مولانا عبد الغفور حیدری پر حملہ
  15  مئی‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
بھلا داعش مولانا عبد الغفور حیدری کے قافلے پر حملہ کیوں کرے گی ؟پہلے ٹی ٹی پی‘ اس سے قبل لشکر جھنگوی‘ لشکر مہدی اور سپاہ محمد اور اب ’’داعش‘‘۔۔۔ آپریشن ضرب عضب کے بعد آپریشن رد الفساد بھی اپنے عروج پر ہے ۔۔۔ مگر دہشت گرد ہیں کہ نام اورپینترے بدل بدل کر پاکستانی علماء‘ وکلاء ‘ فورسز اور عام شہریوں کا خون بہا رہے ہیں ۔۔۔ اور مولانا عبد الغفور حیدری تو جمعیت علماء اسلام کے گزشتہ 22 سالوں سے مرکزی سیکرٹری جنرل اور گزشتہ دو سالوں سے ڈپٹی چیئرمین سینٹ ہونے کے باوجود انتہائی شریف النفس او ر بے ضرر انسان کے طور پر جانے جاتے ہیں‘ ان کی بھلا ’’داعش‘‘ سے کیا دشمنی؟ ہفتے کے دن یہ خاکسار پشاور میں ایک پروگرام سے خطاب کرنے کیلئے گیا تو خطاب کے بعد ایک نوجوان مجھ سے ملا ۔۔۔ اس نے مجھے بتایا کہ وہ کوہاٹ کا رہائشی ہے ‘ ایک دن کوہاٹ کی مسجد میں نماز پڑھ کر باہر نکلنے لگا تو ایک شخص نے مجھ سے دو منٹ بات سننے کی درخواست کی ۔۔۔ میں اسے مسجد کے گیٹ سے باہر لے کر کھڑا ہوگیا ۔۔۔ اس شخص کی عمر تقریباً30 سال کے لگ بھگ ہوگی اس نے میرے ساتھ کشمیری مجاہدین اور فوج کے خلاف باتیں شروع کر دیں ‘ میں نے اسے ٹوکا تو وہ لڑنے بھڑنے پر آمادہ ہوگیا ۔۔۔ اور سخت غصے کے عالم میں کہا کہ اس کا تعلق ’’داعش‘‘ سے ہے۔ اسی اثناء میں دو تین مقامی دوست بھی وہاں آگئے ۔۔۔ ہم نے مل کر اس کی دھلائی کی تو وہ بکتا جھکتا بھاگ گیا ۔۔۔ ہم نے فوری طور پر کوہاٹ تھانے میں اس واقعہ کی اطلاع دی‘ اس نوجوان نے یہ داستان مجھے سنانے کے بعد مجھ سے سوال کیا کہ آخر یہ سب ہوکیا رہا ہے؟ میں نے اس کے اس معصومانہ سوال کو سن کر جواب دیا کہ یہی تو سمجھ میں نہیں آرہا کہ آخر یہ کیا ہو رہا ہے؟ ’’داعش‘‘ کا تعلق عراق اور شام سے ہے ۔۔۔ وہاں وہ شیعہ ملیشیاء اور امریکیوں کے ساتھ برسر پیکار رہنے کا دعویٰ کرتے رہے ۔۔۔ جبکہ پاکستان میں انہوں نے علماء اور وکلاء کو نشانے پر رکھا ہوا ہے؟ ہماری خفیہ ایجنسیاں اس بات کا کھوج لگانے کی کوشش کریں کہ آخر اس ’’داعش‘‘ کی آڑ میں کون سی غیر ملکی طاقت پاکستانیوں کی جانوں سے کھیل رہی ہے؟ مولانا عبدالغفور حیدری تو خوش قسمت تھے ‘ جو موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر موت کو شکست دینے میں کامیاب رہے۔ البتہ ان کے قافلے میں شریک دو درجن سے زائد قیمتی انسان شہادتوں کے جام نوش کرکے قبروں کے پاتال میں اتر گئے ۔۔۔ مولانا حیدری کے ڈائریکٹر سٹاف افتخار مغل موقع پر ہی شہید ہوگئے ۔۔۔ جہاں مولانا عبد الغفور حیدری کے زندہ بچ جانے کی خوشی تھی وہاں افتخار مغل جیسے منکسر المزاج اور شاندار انسان کی شہادت کا دکھ بھی بہت تھا ۔۔۔ میرا جب بھی سینٹ میں مولانا عبدالغفور حیدری کے دفتر میں جانا ہوتا تو افتخار مغل باوجود بے پناہ مصروفیت کے ۔۔۔ مسکرا کر نہ صرف استقبال کرتے بلکہ فوراً سے پہلے چائے کا آرڈر بھی جاری کر دیتے۔ انہیں پاکستان بھر سے مولانا حیدری کی ملاقات کے لئے پہنچنے والوں کے حوالے سے مکمل ادراک حاصل ہوتا تھا ۔۔۔ وہ ایک منجھے ہوئے بیورو کریٹ تھے ۔۔۔ لیکن مولانا عبد الغفور حیدری کو وہ ڈپٹی چیئرمین ’’سینٹ‘‘ کے علاوہ ان کے علم و فضل کی وجہ سے بھی انہیں بے حد احترام دیتے تھے ۔۔۔ مولانا حیدری سے ملاقات کے لئے آنے والے ہر سائل کا کام پوری توجہ اور انہماک سے کرنے کی کوشش کرتے ۔۔۔ چیئرمین سینٹ رضا ربانی کہتے ہیں کہ مولانا عبد الغفور حیدری پر حملہ پارلیمان اور ریاست پاکستان پر حملہ ہے ۔۔۔ مولانا فضل الرحمن کہتے ہیں کہ مولانا حیدری پر حملہ کسی فرد پر نہیں بلکہ پوری قوم پر حملہ ہے ۔۔۔ یقیناًیہ سب باتیں درست ہوں گی لیکن قوم اپنی قیادت سے توقع رکھتی ہے کہ وہ ان حملوں کے پیچھے چھپے ہوئے مائنڈ سیٹ کو بھی بے نقاب کرنے کی کوشش کریں گے ۔۔۔ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی دنیا میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتی ۔۔۔ اسی لئے پاکستانی قوم کو ہمیشہ سے آئی ایس آئی کی کارکردگی پر فخر اور ناز رہا ہے ۔۔۔ اگر مولانا حیدری پر ہونے والے حملے کے پیچھے کارفرما قوتوں کو بے نقاب کر دیاگیا تو اس سے عوام کے ذہنی خلجان کو دور کرنے میں مدد ملے گی ۔۔۔ کہ آخر داعش پاکستان میں قتل و قتال کرکے چاہتی کیا ہے؟ تفتیش کے دوران یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ مولانا حیدری تحریک دفاع حرمین شریفین کے بھی سرپرست تھے ۔۔۔ پچھلے چند ماہ میں تحریک دفاع حرمین الشریفین کے حوالے سے جاری سیمیناروں اور کانفرنسوں میں مولانا مسلسل شریک ہو رہے تھے ۔۔۔ اور اپنی تقریروں میں حرمین الشریفین اور سعودی عرب کی غیر مشروط حمایت بھی کرتے تھے۔ جمعہ کے دن بلوچستان کے علاقے مستونگ میں مولانا عبدالغفور حیدری پر ہونے والے حملے میں 28 بے گناہ انسانوں کو شہید کیا گیا ۔۔۔ جبکہ ہفتے کے دن گوادر میں چینی منصوبوں کے نزدیک موٹرسائیکل سوار دہشت گردوں نے ٹارگٹ کلنگ کرتے ہوئے دس بے گناہ مزدوروں کو شہید کر ڈالا ‘ عبد الغفور حیدری پر حملے کی ذمہ داری داعش اور مزدوروں پر حملے کی ذمہ داری کالعدم بی ایل اے نے قبول کرلی۔ ایک ہی صوبہ دو دن میں دو خوفناک وارداتیں اور ذمہ داری بھی دو مختلف دہشت گرد تنظیموں نے قبول کی ۔۔۔ کہیں بی ایل اے والے ہی تو داعش کا نام استعمال کرکے بلوچستان میں دہشت گردی تو نہیں کروا رہے؟ حقیقت یہ ہے کہ بھارت‘ امریکہ اور کابل مل کر پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتے ہیں ۔۔۔ اور آجکل ایران بھی پاکستان کو آنکھیں دکھا رہا ہے ‘ ان حالات میں پاکستان کے حکمرانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان کو اندونی اور بیرونی شیطانی قوتوں کے شر سے محفوظ بنانے کے لئے بھرپور اقدامات اٹھائیں ۔۔۔ اللہ پاک مولانا حیدری اور ان کے دیگر زخمی ساتھیوں کو جلد سے جلد صحت یابی عطا فرمائے۔ آمین

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
50%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
50%
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved