افغانستان ایران ہمارے خلاف کیوں ہوگئے ہیں
  12  مئی‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
میں آج بہت پریشان ہوں۔ میں پاکستان ہوں۔ میرے آنگن میں 20کروڑ کے قریب انسان رہتے ہیں۔ جن میں سے 12کروڑ نوجوان ہیں۔ 15سے 25سال کی عمر کے۔ سب مجھ سے محبت کرتے ہیں۔ سب کے دست و بازو میں بہت توانائیاں ہیں۔ سب پُر جوش ہیں۔ میری سلامتی کے لیے اپنی جان مال قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔ میں گھبرارہا ہوں کہ اس وقت چاروں طرف سے جو یلغار ہورہی ہے۔ بھارت تو میرا ازلی دشمن ہے وہ تو 70سال سے میری تباہی کے در پے رہا ہے۔ مجھے دو ٹکڑے کرنے میں بھی کامیاب رہا۔ لیکن میرے عوام۔ میرے نوجوان میرے تحفظ کے لیے ہر جگہ نگراں ہیں مگر اب افغانستان نے بھی دشمنی کا کردار ادا کرنا شروع کردیا ہے ۔ میرے بچوں کو ہلاک کررہا ہے۔ میری سر زمین پر گولہ بارود برسارہا ہے۔ پہلے تو چھپ چھپ کر وار کرتا تھا اب تو بین الاقوامی سرحد پر خون بہارہا ہے۔ زیادہ حیرت اور تعجب ہوا ہے کہ ہمارے ہمسایے ایران نے بھی دشمنی کا لہجہ اختیار کرلیا ہے۔ ایران تو وہ ملک ہے جس نے مجھے سب سے پہلے تسلیم کیا تھا ۔ اقوام متحدہ میں ہماری رُکنیت کی حمایت کی تھی۔ افغانستان اس وقت بھی میرے خلاف تھا۔ اس نے تو بہت کوشش کی تھی کہ اقوام متحدہ مجھے اپنا رُکن نہ بنائے۔ یہ صورتِ حال بڑی پریشان کن ہے۔ لیکن مجھے اپنے نوجوانوں پر اعتماد ہے۔ اپنی مسلّح افواج پر مکمل بھروسہ ہے ۔ میرے اساتذہ۔ میرے طلبہ و طالبات۔ میرے محنت کش۔میرے منبر و محراب کے وارث۔ میرے کسان۔ میرے تاجر۔ صنعت کار سب اپنی اس وحدت کے دشمنوں کو بھرپور جواب دیں گے۔ہتھیاروں کے ساتھ نہیں۔ دلائل کے ساتھ۔ چین میرے ساتھ ہے۔ چین میری ترقی میں اپنا کردار ادا کررہا ہے۔میں نے چین کو دُنیا سے رابطہ کروانے میں بھرپور کردار ادا کیا تھا۔ اقوام متحدہ میں چین کو رُکنیت دلوانے میں میرا کردار سب سے نتیجہ خیز تھا۔ یہ جو چند حکمران خاندان ہیں۔ یہ تو میری دولت لوٹنے کی فکر میں رہتے ہیں۔ انہیں میری بقا کا درد نہیں ہے۔ اس وقت جب تین طرف سے خطرات ہی خطرات ہیں۔ تو انہیں آپس میں سر جوڑ کر بیٹھ جانا چاہئے تھا۔ بیک آواز ان تینوں ملکوں کے خلاف پالیسی طے کرنی چاہئے تھی۔ دوسرے ملکوں کے سفیروں کو بلاکر اعتماد میں لینا چاہئے۔ کچھ سمجھدار دانشور پڑھے لکھے اساتذہ ماہرین ترقی یافتہ ملکوں کے دورے پر بھیجے جائیں۔ ان کو بتایا جائے کہ پاکستان ایک امن پسند۔ مہذب ملک ہے۔ سب سے زیادہ دہشت گردی کا سامنا کررہا ہے۔ اس وقت دنیا کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے۔ آپس کے جھگڑے چند ماہ کے لیے موخر کردیے جائیں۔ میں نے آپ تک پاکستان کے دل کی آواز پہنچادی ہے۔ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ اپنے سارے اختلافات بھلاکر ساری سیاسی پارٹیاں مشترکہ اجلاس کریں۔ حکمتِ عملی مرتب کریں۔ پارلیمنٹ کا اجلاس بھی بلایا جاسکتا ہے۔ لیکن اس میں خدشہ یہی ہے کہ پھر ایک دوسرے کے خلاف الزامات کی بارش کردی جائے گی ۔ اتحاد کی روح مجروح ہوگی۔ ضرورت یہ ہے کہ سنجیدگی سے سوچا جائے کہ افغانستان۔ ایران بھی ہمارے خلاف کیوں ہوگئے ہیں۔ صرف یہ کہہ کر فارغ نہیں ہوا جاسکتا کہ یہ بھی بھارت کے کہنے پر ہورہا ہے۔ اگر بھارت اتنا موثر ہوگیا ہے تو اور بھی خطرناک ہے۔ پھر ہماری خارجہ پالیسی کے ماہرین کیا کررہے ہیں۔ یونیورسٹیوں میں یہ بحث ہونی چاہئے کہ اس کی کیا وجوہ ہیں۔ اس کا سبب سی پیک ہے یا کچھ اور۔ یا یہ کہ ہماری وزارت خارجہ میں کوئی سربراہ نہیں ہے ۔ یا یہ کہ ہم ڈان لیکس اور پانامہ لیکس میں الجھے ہوئے ہیں۔ قومی مفادات کو فراموش کرچکے ہیں یا ہمارے دشمن اس بات سے فائدہ اٹھارہے ہیں کہ ہم بار بار ظاہر کرتے ہیں کہ ہماری سیاسی اور فوجی قیادت ہم خیال نہیں ہیں۔ دیکھیں قیادت ایک ہی ہوتی ہے جو مملکت کی ہوتی ہے۔ جب ہم نے پارلیمانی راستہ اختیار کر رکھا ہے تو منتخب وزیر اعظم ہی ملک کا قائد ہوتا ہے۔ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ سرے مقتدر حلقوں کو اعتماد میں لے کر اس من و تو کے فرق کو دور کرے۔ ہم نے گزشتہ کالموں میں اس بات پر زور دیا تھا کہ ملک کے مالک آپ ہیں۔ آپ اپنی قیادت خود کریں۔ ہمارے اس مشورے کو بہت پسند کیا گیا کہ آپ ہر ہفتے محلّے۔ گلی کی سطح پر مل کر بیٹھیں۔ اپنے محلّے۔ گلی کے مسائل کو شناخت کریں۔ پھر ان کے حل کے لیے آوازیں بلند کریں۔ اکٹھے ہوکر کونسلر سے ملیں۔ اپنی یوسی کے چیئرمین سے ملیں۔ شہر کے میئر سے۔ ایم پی اے۔ ایم این اے سے۔ گھر بیٹھے یہ مسئلے حل نہیں ہوں گے۔ جمہوریت کا میکانزم یہی ہے کہ جمہور یعنی آپ خود بھی سرگرم رہیں۔ ووٹ دے کر چین سے نہ بیٹھ جائیں۔ آپ کا ملک ترقی پذیر ہے۔ بہت کچھ کرنے کے لیے ہے۔ سب کو کرنا ہے ۔ ملک کی سلامتی صرف مسلّح افواج کا فرض نہیں ہے۔ آپ کا بھی اور میرا بھی ہے۔ اسی طرح خارجہ پالیسی ۔ داخلہ پالیسی۔ اقتصادی پالیسی سب میں ہماری شرکت ہونی چاہئے۔ شاہد علی صاحب نے ہماری اس تحریک کو بہت پسند کیا ہے وہ کہتے ہیں: عوام سے عوام کے لیے۔ ہر ہفتے محلّے کا اجتماع۔ کیا عمدہ۔ عملی اور نچلی سطح کی تجویز ہے۔ اللہ کرے۔ اس پر سب عمل کریں۔ ملتان سے ہمایوں ارشاد لکھتے ہیں۔ ہم تو میٹرو سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔ بڑی اچھی بات ہے۔ دوسرے شہروں میں بھی یہ سہولت ملنی چاہئے۔ اوگی سے ظہور خان کہہ رہے ہیں: اصل مالک آپ ہیں بات سچ ہے۔ قدم اٹھانے کی دیر ہے۔ باغ آزاد کشمیر سے سردار شاہد مغل کاکہنا ہے کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال باغ کے اطراف کے تاجروں نے مختلف اشیا کے مختلف نرخ مقرر کر رکھے ہیں۔ کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ حجرہ شاہ مقیم سے صغیر احمد نے بھی اس سلسلے کو پسند کیا ہے۔ چوآسیدن شاہ ضلع چکوال سے غلام مصطفی انقلابی نے بہت عمدہ تجزیہ کیا ہے کہ غیر ملکوں کے تیار کردہ لیڈر ہمارے مسائل حل نہیں کریں گے۔ ہم میں سے ہر ایک شیدی۔ گامے اور ماجھے کو اپنے مسائل حل کرنے کے لیے اٹھنا ہوگا۔ اب ہم سب کو سمجھ لینا چاہئے کہ ملک ہمارا۔ مسائل ہمارے لیکن وسائل غیروں کے پاس ہونے کے باوجود ہمیں انہیں خود ہی حل کرنا ہے۔ شکریہ غلام مصطفی صاحب آپ کی یہی باتیں انقلاب لائیں گی۔ نعمان راشد گوریسان تحصیل گوجر خان سے: پانی کی شدید کمی ہے بہت دور سے گاڑیوں پر کنستروں وغیرہ میں لانا پڑتا ہے۔ گلگت سے صدیق حسن کہتے ہیں : میں مانسہرہ سے گلگت منتقل ہوا ہوں۔ ابھی حلقۂ احباب نہیں ہے۔'اوصاف' کے ذریعے میری درخواست ہے کہ درد مند دوست ملیں۔ ہم اپنا حلقہ بنائیں گے۔ مسائل کے لیے آواز بلند کریں گے ان کا نمبر 0302-8123207ہے۔ کمالیہ میں مختار احمد اپنی پاکستان یوتھ آرگنائزیشن کے ذریعے غریبوں کی خدمت کررہے ہیں۔ خود نوکری کرکے اپنا گھر چلاتے ہیں۔ ان کی پیشکش ہے کہ وہ اپنی تنظیم کے ذریعے اپنے علاقے کے مسائل کے حل کے لیے تحریک چلانے کو تیار ہیں۔ان سے تعاون کیا جائے۔ ذیشان ثمر بنوں سے کہتے ہیں کہ: ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اصل مسئلہ ہے۔ اس پر تحقیق کی جانی چاہئے کہ اتنی بے روزگاری کیوں ہے( مستقبل میں اس کے کیا اعداد و شُمار ہوں گے۔ گلگت سٹی سے یاسر عرفان کہتے ہیں: جتیال میں پانی کی قلت شدید مسئلہ ہے۔ صرف اعلانات ہوتے رہتے ہیں۔ عملاً کچھ نہیں ہوتا۔ گلگت کے وزیر بھی کچھ نہیں کرتے ہیں۔ پیغامات اور بھی ہیں۔ انہیں آئندہ شامل کریں گے۔ مجھے بہت خوشی ہے کہ گراں خواب پاکستانی سنبھلنے لگے ہیں۔ احساس زیاں پیدا ہورہا ہے۔ آپ ہی کو یہ سب کچھ کرنا ہے۔ ملک آپ کا ہے۔ گلی آپ کی ۔محلّہ آپ کا۔ آپ سب اپنی اپنی گلی کو مسائل سے پاک کرلیں۔ مستحکم کرلیں۔ ملک خود مسائل سے آزاد ہوجائے گا۔ پاکستان خود مستحکم ہوجائے گا۔ اس طرح اپنے مسائل کی نشاندہی کرتے رہیں اصل کام یہی ہے۔ نعرے بازی۔ بیانات اور ان کے بارے میں کالم لکھے جاسکتے ہیں۔ مگر اس سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔آپ کی شرکت ضروری ہے۔ ایس ایم ایس کیجئے۔0331-7806800

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved