ایران کی پاکستان اور سعودی عرب کو دھمکیاں
  11  مئی‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

ایرانی مسلح افواج پاسداران انقلاب کے سربراہ میجرجنرل محمد باقری نے پاکستان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ''اگر پاکستان نے سرحد پار ایرانی علاقے میں حملے کرنے والے مبینہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائی نہ کی اس کی فوج پاکستانی سرحد عبور کرکے جیش العدل کے ٹھکانوں کو خود نشانہ بنائے گی۔'' دوسری طرف ایرانی وزیر دفاع جنرل حسین دہقان نے سعودی عرب کے نائب ولی عہدکے ایران مخالف بیان پر سخت تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ سعودی عرب نے بیوقوفی کی تو مقدس شہروں مکہ اور مدینہ کو چھوڑ کر باقی سارے سعودی عرب کو تباہ کر دیں گے۔ کچھ لوگ جنرل باقری اور جنرل حسین دہقان کی ان دھمکیوں کو گیدڑ بھبھکی قرار دے کر بھول جانے کے مشورے دے رہے ہیں … لیکن جو لوگ امام خمینی کے ایرانی انقلاب سے لے کر اب تک ایران پر خصوصی نظر رکھے ہوئے ہیں … ان کا کہنا ہے کہ ایرانی جرنیلوں کی دھمکیوں کو محض گیدڑ بھبھکیاں قرار دے کر بھول جانے والوں پر دنیا ہمیشہ رویا کرے گی۔ کیوں کہ ایرانی پاسداران اور ایرانی حکمرانوں کے عسکری کردار سے پوری دنیا واقف ہے … ایران' عراق جنگ کو فی الحال کچھ دیر کے لئے پس پشت ڈال دیں تو تب بھی ایرانی فوج کی شام میں خوفناک مداخلت یا یمن کے حوثی باغیوں کو ایران کی طر ف سے ملنے والی مالی اور فوجی مدد کو کوئی ذی شعور پس پشت کیسے ڈال سکتا ہے؟ ایرانی جنرل باقری نے ایک ایٹمی پاکستان کو دھمکی اس لئے دی ہے … کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ یہاں کی سیاست اور صحافت میں ایرانی لابی کافی مضبوط ہے' اور امریکہ' ایران اور بھارت کے معاملے میں تو ہمارے حکمران ' سیاست دان اور میڈیا کے پردھان تو ویسے ہی حلوے کی طرح ''میٹھے اور ریشم'' کی طرح نرم مزاج رکھتے ہیں' سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف 39 مسلمان ممالک کے عسکری اتحاد کے سربراہ بنے تو پاکستانی صحافت اور سیاست میں موجود ایرانی لابی نے چائے کی پیالی میں جو طوفان اٹھانے کی کوشش کی … وہ بھی کسی سے مخفی نہیں ہے ' قوموں کی عزت نفس بڑی چیز ہوا کرتی ہے … پہلے امریکہ کا ڈومور' پھر بھارت کی فاٹا سے لے کر بلوچستان تک مداخلت' پھر کابل سے ملنے والی دھمکیاں اور اب ایران کے چیف آف آرمی سٹاف کی دھمکی … سچ کہا ہے کسی نے کہ جب ملکی قیادت جرات مندی کے فقدان کا شکار ہو ' سیاست … میرے ملک کی سیاست کا حال مت پوچھو گھری ہوئی ہے طوائف تماش بینوں میں کی عملی تصویر ہو ' حکمران اور سیاست دان ایک دوسرے کے خلاف تو ''شیر ببر'' کی طرح بڑھ چڑھ کر حملے کرنے کے عادی ہوں … مگر امریکہ' بھارت یا ایران کے سامنے جب پاکستان کے مفادات کے لئے حق گوئی اور بے باکی کے ساتھ بات کرنے کا موقع آئے تو یہ بے چارے ''بھیگی بلی'' بن جاتے ہیں … وہ دانش فروش اور اینکرز مافیاء کے خرکار کہ جو ٹی وی چینلز پر پاک فوج کے خلاف گز گز بھر لمبی زبانیں نکالتے ہوئے نہیں تھکتے … جب موقع آتا ہے پاکستان کو دھمکیاں دینے والی جارح قوتوں کا … تو یہ جارح قوتوں کے ایجنٹ بن کر اپنے ہی ملک اور قوم کی غلطیاں گنوانا شروع کر دیتے ہیں 'جرات مندی اور بہادری اگر کسی مارکیٹ میں بک رہی ہوتی تو یہ قوم وہاں سے خرید کر اپنے حکمرانوں' سیاست دانوں اور دانشوروں میں ضرور تھوڑی تھوڑی تقسیم کر دیتی۔ 1979 ء کے بعد سے پاکستان میں ہونے والی فرقہ وارانہ دہشت گردی سے کون ناواقف ہوگا؟ اور اس بات سے بھی کہ فرقہ واریت کو بھڑکانے والا وہ متنازعہ لٹریچر کس ملک کے چھاپہ خانوں سے پرنٹ کروا کر پاکستان میں لایا جاتا تھا؟ اگر پاکستان کے حکمرانوں میں جرات ہوتی تو وہ پاکستان میں فرقہ واریت کی آگ بھڑکا کر انسانوں کا قتل عام کرکے پڑوسی ملک فرار ہونے والے دہشت گردوں کے حوالے سے کھل کر بات تو کرتے ' بدقسمتی سے پاکستان کی حکومتیں اور میڈیا اپنی ہی قوم کے مفادات کو بزدلی اور مصلحتوں کی کالی چادر کے نیچے چھپانے کی کوشش کرتے رہے ' بلکہ آج تک کرتے چلے آرہے ہیں … کلبھوشن جیسے ''را'' کے دہشت گرد کی چاہ بہار کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کے خلاف جب ہم جیسوں نے سوالات اٹھائے تو ایرانی سفیر مہدی ہنر دوست چوہدری نثار سے ملے … اور پھر کہا گیا کہ میڈیا کے کچھ لوگ غلط فہمیاں پیدا کررہے ہیں … ابھی4 مئی کو ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف اپنے 12 رکنی وفد کے ہمراہ پاکستان تشریف لائے … پاکستانی حکام اور ان کے درمیان محبت بھری ملاقاتیں ہوئیں … ایک دوسرے کے خلاف اپنے اپنے ملکوں کی سرزمین استعمال نہ کرنے کے وعدے و عید ہوئے … پھر جناب جواد ظریف کابل پہنچے … کابل کے دورے کے فوراً بعد جنرل باقری کی طرف سے پاکستان کودھمکیاں موصول ہونے لگیں۔ کیوں؟ کیا امریکہ ' بھارت اور ایران ' پاکستان کے خلاف کوئی جارحانہ حکمت عملی بناچکے ہیں؟ میں ''کابل'' کو علیحدہ سے کچھ نہیں سمجھتا' بلکہ امریکہ اور بھارت کو بھی ''کابل'' سمجھتا ہوں … ایران کو چاہیے تھا کہ وہ اپنی سرزمین پر وہاں بننے والے سنی العقیدہ مسلمانوں کو بھی جینے کا حق دے ' انہیں بھی مسجدیں بنانے کی آزادی حاصل ہونی چاہیے 'اگر ایران میں بسنے والے اہلسنت عوام کا ایرانی حکمرانوں سے کوئی تنازعہ ہے تو اس میں پاکستان یا پاکستان کے عوام کا کیا قصور؟ جیش العدل سنی العقیدہ ایرانی صوبہ سیستان بلوچستان میں سرگرم ہے … ''سیستان'' ایران کا صوبہ ہے نہ کہ پاکستان کا ' اگر سرحدی کمزوریوں کی وجہ سے کہیں کوئی غلطی ہے تو ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف پاکستان سے معاملات طے کرکے واپس جاچکے تھے … پھر ایرانی آرمی چیف جنرل باقری نے پاکستان کو دھمکی کیوں دی؟ اب آتے ہیں ایرانی وزیر دفاع کے بیان کی طرف … جس میں وہ مکہ مدینہ چھوڑ کر سعودی عرب کو تباہ کرنے کی دھمکی دیتے ہیں … بڑی مہربانی ایرانی وزیر دفاع کی جو انہوں نے مکہ اور مدینہ کو تو تباہی سے بچانے کا عندیہ دے دیا … نجانے ''ایران'' دوسروں کو تباہ و برباد کرنے کے عمل سے کب باز آئے گا؟ ''سعودی عرب'' کو تباہ برباد کرنے کا خواب نہایت ڈرائونا اور خوفناک ہے ' اللہ نہ کرے کہ دشمنوں کا یہ گھنائونا خواب کبھی شرمندہ تعبیر ہو' عرب کی سرزمین کو تباہ و برباد کرنے کی سوچ بھی انسانوں کے خون میں ارتعاش پیدا کر دیتی ہے … چہ جائیکہ کوئی عرب کی سرزمین کو تباہ و برباد کرنے کی بات کرے … تباہیوں اور بربادیوں کی دھمکیوں نے پہلے بھی اُمت مسلمہ کے اجتماعی مفاد کو زک پہنچائی اور اب بھی ایسی دھمکیوں سے یہود و ہنود اور نصاریٰ کا ہی فائدہ ہوگا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
88%
ٹھیک ہے
4%
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
8%


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved