پاکستان۔ پرائیویٹ چینلوں سے پہلے او ر بعد
  15  مئی‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

سچ پوچھئے تو میں حکمرانوں سے زیادہ اپنے میڈیا کے بھائیوں سے پریشان ہوں۔ میری عمر کے 50سال سے زیادہ تو خود میڈیا سے وابستگی میں گزرے ہیں۔ اخبار رسالے تو 1953سے پڑھ رہا ہوں۔ہم راجپورے سے ہجرت کرکے جھنگ میں آباد ہوئے تھے۔ گھر پر روزنامہ’ امروز‘ لاہور سے آتا تھا۔ ڈاک سے دہلی سے روزنامہ الجمعیۃ۔ ہفت روزہ چٹان۔ ہفت روزہ خدام الدین۔ ہفت روزہ لیل و نہار۔ لڑکپن سے ہی لکھنے پڑھنے سے واسطہ رہا ہے۔ لکھنے والے چاہے کسی بھی حلقۂ فکر سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ پاکستان کا درد رکھتے تھے۔ ایک نئے ملک کو مستحکم دیکھنا چاہتے تھے۔ حکومتوں کی پابندیاں اپنی جگہ تھیں۔ لیکن اخبار نویس خود اپنی روایات ۔ دینی شعائر ۔ ملکی حدود قیود کا خیال رکھتے تھے۔ہر اخبار میں ایک ایڈیٹر ہوتا تھا۔ تجربہ کار۔ تعلیم یافتہ۔ خود ادیب۔ شاعر۔ طنز نگار۔ وہ سب کی تحریریں دیکھتا تھا۔ پھر اشاعت کی اجازت دیتا تھا۔ میں نے جب 1963 میں نوائے وقت گروپ میں شمولیت اختیار کی تو اس کے اداریوں کا بہت شہرہ تھا۔ ایوب خان کا زمانہ تھا۔ کوئی اخبار ایوب خان پر تنقید کی جرأت نہیں کرسکتا تھا۔ دو سال بعد مجھے ’نوائے وقت‘ کے بہت ہی بے باک اداریہ نویس جناب بشیر احمد ارشد کے اسسٹنٹ کے طور پر کام کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ ان کا اداریہ پڑھنے کے لیے ملک بھر میں سنجیدہ پاکستانی انتظار کیا کرتے تھے۔ وہ صبح 9بجے اداریہ لکھنا شروع کرتے۔ کاغذ کی بچت کے لیے مختلف سفارت خانوں کی ارسال کردہ پریس ریلیزکا پچھلا خالی صفحہ استعمال کیا جاتا تھا۔اس کو بھی دو حصّوں میں کاٹ لیا جاتا۔ اس طرح ایک ایک ورق پر چند سطور لکھ کر بشیر احمد ارشد مجھے دیتے اور کہتے کہ اس کو دیکھ کر کاتب کو دیتے رہیں۔ میں نے پہلے دن حیرت ظاہر کی کہ میں طفل مکتب۔ نووارد بساطِ صحافت۔ میرا یہ مقام کہاں۔ ارشد صاحب نے بڑی سنجیدگی سے مجھے نصیحت کی کہ اخبار میں کوئی بھی چیز کہیں سے بھی آئے۔ چاہے وہ ڈاکٹر سید عبداللہ ( ان دنوں اورینٹل کالج کے پرنسپل۔ اُردو کے بہت عظیم استاد) کی تحریر کیوں نہ ہو۔ اسے دیکھے بغیر کاتب کو نہ دیں۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے۔ جو کچھ ہمارے اخبار میں شائع ہوتا ہے اس کے عیب و حسن کے ذمہ دار ہم ہیں۔ یہ نصیحت میں نے اور جانے کتنے صحافیوں نے پلّے باندھی رکھی۔ اور اخبارات و رسائل میں بہت کم غیر ذمہ داری کا مظاہرہ ہوا ہے۔ نصب العین یہ رہا ہے کہ اس ملک کو اس معاشرے کو مستحکم پُر سکون اور تعلیم یافتہ بنانا ہے۔ اخبار۔ رسالہ۔ ٹی وی۔ ریڈیو سب کا بنیادی مقصد اطلاع فراہم کرنا ہے۔ کونسی اطلاع فراہم کی جائے کونسی اس قابل نہیں ہے۔ اس معیار کی نہیں ہے۔ یہ ایڈیٹر فیصلہ کرتا ہے ۔ اب کیا ہورہا ہے آزادئ اظہار کے نام پر ایک شور و غل مچا ہوا ہے۔ اخبارات میں بھی ورکنگ ایڈیٹر کم ہوتے جارہے ہیں۔ ٹی وی پرائیویٹ چینل پر تو اس قسم کا کوئی ادارہ نہیں ہے۔ میں نے پاکستان کے قریباً تمام بڑے اخباری گروپوں میں بڑے عہدوں پر کام کیا ہے۔ ٹی وی چینلوں سے بھی کچھ کچھ وابستگی رہی ہے۔ اس لیے زیادہ قلق ہوتا ہے۔ زیادہ تشویش ہوتی ہے جب لوگ صحافی برادری۔ اینکر پرسنز کے بارے میں بہت عجیب و غریب کہانیاں سناتے ہیں۔اب جب سیاسی حکومتوں اور فوج کے درمیان کشمکش کا دَور ہے۔ بعض گروپ پارلیمنٹ اور وزیر اعظم کو بالادست قرار دے رہے ہیں۔ اصل مسائل کی طرف توجہ نہیں دلائی جارہی ہے۔ آئی ایس پی آر کے ٹویٹ نے بھی اور اس کی واپسی نے بھی مجھے بہت تکلیف پہنچائی ہے۔ سوشل میڈیا پر اسی حوالے سے جو کچھ لکھا جارہا ہے اس میں تو ہم بہت سی حدود پار کررہے ہیں۔ اگر کسی کا مقصد بھی پاکستان کو مستحکم بنانا ہو۔ پاکستانیوں کوایک قوم میں ڈھالنا ہو اوردرد پاکستان کا ہو تو وہ نہ منتخب وزیر اعظم کا مذاق اڑائیں اور نہ ہی فوج کا۔ دونوں ہمارے ہیں۔ دونوں کا طاقت ور ہونا مملکت کے مفاد میں ہے۔ دونوں کا کمزور ہونا ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔ میں نے سوچا تھا کہ میڈیا کے حوالے سے ایک مبسوط سلسلۂ مضامین شروع کروں۔ جس میں ان اسباب و عوامل کا جائزہ لیا جائے۔ جو میڈیا میں بے راہ روی اور عجلت پسندی کا موجب بن رہے ہیں۔ اپنے تجربے کی روشنی میں کچھ راستے بھی دکھاؤں۔ میں نے ایک خاکہ تیار کرلیا تھا۔ لیکن ہوا یہ کہ چوٹ کھا بیٹھا۔ اس وقت دل پر چوٹ کھانے کی عمر تو نہیں ہے۔ ایک شیشے کے دروازے سے ماتھا ٹکرالینا۔ پھر بھی آپ سے مخاطب ہوئے بغیر نہیں رہ سکا۔ ڈاکٹر نے مختصر لکھنے کی اجازت دے دی ہے۔ تین چار دن میں حواس بحال ہوجائیں گے۔ ماتھا بھی نہیں ٹھنکے گا۔ ایک آنکھ پر سوجن ایسے آئی ہے جیسے ڈراموں میں میک اپ کیا جاتا ہے۔ ہمارا مقصد یہ ہونا چاہئے کہ اس ملک میں ہم ٹھہراؤ۔ سکون۔ استحکام پیدا کریں۔ جو کچھ بتائیں آرام سے سمجھانے کے انداز میں ہو۔ ہمارے ہاں غم کی فوتیدگی کی خبر دینے کی صدیو پرانی روایات ہیں۔ کیا لہجہ ہونا چاہئے۔ کیا الفاظ برتے جائیں۔ ہمیں مائیک۔ کیمرے اور ریٹنگ نے اتنا مغرور اور خود سر بنادیا ہے کہ ہم سارے ادب آداب۔ سلیقے قرینے بھول چکے ہیں۔ بھینسوں۔ گایوں۔ بھیڑ بکریوں کو ہانکنے والے بھی احتیاط سے یہ ذمہ داری ادا کرتے تھے۔ ایک بنیادی تصوّر یہ بھی ہوگیا ہے کہ قوم 24گھنٹے ٹیلی وژن دیکھ رہی ہے۔کوئی دفتر جاتا ہے نہ کارخانے۔ سب بریکنگ نیوز کے انتظار میں ٹی وی کے سامنے بیٹھے رہتے ہیں۔ ایک دوڑ لگی ہوئی ہے۔ عام سی اطلاع۔ معمول کی بات بھی بریکنگ ہے۔ پریس کانفرنس وغیرہ جو معمول کے نیوز بلیٹن میں شامل کی جاسکتی ہے۔ وہ بھی سارے پروگرام روک کر دکھائی جاتی ہے۔ قوم کو ہر وقت دُم پر کھڑا رکھا جاتا ہے۔آپس کے تنازعات کا تصفیہ ہمارا مقصد نہیں رہا۔ بلکہ ان کو ہوا دی جائے۔ صوبوں کو ایک دوسرے سے لڑایا جائے۔ پارٹیوں کی آپس میں لڑائی کروائی جائے۔فوج اور سیاستدانوں میں کشمکش کو اور تیز کیا جائے۔ کسی مسئلے کا حل نہیں ہونا چاہئے۔ کوئی تنازع طے نہیں ہونا چاہئے۔ ایسا رویہ کیوں ہے کیا یہ تربیت کا فقدان ہے۔ کیا یہ صرف پیسہ کمانے کی ہوس ہے۔ کیا یہ کوئی بین الاقوامی سازش ہے جس میں ہم آلۂ کار بنے ہوئے ہیں۔2002 سے اب تک اس رویے نے ملک کو کوئی سمت دی ہے یا نہیں۔ کیا ہمارا معاشرہ 2002سے پہلے زیادہ اعتدال پسند تھا مستحکم تھا۔ یا ان چینلوں کے آنے کے بعد زیادہ مستحکم ہوا ہے۔ اس بحران کے مختلف پہلوؤں پر لکھنے کا ارادہ ہے۔ آپ بتائیں آپ کی کیا تجاویز ہیں۔آپ بھی میری مدد کریں۔ ایس ایم ایس 0331-7806800


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved