مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ
  18  مئی‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

چین میں اتوار کو ''دن بیلٹ اینڈ روڈ اینیشی ایٹو''کے دو روزہ اجلاس کا آغاز ہوا جس میں 130ممالک سے1500مندوبین اور29سر براہان مملکت بھی شریک ہوئے۔ اہم سربراہان میں روسی صدرپیوٹن،ترکی کے صدر اردوگان اور وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف ملک کے چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کے ساتھ خصوصی شرکت کیلئے چین پہنچے لیکن مودی سرکارجس نے پاکستان کوعالمی سطح پرتنہاکرنے کاچیلنج دیاتھا،وہ آج عالمی طورپرتنہاصر ف احتجاج کرتی ہوئی نظرآئی جبکہ انڈیانے اس پراجیکٹ کانام تبدیل کرنے کی شرط پر شمولیت کی خواہش کااظہارکیاجس کوچین کی طرف سے ردکردیاگیا۔ دنیابھرکے بڑے سرمایہ کاروں نے چین میں ''بیلٹ اینڈ روڈ اینیشی ایٹو''(Belt & Road Initiative)کو سال کا سب سے بڑا سفارتی اجلاس قرار دیا ہے جس کا آغاز صدر شی جن پنگ نے ان الفاظ میںکیاکہ ''یہ پراجیکٹ چین کی جانب سے عالمی سطح پر معاشی مشکلات کے خاتمے کی کوشش ہے۔ یہ وہ گیت ہے جو کسی ایک آواز میں نہیں ہے بلکہ کورس میں ہے''۔ اس پراجیکٹ کے ذریعے چین تجارت میں اضافہ اور اپنی معیشت کو ایشیا سے باہر کے خطے میںلے جانا چاہتا ہے۔ایسا کرنے کیلئے چین بڑے پیمانے پر(پانچ کھرب ڈالر) انفراسٹرکچر کے ذریعے دنیا کے مختلف ممالک کو ملانے کا عزم رکھتا ہے۔ چند اندازوں کے مطابق چین ہر سال 150بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ رواں سال کے آغاز پر ریٹنگ ایجنسی ''فچ''کا کہنا تھا کہ900بلین ڈالر کے پراجیکٹ کی یا تو منصوبہ بندی کر لی گئی ہے یا ان پر عملدرآمد شروع ہو چکا ہے۔ان منصوبوں میں پاکستان میں پائپ لائنز اور بندرگاہ، بنگلہ دیش میں پل اور روس میں ریلوے کے پراجیکٹ ہیں۔ ان کا مقصد ''جدید سلک روڈ''کا قیام ہے جس کے ذریعے تجارت کی جا سکے اور ایک نئے گلوبلائزیشن دور کا آغاز کیا جائے۔ چینی صدر شی جن پنگ نے اپنے ''بیلٹ اینڈ روڈ''نامی عالمی منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کروڑوں ڈالر لگانے کا وعدہ کیا ہے جو کہ بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے میں صرف کیا جائے گا۔بیجنگ میں جاری کانفرنس کے آغاز پر مسٹر شی جن پنگ نے''بیلٹ اینڈ روڈ فورم''کے اپنے عالمی منصوبے کا خاکہ پیش کیا۔اس کیلئے انہوں نے124ارب ڈالر کی سکیم کا عہد کیا ہے۔ انہوں نے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: تجارت معاشی ترقی کا اہم ذریعہ ہے۔ ''بیلٹ اینڈ روڈ'' منصوبے کے تحت قدیم ''سلک روٹ''یا شاہراہ ریشم کو دوبارہ قائم کرنا شامل ہے اور اس کے لیے بندرگاہوں، شاہراہوں اور ریل کے راستوں کے بنانے میں سرمایہ کاری کی جائے گی تاکہ چین کو ایشیا، یورپ اور افریقہ سے جوڑا جا سکے۔''بیلٹ اینڈ روڈ ''کو فروغ دے کر ہم دشمنیوں کے کھیل کی پرانی راہ پر نہیں چلیں گے۔ اس کے برعکس ہم تعاون اور باہمی فائدے کا نیا ماڈل تیار کریں گے۔ہمیں تعاون کا کھلا میدان تیار کرنا چاہیے اور ایک کھلی عالمی معیشت کو فروغ دینا چاہیے۔ چینی صدر نے کہا: 'چین اپنی ترقی کے تجربات میں تمام ممالک کو شریک کرنے کے لیے تیار ہے۔ ہم کسی بھی ملک کے اندرونی معاملات میں دخل نہیں دیں گے۔وہ خواہ ایشیا اور یورپ کے ہوں یا افریقہ اور امریکا کے سب بیلٹ اینڈ روڈ کو تیار کرنے میں ہمارے تعاون کرنے والے شراکت دار ہیں۔صدر شی جن پنگ نے اپنے اس عالمی منصوبے کو ''صدی کا پراجیکٹ''قرار دیا ہے جس سے دنیا بھر کے لوگوں کو فائدہ پہنچے گااور اس سوچ کا مقصد خوشحالی کیلئے مجموعی اور قابل عمل ترقی کے ذریعے مختلف ممالک اور علاقے کی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔ ''بیلٹ اینڈ روڈ'' تعاون منصوبے میں بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تقریبا60ممالک تجارت میں منسلک ہو جائیں گے۔اس کانفرنس سے روسی صدر والادی میر پوتن کے علاوہ ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب اردوغان اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس بھی خطاب کیا۔ میاں محمد نواز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں اس راہداری کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبے تیزی سے مکمل ہورہے ہیںاور چین کا یہ منصوبہ آنے والی نسلوں کیلئے تحفہ ہے۔''بیلٹ اینڈ روڈ اینیشی ایٹو''کے دو اہم حصے ہیں ۔ پہلا جس کو ''سلک روڈ اکنامک بیلٹ''کہا جاتا ہے اور دوسرا '' 21ویں صدی میری ٹائم سلک روڈ''۔21ویں صدی میری ٹائم سلک روڈوہ سمندری راستہ ہے جس کے ذریعے چین اپنے جنوبی ساحل کو وسط ایشیا اور مشرق وسطی کے ذریعے مشرقی افریقہ اور بحیرہ روم سے ملائے گا۔ میاں نواز شریف نے بیجنگ میں ون بیلٹ ون روڈکے سربراہی اجلاس میں انڈیا کے لیے ایک واضح پیغام میں کہا کہ (سی پیک)کا منصوبہ خطہ کے تمام ممالک کیلئے ہے اور اس منصوبے پر سیاست نہیں کی جانی چاہیے۔میں یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ سی پیک کا منصوبہ ایک اقتصادی منصوبہ ہے جس میں سرحدوں کی کوئی قید نہیں ہے اور کوئی بھی ملک اس میں شامل ہو سکتا ہے لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ اس کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ خطے کہ ممالک آپس کے اختلافات کو گفت و شنید کے ذریعے سلجھا کر پر امن رشتہ قائم کریں جس میں تمام ملکوں کے تعلقات میں کوئی جھول نہ ہو۔ ترقی صرف اسی وقت ممکن ہے جب امن قائم ہو اور امن قائم کرنے کے لیے معاشی ترقی سے اچھا کوئی طریقہ نہیں ہے، خاص طور پر وہ جو خطے کے تمام ممالک کے تعاون سے قائم ہو۔''ون بیلٹ ون روڈ'' کی مدد سے ہم دہشت گردی اور انتہا پسندی کا بھی خاتمہ کر سکتے ہیں کیونکہ جس سمت میںیہ منصوبہ جا رہا ہے اس کی مدد سے ہم آہنگی، رواداری اور مختلف ثقافتوں کو پھیلا سکتے ہیںاور جغرافیائی معاشیات، جغرافیائی سیاست سے زیادہ ضروری اور فائدہ مند ہے جس کی مدد سے ملکوں کے مابین تصادم کے بجائے تعاون کو فروغ ملے گا۔ آج آٹھ دہائیوں کے بعدحکیم الامت علامہ اقبال کے خواب کوتعبیرملنے جارہی ہے اور اس منصوبے کے تحت کاشغر کو دو ہزار میل دور گوادر سے جوڑنے کاخواب اب حقیقت میں بدلنے جارہاہے ۔ کھول آنکھ ، زمیں دیکھ ، فلک دیکھ ، فضا دیکھ مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved