ایران اور افغانستان کے جنگی اعلانات
  10  مئی‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭ایرا ن کے وزیر خارجہ جواد ظریف بھاری بھرکم وفد کے ساتھ ہنگامی دورے پر اسلام آبادآئے۔ بہت ''میٹھی'' باتیں کیں۔'' ایران اور پاکستان بھائی بھائی ہیں، ایران پاکستان کے ساتھ ہر قسم کا تعاون کرے گا…'' وغیرہ وغیرہ۔ وزیرخارجہ واپس گئے۔ اگلے روز پاکستان کو دھمکی آگئی کہ ایران کے خلاف دہشت گردی بند نہ کی گئی تو ایران خود پاکستان کے اندرآکرکارروائی ( پاکستان پر حملہ) کرے گا۔ ایران کی مخبوط الحواس وزارت خارجہ نے اسی روز سعودی عرب کو بھی دھمکی دی کہ ''کوئی بے وقوفی کی تو ایران مکہ اور مدینہ کے سوا پورے سعودی عرب کو تباہ کردے گا۔ ظاہر ہے ایسی بڑھکیں کوئی ہوش و حواس سے عاری لوگ ہی مار سکتے ہیں۔ ٭دوسرا واقعہ :قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق کی زیر قیادت پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا15رکنی مشترکہ وفد کابل گیا۔ امریکہ اور بھارت کے قدم بوس صدر اشرف غنی، عبداللہ عبداللہ اور سابق صدر حامد کرزئی سے ملاقاتیں کیں۔ واپس آکر سپیکر ایاز صادق نے بہت خوش ہوتے ہوئے بیان دیا کہ بہت سی غلط فہمیاں دور ہوگئی ہیں۔ ماحول بہتر ہوگیا اور اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ نے پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت قبول کرلی ہے۔ اس بیان کی ابھی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ ، دونوں کے بیانات آگئے کہ پاکستان کادورہ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیںہوتا۔ اس کے ساتھ ہی افغان بارڈر فورس نے چمن کے علاقہ میں پاکستان کے سرحدی دیہات کلی لقمان اور کلی جہانگیر پر گولہ باری کردی۔ یہ تفصیل مسلسل چھپ رہی ہے۔ انہی دنوں پاکستان کے صحافیوں کا ایک وفد بھی کابل کا دورہ کررہاہے۔ اس سے خطاب کرتے ہوئے افغانستان کے نائب وزیر اطلاعات سیدآغاشاہ نے پاکستان کے خلاف زہر فشانی کرتے ہوئے اسے دہشت گرد قراردے دیا اور سخت کارروائی کی دھمکیاں دے دیں۔ان باتوں پر کیا تبصرہ کیا جائے سوائے اس کے کہ اس ملک کا چار سال سے کوئی وزیر خارجہ ہی نہیں! بدقسمتی کہ وزیراعظم نے وزیر خارجہ کا عہدہ اپنی جیب میں ڈال رکھاہے۔ یہ ''وزیر خارجہ'' آج تک بھارتی جاسوس کل بھوشن کا نام نہیں لے سکا۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے وحشیانہ ظلم وتشدد کی کھل کر مذمت نہیں کرسکا! نریندر مودی کی کشمیر دشمن وحشت کے بارے میں افسوس کاایک لفظ بھی منہ سے نہ نکل سکا! صرف وزارت خارجہ ہی نہیں،ملک کی وزارت دفاع بھی لاوارث پڑی ہے۔ بجلی ، پانی کی لوڈشیڈنگ کے ناکام وزیرنے عارضی طورپر دفاع کا اضافی عہدہ سنبھال رکھا۔ آزاد کشمیر کی کنٹرول لائن اور پاکستان کی مشرقی اور مغربی سرحدوں پر دشمن بے شمار خونریز وارداتیں کر چکا ہے۔وزیر دفاع کہلانے والے ان صاحب کو کبھی، کسی بھی سرحد پر جانے کی توفیق نہیں ہوئی! تازہ ترین واقعہ چمن کا ہے! مجال ہے ادھر جانے کا سوچا بھی ہو! افسو س کہ ''غیرت نام تھا جس کا گئی تیمور کے گھر سے !''۔ ٭ کچھ دوسری باتیں! فرانس کے صدارتی انتخابات میں شکست کھانے والی خاتون لی فین کوالیکشن ہارنے کی خبر ملی تو وہ سڑک پر ہی ناچنے لگی، یہاں پوری تسلی نہ ہوئی تو ایک نائٹ کلب میں جاکر پھرناچنے لگی! یہ رقص بھی عجیب چیز ہے بابا بلھے شاہ اپنے ناراض مرشد عنائت قادری کو منانے کے لیے ناچتے ہوئے قصور سے لاہور پہنچے۔ مولانا روم کے بارے میں بتایاگیا ہے کہ اپنے نارا ض دوست شمس تبریزی کی تلاش میں دھمال ڈالتے ہوئے دمشق گئے۔ وہ وہاں موجود نہیں تھا۔ اسی طرح ناچتے ہوئے واپس آئے۔ ترکی کے شہر قونیہ میں ان کے مزار پرآج بھی مسلسل دھمال ہوتی رہتی ہے۔ قونیہ میں لمبے لمبے چغے اور لمبی ٹوپیوں والے درویشوں کی اس دھمال میں ایک بار مجھے بھی اچانک شریک کرلیا گیا تھا۔ یہ دلچسپ داستان پھر کبھی سہی۔ بات فرانس کی شکستہ دل ناکام امیدوار خاتون کی ہورہی تھی۔ اس نے وضاحت کی ہے کہ شکست کے غم کو دور کرنے کے لیے رقص بہترین علاج ہے! میں کچھ کہہ نہیں سکتا ، ممکن ہے ایسا ہو سکتا ہو! ٭ٹائمز آف انڈیا کی ایک خبر: بھارت کی حکومت اس بات پر خوش ہورہی ہے کہ بالآخر پاکستان کے بھارت کے ساتھ سخت رویہ رکھنے والے بے باک ہائی کمشنر عبدالباسط کو بالآخر بھارت سے واپس بلالیاگیا ہے اور ان کی جگہ ترکی میں پاکستان کے سفیر سہیل محمود کو بھارت میں بطور ہائی کمشنر بھیجا جارہاہے۔ قارئین ذرا دل تھام کر سنیں۔ ٹائمز آف انڈیا نے لکھاہے کہ پاکستان نے وزیراعظم نوازشریف بھارت کے بارے میں عبدالباسط کے سخت اور کرخت رویہ کو پسند نہیں کرتے تھے۔ وہ خاص خود پر اس بات پر برہم تھے کہ عبدالباسط نے14 اگست کو کشمیری حریت پسند رہنماؤ ں کو پاکستان کے ہائی کمیشن میں بلا کر بھارت کو ناراض کیوں کیا ؟ اخبار نے مزید لکھا ہے کہ عبدالباسط سینئر ترین سفارت کار ہیں مگر ان کے بھارت کے خلاف کھلے معاندانہ رویے کی بناپر انہیں پاکستان کا سیکرٹری خارجہ نہیں لگایاگیا۔ عبدالباسط جرمنی میں پاکستان کے سفیر رہ چکے ہیں۔ماسکو، امریکہ، لندن اورسوئٹرز لینڈ میں 35 سالہ سفارتی تجربہ رکھتے ہیں۔ اہم سفارتی عہدوں پر کام کرچکے ہیں۔ انٹرنیشنل تعلقات میں ماسٹر کی ڈگری والے عبدالباسط 1982ء میں پاکستان کی فارن سروس سے وابستہ ہوئے تھے۔2014ء میں بھارت میں ہائی کمشنر کاعہدہ سنبھالا تھا۔ ٭پاکستان ٹیلی ویژن نے ایک بہت اہم پروگرام ''کشمیر سیل'' شروع کررکھا ہے۔ گزشتہ رات اس پروگرام میں مقبوضہ کشمیر کی جدوجہد آزاد ی میں طالبات کے موجودہ کردار کے حوالے سے ''نِڈردلیر بچیاں، سری نگر کی بیٹیاں'' کے پرانے ولولہ انگیز ترانے نے بہت سی یادیں تازہ کر دی۔ یہ ترانہ معروف شاعر ابو سعید قریشی نے1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران لکھا۔ اسے گلو کارہ نذیر بیگم نے دوسرے گلو کاروں کے ساتھ کورس کی شکل میں نمایاں انداز میں گایا۔ معروف موسیقار نثار بزمی نے اس کی دھن ترتیب دی ۔ یہ دلوں کوگرمادینے والا بہت موثر ترانہ ہے۔ ایک عرصے سے محفوظ پڑا تھا۔ گزشتہ دنوں سری نگر کی ایک طالبہ افشاں نے کھلے عام اعلان کیا کہ ہمارے طالب علم بھائی آزاد ی کی خاطر بہت خون دے چکے اب ہماری باری ہے، اب ہم خون دیں گی۔اس پریہ ترانہ ایک بار پھر منظر عام پر آگیا ہے۔ ٭ ''بہت اہم'' خبر: سابق صدرآ صف زرداری کی دونوں بیٹیاں بختاور اور آصفہ باکسنگ کی تربیت حاصل کررہی ہیں۔ بختاور کو تو باقاعدہ باکسنگ کرتے ہوئے دکھایاگیاہے۔ ایک قاری نے پوچھا ہے کہ دو نوں بیٹیوں کو باکسنگ سیکھنے کی کیا ضرورت پیش آگئی ہے؟ میں کیا کہہ سکتا ہوں۔ البتہ تھڑا سیاست دان علم دین کا ہمیشہ کی طر ح بے تکا قیافہ ہے کہ جناب موجودہ سیاست میں بہت سی خواتین آگئی ہیں ۔ بختاور اور آصفہ بیٹیاں اپنے مقابل ن لیگ کی مریم نام کی دو خواتین اور تحریک انصاف کی شیریں مزاری کو اچھی نظروں سے نہیں دیکھتیں، شائد اسی لئے باکسنگ …!! ٭ایس ایم ایس:ایک صاحب ثناء اللہ خاں ہسپتال چلا رہے ہیں۔ ان کا پتہ اور رابطہ نمبر چاہئے۔ محمد حفیظ نیلہ بٹ آزاد کشمیر(0346-5490816) ٭ہمارے علاقہ(BHAIDI)میں کوئی ہسپتال، کوئی سڑک بجلی و پانی نہیں۔ تقریباً12دیہات پر مشتمل اس علاقہ کی آبادی کسی بھی تحصیل کی آبادی کے برابر ہے لیکن زندگی کی کوئی بنیادی سہولت میسر نہیں۔ لیاقت حسین عثمانی موضع بھیدی(BHAIDI) ضلع حویلی، آزاد کشمیر (0344-4155490) ٭منگ باجری باغ آزاد کشمیر سے ایم کبیر (0346-5417033):1989ء میں آزاد کشمیر میں آنے والے کشمیری مہاجرین کے لیے ملازمتوں میں چھ فیصد کوٹا رکھاگیا تھا، اسے موجودہ حکومت ختم کرناچاہتی ہے۔ ہمارا کیاجرم ہے؟ کشمیری مہاجرین پہلے ہی بہت سی مشکلات کے شکار ہیں۔ ان کی داد رسی کی بجائے موجود ہ معمولی سہولت سے بھی محروم رکھاجارہاہے۔ ہماری اپیل چھاپ دیں۔ ٭پانچ ایس ایم ایس روک لئے گئے ہیں ، ان پر بھیجنے والوں کا نام پتہ نہیں تھا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved