قیامت سے پہلے قیامت
  10  مئی‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
انسانیت کی اس حد تک تذلیل ہو گی کبھی کسی نے سوچا بھی نہ ہوگا… شام میں بشار الاسد، ایران اور روس کی وحشت و دہشت سے تنگ آکر ہجرت پر مجبور ہونے والے بے بس اور بے کس مہاجرین پر قیامت سے پہلے ہی قیامت ٹوٹ پڑی ہے… لٹے، پٹے ، بے بس و بے کس اور زخمی شامی مہاجرین کیمپوں میں زندگی کے دن کیسے پورے کر رہے ہیں اس کا اندازہ اس مختصر رپورٹ سے لگایا جا سکتا ہے، رپورٹ کے مطابق… بے انتہا کسمپرسی کی وجہ سے مہاجرین اپنے جسمانی اعضا بیچنے پر مجبور ہیں۔ انسانی اعضا خریدنے والے ایک سمگلر کے مطابق' اعضا کے بدلے8ہزار امریکی ڈالر تک کی رقم ادا کی جاتی ہے گردوں کی مانگ زیادہ ہے… تاہم مہاجرین کو آنکھ فروخت کرنے پر بھی راضی کر لیا جاتا ہے' سفاک سوداگر نے اعتراف کیا کہ اسے کوئی پرواہ نہیں کوئی شخص اس دوران مر بھی جائے کیونکہ انہوں نے قیمت وصول کی ہوتی ہے۔ آہ… جہاد مقدس سے منہ موڑنے اور آپسی نا اتفاقیوں کی وجہ سے آج امت مسلمہ کس نازک موڑ پر آن کھڑی ہوئی ہے کہ… اس کے لٹے پٹے مہاجرین اپنی زندگی کی گاڑی گھسیٹنے کیلئے اپنے ہی جسموں کے اعضا فروخت کرنے پر مجبور ہیں… مسلمانو! جہاد کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا کہ جس راستے پر چل کر مظلوم مسلمانوں کو، کفار اور منافقین کے ظلم و تشدد سے بچایا جا سکے۔ دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں بھی بھارتی فوج بے گناہ مسلمانوں پر نت نئے مظالم ڈھا رہی ہے، ویسے تو پورے ہندوستان میں ہی مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کیا جارہا ہے مگر' خاص طور پر مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو ہندو فوجیوں نے اپنا ٹارگٹ بنا رکھا ہے، اب تو صورتحال اس حد تک دگرگوں ہو چکی ہے، مقبوضہ کشمیر کے سکولوں، کالجوں کے طلبا و طالبات کو خوفناک تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔خوش آئند بات یہ ہے کہ کشمیری مجاہدین بھی بھارتی فوج کے مقابلے میں سینہ سپر ہیں، جمعرات27اپریل کو بھارتی فوج کے مظالم سے تنگ آئے ہوئے شیر دل مجاہدین نے ضلع کپواڑہ کے ایک فوجی کیمپ پر حملہ کر کے دو فوجی افسروں سمیت5فوجی جہنم واصل کر ڈالے، کشمیری مسلمانوں کی انتہائی قابل احترام خاتون رہنما محترمہ آسیہ اندرابی کو بھی گرفتار کیا جا چکا ہے، جب کہ سید علی گیلانی سمیت دیگر حریت قیادت بھی پابند سلاسل ہے۔ آسمان کا سورج بھی مقبوضہ کشمیر میں برپا یہ مناظر حیرت سے دیکھ رہا ہے کہ کشمیر کی عفت مآب بیٹیاں بھارتی… سورماوں کی لاٹھیوں، گولیوں اور آنسو گیس کے شیلوں سے گھبرا کر بھاگنے کی بجائے، اینٹوں اور پتھروں سے ان ظالموں کا باقاعدہ مقابلہ کر رہی ہیں۔ کشمیری بیٹیاں بھارتی فوج سے جھڑپوں میں زخمی ہونے کے باوجود پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتی ہیں' بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں سوشل میڈیا پر مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے، لیکن اس سب کے باوجود کشمیر کے بچے ہوں، بوڑھے ہوں، جوان ہوں، کشمیری طلبا ہوں، طالبات ہوں' حتی کہ کشمیر کی5سال سے لے کر8 سال تک بچیاں بھی آزادی، آزادی کے نعرے بلند کرتی ہوئی بھارتی درندوں کا مقابلہ پتھروں سے کرتی ہیں، میں کشمیر کی اس 6سالہ معصوم بیٹی کو کیسے بھول سکتا ہوں کہ جس نے سوشل میڈیا کے ذریعے شعر کی شکل میں یہ پیغام دیا تھا کہ روتی ہے کشمیر کی دھرتی روتے ہیں انسان شائد کہ ہم کو بھول چکی ہے ارضِ پاکستان یقینا پاکستان کے حکمرانوں اور یہاں کا میڈیا کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کے جذبات کی ترجمانی کرنے میں مکمل ناکام رہا ہے، مقبوضہ کشمیر کے ایک کروڑ سے زائد بے گناہ انسان اپنی آزادی کے حصول کی جدوجہد میں مصروف ہیں… لیکن یہاں کے حکمران اور میڈیا ان کا ساتھ دینے کی بجائے… بھارت کے شدت پسند ہندو حکمرانوں سے مرعوب یا متاثر نظر آرہا ہے۔ اس قدر کشیدہ صورتحال میں بھی… بھارت کے دہشت گرد وزیراعظم نریندرمودی کا دست راست سجن جندال… نہ صرف اسلام آباد پہنچتا ہے' بلکہ مری کی سیر بھی کرتا ہے، اور وزیراعظم نواز شریف اپنی ساری مصروفیات ترک کر کے سجن جندال کی آو بھگت میں مصروف رہتے ہیں اور سونے پر سہاگہ یہ کہ وزیراعظم کی صاحبزادی کہتی ہیں کہ سجن جندال نواز شریف کے پرانے اور گہرے دوست ہیں اور مری میں ہونے والی ملاقات دو دوستوں کے درمیان تھی۔ سمجھ میں نہیں آرہا کہ پاکستان کا دشمن… شریف خاندان کا دوست کیونکر ہو سکتا ہے؟ جو سجن جندال پاکستان کو توڑنے کے لئے اپنا پیسہ پانی کی طرح بہا رہا ہے، وہ جندال وزیراعظم کا سجن یعنی دوست کیسے ہو سکتا ہے؟ جب سجن جندال جیسے مودی کے یاروں سے ہمارے وزیراعظم یاریاں نبھائیں گے… تو اس کا مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک جہاد پر منفی اثرات مرتب ہوں گے، کشمیری مسلمان کہتے ہیں کہ ہم تو بھارت پر دوحرف بھیج کر پاکستان سے محبت کا اظہار کرتے ہیں، چلتی گولیوں میں بھی پاکستانی پرچم لہراتے ہیں اور پاکستانی وزیراعظم مودی کے دست راست جندال کو دعوتیں کھلاتے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے عام عوام یہ بھی کہتے ہیں کہ بھارتی ٹی وی چینلز24گھنٹے پاکستان اور مسلمانوں کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کرتے ہوئے نہیں تھکتے اور پاکستانی ٹی وی چینلز کے پاس مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی حمایت میں نہ تو پروگرام کرنے کا وقت ہے اور نہ ہی دنیا کے سامنے بھارتی فوج کے مظالم کو بے نقاب کرنے کا وقت ہے۔ پنجاب حکومت کی پولیس اور سی ٹی ڈی کے شیر جوانوں کو بھی کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی حمایت کرنے والے پاکستانی نوجوانوں کو تنگ کرنے سے ہی فرصت نہیں ہے۔ لیکن اس سارے منظر نامے کے باوجود… ہم پاکستانی قوم کی طرف کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کو یہ یقین دھانی کروانا چاہتے ہیں کہ اس ارض پاکستان پر آپ کا بھی اتنا ہی حق ہے کہ جتنا شریفوں یا زرداریوں کا… بلکہ ان سے بھی کہیں بڑھ کر… اس لئے کہ انہوں نے تو پاکستان کے لئے کبھی اپنا پسینہ قربان کرنا بھی گوارہ نہیں کیا اور مقبوضہ کشمیر میں رہنے والے ہر مسلمان گھرانے نے تو اپنے پیاروں کو پاکستان کی خاطر خاک و خون میں تڑپتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس ارض پاکستان اور اس پر بسنے والے پاکستانیوں نے نہ پہلے کشمیر سے بے وفائی کی… اور نہ آئندہ کریں گے۔ اس ارض پاکستان کے ہزاروں بہادر بیٹے آج بھی وادی کشمیر میں شہدا کے قبرستانوں میں آسودہ خاک ہیں… میں کالم کو زیادہ طویل نہیں کرنا چاہتا … اس لئے آخری بات یہی عرض کرونگا کہ شام کے مہاجرین ہوں یاکشمیر کے مظلوم مسلمان اگر آج مخیر مسلمانوں نے ان کی مالی مدد نہ کی تو کل قیامت کی جواب دہی کیلئے تیار رہیں۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
67%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
33%



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved