کچھ خوش گوار باتیں!
  16  مئی‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
٭عین اس موقع پر کہ بیجنگ میں خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک وزیراعظم نوازشریف کے ساتھ چائے پی رہے تھے۔پرویزخٹک کے سرپرست عمران خاں ایبٹ آباد میں اعلان کر رہے تھے کہ نوازشریف کو جیل بھیجوں گا! ٭عین اس موقع پر جب سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ بیجنگ میں وزیراعظم نوازشریف کے ساتھ کھڑے ہو کر اعلان کر رہے تھے کہ سی پیک کے معاملہ میںسندھ وفاق کے ساتھ کھڑا ہے، اور انتخابات 2018ء میں ہی ہوں گے۔ سندھ کے 'مائی باپ' آصف زرداری پشاور میں اعلان کر رہے تھے کہ سی پیک ہم نے بنایا تھا، اسے نوازشریف چوری کر کے اسلام آباد لے گیا ہے اور یہ کہ عام انتخابات اسی سال 2017ء میں ہی ہوں گے اور پیپلزپارٹی چاروں صوبوں اور وفاق میں حکومت بنائے گی۔ (ابوصدرمیں وزیراعظم ہوں گا، بلاول کا گزشتہ بیان) ٭اور عین اس وقت جب ویسٹ انڈیز کے ''پانی پت'' میدان میں پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیمیں آخری میچ جیتنے کے لئے سردھڑ کی بازی لگا کر ایک ایک گیند پر جنگ لڑ رہی تھیں،عین اسی موقع پر کراچی میں وزیراعلیٰ ہائوس پر برتری حاصل کرنے کے لئے اس علاقہ کی بڑی سڑک پر پاکستان سرزمین پارٹی کے جانباز جیالے پولیس کے ساتھ'میں نہیں یا تو نہیں' کی اینٹ پتھر، آنسو گیس، پانی کی برسات اورلاٹھی چارج کی فیصلہ کن جنگ لڑ رہے تھے۔ ٭بہت سی بیک وقت ہونے والی باتیں اور جنگیں اور بھی ہیں مثلاً یہ کہ عین اس وقت جب مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے دو مزید کشمیری نوجوان شہید اور 40 گرفتار کر لئے تھے، راولپنڈی کی لال حویلی اعلان کر رہی تھی کہ اب ملک کے غداروں کے خلاف جنگ ہو گی! اسی موقع پر ایک قاری کا فون آیا تھا کہ لال حویلی کس کو غدار کہہ رہی ہے؟ اس کی تو اپنی تاریخ یہ ہے کہ جس پرویز مشرف کے خلاف غداری کے کیس میں بلاضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہو چکے ہیں، لال حویلی اس کی گود میں بیٹھ کر اعلان کر رہی تھی کہ امریکہ کے احکام کی تعمیل نہ کی جاتی تو وہ ہمارا آملیٹ بنا دیتا! ٭میرے لئے بلکہ پوری قوم کے لئے دو خبریں بہت خوش گوار ثابت ہوئی ہیں۔ ایک تو یہ کہ بیجنگ میںپاکستان کے وزیراعظم کے ساتھ چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ جس طرح ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح بغل گیر ہو رہے ہیں، اس طرح گھل مل رہے ہیں جس طرح پانی میں پتاشے گھل مل جاتے ہیں، اس سے پاکستان کے اندر انتہائی خوش گوار فضا پیدا ہو رہی ہے۔ ایسے موقع پر تھڑا سیاست دان علم دین کو ہمیشہ دور کی بے تکی سوجھتی ہے۔ مجھے مشورہ نما تجویز دی ہے کہ جناب ہمارے وزیراعظم اور چاروں وزرائے اعلیٰ اورمتعدد وفاقی وزیر ملک سے باہر ہیں ان کی غیر حاضری پر قوم سکھ کا سانس لے رہی ہے، کیا ایسا ممکن ہو سکتا ہے کہ ان تمام افراد کو جو طیارہ چین لے کر گیا ہے، اسی طیارے میں اگلے انتخابات تک دنیا بھر کے ممالک کے دورے پر بھیج دیا جائے؟ نئے انتخابات کے بعد واپس آ جائیں! مجھے اس بے تکی تجویز پر ہنسی آئی۔ میں نے کہا کہ ملک میںعمران خان، آصف زرداری، سراج الحق، مولانا فضل الرحمن وغیرہ تو موجود ہیں، وہ ملک پر چھا جائیں گے! اس پر علم دین خاموش ہو گیا اور اپنی تجویز واپس لے لی۔ ٭اور اب اس جنگ کی باتیں جو ویسٹ انڈیز میں لڑی گئی۔ یہ کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں تھا، اس وقت تقریباً آٹھ ملکوں میں مختلف قسم کے ایسے کرکٹ مقابلے ہو رہے ہیں۔ ویسٹ انڈیز کا معاملہ یہ ہے کہ وہاں پاکستان کی ٹیم ٹی ٹونٹی، ون ڈے اور ٹیسٹ میچوں کی تینوں سیریز جیت گئی۔ یہ بھی عام بات ہے۔ اکثر مواقع پر مختلف ٹیمیں اس طرح کی کارکردگی دکھاتی رہتی ہیں۔ قابل ذکر بات تو یہ ہے کہ ان مقابلوں کے اختتام پر پاکستان کے دو بڑے کھلاڑی، مصباح الحق اور یونس خاں نہائت باوقار اور باعزت انداز کے ساتھ اس شہرت کے ساتھ ریٹائر ہو گئے کہ ان کے شاندارطویل کیریئر میں دامن پر کسی قسم کا کوئی دھبہ موجود نہیں۔ اپنے ملک کے لئے کھیلے، اس کا نام روشن کیا، کسی غیر قانونی کام میں نہیں الجھے۔ ہمیشہ اپنے ملک کا وقار سامنے رکھا۔ اور پھر کیا الوداعی منظر تھا کہ ویسٹ انڈیز کی پوری ٹیم ہوا میں بلوں کا پل بنائے ان دونوں کو الوداعی سلامی دے رہی تھی۔ ان دونوں کی بیگمات اور بچے یہ منظر دیکھ کر جذباتی ہو رہے تھے! ملک کی آن بان شان کو بلند اور روشن کرنے والے ان دونوں عظیم کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کے نئے ریکارڈ قائم کئے ہیں اور یہ کارنامے ایسے وقت میں انجام دیئے ہیں جب قومی کرکٹ ٹیم کے چھ اہم کھلاڑی ملکی وقار کے خلاف جواریوں کے ساتھ ساز باز کے کیسوں میں تفتیش کا سامنا کر رہے ہیں۔ دو تین تو انگلینڈ میں جیل بھی کاٹ چکے ہیں۔ مصباح الحق اور یونس خاں کے اعلیٰ کردار کی عظمت یہ ہے کہ جوئے بازوں کو ان کے ساتھ کوئی ڈیل کرنے کی جرأت ہی نہ ہو سکی۔ انہوں نے جتنی دیر کھیلا، اپنے ملک کی سلامتی، عظمت اور وقار کو سربلند رکھنے کے لئے کھیلا ۔ان کے اس کردار کا حوالہ دیتے وقت مجھے ماضی اور حال میں ملک پر مسلط وہ ''بڑے لوگ'' دکھائی دے رہے ہیں جو مختلف قومی و بین الاقوامی سکینڈلوں میں ملوث ہو کر ملک کی عدالتوں کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ وہ لوگ بھی جو ایسے ہی حالات میں جیلوں کے مہمان رہ چکے ہیں۔ مجھے ایک محترم قاری نے کیا ایس ایم ایس کیا ہے کہ انسان لباس کے بعیر اس دنیا میں آتا ہے اور پھر ساری زندگی کا حاصل، تین چاروں کا ایک کفن اوڑھ کر چلا جاتا ہے۔ ساری تجوریاں، دولت کے انبار، محلات، ملیں اور دوسرے اثاثے یہیں رہ جاتے ہیں! یعنی زندگی کا سارا سفر بے لباسی سے تین چادروں والے سفید لباس تک کی داستان ہے! میں مصباح الحق اور یونس خاں کو ان کی شاندار بے داغ زندگی اور کارکردگی پر اپنی اور بے شمار محترم قارئین کی طرف سے دلی مبارکباد دیتا ہوں۔ خدا تعالیٰ انہیں خوش اور بخیریت رکھے! ٭رمضان المبارک کا مقدس مہینہ آ رہا ہے۔ اس کی ابتدا میں مختلف غریب اور لاچار افراد اور رفاہی ادارو ںکی امداد کی اپیلیں شروع ہو گئی ہیں۔ ہر سال رمضان کی آمد پر راوی نامہ کے ذریعے کچھ سفید پوش مفلوک الحال خاندانوں کی راشن وغیرہ سے کفالت ہو جاتی ہے۔ ایک نوجوان ''ذیشان'' ایک کیبل کی فرم میں معمولی تنخواہ پر صبح گیارہ بجے سے رات گیارہ بجے گلیوں اور سڑکوں پر کیبل درست کرنے کی ڈیوٹی دیتا ہے۔ اس نے بتایا ہے کہ اس کا بہنوئی نشے کی لت میں مبتلا ہو کر بالکل ناکارہ ہو گیا ہے، چل پھر بھی نہیں سکتا۔ ذیشان کی بہن بہت مشکل میں ہے۔ کوئی ذریعہ آمدنی نہیں، بچوں کی تعلیم ختم ہو گئی ہے۔ اس خاندان کی رمضان کے مہینے کے لئے کچھ راشن وغیرہ کی اپیل کی گئی ہے۔ کوئی صاحب مدد کرنا چاہیں تو مجھ سے ذیشان کا رابطہ نمبر لے لیں اور خود تحقیقات کر لیں۔ ایسی اور بھی اپیلیں آئی ہیں۔ ٭ایس ایم ایس:بلدیہ سے سرہ بنگلہ جانی خیل ضلع بنوں تک سڑک کھنڈرات بن چکی ہے، کوئی پوچھنے والا نہیں، اس کی مرمت کی اپیل چھاپ دیں، ارشاد اللہ جانی خیل بنوں (03088076652) ٭ہمارے سکول کا کام 2007ء میں شروع ہوا آج تک مکمل نہیں ہوا۔ جو تھوڑا سا ہوا ہے وہ بھی ناقص اور غیر معیاری ہے اس کی تحقیقات کی جائیں اور کام جلد مکمل کیا جائے۔ فضل کریم تھب، باغ، آزاد کشمیر (03465045429)

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved