پارلیمنٹ کی تقدیس اور تضحیک
  8  مئی‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
میں جذبات سے مغلوب ہوں کہ میرے پڑھنے والے میرے درد کو اپنا درد جان رہے ہیں۔ کیوں نہ ہو۔ جب ہم اپنے ملک کی بہتری کے بارے میں ایک جیسی تشویش رکھتے ہیں تو ہماری سوچ بھی ایک جیسی ہوگی۔ اپنے اپنے علاقے کے مسائل دوستوں نے بڑے خلوص سے بھیجے ہیں۔ میں آپ کا ممنون ہوں۔ میرا یہ خیال ہے کہ ہفتے میں ایک کالم آپ کی تجاویز۔ آپ کے مسائل اور آپ کے خیالات پر مبنی ہو۔ ایک عمومی تاثرات والا۔ یہ جو کچھ ہورہا ہے ۔ اس کا پس منظر کیا ہے۔ میری جن درد مند ہستیوں سے ملاقات ہوئی کچھ اس کی روداد آپ کے سامنے رکھوں۔ آپ کے مسائل والا کالم جمعے کے مبارک دن ہو۔ عام تاثراتی کالم پیر کے روز۔ ہماری بد قسمتی ہے کہ ملک اس وقت دو انتہاؤں میں بٹا ہوا ہے۔ ایک طرف سیاسی قیادت اور اس کے ہم نوا دوسری طرف فوجی قیادت اور اس کے مدح سرا۔ پاکستان کی اپنی تاریخ ہے اپنے مسائل ہیں کہ یہاں فوج سول امور میں 1954سے الجھ رہی ہے۔ پہلے میں بھی ان لوگوں میں سے تھا جو یکطرفہ طور پر فوج پر ہی سول امور میں مداخلت کا الزام لگاتے تھے۔ لیکن 1988 اور 1989میں، میں نے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے دَور میں سیاستدانوں کے طرزِ حکومت کو بہت قریب سے دیکھا۔ اس دَور سے ہی اقتدار سول حکمرانوں کو پوری طرح منتقل ہونے کی بجائے اقتدار میں صرف شراکت دی جارہی ہے۔ سول حکمرانوں میں صرف شہید ذوالفقار علی بھٹو ہیں جنہیں اقتدار مکمل طور پر منتقل ہوا تھا۔ مگر اس کے لیے ملک کا ایک بازو کٹا۔ ایک سویلین کو چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بننا پڑا اور اس کے بعد انہیں اپنی جان بھی دینی پڑی۔اب سول حکمران صرف ایک تہائی اقتدار حاصل کرپاتے ہیں۔ لیکن مثالی جمہوریت وہی ہوگی جب سول حکمران مکمل طور پر با اختیار ہوں گے۔ مگر اس میں بہت محنت کرنا پڑے گی۔ پارٹیوں میں موروثیت ختم کرنا ہوگی۔پارٹی تنظیم جمہوری ڈھانچے پر تعمیر کرنا ہوگی۔ پارٹیوں کے اندر احتساب کی روایت شروع کرنا ہوگی۔ ابھی تک تو یہ ہے کہ جس پارٹی کا فوج نے تختہ الٹا۔ مجبوراًیا مرضی سے۔ وہ پارٹی فوج کے خلاف ہوگئی اور جسے باری مل گئی۔ وہ فوج کی مداح بن گئی۔ جنرل(ر) پرویز مشرف نے میاں نواز شریف کو برطرف کیا۔ یہ اچانک نہیں تھا۔ اس کے لیے موقع فراہم کیا گیا۔ یہ فوجی انقلاب رات کے اندھیرے میں نہیں بلکہ دن کے اُجالے میں شروع ہوا تھا۔ میاں نواز شریف اور ان کی پارٹی اس لیے فوج کے خلاف ہوگئی۔ دوسری طرف پی پی پی کو امید تھی کہ انہیں باری ملے گی۔ وہ جب نہیں ہوا تو پی پی پی بھی مشرف کے خلاف ہوگئی۔ مگر جب پی پی پی کی چیئر پرسن بے نظیر بھٹو اور جنرل مشرف کے درمیان ابو ظہبی اور لندن میں باقاعدہ ملاقاتیں ہوئیں ۔ معاہدے ہوئے تو پی پی پی نے فوج کی مخالف ترک کردی۔ سیاستدانوں اور فوج کے درمیان کشمکش نے ان دونوں کو بھی کمزور کیا ہے اور ملک کو بھی۔ انتہا پسندی مذہبی شدت پسند سوچ۔ بھی اس کشمکش کا شاخسانہ ہیں۔ ضرورت مملکت کو طاقت ور بنانے کی ہے صرف فوج کو یا صرف سیاسی حکومت کو سارے اختیارات دینے کی نہیں ہے ۔ کراچی کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل میں صبح سویرے وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب صاحبہ سے ملاقات میں مملکت اور حکومت کے درمیان تعلق پر ہی بات ہورہی تھی۔ انچارج پی آئی او اور ڈائریکٹر جنرل فلمز۔ نشریات اور الیکٹرانک میڈیا محمد سلیم۔ کراچی کی انچارج ارم تنویر بھی گفتگو میں شامل تھیں ۔ مریم صاحبہ کو میں نے ٹی وی چینلوں پر حکومت کا موقف پیش کرتے دیکھا ہے۔ بالمشافہ ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ مجھے تو ان کی گفتگو میں مثبت سوچ دکھائی دی اور لہجے میں پاکستان کا درد ۔ ان کا نقطۂ نظر متوازن تھا۔ ملک میں جو فکری انتشار ہے۔ ٹویٹس کی جنگ چل رہی ہے اور بعض منفی امور کو جس طرح اچھالا جارہا ہے ان پر انہیں بھی اسی طرح تشویش تھی جیسے عام سنجیدہ پاکستانیوں کو ہے۔ ایک خواہش بھی دکھائی دے رہی تھی کہ وہ پاکستان کے مختلف حلقوں میں۔ صوبوں میں ایک یگانگت۔ یکجہتی چاہتی ہیں۔ اسی لیے وہ سندھ کے دورے پر آئی ہیں۔ انہیں یہ قلق تھا کہ سیاسی مخالفین کی طرف سے حکومت کی ہر بات کو جھٹلانا توقابل فہم ہے۔ لیکن عام پاکستانی بھی اس رَو میں بہہ جاتا ہے اور وہ حقائق کو پرکھے بغیر مختلف الزامات عاید کرنے لگتا ہے۔ مگر جب ان سے بیٹھ کر تسلّی سے بات ہو ۔ ان کے سامنے اصل حقیقت رکھی جائے تو اس کا اشتعال کم ہوجاتا ہے وہ کہہ رہی تھیں کہ ہم اب یہی کوشش کررہے ہیں کہ حکومت کا موقف عام آدمی تک وضاحت کے ساتھ پہنچے۔ میں ان سے عرض کررہا تھا کہ یہ اچھی کوشش ہے۔ مگر بہت مشکل بھی۔ کیونکہ الیکٹرانک میڈیا کی بے ڈھنگی چال نے سات بجے شام سے رات ایک بجے تک جو شورو غل کا کلچر پیدا کیا ہے۔ اس میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے سنجیدہ امور پر اپنا موقف بردباری سے پیش کرنا دشوار بنادیا گیاہے۔ وہ صدق دل سے اس امر کے حق میں تھیں کہ مذہبی شدت پسندی کے اثرات کو زائل کرنے کے لیے فکری آپریشن کی ضرورت ہے۔ سیکورٹی اقدامات اپنی جگہ ہیں۔ لیکن ہمیں نوجوانوں اور بچوں کو اشتعال اور شدت پسندی سے بچانے کے لیے اسکول کی سطح سے ہی اپنی تاریخ۔ اپنی روایات اپنی اقدار کی تعلیم دینا ہوگی۔ انگریزی کی برتری نے ہمیں اپنے مذہب۔ اپنی روایات۔ اپنی اقدار۔ اور اپنی زبان سے دور کردیا ہے۔ مجھے اسلام آباد میں ایک اسکول جانے کا اتفاق ہوا تو میں بچوں سے انگریزی نظمیں۔ انگریزی گیت۔ سن سن کر دکھ میں مبتلا ہوگئی۔ بعض اقدار اور اصولوں کا بھی ذکر ہورہا تھا تو غیروں کے حوالے سے۔ ہمارے سامنے اپنی تاریخ ہے۔ہمارے اپنے پیغمبر آخر الزماںؐ کا اسوۂ حسنہ ہے۔ قائد اعظم کی تعلیمات ہیں۔ ایمان۔ اتحاد۔ تنظیم۔ اپنی تاریخ ہم نہیں پڑھارہے۔ ملک میں پارلیمانی نظام ہے۔ پارلیمنٹ سب سے بالادست ادارہ ہے ۔اپنے بچوں کو ہم اس ادارے کے تقدس اور عظمت سے آگاہ نہیں کرتے۔ میڈیا میں پارلیمنٹ کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ صرف منفی زاویہ اختیار کیا جاتا ہے۔ پارلیمنٹ کا جو رُتبہ ہے اس کا احساس نہیں دلایا جاتا ۔ باتیں تو بہت درد مندی والی تھی۔ میں نے یہی عرض کیا کہ ہمیں مملکت یعنی اسٹیٹ کا رتبہ بلند کرنا ہوگا۔ حکومت تو آنی جانی ہے۔ ہر حکومت کو کچھ ایسے طویل مدتی اقدامات کرنا چاہئیں جن سے مملکت مضبوط ہو۔ مملکت کی حدود کا تعین کیا جائے کہ کہاں حکومت کی حد ختم ہونی ہے۔کہاں ریاست شروع ہوجاتی ہے۔ ریاست کا سب کو احترام کرنا چاہئے۔ سارے ادارے اپنی اپنی حدود میں کام کریں۔ فوج اور سول حکمرانوں میں قومی امورپر اتفاق رائے اور مفاہمت ہونی چاہئے۔ انہیں ایک دوسرے کے مدّ مقابل نہیں۔ ماضی کی کشاکشوں اور مداخلتوں کے اثرات ہمارے معاشرتی افق سے رفتہ رفتہ جائیں گے۔ فوری نہیں جاسکتے۔ میں نے یہ بھی گزارش کی کہ صرف اسلام آباد اور لاہور میں ہی نہیں کراچی کے ایڈیٹرز اور رپورٹرز۔ اور اہل قلم سے بھی مہینے میں ایک بار وزیروں اور سیکرٹریوں کو مل کر اپنا موقف بتانا چاہئے۔ اسی طرح کوئٹے میں بھی رابطہ ہونا چاہئے۔ اپنا موقف ای میل اور واٹس ایپ کے ذریعے بھی باقاعدگی سے دیں۔ دلائل کے ساتھ۔ دیکھیں ان خوابوں کو تعبیر ملتی ہے یا نہیں۔ احساس زیاں تو ہے۔ یہی متاع کارواں ہے۔پاکستان مسلم لیگ(ن) کو تاریخ نے موقع دیا ہے۔اسے کھونا نہیں چاہئے۔ آپ کا کیا خیال ہے۔ ایس ایم ایس کیجئے۔0331-7806800

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved