کرکٹ کے میدان میں سا فٹ امیج
  9  مئی‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

جزائرغرب الہند سے کتنی اچھی خبر آئی ہے کہ ہمارے ہونہار کرکٹرز نے جیتا ہوا ٹیسٹ میچ طشتری میں سجا کے میزبان ٹیم کو پیش کرکے ملک کا سافٹ امیج نمایاں کر دیا۔ میزبان کے احترام کی اس سے اچھی مثال کوئی مہمان کیا پیش کر ے ۔ کھیل کا کھیل ہو گیا اور ملک کی تشہیر بھی ہو گئی۔ کمال یہ ہے کہ خود جیتنے والوں کویقین نہیں آ رہا ہے کہ یہ ہارا ہوا میچ وہ یکا یک کیسے جیت گئے۔ میزبان ملک کیلئے یہ جیت ہماری ٹیم کی جانب سے ایک حیرت انگیز تحفہ ہے۔ہماری ٹیم نے پہلے ٹیسٹ میں جیت کے گناہ کی اجتماعی معافی، دوسرے ٹیسٹ میںجیتا ہوا ٹیسٹ ہارکے کردی ہے۔اتنی پر' امن ' ،مہذب' اور شائستہ کرکٹ کھیل کے ہماری ٹیم نے ویسٹ انڈین عوام کے دلوں میں گھر کر لیا ہے۔ ہمارے کھلاڑیوں نے' عدم تشدد ' اُور ر واداری کی پالیسی اپناتے ہوئے خراب سے خراب گیند پر بھی اسٹروک نہیں لگائے۔ وکٹوں سے باہر جاتی گیندوں سے چھیڑ چھاڑ کرکے میزبانوں کو آسا ن کیچ دیئے۔ چوکوں چھکوں جیسی جارحانہ بلکہ شدت پسندانہ حرکتوں سے گریز کیا وکٹوں پر اپنا قیام مختصر کیا تاکہ میزبانوں کو زیادہ تکلیف نہ ہو ۔ 188 رنز کے چھوٹے سے ہدف کو خود پہ حرام قرار دیتے ہوئے سو رنز سے بھی 19 رن پہلے یعنی کہ 81 رنز پہ ڈھیر ہو کے اپنے میزبانوں کی لاج رکھ لی۔ جو کا م سینکڑوں سفارت کار کئی برسوں میں نہ کر پائے وہ کام کرکٹ کے شاہینوں نے کر دکھایا۔ امید ہے،ویسٹ انڈین عوام ہمارے ' بھائی بندی' کے جذبے کو یاد رکھیںگے اور آئندہ بھی ہم سے جیت کے کرکٹ کے میدان میں موئژ سفارت کاری کا موقع فراہم کرتے رہیںگے ۔ سننے میں آیا ہے کہ قو می ٹیم کی اس شاندار سفارتی کارکردگی کے حیران کن نتائج کودیکھتے ہوئے دفتر خارجہ میں اس مسئلے پہ غور وفکر شروع ہو چکا ہے کہ فوری طور پر تعلقات بہتر کرنے کیلئے اس ٹیم کو افغانستان کے دورے پہ بھیجا جائے۔ وہاں میچ ہا ر ہار کر سافٹ امیج اُبھارا جائے اور ساری دنیا کو بتایا جائے کہ ہمارا تشدد اور جار حیت سے دور کابھی واسط نہیں۔ انکشافاتِ کرزئی ایک اخباری خبر کے مطابق سابق افغان صدر حامد کرزئی نے تمام دنیا کو یہ اہم اطلاع دی ہے کہ داعش ، امریکہ کی پیداوار ہے۔ موصوف نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ننگرہار میں 'تمام بموں کی امی جان 'گرانے کی حرکت بھی امریکہ اور داعش نے مل جل کے کی ہے۔ کرزئی صاحب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں مسلسل اطلاعات مل رہی ہیں کہ بغیر شناخت )امریکی) ہیلی کاپٹر پاک افغان سرحد پہ سپلائی بیگز گرار ہے ہیں کاش کہ یہ اطلاعات کرزئی صاحب کو اپنے عہدِ صدارت میں بھی مل جاتیں۔ خیر دیر آئے درست آئے ، کرزئی صاحب یہ اِنکشاف نہ کر پائے کہ سپلائی بیگز کس کیلئے پھینکے جا رہے ہیں اوراُن میں کیا رکھا ہواہے ؟ بعض شرارتی صحافیوں نے یہ بھی کہہ ڈالا ہے کہ ایسے ہی ایک سپلائی بیگ میں ڈال کے امریکہ نے کرزئی صاحب کو اچانک' قصرِ صدارت' میں پھینک دیا تھا۔ غالب گمان یہی ہے کہ کرزئی صاحب کو امریکہ کے بیگ پھینکنے یہ اعتراض نہیں ۔ بلکہ اُس مقام پہ اعتراض ہے جہاں امریکی بیگ پھینک رہے ہیں واقفانِ حال کے مطابق کرزئی صاحب کی خواہش ہے کہ کچھ سپلائی بیگ میں امریکی سکہ رائج الوقت بھر کے اُن کی جانب بھی پھینکے جائیں۔آخر کبھی '' امریکہ اور کرزئی میں بھی قرار تھا تمھیںیاد ہوکہ نہ یاد ہو '' وادِیٔ کشمیر میں شدت پسندی کا راج مودی سرکار ہندو شدت پسندی کی سب سے مضبوط اور بدترین علامت بن کر خطے کے امن کو برباد کرنے پہ تُلی بیٹھی ہے۔ نہتے کشمیریوں کے خون سے ہولی کھیل کے بھی مسلم دشمنی کے جذبے کو تسکین نہیں ۔ ماورائے عدالت نسل کشی ،عصمت دری، پیلٹ گنوں سے بینائی چھیننے اور غریبوں کی بستیاں اجاڑنے کے بعد اب ہندو انتہاپسندوں نے منظم ُسنگ باری، کا منصوبہ تیار کیاہے ۔ اس گھناؤ نے منصوبے پرعمل کرنے کیلئے ریاست اُتر پردیش میں 'جنتا کی سینا ' نامی شدت پسند گروہ کے ارکان کو نہتے کشمیری بچوں ، بوڑھوں اور عورتوں پہ سنگ باری، کی تربیت دی جارہی ہے۔ خبر کے مطابق یہ سنگ باربسوں میں بھرکے کشمیر بھیجے جائیں گے۔ہر گروپ کیساتھ اینٹوں اور پتھروں سے لدے دو ٹرک بھی ہوںگے۔مودی کے یہ جنونی شدت پسند مظلوم کشمیریوں پہ بھارتی فوجی سور ماوں کی حفاظت میں سنگ باری کریں گے۔ یہ بات واضح ہے کہ غیر انسانی تشدد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پہ دنیا بھر میں ہونے والی ذلت و رسوائی سے بچنے کے لئے پتھرائو کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔یہ غیر انسانی ظلم،بھارتی فوج کے زیر انتظام ہوگا لیکن مودی سرکار اسے عام'جنتا'کی جھڑپ قرار دے کہ دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکے گی۔ سرحدی کشیدگی اور سرکاری کار گزاری ہمارے معزز ممبرانِ پارلیمان ابھی افغانستان کے کامیاب دورے سے واپس آکے اخباری بیانات ہی دے رہے تھے کہ سرحد پار سے کشیدگی کے آثار واضح ہوگئے۔پہلے افغان صدر نے دورے کی دعوت مسترد کرتے ہوئے پاکستان پر دہشتگردی کا گھسا پٹاِ الزام لگایااور اسکے بعد چمن بارڈر پر نہتے شہریوں کو نشانہ بناکہ ننگی جارحیت کا مظاہرہ کیا۔ صدر اشرف غنی کے بیان اور افغان فورسزکی سرحد پار سے فائرنگ کی بھارتی رویئے سے مماثلت نظر انداز نہیں کی جاسکتی۔امریکہ بھارت گٹھہ جوڑاور افغان کٹھ پتلی حکومت کے رویئے پہ کسی صاحبِ عقل کوحیرِت نہیں ہورہی ۔اگرحیرت میں کوئی مبتلا ہے تو وہ ہمارے حکمران اور 'اربابِ دفترخارجہ' ہیں۔پاک افغان تعلقات جس سنجیدگی کا تقاضا کر تے ہیںوہ تاحال تو حکومتی حلقوں میں نظر نہیں آتی۔مشرقی اور مغربی محاذ کی کشیدہ صورتحال کے ساتھ افواجِ پاکستان سول انتظامیہ کی نالائقی کا بوجھ بھی اٹھائے ہوئے ہے ۔ انتظامی نااہلی کا عالم یہ ہے کہ جنگ میں مصروف فوج سے دو ڈھائی لاکھ نفری لے کے مردم شماری کا کام لیا جارہا ہے ۔ محترم وزیراعظم اور انکے مستعد 'وزیران ِباتد بیر'اکثر خارجہ پالیسی کے معاملات میں عسکر ی اسٹیبلشمنٹ سے شاکی رہتے ہیں۔آخر عسکری ذرائع حکومتی بدانتظامی کا رونا کہاں روئیں ۔وزیراعظم بھارت اور افغانستان سے متعلق اپنی خارجہ پالیسی کے ' سنہری ابواب 'آخر پارلیمان کے سامنے رکھ کے اجتماعی دانش پہ مبنی کوئی واضح لا ئحہ عمل کیوں اختیار نہیں کرتے۔قوم نے آپ کو عسکری اداروں سے منہ ُپھلا کے بیٹھنے کے لئے ووٹ نہیں دیا۔اپنی ذمہ داری کا ادراک کریں۔آگے بڑھ کے قائدِانہ کردار ادا کریں تاکہ قوم کو پتہ چل سکے کہ انکی منتخب کردہ قیادت کتنے پانی میں ہے۔مقامِ افسوس ہے کہ ملک کی مشرقی اور مغربی سرحدوں پہ دشمن گولا باری کر رہا ہے۔اور ملک کی منتخب قیادت ڈان لیکس جیسے شرمناک اسکینڈل پہ جوڑ توڑ میں مصروُف ہے اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ محترم وزیراعظم ملکی سلامتی پہ غورو فکر کرنے کے بجائے شیر، گیڈر اور جلسیوں جیسے استعارے استعمال کرکے' سیاسی جگت بازی' میں مصروف ہیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved