نڈر دلیر بچیاں ،سری نگر کی بیٹیاں…!
  17  مئی‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
٭کیا کسی آصف زرداری، کسی عمران خاں، کسی نواز شریف اور کسی فضل الرحمان کے علم میں ہے کہ مقبوضہ کشمیر پر کیا قیامت بیت رہی ہے؟ کیا عالم اسلام کے ان علم برداروں کی کسی پارٹی نے کبھی کسی وقت، مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی بربریت کے خلاف کوئی جلسہ، کوئی جلوس، کوئی ریلی نکالی؟ کوئی ٹوٹی پھوٹی رسمی قرارداد ہی سہی! مقبوضہ کشمیر میں ایک لاکھ سے زیادہ مرد شہید ' ایک لاکھ سے زیادہ زخمی اور جیلوں میں پڑے ہیں۔ اتنے ہی لاپتہ ہیں اور عالم یہ ہے کہ جواں مرد لوگ توختم ہوگئے، نوجوان بھی جیلوں میں چلے گئے۔اب کشمیر کی بیٹیاں باہر نکل آئی ہیں اور فضا میں نغمہ گونج رہاہے ''نڈردلیر بچیاں، سری نگر کی بیٹیاں''۔ اب سکولوں کے بچے بھی فوج کے سامنے ڈٹ جاتے ہیں۔ گزشتہ روزبھارتی فوج کی وحشیانہ فائرنگ سے مزید دو نوجوان شہید ہوگئے۔ پہلگام، بڈگام اوردوسر ے مقامات پر پھرسکولوں کے بچے سڑکوں پر آگئے۔ بھارتی درندگی سے10بچے بری طرح زخمی ہوگئے ۔کمسن بچے فوج کو پتھر مارتے ہیں اور فوج مجبور ہو جاتی ہے کہ بچوں پر جتنی گولیاں چلائی تھیں، چلا لیں، اب مزید نہ چلائی جائیں۔ اور مقبوضہ علاقہ کی ''حسینہ واجد'' محبوبہ مفتی نریندر مودی کے قدموں میں بیٹھ کر دہائی دے رہی ہے کہ کشمیر کا حل صرف مودی کے پاس ہے، آزاد ی نہیں ، مزید تشدد ، مزید بربریت!! چلیں محبوبہ کو چھوڑیں۔ گزشتہ رات ایک ٹیلی ویژن پرخاتون کشمیری رہنما شمیم شال پکار رہی تھی کہ پاکستان کی کشمیرکمیٹی کہاں ہے؟ اس کے چیئرمین مولانافضل الرحمان کو تو اس وقت لاکھوں افراد کے جلوس کے ساتھ کشمیر میں کنٹرول لائن پر ہوناچاہئے تھا! وہ تو کبھی ادھر دیکھے ہی نہیں گئے! اس بی بی کو شائد علم نہیں کہ مولانافضل الرحمان کے پاس کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کے طورپر وزیر کا عہدہ ، شاندار بنگلہ، قیمتی گاڑیاں ہیں۔ یہ گاڑیاں صرف اسلام آباد کی سڑکوں پر چل سکتی ہیں، کنٹرول لائن تک جانے والی کوئی سڑک اس قابل نہیں کہ اس پر کشمیر کمیٹی کی اعلیٰ قیمتی گاڑیاں چل سکیں۔مگر شمیم شال بی بی! پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف کو کبھی کنٹرول لائن تو ایک طرف، کبھی مظفر آباد میں بھی دیکھاگیا؟ بے نظیر بھٹو وزیراعظم تھیں تو ایک خاتون ہونے کے باوجود کنٹرو ل لائن پر کھڑے ہوکر پوری بلند آواز سے بھارت کو للکار کر آئی تھیں۔ آصف زرداری نے پانچ سال تک مسلسل ایوان صدر کو پیپلز پارٹی کا ہیڈکوارٹر بنا ئے رکھا، کبھی آزاد کشمیر کا دورہ کیا؟ عمران خاں نے الیکشن جیتنے کے لیے آزاد کشمیر میں جلسے کئے، کبھی کنٹرول لائن یاد آئی؟ ٭ پانی کی شدید قلت سے کراچی کربلا کا منظر کر رہا ہے، سڑکوں پر پانی مانگنے والوں پر آنسو گیس پھینکی جارہی ہے ، لاٹھی چارج ہور ہاہے۔ تھر میں سینکڑوں بچے بھوک پیاس سے ہلاک ہوچکے ہیں۔یہ تعداد روزانہ بڑھ رہی ہے۔ سندھ ہائی کورٹ اس پر برہم ہورہی ہے اور ملک کا پھر سے صدر بننے کے لیے آصف زرداری پشاور میں سیاسی لوٹے جمع کررہے ہیں! اور برخوردار ولی عہد پنجاب کو فتح کرنے کے لیے لاہور کی اربوں روپے کے محل میں سیاست کررہاہے۔ کبھی چودھری برادران کو کشمیر میں جانے کی توفیق ہوئی؟ فاروق ستار' مصطفےٰ کمال وغیرہ کا تو اس مسئلہ سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ یہ لوگ بھارت کے خلاف بولنے کا سوچ بھی نہیں سکتے!مگر پاکستان میں بڑی بڑی ادبی کانفرنسوں والے بڑے بڑے ادیب، شاعر، کالم نگار کہاں ہیں؟ مقبوضہ کشمیر میں حشر بپا ہے ' کیا ان لوگوں نے کبھی اس بارے میں کچھ لکھا؟ ٭ ان سب کوچھوڑیں، کشمیر اور اس کی آزادی ان لوگوں کا مسئلہ ہی نہیں مگر خود مقبوضہ کشمیر کے جانبار لوگ جس طرح بے خوف انداز میں اٹھ پڑے ہیں، اس نے خود بھارتی حکومت کو بوکھلا دیا ہے۔ کشمیری عوام کے ہاتھوں بھارتی فوج کا جو حشر ہورہاہے، اس کے نتیجے میں کسی بھارتی فوجی کو کشمیر میں جاناپڑتاہے تو اس کے گھرمیں رونا پیٹنا شروع ہوجاتا ہے۔ جنوری2007ء سے اب تک مقبوضہ کشمیر میں آنے والے382دہشت زدہ فوجی افسر او رجوان خودکشی کرچکے ہیں۔ گزشتہ روز مزید دو فوجیوں نے خود کو گولی مارلی۔ انہیں انتہائی خوف کے عالم میں گھر جانے کی اجازت نہیں ملی تھی۔ عالم یہ ہے کہ بھارتی فوج کے سابق سربراہ ، سابق وزیر ، اہم سیاست دان تسلیم کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ کشمیر بھارت کے ہاتھوں سے نکل رہاہے۔ اس سلسلہ میں گزشتہ روز ایک معروف سینئر بھارتی صحافی 'پریم شنکر جھا'کا صورت حال کا کھلا اعتراف بھارتی حکمرانوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔ یہ بیان اخبارات میں بھی نمایاں شائع ہوا ہے۔ پریم شنکر نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ'' مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کارروائیوں کے نتائج شرم ناک ہیں۔ وہا ں سات لاکھ کی بجائے70 لاکھ فوج بھی سرکش کشمیری عوام کو قابو نہیں کرسکتی۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ جو کچھ ہورہاہے۔ اسے دیکھ کر شرم سے ڈوب مرنے کو جی چاہتا ہے…''۔ ٭دنیا کی انوکھی عدالت! بھارت کی شکائت ملتے ہی اگلے دن عدالت کااجلاس بھارتی وکیل کے دلائل، اگلے روز پاکستانی وکیل کے دلائل اوراسی روز فیصلہ محفوظ! 11ججوں کے اس عدالتی بنچ میں ایک بھارتی جج بھی شامل ہے! پاکستان کا سیدھا سا دا مؤقف ہے کہ اس عدالت کو کل بھوشن کیس سننے کا اختیار ہی حاصل نہیں۔میں نے وی آنا کنونشن 1963ء کے آرٹیکل 36 کو بار بار پڑھا ہے اس کے مطابق صرف ان لوگوں کے کیس سُنے جاسکتے ہیں جو کسی ملک میں کوئی سنگین جرم کرکے کسی دوسرے ملک میں پناہ لے لیتے ہیں اور ان کی واپسی کا مطالبہ کیاجاتاہے۔ کل بھوشن کا کیس بالکل برعکس ہے۔ اس نے اپنے ملک میں کوئی جرم نہیں کیا، بلکہ دوسرے ملک ، پاکستان میں آکر دہشت گردی اور ملک کی سلامتی کے خلاف کارروائیاں کی ہیں۔ اسے پاکستان کی ایک عدالت نے سزا سنائی ہے۔ اس کی اپیل صرف پاکستان کی سپریم کورٹ سن سکتی ہے، بیرون ملک کی کوئی عدالت نہیں سن سکتی ۔ 1980ء میں ایران نے ملک میں ''سنگین جرائم'' کی بناء پر پورے امریکی سفارت خانہ کو تالا لگا کر سیل کرکے اس کے اندرسارے عملہ کو نظر بند کردیا۔ نظربندی، ایک سال تک جاری رہی۔ امریکہ نے عالمی عدالت انصاف سے رجوع کیا۔ عدالت نے قراردیا کہ یہ ایران کا اندرونی معاملہ ہے، اقوام متحدہ کا کوئی کنونشن مداخلت نہیں کرسکتا۔ ٭ کراچی میں آٹھ روز سے ٹرکوں ، کنٹینروں ، ٹرالیوں کی ہڑتال جاری ہے۔ اس کے باعث ملک کادرآمد کا سارا نظام مفلوج ہو گیا ہے۔ روزانہ اربوں کانقصان ہورہاہے۔ صرف بندرگاہ پر70ہزار کنٹینررکے ہوئے ہیں۔ ان کے اندر بہت سا سامان خراب ہوچکا ہے، اربوں کی برآمد کے ٹھیکے رک گئے ہیں ۔ دوسری طرف دوسرے ملکوں کے جہازوں کی آمد اور اس کے باعث ہر قسم کی درآمد رک گئی ہے۔ یہ اذیت ناک عمل آٹھ نو دنوں سے جاری ہے مگر آج تک کوئی خبر نہیں آئی کہ کسی وفاقی یا صوبائی حکومت نے اس تباہی کاکوئی نوٹس لیا ہو؟ عالم یہ ہے کہ اشتہاروں کے ذریعے چینی پیدا کرنے والی فیکٹریاں رونا رو رہی ہیں کہ ملکی ضرورت سے زیادہ لاکھوں من چینی گوداموں میں پڑی ہے اسے برآمد کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ۔مگر رمضان کی آمد پر مارکیٹ میں چینی کی قیمت کم ہونے کی بجائے بڑھا دی گئی ہے۔ فی کلو قیمت 65 روپے سے 70روپے کردی گئی ہے۔ چینی مافیا کوقوم کی لوٹ کھسوٹ کا ایک اور موقع ہاتھ آگیا ہے۔ کیا عوام کو علم نہیں کہ چینی کی فیکٹریوں کے مالکان کون ہیں؟ کیا ضروری ہے کہ باربار ملک کے موجودہ اورسابق حکمرانوں کے نام لیے جائیں؟

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved