سول بالادستی اورنیوز لیکس کی رپورٹ
  11  مئی‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭اخبارات نے وزیراعظم ہاؤس کی خبر پر شہ سرخیاں جمائی ہیں کہ سویلین بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ اس سے مجھ پر تلخ قسم کی تشویش طاری ہورہی ہے۔ پارلیمنٹ اور وزیراعظم ہاؤس ملک کے منتخب نمائندوں کے معتبر ترین ادارے ہیں۔ ان سے ہمیشہ اعتدال پسندی، رواداری اور تدبر و حکمت والی رہنمائی کی توقع کی جاتی ہے مگر ان اداروں سے اگر شعلوں والے آتش فشانی انتباہ برآمد ہونے لگیں تو! ماضی کے بہت سے واقعات، بہت سی مثالیں سامنے ہیں کہ ایسی شعلہ انگیزی سے کیا ہولناک نتائج سامنے آتے رہے ہیں! سول بالادستی محض ایک اصطلاح ہے جو بعض ممالک میں مقدس اور بعض میں محض ایک مضحکہ خیز ناٹک سمجھی جاتی ہے۔ میں نے ہمیشہ سول معاشرہ پر عسکریت کے پرچھاویں کی سخت مخالفت کی ہے۔ ان کالموں میں سول حکومت پر عسکری فوقیت اور اجار ہ داری پر مسلسل ناپسندیدگی کا اظہار کیاہے۔ معاملہ یہ ہے کہ فوج ابتداسے ہی سیاست سے دور رہی تھی مگر پھر سول لوگوں نے خود ہی اسے سیاست کا مزا چکھایا،جب گورنر جنرل غلام محمد نے خواجہ ناظم الدین کی حکومت ختم کرکے امریکہ میں پاکستان کے سفیر محمد علی بوگرا کو وزیراعظم اور کمانڈرانچیف جنرل ایوب خاں کووزیر دفاع بناکر پہلی بار فوج کو سیاست میں داخل کردیا۔یہ ابتدا تھی ۔اس سے ایوب خاں کو سیاست کا چسکا لگ گیا۔ ایوب خاں کے بعد جنرل یحییٰ، جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویزمشرف جنرل ایوب خاں کے نئے روپ میں سامنے آتے رہے۔ المیہ یہ کہ ان تمام جرنیلوں کی اصلی طاقت وہ سیاست دان بنے جوبھاگ بھاگ کر ان کی فوجی حکومتوں میں شامل ہوتے رہے۔ ذوالفقار علی بھٹو، ایوب خاں کے وزیرخارجہ اور اس کی سیاسی مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل پھر جنرل یحییٰ خاں کے وزیر خارجہ بنے رہے۔ جماعت اسلامی جنرل ضیاء الحق کے دستر خوان پر بیٹھ گئی۔ جنرل غلام جیلانی کے زیر سایہ شریف لوگ اقتدارسے روشناس ہوئے اور شیخ رشید' شاہد حامد اور دوسرے ''جمہوریت پسند''عناصر جنرل پرویزمشرف کی گود میں جا بیٹھے! میں ان 'بزرگ پارسا' ہستیوں کے نام چھوڑتا ہوں جو نصف رات کے بعد سیاہ پردوں والی سیاہ گاڑیوں میں نعرہ حق بلند کرنے کے لیے جنرل پرویز مشرف کے آرمی ہاؤس میں جایا کرتے تھے۔ بات لمبی ہو جائے گی۔ میں جانناچاہتا ہوں کہ کون سی بڑی سے بڑی عدالت نے کبھی کسی مارشل لا کو غیر قانونی قراردیا ؟ سب کے سب مایا،اقتدار اور عسکری بالا دستی کے حاشیہ بردار نکلے۔ میں پھر دہراتا ہوں کہ میں نے طویل صحافت کے دوران لکھے جانے والے بے شمار کالموںمیں ہمیشہ سول بالادستی کی حمائت کی ہے مگر کیسی سول بالادستی ؟جوملک کی دولت لوٹ کر عرب اور مغربی ممالک میں اربوں کھربوں کے محلات، ملیں، فلیٹس اور پلازے بناتی ہے! آج عدالتوں میں کیا فوجی جرنیل پیش ہورہے ہیں؟فوج کی طرف سے وزیراعظم ہاؤس کے نوٹیفکیشن کو مستردکرنا بلاشبہ غیر روائتی اور ناپسندیدہ بات ہے ۔اسے نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ بیرون ملک خاص طورپر بھارت کے میڈیا نے جس طرح اچھالا ہے، اس پر اذیت ناک دکھ ہورہاہے۔ مگر پھر وہی سول بالادستی کا مسئلہ! اس بالادستی کو کون سے لوگ آگے بڑھا رہے ہیں؟ نسل در نسل قوم کے اعصاب پر سوار نانا، دادا، بیٹے، بیٹیاں،نواسے ، نواسیاں اور پھران کی نئی نئی اولادیں!! ان تیسری نسل کے نئے نئے بالغ ہونے والے شہزادے، شہزادیوں کے کیا کیا اعلانا ت آرہے ہیں! ''میںوزیراعظم ابو صدر بنیں گے''، ''میں اگلے انتخابات میں حصہ لونگی!'' ٭ذہن تلخ ہورہاہے۔ کچھ دوسری باتیں: سپریم کورٹ میں اسلام آباد کے ترقیاتی ادارہ سی ڈی اے نے رپورٹ پیش کی ہے کہ راول ڈیم کے علاقہ بنی گالہ وغیرہ میں غیر قانونی طورپر 122بڑ ی بڑی محل نما رہائش گاہیں اور بلند وبالا دفتری عمارتیں تعمیر کرلی گئی ہیں۔ ان میں عمران خاں کی 300 کنال والی محل نما رہائش گاہ بھی شامل ہے۔ عدالت کے سامنے ان تمام غیر قانونی عمارتوں کو مسمار کرنے کی تجویز کی اطلاع بھی آئی ہے۔ فاضل عدالت جو بھی کارروائی کرے،مسئلہ تو یہ ہے کہ یہ 122 بڑی بڑی عمارتیں اور محلات راتوں رات تونہیں بن گئے۔ یہ ایک دو نہیں، کئی برسوں میں تعمیر ہوئے ہیں۔ ان کی تعمیر غیر قانونی تھی تو سی ڈی اے والے کہاں سوئے ہوئے تھے؟ انہیںابتدا میں ہی کیوں نہیں روکا گیا؟ ان غیرقانونی تعمیرات کی اجازت کیوں دی؟ ظاہر ہے غیر قانونی تعمیرات کی رشوت اور بھتے سے ان لوگوں کی تجوریاں بھررہی تھیں، کوئی روکنے والا، پوچھنے والا نہیں تھا! کئی ایکڑ زمین ایک ہوٹل کے لیے مختص ہوئی، اس پر رہائشی کمرشل پلازے بن گئے، سی ڈی اے دیکھتے رہے، اپنی جیبیں بھرتے رہے۔ اب کس ڈھٹائی اور بے حسی کے ساتھ عدالت میں رپورٹ پیش کی جارہی ہے کہ 122بڑی عمارتیں غیر قانونی طورپر قائم ہیں۔ قومی خزانے پر بیٹھے ہوئے ان سانپوں کا سخت ترین مواخذہ ہو ناچاہئے مگر کون کرے گا؟ کیسی بدقسمت قوم کہ کوئی شعبہ، کوئی محکمہ، کوئی ادارہ دیانت دار، صاف شفاف نہ نکلا! ہر ادارے میں کروڑوں بلکہ اربوں کی کرپشن، غبن اور لوٹ مار کے نئے نئے انکشافات ! یہ خبریں پڑھتے ہوئے آنکھیں پتھرا جاتی ہیں۔ ٭حکومتی بزرجمہروں نے فیصلہ کیا کہ ڈان نیوز لیکس کی مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ جاری نہیںکی جائے گی! اس کوعوام تک نہیں پہنچنے دیاجائے گا۔ وجہ صاف ظاہرہے کہ فوج کے خلاف شعلہ نوائی کرنے والے بعض شاہی چہروں کی نقاب کشائی ہوگئی ہے۔ اب ان چہروں پر نئے سیاہ نقاب ڈالے جارہے ہیں۔ مگر کیا یہ رپور ٹ چھپ سکے گی؟ سقوط مشرقی پاکستان والی حمودالرحمان کمیشن رپورٹ میں ذوالفقارعلی بھٹو کو بھی 'ملزم' قرار دیا گیا تھا۔ بھٹونے اس رپورٹ کودبا دیا مگر اسے ہندوستان ٹائمزنے چھاپ دیا۔ اب یہ بازار میںبک رہی ہے! ٭مختصر مختصر: وزیراعظم نوازشریف کے غیر ملکی دورے پھر شروع! اسی ماہ چین ، پھر سعودی عرب، وہاں سے ترکی کی دعوت!لندن وہاں سے کتنی دور ہے؟ ٭بھارت میں کلکتہ ہائی کورٹ کے ایک جج ، جسٹس چنا سوامی سوا مینا تھن رنن( ایک ہی نام ) نے سپریم کورٹ کے پانچ ججوں کو پانچ پانچ سال قید اور جرمانے کی سزا سنادی۔ سپریم کورٹ نے جسٹس سوامی کو توہین عدالت پر چھ ماہ کی سزا سناکر بنگال کے آئی جی پولیس کو اس کی فوری گرفتاری کا حکم دے دیا ۔ جسٹس سوامی بھاگ گیا۔ اسے تلاش کیا جارہاہے۔ ٭ایک خبر: پشاورمیں تحریک انصاف کے سپورٹس اور یوتھ ونگ کے علاوہ اس پارٹی میں شامل گونگے بہرے افراد کی تنظیم جمعیت العلمائے اسلام میں شامل ہوگئی۔ خبر میں یہ نہیں بتایا گیا کہ تحریک انصاف میں کتنے گونگے بہرے باقی رہ گئے ہیں؟ ٭قیام پاکستان کی کٹڑ مخالف جمعیت العلمائے ہند کے 25علمانے وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی اور ان کی کارکردگی کی بھرپور تعریف کی ( پاکستان میں اس جمعیت کا صد سالہ جشن منایا گیاہے) ۔ ان علماء نے مقبوضہ کشمیر کے حالات پر صرف تشویش کااظہار اورنریندر مودی سے ہر قسم کے تعاون اور وفاداری کااعلان کیا۔ ٭سندھ اسمبلی میں ایک وزیر امداد پٹافی نے میاں نوازشریف کو ایسی گندی گالی دی جس پر خود پیپلز پارٹی کی خاتون ارکان نے شرم کے مارے نظر یں نیچی کرلیں۔ امد اد پٹافی نے معذرت کرتے ہوئے وہ گالی پھردہرادی۔ ن لیگ کے وزیر عابد شیر علی نے تحریک انصاف کے ایک بڑے رہنما کانام لے کہاہے کہ '' …سزایافتہ چور کا بیٹا ہے''۔ ٭مریم نواز نے اوکاڑہ سے الیکشن لڑاتو میں مقابلہ کروں گی۔ میاں منظوروٹو کی بیٹی جہاں آرا وٹو کا اعلان۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved