مصالحت، مفاہمت ، مبارک باد!
  12  مئی‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
٭حکومت اور فوج کے درمیان تلخی ختم ہوگئی۔ دونوں اطراف نے پرخلوص حب وطن،رواداری متانت اور سنجیدگی کے ساتھ ایک تلخ معاملہ کو خوش اسلوبی سے حل کرلیا۔ شدید قسم کے اضطراب میں مبتلا پوری قوم نے اطمینان اور سکھ کاسانس لیا ہے۔ دونوں اطراف کوبے حد مبارک باد ! میں سوچ رہا ہوں کہ ان لمبے دانتوں والے ٹی وی اینکر پرسنوں اور امن کی آشاؤں کا کیا حال ہورہا ہوگا جو ہر وقت پاکستان کی مسلح افواج کے خلاف ہرزہ سرائی میں مصروف رہتی ہیں؟ یہ لوگ پاک فوج اور سول حکومت کے درمیان ایک وقتی کشیدگی پر کتنے خوش تھے! ٹیلی ویژنوں پر کیسے کیسے ''مسرت انگیز'' تجزیے کرتے تھے۔ ان تجزیوں کو آگے بھارت اور افغانستان کے میڈیا کس طرح پاکستان کے ''معتبر و مدبر'' دانش وروں کے حوالے سے نمایاں نشر کرتے تھے! چلیں ان سب کا ذکر چھوڑیں ۔ میں ایک بار پھر حکومت اور فوج کے ہوش مندی اور خردمندی کے مظاہرے پر دلی مسرت کا اظہار کرتاہوں، تاہم کچھ دوسری باتیں ضرور کرنا چاہتاہوں وہ یہ کہ یہ بے چاری بے خبر قوم ایک بار پھر بے خبر رہی کہ جس جے آئی ٹی رپورٹ کے بارے میں اتنی تلخی پھیلی وہ رپورٹ کہاں ہے؟ اس کے ایک پیراگراف 18 کا حوالہ دیا جا رہا ہے مگر تقریباً 55صفحات پر مشتمل باقی رپورٹ کہاں ہے؟ اسے کیوں سامنے نہیں لایاجارہا؟ قوم کو کیوں نہیں بتایا جا رہا ہے کہ مودی کا فرنٹ مین سجن جندال کیا کرنے کے لیے پاکستان آیا تھااور کیا 'مذاکرات' کرکے گیا ؟ قوم کو کیوں لاعلم رکھاجارہاہے کہ اسامہ بن لادن کمیشن رپورٹ کیوں چھپائی جاری ہے؟ قوم جانناچاہتی ہے کہ آصف زرداری نے اندرون اور بیرون ملک اربوں کھربوں کے 87 اثاثے کیسے بنائے ؟ بلاول زرداری کے اثاثوں کے کوائف کیا ہیں؟ شریف خاندان کے بیرونی اثاثوں کا معاملہ عدالت میں ہے۔ اس پر تو کچھ نہیں کہاجاسکتا مگر کیا یہ درست ہے کہ صرف پاکستان کے اندر شریف خاندان کی 29 فیکٹریاں ہیں؟ اس باتوں کی وضاحت کیوں نہیں آرہی ؟ بہت سی اور باتیں بھی ہیں مگر فی الحال اس بے چار ی معصوم بے خبر قوم کو یہ تو بتادیا جائے کہ ڈان نیوز لیکس کی55صفحات کی رپورٹ کیوں چھپا دی گئی ہے؟اپوزیشن رہنماؤں پر جو بھی اعتراض کرلیا جائے مگر کیا چودھری اعتزاز احسن کا یہ الزام غلط ہے کہ مریم نواز کو بچانے کے لیے رپورٹ کو غائب کردیاگیا ہے؟ کیا عمران خاں کا یہ دعویٰ بھی غلط ہے کہ پوری رپورٹ سامنے آگئی تو بہت ہنگامہ خیز صورت حال پیدا ہو جائے گی؟ عجیب بات ہے کہ کنوئیں میں سے پانی نکالا جارہاہے مگر اس کے اندر گرے ہوئے جانور کونہیں نکالا جارہا! چلئے ایک بار پھرخدا تعالیٰ کا شکر کہ ایک تلخ مسئلہ تو حل ہوا! ٭وفاقی پبلک سروس کمیشن کے امتحانی نتائج: 9643 امیدوار تھے۔ صرف 202 (دوفیصد) کامیاب ہوئے ۔ ان میں سے صرف 193 انٹرویو میں کامیاب ہوئے! اہم بات یہ کہ کامیاب ہونے والوں میں 84لڑکیاں ہیں اور یہ کہ کامیاب ہونے والوں کی فہرست میں پہلی تین پوزیشنیں بھی لڑکیوں نے حاصل کی ہیں! قابل توجہ بلکہ اذیت ناک بات یہ ہے کہ ملک بھر کی درجنوں یونیورسٹیوں کی اعلیٰ ڈگریوں والے9643 امیدواروں میں سے صرف 202 قابل اور باصلاحیت نکلے! باقی سب قومی خدمات کے لیے نااہل قرار پائے! تقریباً130 یونیورسٹیاں کیا پیداوار دے رہی ہیں؟ ٭عمران خاں نے ایک ہی سانس میں شریف اور زرداری لوگوں کوڈاکوقرار دے دیا تھا۔ ن لیگ کے کچھ رہنماؤں طارق فضل وغیرہ نے گزشتہ روز ایک بیان میں کہاہے کہ تحریک انصاف چوروں سے بھری ہوئی ہے۔ میں ان 'حقائق'پر تو کوئی تبصرہ نہیں کرتا البتہ ایک دلچسپ واقعہ یاد آگیا ہے۔ ایک دیہات میں کسی گھر میں چوری ہوگئی۔ تھانیدار تفتیش کے لیے آیا۔ایک میراثی نے سب کے سامنے کہا کہ تھانیدار صاحب! میں بتا سکتا ہوں کہ چور نے چوری کیسے کی؟ تھانیدار نے کہا کہ ٹھیک ہے بتاؤ۔ وہ بولا کہ چور پچھلی دیوار سے کود کر اندر آیا ہوگا۔ صحن میں سارے لوگ سو رہے ہوں گے۔ وہ باورچی خانے کی کھڑکی کھول کر اندر گیا ہوگا۔ اندر کمروں سے قیمتی سامان ، نقدی اور زیورات ایک گٹھڑی میں باندھے ہوں گے۔ پھر باہر آکر دیوار پر سے کود کر باہر جانے کی کوشش کی ہوگی۔ اتنے میں گھروالے جاگ اٹھے ہوںگے۔ گھبراکر چور کے ہاتھوں سے گٹھڑی اندر گر گئی ہوگی سو گٹھڑی اندر اور میں باہر!! ٭پیپلز پارٹی کے سابق وزیر قانون فاروق نائیک کی حیرت انگیز تجویز کہ اُردو کو پاکستان کی قومی زبان کی بجائے صرف پاکستانی زبان قرار دیاجائے۔اس پر سینیٹ میں خود ان کے قریبی ساتھی چودھری اعتزاز احسن کو غصہ آگیا ۔کہنے لگے کہ فاروق صاحب! اُردو اُردو ہے، آ پ ہمارے جذبات سے نہ کھیلیں اسے قومی زبان ہی رہنے دیں۔ حیرت ہے کہ ملک کے ایک سابق وزیر نے یہ کیوں نہ سوچا کہ اُردو کوصرف پاکستانی زبان قراردے دیاجائے تو بھارت میں آباد تقریباً 28 کروڑ اُردو بولنے والے مسلمانوں کو ' پاکستانی' زبان بولنے پر کس اذیت کا سامنا کرنا پڑ ے گا؟ بھارت میں تو پاکستان کا نام لینا ہی جرم قرارپا چکا ہے۔ دوسری بات یہ کہ انگریزی انگریزوں کے ملک میں، فرانسیسی فرانس میں پیدا ہوئی مگر اُردو کسی ایک خاص علاقے میں پیدا نہیں ہوئی بلکہ متعدد زبانوں کے میل جول سے ایک وسیع پیمانہ پر بولی جانے والی مشترکہ بڑی زبان بن گئی ۔ پاکستان نے اسے قومی زبان بنایاہے۔ بھارت کے صوبہ بہار میںاسے صوبائی سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے، کیا وہاں بھی اسے پاکستانی زبان کا نام دے دیاجائے! ٭پنجاب اسمبلی کے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے ایک اجلاس میں ایک چونکا دینے والاانکشاف:2013ء کے انتخابات کے بعد پنجاب کی حکومت نے دو روپے میں سستی روٹی کا نظام قائم کیا جو کامیاب نہ ہو سکا اور یہ نظام تقریباً دو برس کے بعد ختم ہوگیا۔ مگر اس نظام کو چلانے والی سستی روٹی کی سرکاری اتھارٹی ابھی تک موجود ہے! کروڑوں کافرنیچر، دفاتر کی شاندار آرائش اور عملہ کی بھاری تنخواہیں! یہ ملک ایسے ہی بدحال نہیں ہوا! اکاؤنٹس کمیٹی نے تفصیل طلب کرلی ہے۔ ٭آصف زرداری صاحب کیا آپ نے اور ولی عہد شہزادہ بلاول نے یہ خبر پڑھی ہے کہ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے تھر کے ڈپٹی کمشنر کی اس رپورٹ پر شدید برہمی کااظہار کیا ہے کہ 2014ء سے اب تک تھر کے علاقے میں بھوک، پیاس اور بیماری سے793 بچے ہلاک ہوچکے ہیں اور یہ کہ اس سال ابھی تک 130 بچے ہلاک ہوئے ہیں۔گزشتہ روز مزید تین بچے چل بسے۔ اس پر چیف جسٹس شدید برہم ہوگئے اور 18 مئی کو صحت و منصوبہ بندیوں کے سیکرٹریوں سمیت دوسرے متعلقہ افسروں کو بھی عدالت میں طلب کرلیا ہے۔ فاضل چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ''یہ سرکاری افسر کیا کررہے ہیں؟ یہ لوگ محض پک نک اور سیر تفریح کے لیے تھر کے علاقے میں جاتے ہیں، بھاری تنخواہیں وصول کرتے ہیں، کوئی کام کوئی ذمہ داری انجام نہیں دیتے''۔میں عدالتی معاملات پر کوئی تبصرہ نہیں کرسکتا مگر سوچ رہاہوں کہ شائد اگلی پیشی کے بعد فاضل عدالت صوبے کے وزیراعلیٰ اور چیف سیکرٹری کے علاوہ ان لوگوں کے سیاسی آقاؤں کو بھی طلب کرلے جوکبھی تھر گئے ہی نہیں اور ایک عرصے سے پنجاب اور خیبر پختونخوا کو فتح کرنے کی مہم پر نکلے ہوئے ہیں۔ ٭ سمندری کے چک نمبر137 ج ب سے محمد ابرار خاں(0343-7385237) کا ایس ایم ایس : گورنمنٹ ایلمنٹری سکول کے پرنسپل جناب ذوالفقار علی دل کا دورہ پڑنے سے اچانک انتقال کرگئے ہیں۔ ان کی مغفرت کی دعا کی اپیل شائع کردیں۔(ذوالفقار علی اچھے انسان دوست شخص تھے۔ راوی نامہ کی ایک اپیل پر انہوں نے سکول میں زیر تعلیم ایک بچی کی فیس معاف کردی تھی)

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved