کبوتر کی بند آنکھیں اور شیر
  11  مئی‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

میاں صاحب کا کہنا ہے کہ شیر 2018 میں بند آنکھوں والے کبوتر کو کھا جائے گا۔ یہ کہتے ہوئے نہ جانے کون سا کبوتر ان کی نظر میں تھا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ جس کبوتر نے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں وہ کوئی اور نہیں ان کی اپنی ذات شریف ہے جو زمینی حقائق کو سمجھ نہیں پا رہی۔ پانامہ سکینڈل نے ان کی ساکھ کو جس بری طرح نقصان پہنچایا ہے وہ اس کا ادراک نہیں کر پائے۔ مستعفی ہو کر اگر وہ پانامہ کیس کا سامنا کرتے تو ان کا امیج کچھ بہتر ہوتا مگر وہ عدالت عظمی کا فیصلہ اور ججمنٹ آنے کے بعد بھی استعفی دینے پر آمادہ نہیں ہیں۔ یوں انہوں نے حقائق کا دلیری سے سامنا کرنے کی بجائے اپنی آنکھیں موند لی ہیں اور ان کی مثال اس کبوتر جیسی ہو گئی ہے جو بلی کو دیکھ کر اپنی آنکھیں بند کر لیتا ہے لیکن بلی اسے چھوڑتی نہیں۔ پانامہ کے بعد ڈان لیکس کے معاملہ کو وہ جس طرح ہینڈل کرنا چاہ رہے ہیں وہ زمینی حقیقتوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ پاک فوج کو ڈان اخبار کی خبر کے بارے میں سخت تحفظات ہیں۔ ان تحفظات کا اظہار گاہے بگاہے ہوتا رہا ہے۔ حتی کہ آرمی چیف سے کور کمانڈرز کانفرنس میں اور اس کے علاوہ گیریژن افسروں سے ملاقات میں بھی اس بارے میں سوالات پوچھے گئے۔ صاف دکھائی دیتا ہے کہ یہ معاملہ دبنے والا نہیں ہے جب تک کہ خبر فیڈ کرنے والے کردار اپنے منطقی انجام تک نہ پہنچیں۔ وزیر اعظم لیکن آنکھیں بند کئے ہوئے بیٹھے ہیں اور سمجھ رہے ہیں کہ چند افراد کو قربانی کا بکرا بنا کر وہ فوج کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ معاملہ اگر کسی ایک ذات کا ہوتا تو شاید اتنا طوفان نہ اٹھتا لیکن یہاں معاملہ پاک فوج کی عزت اور ساکھ کا ہے جس کو ایک پلانٹڈخبر کے ذریعے نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ اپنی فوج کے خلاف اس بیانیہ کی تشہیر کی گئی جس کو وطن دشمن پیش کرتے ہیں چنانچہ فوج کا سخت ردِعمل آنا یقینی تھا۔ یہ ردِعمل جنرل راحیل شریف کے ہوتے ہوئے سامنے آیا اور وقت گزرنے کے ساتھ اس میں کمی واقع نہیں ہو ئی بلکہ شدت آنا شروع ہو گئی ہے۔ آئی ایس پی آر نے حکومتی نوٹیفیکیشن پر فوری ردِعمل دیا اور توقع کے مطابق سخت زبان میں نوٹیفیکیشن کو مسترد کر دیا گیا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کی سر براہی میں پاک فوج کا یہ پہلا بھرپور ردِعمل تھا ۔ یوں فوج کی پریس ریلیز نے جنرل باجوہ کے حوالے سے اس تاثر کوختم کردیا جو ابتدائی دنوں میں تھا۔ اب جنرل باجوہ بعض حوالوں سے جنرل راحیل شریف سے آگے نکل گئے ہیں۔ اول ' انہوں نے پنجاب میں رینجرز آپریشن کے لیے پنجاب حکومت کو آمادہ کیا' دوم' انہوں نے جنرل راحیل شریف کے آپریشن ضرب عضب کو آپریشن ردالفساد کانام دے کردہشت گرد عناصر کے گرد مزید گھیرا تنگ کیا۔ سوم' انہوں نے سرحد پار سے دہشت گردی کرنے والوں کو انجام تک پہنچانے کے لیے افغانستان کے اندر کارروائی کرنے کا دلیرانہ اقدام اٹھایا۔ اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کو تقویت دینے کے لیے جنرل راحیل شریف نے زبردست سٹینڈرڈز طے کئے۔ جنرل باجوہ کے سامنے اپنے پیش رو کی جو مثال موجود تھی انہیں اس سے بڑھ کر اپنی ذات کو پیش کرنا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ جنرل باجوہ نے کنٹرول لائن کے دوروں سے لے کر ملک میں جاری آپریشن ردالفساد کی کڑی نگرانی تک جس طرح اپنے آپ کو وقف کیا ہے اس سے ان کا قد کاٹھ بڑھا ہے۔ وطن عزیز کی سلامتی کا دارومدار دہشت گردعناصرکو منطقی انجام تک پہنچانے میں ہے اور مجھے یہ لکھنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ اس ضمن میں جنرل قمر جاوید باجوہ کی انڈرسٹینڈنگ اور کمٹمنٹ کسی طرح بھی جنرل راحیل شریف سے کم نہیں ہے۔ بعض حوالوںسے تو یہ جنرل راحیل شریف سے بھی آگے نکلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ڈان لیکس پر آئی ایس پی آر کے سخت ردِ عمل کے بعد جنرل باجوہ اور وزیر اعظم میاں نواز شریف کے درمیان ہونے والی ملاقات میں اگرچہ خوش اسلوبی سے طے کرنے پر اتفاق ہوا ہے مگر یہ بات طے ہے کہ جے آئی ٹی کی سفارشات کے مطابق حکومتی نوٹیفیکیشن آئے گا تو تب ہی معاملات سیٹل ہوں گے۔میرا احساس ہے کہ فوج کے اندر میاں نواز شریف کے طرز حکمرانی کے بارے میں شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈان کی خبر پر شدید ردِعمل سامنے آیا اور اسے نظر انداز نہیں کیا گیا۔ آنے والے دنوں میں اگر وزیر اعظم نواز شریف نے پانامہ پیپرز پر بننے والی جے آئی ٹی پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی تو اس سے حالات بگڑیں گے۔ پانامہ کیس پر بننے والی جے آئی ٹی میں ایم آئی اور آئی ایس آئی کی نمائندگی کرنے والے دو بریگیڈیئرز کی موجودگی دیگر اراکین کی معاونت کا باعث اس وجہ سے ہوگی کہ تمام اراکین حکومتی دبا کو خاطر میں لائے بغیر آزادانہ اپنا کام سرانجام دے سکیں گے۔ جے آئی ٹی پر پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے تحفظات بے جا نہیں ہیں لیکن امید کی جا سکتی ہے کہ فوجی ادارے کے اراکین کی موجودگی ان خدشات کودور کرنے کا سبب بنے گی جس کااظہار کیا جا رہا ہے۔ ڈان لیکس پرفوج کے ردعمل نے اس سوچ کوتقویت دی ہے کہ فوج رول آف لا پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ حکومت کی جانب سے تاثردیا جارہا ہے جیسے فوج نے کوئی انہونی بات کہہ دی ہے اور یہ کہ فوج کو ماتحت حکومت ادارہ کی حیثیت کا خیال رکھنا چاہیے۔ جمہوری سیٹ اپ میں ہر ادارہ مروجہ قانون کا ماتحت ہوتا ہے اور اپنے طے شدہ دائرہ کار میں کام کرتا ہے۔ لہذا اس اعتبار سے فوج حکومت کے ماتحت ہوتی ہے اور نہ پولیس' جیسا کہ پاکستان میںسمجھا جاتا ہے۔ ہر ادارہ ریاست کا ادارہ ہے اور ریاست کے انتظام میں جو ذمہ داری اسے ملتی ہے وہ اسے اپنی قومی ذمہ داری سمجھ کر ادا کرتا ہے۔ جس دن تمام ادارے اس سوچ کے تحت کام کرنے لگے اس دن وطن عزیز میں ''جمہوری بادشاہت'' کاخاتمہ ہو جائے گا اور صحیح معنوں میں جمہوریت قائم ہو گی۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
80%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
20%


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved