہ قائم کیا۔ اس خاندان کا روحانی تعلق قصور کے معروف نقشبندی بزرگ حضرت شاہ عبد الرسول قصوری اور حضرت سائیں توکل شاہ انبالوی کے خلیفہ مجاز حضرت خواجہ محبوب عالم توکلی سے تھا اور دونوں خانقاہوں کے بزرگوں کی خصوصی توجہات اس خاندان کو حاصل رہی ہیں۔ حافظ فتح محمد کے دور میں فتنہ انکار حدیث نے سر اٹھایا تو انہوں نے اس کا تعاقب کیا اور اپنے چچا محترم میاں فضل الدین مرحوم کی فرمائش پر رد چکڑالوی اور صلا القرآن کے نام سے دو رسالے تصنیف کیے۔ یہ مدرسہ تب سے مسلسل تعلیمی خدمات سرانجام دے رہا ہے اور اب جامعہ فتحیہ کے عنوان سے نشا ثانیہ کے نئے دور میں داخل ہو چکا ہے۔ فتنہ انکار حدیث کے تعاقب کے ساتھ ساتھ تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر بھی اس مدرسہ اور خاندان کی خدمات نمایاں ہیں۔ قادیان میں مجلس احرار اسلام کے شعبہ تبلیغ نے اپنا مرکز قائم کیا تو وہاں کے پہلے مبلغ مولانا عنایت اللہ چشتی تھے جنہوں نے قادیان میں ڈیرہ لگایا بلکہ ڈیرہ جمایا اور تحفظ ختم نبوت کا مستقل مورچہ قائم کر دیا۔ یہ بزرگ جامعہ فتحیہ کے فاضل تھے اور جامعہ کی دورہ حدیث کی پہلی کلاس (1930) کے شرکا میں سے تھے۔ قادیان میں جب ختم نبوت کے مرکز کے قیام کے لیے زمین خریدی گئی تو جگہ خریدنے کے لیے وہاں جانے والوں میں جامعہ فتحیہ کے اس وقت کے مہتمم اول میاں قمر دین، میاں محمد اسلم جان، اور سید امیر علی گیلانی شامل تھے اور اس مرکز کے قیام میں ان بزرگوں کا حصہ ہے۔ جامعہ فتحیہ میں برصغیر متحدہ ہندوستان کے علاوہ افغانستان، ایران اور برما وغیرہ کے طلبہ بھی تعلیم حاصل کرتے رہے ہیں اور ایک موقع پر مدرسہ کے سالانہ امتحان کے لیے دارالعلوم دیوبند کے شیخ الادب حضرت مولانا اعزاز علی تشریف لائے تھے جبکہ حضرت مولانا غلام محمد گھوٹوی بھی امتحان کے لیے اس مدرسہ میں تشریف لا چکے ہیں۔ اس قدیمی مدرسہ کو حضرت علامہ شمس الحق افغانی، حضرت مولانا محمد چراغ، حضرت مولانا مہر محمد اور علامہ غلام حیدر المعروف سراجی بابا کی توجہات حاصل رہی ہیں اور یہاں سے تعلیم حاصل کرنے والوں میں حضرت علامہ محمد شریف کشمیری اور حضرت مولانا عطا محمد بندیالوی کا بھی ذکر کیا جاتا ہے۔ اس وقت جامعہ فتحیہ کے مہتمم حافظ میاں محمد نعمان اور ناظم اعلی ان کے بھائی میاں محمد عفان ہیں جن کا تعلق حضرت حافظ فتح محمد کے خاندان سے ہے۔ میاں محمد نعمان پاکستان مسلم لیگ(ن) کے سرکردہ راہنماں میں سے ہیں اور پنجاب اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں۔ دینی فکر و دانش سے بہرہ ور ہیں اور مطالعہ و تحقیق کا سنجیدہ ذوق رکھتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل لاہور کی ایک مجلس میں ان سے ملاقات ہوئی تو ان کا فکری او رمطالعاتی ذوق دیکھ کر فطری سا انس محسوس ہوا۔ اس لیے جب انہوں نے جامعہ فتحیہ میں وقتا فوقتا حاضری کے لیے کہا تو مصروفیات کے باوجود انکار نہ کر سکا۔ چنانچہ سال رواں میں مذکورہ بالا محاضرات کی ترتیب بن گئی جن کو منظم کرنے اور مسلسل جاری رکھنے میں ان کے رفقا میاں محمد عفان، میاں محمد اویس، مولانا عبد اللہ مدنی اور مولانا پروفیسر حافظ سعید احمد نے اہم کردار ادا کیا اور خود میاں محمد نعمان بھی ان میں مسلسل شریک ہوتے رہے۔ جامعہ فتحیہ میں قیام پاکستان سے قبل دورہ حدیث ہوتا تھا مگر پھر یہ تعطل کا شکار ہوگیا۔ اب اگلے سال سے یہ سلسلہ دوبارہ شروع کرنے کا پروگرام بن گیا ہے جبکہ اس وقت وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے نصاب و نظام کے تحت درس نظامی کے تمام درجات کی تعلیم جاری ہے اور حفظ قرآن کریم کے ساتھ انگلش میڈم سکول کا نظم بھی چل رہا ہے۔ دورہ حدیث کے لیے مجھ سے کہا گیا ہے کہ میں اس کے کچھ بڑے اسباق اپنے ذمہ لوں مگر میرے لیے یہ ممکن نہیں ہے اس لیے کہ جامعہ نصر العلوم گوجرانوالہ میں اس سلسلہ میں جو ذمہ داری میرے بزرگوں نے مجھ پر ڈال رکھی ہے اس میں کمی کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ تاہم میں نے جامعہ فتحیہ کے احباب سے اگلے تعلیمی سال کے لیے یہ وعدہ کر لیا ہے کہ ہفتہ میں ایک بار ہر اتوار کو ظہر تا مغرب وہاں حاضری ہوگی اور اتنے وقت میں جو خدمت بھی سرانجام دے سکا اس کی پوری کوشش کروں گا۔ اس کے لیے جامعہ کے اساتذہ کے مشورہ سے طے پایا ہے کہ احکام القرآن اور عصر حاضر کے عنوان پر محاضرات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے دورہ حدیث کے شرکا کے لیے بخاری شریف کی کتاب الفتن اور کتاب الاحکام کی تدریس کی کوئی صورت ہو جائے گی، ان شا اللہ تعالی۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved