پاکستان' ایران اور سعودی عرب
  9  مئی‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
روزنامہ اوصاف کی خبر کے مطابق … ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اعتراف کیا ہے کہ ''گزشتہ سال تہران میں سعودی سفارت خانے پر حملہ ایک تاریخی حماقت اور حملہ آوروں کی جانب سے غداری تھی … اگر اس تاریخی حماقت کا ارتکاب نہ ہوتا تو آج حالات مختلف ہوتے۔'' 4 مئی کو ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف بارہ رکنی اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ پاکستان کے دورے پر تشریف لائے … اس موقع پر انہوں نے وزیراعظم نواز شریف' سپہ سالار اعلیٰ جنرل قمر جاوید باجوہ اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سے علیحدہ علیحدہ تفصیلی ملاقاتیں بھی کیں … ان ملاقاتوں میں دونوں ممالک نے اپنی سرزمین کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہ دینے پر مکمل اتفاق کیا … اور اس بات پر بھی کہ مشترکہ سرحد پر منشیات کی سمگلنگ اور دہشت گردوں کی آمدورفت روکنے کیلئے موثر اقدامات کیے جائیں گے۔ ''دیر آید… درست آید'' ایرانی وزیر خارجہ کا تہران میں سعودی سفارت خانے پر ہونے والے حملے کے حوالے سے احساس پشیمانی اور تہران … اسلام آباد کے درمیان کم ہوتی دوریاں اس بات کی نشاندہی کر رہی ہیں کہ ایران نے سعودی عرب اور پاکستان کے حوالے سے درست سمت کے تعین کی طرف پیش رفت شروع کر دی ہے۔ اس سے قبل ایران کے صوبے سیستان میں ایک حملے کے نتیجے میں ایران کے دس سرحدی محافظوں کا مارا جانا انتہائی افسوسناک واقعہ تھا … اور ایرانی حکام کی طرف سے اس حوالے سے پاکستان کی طرف انگلی اٹھانا اس سے بھی بڑھ کر افسوسناک' حالانکہ دنیا ایران کے حوالے سے پاکستانی حکومتوں کی نرم مزاجی' شفقت اور پسندیدگی سے بخوبی آگاہ ہے … پاک سرزمین کو ''ایران'' کے خلاف استعمال کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا … اور اگر ایران کے پاس اس حوالے سے کوئی ٹھوس شواہد موجود ہیں تو اسے چاہیے کہ وہ پاکستانی حکام کے ساتھ شیئر کرے … اور پاکستانی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان شواہد کی روشنی میں بھرپور کارروائی کرکے ایران کو مطمئن کرنے کی کوشش کرے … جس طرح ایران یہ چاہتاہے کہ پاکستانی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہ ہو' اسی طرح ایرانی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنا بھی ایران کی حکومت کی ذمہ داری ہے … یمن ہو' شام ہو یا عراق … ایران کے توسیع پسندانہ عزائم کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں … تاہم معاملات کو اب بھی سنبھالا جاسکتاہے اگر اپنی فوجوں اور انقلاب کو اپنے ملک کی سرحدات کے اندر محدود رکھا جائے۔ ایران کو اس بات پر بھی غور کرنا چاہیے کہ آخر چاہ بہار کی سرزمین کو بھارتی خفیہ ایجنسی ''را'' پاکستان کے خلاف کیوں استعمال کرتی رہی؟ پاکستان اور ایران ہمسایہ برادر ملک ہیں … دونوں کا ایک دوسرے پر اعتماد اور ایک دوسرے کا احترام … دونوں ممالک کی مضبوطی کا باعث بنے گا … اگر ایران نے 1947 ء میں قیام پاکستان کے وقت سب سے پہلے اسے تسلیم کیا تھا تو پاکستان نے بھی 1947 ء سے لے کر آج تک ایران سے دوستی نبھانے کی خاطر بہت سے کارہائے نمایاں سرانجام دیئے … پاکستان اور ایران کے درمیان غلط فہمیاں کوئی گروہ' یا کوئی شخص پیدا نہیں کرسکتا کہ اگر دونوں ملکوں کی حکومتیں ایک دوسرے کے حوالے سے پالیسیوں اور اپنی اپنی نیتوں کی سمت درست رکھیں۔ پاکستان اور ایران مسلم اُمہ کے حوالے سے مضبوط ترین ملک ہیں کہ اگر ان کے درمیان غلط فہمیوں کا ازالہ ہوگیا تو یہ خبر پوری امت مسلمہ کے لئے کسی خوشخبری سے کم نہیں ہوگی۔ رہ گئی بات سعودی عرب کی … تو سعودی عرب مکہ اور مدینہ کی وجہ سے امت مسلمہ کی چاہتوں اور عقیدتوں کا مرکز و محور ہے ' مسلمانوں کے دلوں میں کعبتہ اللہ ' روضہ اقدسۖ ' حرم شریف' حجر اسود 'مسجد نبویۖ کی کشش کو نہ نکالا جاسکتا ہے اور نہ ہی کم کیا جاسکتا ہے' نامور روحانی شخصیت مولانا محمد مسعود ازہر نے کیا خوبصورت بات لکھی ہے … کہ ''مسلمانوں اپنے دلوں سے موبائل' ویڈیو ' تصویر کا شوق نکالو … یورپ اور امریکہ کا شوق نکالو … وہاں کچھ نہیں ہے ' وہاں کچھ نہیں ہے … ارے اپنے دلوں میں مکہ اور مدینہ کا شوق بھرو' اللہ کی قسم وہاں بہت کچھ ہے … وہاں سب کچھ ہے ' ہم نے تو مکہ اور مدینہ کے لئے کوئی قربانی نہیں دی … حضرات صحابہ کرام سے پوچھو کہ مکہ اور مدینہ کی عظمت کیا ہے؟ مکہ اور مدینہ تو بڑی چیز … جس دل میں مکہ اور مدینہ کا عشق اور شوق سچائی کے ساتھ اتر جائے … وہ دل بھی قیمتی اور خوشبودار ہو جاتاہے ' پاک اور طاقتور وہ جاتا ہے۔'' اس لئے کوئی بھی سچا مسلمان سعودی عرب کا موازانہ کسی دوسرے ملک کے ساتھ کر ہی نہیں سکتا… حکمرانوں اورسیاست دانوں کی کیا مجبوریاں ہیں؟ الیکٹرانک چینلز کے مالکان اور اینکرز کی کیا مجبوریاں ہیں؟ اسے وہ جانیں' مگر مسلمان مکہ اور مدینہ کی محبت کے راستے میں نہ کوئی مجبوری حائل ہونے دیں گے اور نہ ہی رکاوٹ برداشت کریں گے ' حرمین الشریفین کی خادم سعودی عرب کی حکومت کو بھی مسلمان خدمت حرمین ہی کی وجہ سے پسند کرتے ہیں ' ایرانی وزیر خارجہ نے تہران میں سعودی سفارت خانے پر ہونے والے حملے پر جس تاسف کا اظہار کیا ہے اللہ کرے کہ یہ ایران سعودی عرب تعلقات کی بہتری کے لئے نکتہ آغاز ثابت ہو۔ وما توفیقی الا باللہ

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
67%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
33%



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved