چمن کا واقعہ اور افغان میڈیا!
  9  مئی‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
٭چمن کی سرحدی علاقہ میں پاکستان اور افغانستان کے ارضیاتی جغرافیائی ماہرین نے مشترکہ طور پر اس متنازعہ علاقے کی 20 کلو میٹر سرحد کا جائزہ شروع کر دیا ہے اس سے کشیدگی کچھ کم ہوئی ہے اور چمن شہر میں مارکیٹیں کھل گئی ہیں۔چمن کی سرحد کے دونوں طرف جو جانی نقصان ہوا، اس پر ہر شخص دُکھی ہے۔ کوئٹہ کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض نے کہا ہے کہ افغان فورس کی جارحیت کے جواب میں پاکستان کی طرف سے جوابی کارروائی سے افغان فورس کی پانچ چوکیاں تباہ ہو گئیں اور 50 افغان فوجی مارے گئے مگر ہم اس بات پر خوش نہیں ہیں، اس پر افسوس ہے مگر ہم پاکستان کی ایک ایک انچ زمین کا تحفظ کریں گے۔ جنرل عامر ریاض کی یہ بات درست ہے۔ افغان عوام اور پاکستان کے عوام کئی رشتوں سے آپس میں بھائی ہیں۔ ان کے کئی خاندان سرحد کے آر پار بٹے ہوئے ہیں مگر آسانی کے ساتھ روزانہ ادھر ادھر آتے جاتے ہیں۔ یہ المیہ بھی ہے کہ 1947ء میں اقوام متحدہ کے رکن تمام ممالک نے پاکستان کے قیام کو تسلیم کیا مگر افغانستان نے مخالفت کی۔ افغانستان کا یہ رویہ 70 سال کے بعد بھی اسی طرح برقرار ہے۔وہ 1893ء میں انگریز حکومت کے ساتھ معاہدہ کی رو سے تسلیم کی جانے والی ڈیورنڈ سرحدی لائن کو بار بار متنازعہ بنا دیتا ہے۔ ستم یہ کہ دوسری حکومتوں کی طرح پاکستان کی بہت دوست شمار ہونے والی طالبان کی حکومت نے بھی ڈیورنڈ لائن کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اسی ڈیورنڈ لائن کے تنازعہ کے حوالے سے افغان بارڈر فورس نے چمن کے سرحدی علاقہ میں واقع دیہات کلی لقمان اور کلی جہانگیر پر مردم شماری کرنے والی پاکستانی ٹیم پر گولہ باری کر دی۔ اس سے فرنٹیئرکانسٹیبلری کے دو اہلکار اور 11 دوسرے شہری شہید ہو گئے۔ جواب میں پاکستان کی فورس کو بھی حرکت میں آنا پڑا اور سرحد پار 50 افغان فوجی اہلکار ہلاک ہو گئے۔ اس واقعہ پر افغانستان کی حکومت اور میڈیا کی پاکستان کے خلاف الزامات اور پراپیگنڈا جاری ہے مگر خود ہمارے ہاں کیا ہو رہا ہے؟ روزنامہ اوصاف اسلام آباد کے نمائندہ زمان مغل نے چبھتا ہوا سوال اٹھایا ہے کہ پاکستان کی بیشتر سیاسی پارٹیوں نے چمن کے واقعہ پر افغانستان کی جارحیت کی مذمت اور دکھ کا اظہار کیا ہے، مگر محمود خاں اچکزئی اور اے این پی کے اسفند یار ولی خاں نے اس واقعہ پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ زمان مغل کی بات واقعی معنی خیز ہے۔ ان دونوں رہنمائوں کی پارٹیاں ن لیگ کی حکومت کی اتحادی ہیں مگر حکومت کے اقدام کی حمائت نہیں کر سکتیں۔ حالانکہ اسی حکومت کی اتحادی جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان واضح انداز میں افغان فورس کے حملے کی مذمت کر چکے ہیں۔ ویسے محمود خاں اچکزئی اور اسفند یار ولی کی خاموشی پر اسرار نہیں۔ ان دونوں پارٹیوں کے ڈانڈے کھلے عام افغانستان سے جا ملتے ہیں۔ اسفند یار ولی کے سیاسی جدامجدباچا خاں کی پاکستان کی بجائے جلال آباد میں تدفین ہوئی۔ باچا خاں نے واضح وصیت کی تھی کہ انہیں پاکستان میں دفن نہ کیا جائے۔ پاکستان سے لاتعلقی کی وصیت کو اے این پی کیسے نظر انداز کر سکتی ہے؟ جہاں تک ملی پختون پارٹی کے سربراہ محموداچکزئی کا تعلق ہے تو اس بارے میں کابل کے دو انگریزی اخبارات افغانستان ٹائمز اور کابل ٹائمز کے تازہ شماروں میں محمود خاں اچکزئی کا 27 جون2016ء کو پاکستان، افغانستان اور بھارت کے اخبارات میں شائع ہونے والا بیان ایک بار پھر جلی انداز میں شائع ہوا ہے۔ کوئی بھی شخص انٹرنیٹ پر 'افغانستان ٹائمز' فیڈ کر کے یہ بیان پڑھ سکتا ہے۔ اس کے مطابق محمود خاں اچکزئی نے دو ٹوک واضح الفاظ میں کہا کہ ''طورخم سے اٹک تک کا علاقہ (خیبرپختونخوا فاٹا) افغانستان کا حصہ ہے۔ یہ افغان مہاجرین کا اپنا ملک ہے، وہ یہاں اطمینان سے رہیں۔ انہیں کوئی یہاں سے نکال نہیں سکتا۔ کابل سے اس وقت انگریزی، اردو، فارسی، فرانسیسی اور پشتو زبان کے 23اخبارات شائع ہو رہے ہیں ان میں 9 اخبارات انگریزی میں ہیں۔ ان میں سے افغانستان ٹائمز اور کابل ٹائمز نیٹو کے حلقوں میں زیادہ پڑھے جاتے ہیں۔ دوسرے انگریزی اخبارات میں افغان ڈیلی، افغان سَن، افغان آن لائن پریس وغیرہ شامل ہیں۔ ان تمام مختلف اخبارات میں محمود اچکزئی کا 27 جون 2016ء والا بیان دوبارہ نمایاں شائع ہوا ہے کہ پختونخوا اور فاٹا کا سارا علاقہ افغانستان کا حصہ ہے! یہ بیان پہلی بار چھپا تھا تو ملک کے بہت سے سیاسی رہنمائوں نے اسے کھلا ملک دشمن بیان قرار دیا اور مقدمہ چلائے جانے کا مطالبہ کیا تھا مگر اس وقت بھی حکومت خاموش رہی کہ اسے اقتداربرقرار رکھنے کے لئے ایسے اتحادیوں کی اشد ضرورت تھی۔ یہ ضرورت پانامہ کیس اور نیوز لیکس کے ہنگاموں میں زیادہ ہو گئی ہے! اقتدار بھی کیا چیز ہے ملک کی سلامتی اور وقار کے مقابلے میں چند ووٹ زیادہ اہم قرار پاتے ہیں!! ٭کراچیَ ملک کے عظیم کرکٹر حنیف محمد کے بیٹے شعیب محمد نے وزیراعظم سے سوال کیا ہے کہ آپ نے بہت عرصہ پہلے کراچی میں حنیف محمد کے نام کی گرائونڈ بنانے کا اعلان کیا تھا اس کا کیا بنا؟ ٭بنوں سے ایک قاری نے وزیراعظم سے سوال کیا ہے کہ آپ نے بہت عرصہ پہلے بنوں میں جدید ہوائی اڈا بنانے کا اعلان کیا تھا! اس کا کیا بنا؟ اعلان کدھر گیا؟ ٭جیکب آباد سے محمد اختر نے وزیراعظم سے پوچھا ہے کہ آپ نے جیکب آباد کے لئے جدید ہسپتال اور دوسری بہت سی سہولتوں کا اعلان کیا تھا، ایک پر بھی عمل نہیں ہوا! کیوں؟ ٭نارووال سے علی محمد نے پوچھا ہے کہ وزیراعظم نے ایک جلسہ میں اعلان کیا تھا کہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ صرف چار گھنٹے کی رہ گئی ہے یہ بھی جلد ختم ہو جائے گی مگر یہ تو 18 گھنٹے تک بڑھ گئی ہے۔اَب جلسوں میں آپ لوڈ شیڈنگ کا نام کیوں نہیں لیتے؟ ٭فیصل آباد سے خبر: ق لیگ پنجاب کے صدر خالد پرویز گل نے پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔ ایک قاری نے پوچھا ہے کہ ق لیگ کے پاس باقی کیا رہ گیا؟ میں کچھ نہیں کہہ سکتا ویسے ابھی چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی موجود ہیں۔ایک پرانا(لطیفہ یاد آ گیا ہے۔ مالک نے باورچی کو ایک کلو قیمہ پکانے کے لئے دیا۔ قیمہ بہت مزیدار بنا۔ خانساماں نے تھوڑا سا چکھا، اچھا لگا، اور چکھا اور پھر چکھتے چکھتے سارا قیمہ کھا گیا۔ مالک کھانے کے لئے بیٹھا۔ پوچھا قیمہ کہاں ہے؟ باورچی بولا کہ حضور! غفلت کے باعث بلی سارا قیمہ کھا گئی۔ مالک نے فوراً بلی کو پکڑ کر تولا۔ وزن پورا ایک کلو نکلا۔ وہ بولا کہ ایک کلو قیمہ تو مل گیا مگر پھر بلی کہاں گئی! ٭ایس ایم ایس: ضلع کرک کے دیہات میں 20 گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔ پتہ نہیں حکمران خدا کو کیا جواب دیں گے؟جبار وارانا ڈسٹرکٹ کرک (03429048511) ٭ہمارے شہر میں کوئی گرلزڈگری کالج نہیں۔ بہت سی لڑکیاں تعلیم جاری نہیں رکھ سکتیں۔ آزاد کشمیر کی حکومت تک اپیل پہنچا دیں کہ فوری طور پر یہاں لڑکیوں کا ڈگری کالج بنایا جائے۔عتیب (ATEEB) طاہر تتا پانی آزاد کشمیر (03058991237) ٭ہمارا محلہ نوگزی پولیس گرائونڈ کے پاس ہے۔ اس کی سڑک 10 سال سے خراب ہے۔ بارش کا پانی گھروں میں کھڑا ہو جاتا ہے اور آمدورفت بند ہو جاتی ہے۔ نمازی حضرات نماز کے لئے نہیں جا سکتے۔ ہماری اپیل ایم این اے، ایم پی اے تک پہنچا دیں۔ حسیب رشید مانسہرہ (03489854541) (کیسے بھولے لوگ ہیں، ایم این اے، ایم پی اے سے بھلائی کی توقع کرتے ہیں!) ٭اتوار کے روز چار انتخابی جلسے، سیالکوٹ میں تحریک انصاف، لوئر دیر میں پیپلزپارٹی، پشاور میں ن لیگ اور کراچی میں اے این پی کے جلسے۔ پیپلزپارٹی کے جلسے میں یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ہم نے عمران خاں کو مشورہ دیا تھا کہ اپنی داڑھی دوسروں کے ہاتھ میں نہ دو۔ عمران خاں کی تو دارھی ہے ہی نہیں، دوسروں کے ہاتھ میں کیا دیتے؟ پھر ایک لطیفہ یاد آ گیا ہے۔ ایک گھر میں باپ نے سارے بچوں سے کہا کہ آج ایک مہمان آ رہا ہے۔ اس کی ناک کے بارے میں کوئی بات نہیں کرنی۔ مہمان آیا۔ کسی وجہ سے اس کی ناک غائب تھی۔ سب سے چھوٹا بچہ بولا کہ ابو آپ نے کہا تھا کہ مہمان کی ناک کے بارے میں کوئی بات نہیں کرنی، پر ان کی تو ناک ہی نہیں ہے، بات کیا کرنی تھی؟

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
33%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
33%
پسند ںہیں آئی
33%



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved