''ٹویٹ'' ٹارزن کی واپسی
  12  مئی‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
شکر ہے کہ ''ٹویٹ'' کی واپسی سے سویلین کی بالادستی قائم ہوگئی... سمجھ نہیں آرہی کہ یہ ''ٹویٹ'' تھا یا ''ٹارزن'' کہ جس کے خوف کے بوجھ تلے ''سول'' بالادستی دبی ہوئی تھی ... ''بالادستی'' اور پروٹوکول کے اسی چکر نے تو ہمیں گھن چکر بنا کر رکھ دیا ہے... عوام پوچھتے ہیں کہ ڈان لیکس کے معاملے پر آخر ہوا کیا' پرویز رشید' طارق فاطمی اور رائو تحسین اگر مجرم تھے تو انہیں سزا کیوں نہ دی گئی؟ اور اگر وہ اس کیس میں بے گناہ تھے تو پھر ان سے عہدے لے کر منظر عام سے کیوں ہٹایا گیا؟ یہ بات پوری شد و مد سے کہی جاتی رہی کہ وزیراعظم ہائوس سے حساس معلومات جان بوجھ کر لیک کی گئیں... غداری کے الزامات بھی لگتے رہے... اگر یہ غداری تھی تو پھر غدار کون تھے؟ اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیوں نہ کیا گیا؟ یعنی نہ ''سانپ'' نکلا اور نہ ہی ''چوہا'' ... بلکہ خوشی کی بات یہ ہے کہ معاملہ خوش اسلوبی سے نمٹ گیا... سانپ اور چوہا نکلنے کے آرزو مندوں کی امیدوں پر اس وقت اوس پڑ گئی کہ جب ڈی جی آئی ایس پی آر نے ''ٹویٹ'' واپس لینے کا اعلان کر دیا... میجر جنرل آصف غفور کا شکریہ کہ جنہوں نے اپنا ٹارزن سے زیادہ طاقتور ''ٹویٹ'' کو واپس لے کر ''محترمہ'' سول بالادستی کو آگے آنے کا موقع فراہم کر دیا' چونکہ اب حکومتی وزیروں کے بقول سول بالادستی قائم ہوچکی ہے اس لئے ٹارزن سے بھی طاقتور ''ٹویٹ'' کی کہانی کو یہیں پر چھوڑ کر کسی دوسرے موضوع کو شروع کرتے ہیں... لیکن دوسرے موضوع سے پہلے مندرجہ ذیل شعر کو سمجھ کر پڑھنے کی کوشش ضرور کریں۔ خدا وندا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں؟ کہ درویشی بھی عیاری ہے سلطانی بھی عیاری عوام سوچتے ہیں کہ وہ آئندہ کس پہ اعتماد کریں؟ اور کس پہ اعتماد نہ کریں؟ حسین حقانی کے خلاف عدالت میں غداری کا کیس چل رہا تھا... اور اسے امریکہ بھجوا دیا گیا ... پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ زیر سماعت تھا اسے بھی کبھی لندن' کبھی دبئی اور کبھی امریکہ میں گلچھرے اڑانے کے لئے پورے پروٹوکول کے ساتھ روانہ کر دیا گیا۔ واجد شمس الحسن کہ جو برطانیہ میں پاکستانی سفیر تھے... ان پر گھنائونے الزامات لگے... لیکن پھر بھی لندن ہی کے ہو کر رہ گئے... اب ڈان لیکس کا مسئلہ اٹھا تو وہ بھی بن کھلے ہی مرجھا گیا ... عوام پریشان اور بدحال ضرور ہیں لیکن اتنے بیوقوف بالکل بھی نہیں کہ معاملات کو ہی نہ سمجھ سکیں۔ ڈان لیکس کے معاملات کو جس طرح عروج پر پہنچا کر مجرموں کو سزائیں دئیے بغیر ہی سٹیل کر لیا گیا اس سے عوامی اعتماد کو پہنچنے والی ٹھیس کا ازالہ کون کرے گا؟ اب آتے ہیں دوسرے موضوع کی طرف اگر حکومت ڈان لیکس کے معاملات سے فارغ ہوچکی ہو تو اس کی خدمت میں گزارش ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے مجبور مقہور عوام پر ڈھائے جانے والے بھارتی مظالم کی طرف بھی توجہ دینے کی کوشش کرے ... وزیراعظم نواز شریف کو اگر سویلین بالادستی پر یقین آچکا ہو تو انہیں چاہیے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی عوام کو حق دلانے کے لئے اپنی پوری حکومتی طاقت استعمال کریں' کشمیر کی سرزمین اس وقت عملی طور پر وہاں کی ''سویلین ''کے لئے قید خانہ بنا دی گئی ہے... بھارتی فوج کے درندے گھروں میں گھس کر بے گناہ انسانوں پر قیامت خیز مظالم ڈھا رہے ہیں... سکولوں'کالجوں اور یونیورسٹیوں میں گھس کر طلباء و طالبات کو خوفناک مظالم کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس وقت مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کا کوئی بھی پرسان حال نہیں ہے۔ کشمیر میں حریت قیادت بھی پابند سلاسل ہے... بھارت کے پاس ظلم اور طاقت کے بے جا استعمال کے جتنے شیطانی ہتھکنڈے تھے... نریندری مودی جیسا آدمخور! تمام شیطانی ہتھکنڈوں کو کشمیری عوام پر آزما رہا ہے... کشمیری عوام کو حق خودارادیت دلانے کی یہ جنگ پاکستان کو عالمی فورسز پر لڑنا تھی... مگر دکھ کی بات ہے پاکستان عالمی فورم پر کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی جنگ لڑنے میں ناکام رہا ہے۔ اب اگر ''ٹویٹ'' کے ٹارزن کی واپسی کے بعد سول بالادستی قائم کر ہی لی گئی ہے تو ان سول ''بالادستوں'' کو چاہیے کہ وہ قوم کو بتائیں کہ اگلے کتنے دنوں تک مقبوضہ کشمیر کے ''سویلین'' کی بالادستی قائم کروانے کی کوشش کریں گے۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved