بظاہر معمولی باتیں
  16  مئی‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

بعض چھوٹی چھوٹی اور معمولی باتیں ہوتی ہیں جنہیں ہم اکثر نظر انداز کرتے ہیں لیکن درحقیقت سماجی اقدار کے احیاء کے لئے ان بظاہر چھوٹی اور معمولی باتوں پر عمل کرنابہت ضروری ہوتا ہے۔ روزمرہ کے معمول میں ہم گاڑی چلاتے ہیں اور یہ بات اکثر مشاہدے میں آتی ہے کہ گاڑیوں کا آپس میں معمولی ٹکرائو ہو جاتا ہے حالانکہ نقصان بھی معمولی نوعیت کا ہوتاہے مگر اس وقت ہم صبر کا دامن چھوڑ بیٹھتے ہیں۔ اگر گاڑی ٹکراتی ہے تو گاڑی سے اتر کر فوراً ایک دوسرے پر چڑھ دوڑتے ہیں۔ ماں ' بہن کی گالیوں کا تبادلہ ہوتا ہے۔ فریقین میں سے ہر ایک دوسرے پر حاوی ہونے کی کوشش کرتاہے۔ نوبت ہاتھ پائی تک جاپہنچتی ہے اور آخر کار پولیس اہلکار معاملے کو حل کرانے میں اپنا کردار ادا کرتاہے۔ اگر آپ گاڑی چلا رہے ہیں تو ڈرائیونگ کے ساتھ اخلاق' حوصلہ ' صبر اور اچھے مزاج کے گُر بھی سیکھیں۔ یہ تو ممکن نہیں کہ آپ گاڑی چلائیں اور گاڑی نہ ٹکرائے۔ انتہائی احتیاط بھی کریں تو کوئی دوسرا آپ سے ٹکرا جائے گا۔ اس صورت میں سید الرسلۖ کا امتی ہونے کا ثبوت دیں۔ جس رسولۖ کو خود قرآن مجید نے خلق عظیم کی سند عطا فرمائی ہے اگر اسی رسولۖ اعظم کے امتی بداخلاق اور بدمزاج ہوں تو مناسب نہیں۔ اسی طرح آپ گاڑی چلا رہے ہیں اگر تحمل کا مظاہرہ کریں اور جلدی نہ کریں تو سوچیں ماحول کتنا پرسکون ہو جائے گا۔ بلاضرورت مسلسل ہارن بجانا ' دوسرے کی لین میں ناجائز طرح سے گھسنے کی کوشش کرنا درست نہیں بلکہ اگر ممکن ہو تو دوسرے کو راستہ دے دیں اور جسے راستہ دیا جارہا ہے کہ وہ ہاتھ ہلاکر مسکراتے ہوئے شکریہ ادا کرے اس طرح محبت بڑھتی ہے اور سماج مثبت راہوں کی طرف سفر کرتا ہے ہماری قوت برداشت تو ویسے بھی جواب دے چکی ہے۔ ہمیں اپنے معاشرے میں اس کی بے شمار مثالیں مل سکتی ہیں۔ مشال خان کا قتل اس کی ایک تازہ مثال ہے۔ قتل ایک انتہائی قدم ہے کہ جس کی سزا قرآن نے ہمیشگی جہنم مقرر کی ہے۔ یہ برداشت کی آخری حد ہے مگر اس سے پہلے بھی کئی مرحلے آتے ہیں۔ ہم سیکھنے کی مشق نہیںکرتے' اپنے اوپر جبر نہیںکرتے۔ نفس پر قابو پانے کی مشق نہیںکرتے۔ اگر کسی نے غصہ دکھایا تو ہمارا جواب بھی اس سے مختلف نہیں ہوتا حالانکہ اگر غصہ ظاہر کرنے والے کے جواب میں خاموشی اختیار کرلی اور خود پر قابو پاتے ہوئے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر لیں تو معاملہ رفع دفع ہوسکتا ہے۔ جب انسان غصہ کی حالت میں ہوتا ہے تو اس وقت وہ شخص شیطان کا آسان ترین شکار ہوتاہے۔ شیطان اس شخص کے ساتھ ایسے کھیلتاہے جیسے بچہ گیند کے ساتھ۔ شیطان کے لئے بہت آسان ہوتاہے کہ وہ غصے سے بھرے ہوئے شخص انتہائی اقدام یعنی قتل کی طرف مائل کرے۔ آپ اکثر دیکھتے ہوں گے کہ معمولی بات پر تکرار ہوئی بات گالم گلو چ سے قتل تک جاپہنچتی ہے اور آخر میں سوائے پچھتاوے کے اس شخص کے ہاتھ تو کچھ نہیں آتا۔ پھر سوچتا ہے کہ کاش میں غصہ نہ کرتا اور جس کے نتیجے میں یہ انتہائی اقدام سرزد نہ ہوتا۔ اگر آپ خوش مزاج اور خو ش خلق ہوں گے تو اس کے جہاں آپ کو اپنی ذاتی زندگی میں فائدے پہنچیں گے وہاں آپ کے بچے بھی آپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے خوش اخلاق ہوں گے۔ آپ کا پورا گھر خوشیوں سے معمور ہوگا۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر معاف کرنا سیکھیں آپ کے بچے آپ سے مستفید ہوں گے اور اس طرح پورے معاشرے پر خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے۔ اچھے اخلاق اپنائیں آپ کا کچھ خرچ نہ ہوگا' غصے پر قابو پانا سیکھیں آپ کے صحت پر مثبت اثرات ظاہر ہوں گے۔ یہ بظاہر چھوٹی اور معمولی باتیں ہیں مگر اپنے اندر دیرپا اثرات رکھتی ہیں۔ پورے معاشرے کے ماحول کو تبدیل کرنے کا سبب بنتی ہیں۔ اسی طرح صفائی کی عادت ہے ' گلیوں کو خراب کرنا ' پارکوں میں گندگی پھیلانا' چلتے ہوئے راستے میں تھوکنا' پانی ضائع کرنا ' قانون بالخصوص ٹریفک قوانین پر عمل کرنا یہ وہ باتیں ہیں کہ جو ہم نے خود کرنا ہیں۔ اس کا تعلق ہمارے سیاسی قائدین کے ساتھ نہیں وہ ہمیں نہیں کہیںگے کہ آپ خوش اخلاق بنیں یا صفائی پسند۔ یہ باتیں ہم نے خود اپنے اور اہل خانہ پر لاگو کرنا ہیں۔ یہ معاشرہ ہمارا ہے ہم نے اس معاشرے میں رہنا ہے اور یہ بھی یاد رکھیں فرد فرد سے معاشرہ بنتا ہے یہ بات ہرگز نہ سوچیں کہ ہمارا ایسا کرنے سے معاشرے پر کیا اثرات پڑیںگے۔ ہرگز نہیں ہم ایسا کریں گے تو سب سے پہلے اس کے براہ راست اچھے نتائج ہم پر مرتب ہوں گے۔ افسوس اس بات پر ہے کہ ہم اخبار نویسوں بھی ان باتوں کو معمولی سمجھ کر اہمیت نہیں دے رہے۔ گندی سیاست کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اورچند سیاسی باتیں تحریر کرکے اپنا فریضہ ادا سمجھتے ہیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved