خوگرحمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے
  16  مئی‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

پاکستان کے لئے ایران کے سفیر محترم مہدی ہنر دوست نے ایک دفعہ پھر اپنی دوستی کا ہنر دکھانے کی کوشش کی ہے ... انہوں نے ایک ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ایرانی آرمی چیف جنرل باقری کے پاکستان سے متعلق بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر دیکھا گیا ہے' جنرل باقری کے بیان کے کچھ حصے کو غلط سمجھا گیا' ایرانی آرمی چیف نے دوست ممالک کے حوالے سے بھی بات کی تھی... لیکن میڈیا کے کچھ لوگوں نے ان کی گفتگو کے مخصوص حصے کا انتخاب کیا اور بدقسمتی سے ایسا پہلی بار نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی آرمی چیف کے بیان کے بعد مجھے پاکستانی وزارت خارجہ میں بلایا گیا تو یہی وضاحت میں نے وہاں بھی کی۔'' ایرانی سفیر محترم! نے ''میڈیا'' کے کچھ لوگوں'' پر ایرانی آرمی چیف کی گفتگو کے مخصوص حصے کے انتخاب کی بات کی ہے ... حالانکہ منگل 9مئی کے تمام اخبارات یعنی پرنٹ میڈیا کی شہ سرخیاں ہی یہ تھیں کہ ''پاکستان اور سعودی عرب کو ایرانی دھمکیاں'' ...یہاں میڈیا کے کچھ لوگ نہیں بلکہ ''سارا'' میڈیا ہی ایرانی آرمی چیف جنرل باقری کی پاکستان کو دی جانے والی دھمکی اور ایرانی وزیر دفاع کی سعودی عرب کو تباہ و برباد کرنے کی دھمکیوں پر چیخ رہا تھا' ایرانی سفیر محترم بتائیں کہ اگر ایرانی آرمی چیف نے پاکستان کودھمکی نہیں دی تھی تو پھر پاکستانی وزارت خارجہ نے انہیں طلب کرکے احتجاج کس بات پر کیا تھا؟ اور اس پہیلی کو بوجھنا بھی ضروری ہے کہ کیا دفتر خارجہ نے ایرانی سفیر کی طلبی ''میڈیا کے کچھ لوگوں'' کی خبروں سے متاثر ہو کر کی تھی؟ یا پھر ایرانی آرمی چیف کی طرف سے پاکستان کو دی جانے والی دھمکی کے ان کے پاس ٹھوس شواہد موجود تھے؟ مہندی ہنر دوست میڈیا کے کچھ لوگوں پر سارا ملبہ ڈالنے کی بجائے ہمارے اس معصومانہ سوال کا جواب عنایت فرما کر مشکور فرمائیں کہ کیا ایرانی آرمی چیف نے پاکستان کو دھمکی دیتے ہوئے یہ کہا تھا یا نہیں کہ اگر پاکستان نے اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی نہیں کی تو پاکستان میں تو دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنائیں گے۔ اس گفتگو اور انداز گفتگو کو کسی بھی سیاق و سباق کے ساتھ ملا کر دیکھ لیں اسے مہذبانہ زبان میں بھی ''دھمکی'' ہی کہا جائے گا' حالانکہ اس سے چند دن قبل ہی ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے 12رکنی اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ پاکستان کے دورے کے دوران ' وزیراعظم نواز شریف' آرمی چیف جنرل قمر باجوہ اور وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں بھی کیں... اس موقع پر دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام نے اپنی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہ دینے پر اتفاق بھی کیا تھا۔ جب پاکستان ایران تعلقات میں بہتری کی امید بندھی تو ایرانی آرمی چیف نے پاکستان کو دھمکی دے ڈالی' ایرانی آرمی چیف کی اس کھلی دھمکی کے باوجود ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا یہ کہنا کہ ''ایران اور افغانستان کو پاکستان کھونا نہیں چاہتا... بھارت ان ہی دو ممالک کے راستے پاکستان میں دہشت گردی کروا رہا ہے۔'' ایرانی آرمی چیف کی تمام تر دھمکیوں کے باوجود پاکستان نے صبر وتحمل اور برداشت کا مثالی مظاہرہ کرکے معاملات کو جس طرح سے سنبھالنے کی کوشش کی وہ اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان اپنے برادر اسلامی ملک ایران سے تعلقات بگاڑنا نہیں چاہتا... بلکہ اس کی سرتوڑ کوشش ہے کہ وہ نہ صرف خود ایران کے ساتھ تعلقات بہتر کرے بلکہ سعودی عرب اور ایران کے اختلافات کو بھی دور کرنے کی کوشش کرے... میجر جنرل آصف غفور کا یہ کہنا کہ بھارت ایران اور افغانستان کے راستے پاکستان میں دہشت گردی کروا رہا ہے خطے کی خطرناک صورتحال کو واضح کرنے کے لئے کافی ہے... کابل تو اس وقت عملی طور پر امریکہ کا یرغمالی ہے... عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی تو محض امریکی کٹھ پتلی ہیں۔ اس لئے افغانستان کے راستے سے پاکستان میں ہونے والی بھارتی دہشت گردی تو قابل فہم ہے لیکن ایران تو پاکستان کا برادر اسلامی ملک ہے ... ایران کے را سے اگر بھارتی دہشت گرد پاکستان میں بے گنا انسانوں کا قتل کر رہے ہیں تو ایران کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کی حکمت عملی اپنائے۔ جیش العدل نام کا عسکری گروپ ایران میں قائم ہوا... اور اس میں ایرانی ہی شامل ہیں... پاکستان' ایران کے خلاف اس کے کسی مخالف عسکری گروپ کی حمایت کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا' پاکستان وہ واحد ملک ہے کہ جو نہ لسانی اور نہ ہی فرقہ وارانہ بنیادوں پر کسی کی حمایت یا مخالفت پر تعین ہی نہیں رکھتا' شیعہ ہو یا سنی پاکستان کی نظر میں دونوں برابر ہیں' جبکہ اس کے برعکس ایران نے جیش العدل نامی عسکری گروپ کو بجائے محض دہشت گرد کہنے کہ ''سنی '' گروپ قرار دیکر فرقہ وارانہ جذبات بھڑکانے کی کوشش کی۔ آئی ایس پی آر کے ترجمان کے بیان کو اگر مدنطر رکھا جائے تو پاکستان کسی بھی قیمت پر اپنے پڑوسی ملک ایران کے ساتھ کسی بھی سطح پر تعلقات بگاڑنے کے لئے تیار نہیں ہے ... لیکن ایران مسلم اتحادی فوج میں پاکستان کی شمولیت اور اس فوج کا سربراہ جنرل (ر) راحیل شریف بن جانا کسی قیمت پر بھی ہضم کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ ایرانی سفیر محترم مہندی ہنر دوست ... اپنی دوستی کا ہنر دکھاتے ہوئے ایران کے حکومتی اکابرین کو یقین دلانے کی کوشش کریں کہ ... ''پاکستان'' کی سرزمین نہ پہلے کبھی ایران کے خلاف استعمال ہوئی اور نہ آئندہ کبھی ہوگی لہٰذا وہ غصہ تھوک کر پاکستان سے ناراضگی دور کریں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved