قومی یک جہتی کاناقابل یقین مظاہرہ
  14  مئی‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
٭ناقابل یقین خوش گوار خبر! میرے جیسے اور بھی بہت حساس حضرات یہ پڑھ کر خوشی گوار جذباتیت کے حصار میں آگئے ہوں گے۔ خبر یہ ہے کہ چین کے ہفت روزہ دورے پر چاروں صوبوں ، پنجاب، سندھ،خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے وزرائے اعلیٰ وزیراعظم کے ساتھ چین گئے ہیں، مزید یہ کہ چاروں وزرائے اعلیٰ نے ایک جیسے بیانات دیئے ہیں کہ ہم سب بھائی بھائی ہیں، ملک کے اندر ہمارے جوبھی اختلافات ہوں ، مگر ملک سے باہر ہم سب قومی یک جہتی کے علم بردار ہیں! سبحان اللہ ! جزاک اللہ! واقعی یقین نہیںآ رہا کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے۔ ویسے ملک وقوم کے خیر خواہ، ایک دوسرے کے لیے محبت اور یک جہتی کا ناقابل یقین مظاہرہ کرنے والے ان چاروں وزرائے اعلیٰ سے بڑی محبت اور خلوص کے ساتھ پوچھناچاہتا ہوں کہ بیرون ملک اخوت اور یک جہتی والا یہ مظاہرہ ملک کے اندر کیوں نہیں کیاجاتا؟ بہرحال ساتھ ساتھ بیٹھے ہوئے ان چاروں وزرائے اعلیٰ کے اس باہمی محبت اور پیار پر بے حد مبارکباد! اب یہ نہ ہو کہ واپسی پر اسلام آباد ہوائی اڈے پر اترتے ہی ایک دوسرے سے دھینگا مشتی شروع کردیں؟ اس خبر کا ایک اور پہلو بھی ہے وہ یہ کہ وزیراعظم اپنے ہاتھ نصف درجن وفاقی وزراء اور بے شمار افسروں کو ساتھ لے گئے مگر خواجہ آصف اور وزیر مملکت مریم اورنگ زیب کویہیں چھوڑ گئے! خواجہ آصف نے بیان دیا ہے کہ چاروں وزرائے اعلیٰ کا وزیراعظم کے ساتھ جانا قومی یک جہتی کا قابل تحسین مظاہرہ ہے۔ تھڑا سیاست دان علم دین ہمیشہ الٹی سیدھی باتیں کرتا رہتاہے۔ کہنے لگا کہ جناب! خواجہ صاحب اوپر اوپر سے یہ بات کہہ رہے ہیں، خدا جانے اندرکے غم و غصہ اور رنج کا کیا عالم ہے۔ جہاں اتنے وزیرں کو ساتھ لے گئے ، وہاں خواجہ صاحب جیسے عظیم ،بے مثال دانش ور وزیرکا کیا قصور تھا کہ انہیں نظرانداز کردیا ؟ ادھر اُدھر کی باتیں کرنے والے وزیروں سے تو کئی درجے اوپر ہیں۔ خواجہ آصف کے ساتھ وزیر مملکت برائے اطلاعات کا بھی دلچسپ بیان چھپا ہے۔ سابق وزیراطلاعا ت پرویز رشید کے ایل بی ڈبلیو ہوکر وزارتوں کے میلے سے باہر نکل جانے پر اپنے موجودہ عہدہ پر پکی ہو جانے والی بی بی مریم اورنگ زیب نے بیان دیا ہے کہ ان کا نام بھی چین جانے والوں میں شامل تھا مگر انہوں نے اس لیے چین جانے سے معذرت کرلی کہ وہ ملک میں رہ کر اپوزیشن رہنماؤ ں کو سنبھالنا چاہتی ہیں! قارئین کو اس بات پر حیرت ہورہی ہو گی کہ کون شخص چین جسے خوش گوار اور پر لطف دورے سے انکار کرسکتا ہے؟ مگر علم دین نے اپنی ذہانت کے مطابق 'اصل وجہ' بتائی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ چین کا دورہ کتنا ہی سحر انگیزسہی مگر مریم اورنگ زیب اپنے پیچھے مریم نواز کے لیے میدان کیسے کھلا چھوڑ سکتی ہیں؟جو ہر موقع پر اُن سے پہلے بول پڑتی ہیں اور اپوزیشن کو کرارے جملے سنا دیتی ہیں۔ مریم اورنگ زیب اس صورت حال سے بہت تنگ آئی ہوئی ہیں۔ مریم نواز وزیراعظم کی بیٹی ہیں، ابو کے بہت سے کام سنبھالے ہوئے ہیں،ابو سے جب چاہیں مل سکتی ہیں، مریم اورنگ زیب ان کے خلاف کیسے بول سکتی ہیں؟ وہ ایک ہفتہ وزیراعظم کے ساتھ رہیں تو پیچھے خدا جانے ،مریم نواز کیا ہاتھ دکھادیں؟وزیراعظم کی بیٹی کہاں ایک سرکاری ملاز کہاں! ٭وزیر اطلاعات و تردیدات مریم اورنگ زیب کی ایک اور تردید کہ بی بی سی کی خبر غلط ہے کہ وزیراعظم اور آرمی چیف کی ملاقات میں جندال کی آمد ورفت بارے میں اہم بات چیت ہوئی ہے،انہوں نے کہا ہے کہ جندال کے بارے میں کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ محترم مریم صاحبہ! ٹھیک ہے جندال کے بارے میں کوئی بات نہیں ہوئی تو پھر کیا باتیں ہوئیں؟ کچھ تو بتائیں! ٭اتفاق رائے کی عمدہ مثال! پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خاں کا اعلان'' ہم بھارت میںکھیلنا چاہتے ہیں''۔بھارت میں کھیلنے کا سوال ہی پیدانہیں ہوتا، کرکٹ بورڈ کی مجلس عاملہ کے چیئرمین نجم سیٹھی کابیان! ٭انسان دوستی کی خوبصورت مثال: لاہو ر ہائی کورٹ کا ہیڈ خاکروب ریٹائر ہو گیا۔ اس کے لیے الوداعی تقریب میں ہائی کورٹ کے چیف جسٹس منصور علی ، ہائی کورٹ کے رجسٹرار ،دوسرے تمام انتظامی افسر اور تمام خاکروب بھی شریک ہوئے۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت عالیہ کے تمام ارکان ایک برادری کی حیثیت رکھتے ہیں، آئندہ جو بھی اہلکار ریٹائر ہوگا اسے ہائی کورٹ کی گاڑی بڑی عزت احترام کے ساتھ گھر چھوڑ نے جائے گی۔ ٭بے نظیر بھٹو کی بہن صنم بھٹو نے سیاست میں آنے اور پاکستان کے انتخابات میں حصہ لینے سے انکارکردیاہے۔ خبر کے مطابق بھٹو خاندان کے سربراہ ممتاز بھٹو نے انہیں لاڑکانہ سے انتخاب لڑنے کی تجویز دی تھی۔ صنم بھٹو نے اچھا ہی کیا۔ سیاست اب عبادت کا نہیں لوٹ کھسوٹ اور تجارت کا نام بن چکا ہے۔ جتنے پیسے الیکشن میں لگاؤ اس سے کئی گنا کماؤ ! ویسے صنم بھٹو الیکشن میں کامیاب بھی ہو جائیں تو زرداری فیملی کے آصف زرداری، بلاول زرداری اور بختاور اور آصفہ زرداری انہیں اسمبلی میں داخل ہو تے دیکھنا گوارا نہیں کرسکیں گے؟ ان لوگوں نے زبردستی اپنے نام کے ساتھ بھٹو کا لفظ لگا لیا ہے۔ صنم ابتدا سے ہی سیاست سے دور ہیں۔ والد، دو بھائیوں اور بہن بے نظیر بھٹو کے المناک انجام پر ان کی سیاست میں کیا دلچسپی رہ جاتی ہے؟ ان کو یہ بھی علم ہے کہ ان کے بہنوئی آصف زرداری نے ان کی والدہ نصرت بھٹو کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ وہ دبئی کے ایک ہسپتال میں مہینوں بے ہوش پڑی رہیں، زرداری خاندان کے کسی شخص نے ان کی کوئی خبر گیری نہ کی۔ یہ لوگ اصلی بھٹو، صنم بھٹو کو کیسے گوارا کرسکتے ہیں ۔ ویسے بھی بلاول اور آصف زرداری کی سکیورٹی کے لیے 40 گاڑیاں آگے پیچھے چل رہی ہوں تو ہر وقت خوفزدہ رہنے والی ایسی سیاست کاکیا فائدہ؟ ٭ایک عجیب اتفاق ! امریکہ کی ایک وزیر خارجہ کنڈولیزرائس سیاہ فام دوسری ہیلری کلنٹن سفید فام تھیں۔ ان دنوں میں نے ایک کالم میں لکھا تھا کہ کپاس کی فصل کے لیے کالی سنڈی اور سفید مکھی دونوں بہت خطرناک ہیں ۔ اس پر لندن سے ایک صاحب نے مجھے فون کیا کہ میں نے کالی سنڈی اور سفید مکھی کے حوالے امریکہ کی دووزرائے خارجہ پر چوٹ کی ہے! مغربی ممالک میں رنگ نسل کی باتیں پسند نہیں کی جاتیں۔ گزشتہ روز ایک امریکی جرنیل کا پاکستان کے خلاف ایک بیان پڑھا تو مجھے اچانک کالی سنڈی اور سفید مکھی پھریاد آگئیں۔ دونوں کپاس کے لیے بہت خطرناک ہیں۔ ٭کرپشن! خدا پناہ! میاں چنوں چھوٹاسا شہرہے۔ اس کے چھوٹے سے پوسٹ آفس کے چھوٹے کلرک نے فوجی پنشن فنڈ سے پونے پانچ کروڑ غبن کرلئے! اسے برطرف کردیاگیا ہے۔ یہ نہیں بتایا گیا کہ اس کے خلاف کیا قانونی فوجداری کارروائی کی گئی ہے؟ ویسے ہمارے ہاں یہ رواج ہی نہیں۔ڈان نیوز لیکس کیس میں تین اعلیٰ عہدیداروں ، وزیر اطلاعات پرویز رشید، طارق فاطمی اورراؤ تحسین خاں کو کسی جرم پر ذمہ دار 'ملزم' قرارد ے کر فارغ کردیا گیا، ان کے خلاف کوئی فوجداری کارروائی نہیں کی گئی! اور چودھری اعتزاز حسین کا چونکا دینے والا انکشاف کہ یہ تینوں حضرات تو اس اجلاس میں موجود ہی نہیں تھے جس کی بناپر ان کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ سابق سفیر طارق فاطمی، 40 سال تک دیانت دارانہ سفارت کاری، پرویز رشید جس کا آج بھی ملک بھر میں کوئی گھر نہیں اور راؤ تحسین علی خاں،40,35 سال محکمہ اطلاعات میں صاف شفاف دیانت دارانہ خدمات! تینوں کے دامن پر کرپشن وغیرہ کا کوئی داغ نہیں۔ ویسے ان کوٹھیک ہی نکالا گیا، ایسے صاف شفاف لوگ کیسے برداشت کئے جاسکتے ہیں!

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved