اسلام پسند اور سیکولر؟
  18  مئی‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کو کبھی کبھی نجانے کیا ہو جاتا ہے ؟ اس بار بھی جانے انہیں کیا ہوا کہ انہوں نے یہ تک کہہ دیا کہ ''کوئی اگر سیکولر ہونے پر فخر کرتا ہے تو میں اسلام پسند ہونے پر فخر کرتا ہوں... ان کا کہنا تھا کہ ''مسلمانوں'' کے لئے کھڑا ہونا میرے ایمان کا حصہ ہے... خدا جانے چوہدری نثار کب سمجھیں گے کہ اس طرح کی باتیں کرنا ''سیکولر لاینیت کی گمراہ دنیا کے سینے پر مونگ دلنے کے مترادف ہے... اسلام پسندوں کو دیکھ کر سیکولر اور لبرل انتہا پسندوں کے دل نفرت اور خوف سے باقاعدہ لرزنا شروع ہو جاتے ہیں... چوہدری نثار علی خان جس مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھتے ہیں... اس مسلم لیگ کے سربراہ وزیراعظم نواز شریف تو ملک کو لبرل او سیکولر بنانے کے اعلانات کرتے چلے آرہے ہیں... جبکہ وزیراعظم ہائوس میں قائم کردہ مخصوص میڈیا سیل بھی قومی خزانے کے بل بوتے پر پاکستان کو سیکولر ریاست بنانے کے لئے دن رات سرگرم عمل ہے۔ سیکولر دنیا کے کچھ ''کالے'' ''پیلے ''لکھاری سیکولر اور لبرل کی اس تعریف کا ذکر کرتے ہیں... جو تعریف مختلف ڈکشنریوں میں موجود ہے... ڈکشنری والی تعریف کرکے وہ سیکولر ازم کو ''حق'' بنا کر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں... میرا ایسے صاحبان قلم کو چیلنج ہے کہ وہ ڈکشنریوں میں موجود تعریف پر پورا اترنے والے کسی ایک بھی گروہ کی نشاندہی کر دیں تو ممکن ہے کہ بہتوں کا بھلا ہو جائے۔ آج کل پکا اور حقیقی سیکولر اور لبرل اسے ہی سمجھا جاتا ہے کہ جو اسلام بیزار ہو' مدارس ' مساجد' کی اور مولوی دشمنی میں اندھا ہو کر مساجد' مدارس اور مولوی کے خلاف ہر قسم کا جھوٹ بولنا' جھوٹا پروپیگنڈا کرنا اپنے لئے جائز سمجھتا ہو' خصوصاً نائن الیون کی کوکھ سے برآمد ہونے ولے سیکولر ازم اور لبرل ازم کے منہ کو تو بے گناہ مسلمانوں کے لہو کا ایسا چسکا لگا ہے کہ جو اب جانے کا نام ہی نہیں لے رہا... مسلمانوں کا خون بہانے میں ''سیکولر ازم'' نے ہٹلر اور ہلاکو کے ریکارڈ بھی توڑ ڈالے ہیں... اور مجھے ویسے بھی اپنے آپ کو ''سیکولر'' کہلوانے والوں کی منافقانہ روش سے شدید نفرت ہے... یہ اپنی ساری عمر تو بھولے بھالے مسلمانوں کو اسلام سے کاٹ کر سیکولر بنانے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں... اسلام کے ہر حکم کی کاٹ کو یہ اپنا نصیب العین بنا لیتے ہیں' لیکن پھر جب یہ مرتے ہیں تو ان کے لواحقین... ان کی ساری عمر کا سیکولر بھاشن بھول کر ان کی آخری رسومات ''مذہبی طریقے'' پر ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثلاً ساری عمر اسلامی احکامات کے خلاف اپنے قلم اور زبان کے ساتھ برسرپیکار رہنے والا ''سیکولر'' شدت پسند بھی جب مرتا ہے تو اس کی تجیہز و تکفین اسی طریقے پر کی جاتی ہے جو طریقے چودہ سو سال قبل رسول اکرمۖ اور آپۖ کے صحابہ کرام نے بتائے تھے' اس ''سیکولر'' کا جنازہ بھی چودہ سوسالہ پرانے طریقے کے مطابق پڑھایا جاتا ہے... اس کی ''قبر'' بھی ویسے ہی کھودی جاتی ہے جیسا اسلام نے بتایا ''سیکولر'' مردے کو لحد میں اتارنے کے بعد اس کی قبر کو بند کردیا جاتا ہے... پھر اس کی قبر پر مٹی ڈالی جاتی ہے' مٹی ڈالنے کے بعد اس کے سرھانے اور پائوں کی طرف کھڑے ہو کر ''مولوی صاحب'' یا ''قاری'' صاحب' قرآن مقدس کی تلاوت بھی کرتے ہیں... پھر اس ''سیکولر'' مردے کے ''قل'' بھی کئے جاتے ہیں سوال یہ ہے اگر ''سیکولر'' نے مرنے کے بعد ''مذہبی'' ہی ہونا تھا تو اپنی زندگی میں مذہب بیزاری کو پروان کیوں چڑھاتا رہا؟ اگر مرنے کے بعد چودہ سو سال پہلے والے اسلامی طریقوں کے مطابق ہی تجہیز و تکفین کرنی تھی تو پھر اپنی زندگی میں چودہ سو سال پہلے والے ''اسلام'' کو نعوذ باللہ دقیانوسی کیوں قرار دیتا رہا؟ ''سیکولر'' اور ''لبرل'' کو اس بات پر یقین ہے کہ دفن کرنے کے بعد قبر کے سرھانے اور پائوں کی طرف کھڑا ہو کر اگر قرآن پاک کی تلاوت کی جائے تو اس سے صاحب قبر کو راحت پہنچتی ہے... تو پھر جب ملک میں قرآن و سنت کے نفاذ کی بات ہوتی تھی تو وہ اس کے راستے میں رکاوٹ کیوں بنتا ہے؟ سیکولر ازم اور لبرل ازم کے پلے ہے کیا؟ ان کے پیروکاروں نے دنیا کو تباہی و بربادی کے علاوہ اور دیا کیا ہے؟ ابھی تک تو یہی دیکھنے میں آیا ہے کہ یہود و نصاریٰ اور ہنود نے ''سیکولر'' اور ''لبرل'' نعروں کی آڑ میں اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ضائع نہیں کیا... قرآن وہ آسمانی کتاب ہے جو قیامت تک آنے والے انسانوں کو رہنمائی فراہم کرتی رہے گی' قرآن و سنت ایک مکمل ضابطہ حیات ہے نبی کریمۖ کی زندگی کو ہمارے لئے اسوہ حسنہ قرار دیا گیا ہے... ''لبرل'' اور ''سیکولر'' کی کوئی جیسی چاہے تعریف کرتا رہے... دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان میں جو افراد گروہ یا جماعتیں اپنے آپ کو سیکولر اور لبرل قرار دیتی ہیں... انہوں نے عملی طور پر اپنے کردا اور افعال سے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ ان کا سیکولر یا لبرل ہونے سے مراد دراصل مذہبی بیزاری اور مولوی دشمنی پر مبنی ہے' وہ جب پیدا ہوئے تھے تو یقیناً ان کے والدین نے ان کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہہ کر ان کے ننھے' ننھے ذہنوں میں یہ بات بٹھانے کی کوشش کی تھی کہ وہ ''سیکولر'' نہیں بلکہ مذہبی ہیں... پھر جب وہ خود جوان ہوئے تو شیطانی وسوسوں نے انہیں ''اسلام'' سے ہٹ کر دائیں' بائیں منہ مارنے پر مجبور کر دیا... پھر جب وہ مر گئے تو ان کے اہل خانہ نے ان کی تجہیز و تکفین چودہ سو سال پہلے والے اسلامی طریقوں کے مطابق کرکے ایک دفعہ پھر یہ بات تسلیم کرلی کہ ''سیکولر'' ''ویکولر'' کچھ نہیں اصل چیز مذہب اسلام ہی ہے۔ آہ! ساری عمر جدت پسندی' جدت پسندی اور مغربی روشن خیالی کے نعرے لگانے والے بھی جب مرے تو جدید کچھ نہ تھا' کفن بھی چودہ سو سالہ پرانے طریقہ پہ' جنازہ بھی ویسے ہی' قبر بھی وہی' دفن بھی ویسے ہی۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved