بلاضمانت وارنٹ گرفتاری اورحکومت کا تحفظ!
  18  مئی‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
٭کراچی کی خصوصی عدالت نے براہ راست رینجرز کو حکم دیا ہے کہ وہ ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار اور عامر خان کو گرفتار کرکے آئندہ پیشی پر عدالت میں پیش کرے۔ عدالت متعدد بار ان دونوں کے بلاضمانت وارنٹ گرفتاری جار ی کر چکی ہے مگر پولیس ان احکام پر عمل نہیں کررہی۔ یہ لوگ سرعام پریس کانفرنسیں اور تقریریں کررہے ہیں اور پولیس ہر بار عذر پیش کردیتی ہے کہ مطلوب ملزمان نہیں مل سکے۔ اس بار عدالت برہم ہوگئی کہ ملزم سامنے پھر رہے ہیں اور پولیس انہیں گرفتارنہیں کررہی۔ ان دونوں پر 22 اگست کو کراچی میں الطاف حسین کی پاکستان دشمن تقریر کے جلسے میں شریک ہونے کاالزام ہے۔ اب نیامسئلہ یہ سامنے آگیا ہے کہ کیا کوئی سول عدالت براہ راست فوج یا اس کے کسی شعبے کو کوئی حکم جاری کرسکتی ہے؟ دوسرا پہلو یہ ہے کہ اسلام آباد کی ایک عدالت بھی بار بارعمران خاں، ڈاکٹر طاہر القادری اورجہانگیر ترین کے بلاضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرچکی ہے مگر پولیس انہیں گرفتار کرنے کی بجائے ان کو پروٹوکول دے رہی ہے۔ تو کیا اب اسلام آباد کی عدالت بھی ان لوگوں کو گرفتار کرنے کے لیے فوج کو حکم دے گی؟ حیرت ہے کہ اس ملک میں کیا ہورہاہے؟ بڑے ناموں والے سیاستدانوں کی نخوت ، تکبر اور رعونت کا یہ عالم ہے کہ پولیس ان کی طرف دیکھنے سے بھی گھبراتی ہے۔ جس ملک میں پولیس قانون پرعمل کرنے کی بجائے خود اس کی دھجیاں اڑائے، اس ملک میں آئین، قانون کا اللہ ہی حافظ ہے! ٭ کراچی میں مال بردارٹرکوں اور کنٹینروں وغیرہ کی ہڑتال کودس دن سے زیادہ ہوچکے ہیں۔ اس دوران ملک کی درآمد برآمد بند ہوجانے سے ملک کی معیشت کو30ارب روپے سے زیادہ کانقصان پہنچ چکا ہے۔ کراچی میںبند پڑے ہزاروں ٹرکو ں اور کنٹینروں میں کروڑوں روپے کا سامان ضائع ہوچکا ہے۔ باہر سے آنے والے جہازوں نے پاکستان آنے سے انکار کردیا ہے۔ گزشتہ روز گورنر سندھ نے دو بار ٹرانسپورٹروں کو بلایا مگر انہوں نے ہڑتال ختم کرنے سے انکار کردیا ۔ مطالبہ جو بھی ہو، ٹرانسپورٹروں کا یہ رویہ صریحاً ملک دشمنی کا مظہر ہے۔ یہ لوگ انتہائی طاقت ور مافیا بن چکے ہیں جو وقفے وقفے کے بعد حکومت کو بلیک میل کرنے پراترآتا ہے اور ہڑتال کر دیتا ہے۔ان کی ہڑتال کے باعث لاکھوں محنت کش بے روزگار ہوچکے ہیں۔ درآمد بند ہونے سے سینکڑوں فیکٹریاں اور ملوں کا کام رک گیا ہے، باہر سے آنے والی ضروری اشیاء کی عدم فراہمی سے ملک میں ان اشیاء کی کی سخت قلت اورقیمتوں میں اک دم اضافہ کا خدشہ ہے۔ اس ٹرانسپورٹ مافیا کا ہر رکن کروڑ پتی ہے۔ یہ لوگ چند ماہ میں ایک ٹرک سے دوسرا ٹرک، ایک کنٹینر سے دوسرا کنٹینر بنا لیتے ہیں۔ ملک کی ساری صنعتیں ، زرعی پیداوار کی نقل و حرکت اسی مافیا کے زیر اثر ہوتی ہے۔ مگر پھروفاقی یا صوبائی حکومتیں کیا کررہی ہیں؟ اب بھی حسب روائت یہی کچھ ہوگا کہ ایک دو دنوں کے بعد حکومت پھر گھٹنے ٹیک دے گی جس طرح ڈاکٹروں اور اساتذہ وغیرہ کی ہڑتالوں کو چند دن چلنے دیاجاتا ہے پھران کے سارے مطالبات تسلیم کرلیے جاتے ہیں۔ ٭آصف علی زرداری نے پورا منہ کھول کر آواز کو آخری حد تک بلند کرکے اعلان کیا کہ ملک کو کراچی سے طور خم تک بند کردونگا۔ مولانا فضل الرحما ن نے قومی اسمبلی میں غضب ناک ہوتے ہوئے کہا کہ میں ہر چیز کوبند کردونگا۔ تھوڑی دیر بعد مولانا نے تو یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ دل کا مریض ہوں، بعض اوقات غصہ زیادہ آجاتا ہے، میں اپنے الفاظ پر معذرت کرتا ہوں۔ آصف علی زرداری نے آج تک ملک بند کرنے کی بڑھک واپس نہیں لی، نہ ہی اپنی کسی میڈیکل کمزوری کا سہارا لیا ۔البتہ یہ کہ ایک بار خود ان کے وکیل نے ایک عدالت میں ان کی ذہنی کمزوری کا حوالہ دے کر ان کی جان چھڑائی تھی۔ اب وہ ایک عرصے سے پاکستان کی فوج کے گن گار ہے ہیں۔ با بار اس کے ساتھ کھڑے ہونے کا یقین دلارہے ہیں۔ پتہ نہیں پاکستان فوج ان باتوں کو کوئی اہمیت دیتی ہے یانہیں؟ ویسے فوج کی روائت یہ ہے کہ وہ سب کچھ برداشت کرسکتی ہے اپنی اور اپنے کمانڈروں کی تحقیر برداشت نہیں کرتی، ہمیشہ یاد رکھتی ہے۔ ٭فاروق ستار نے ایک پریس بیان میں دھمکی دی ہے کہ انہیں گرفتار کرنے کا مطلب پوری ایم کیو ایم کو گرفتار کرنا ہے۔ اس بات کے جو بھی نتائج دکھائی دے رہے ہوں مگر فاروق ستارصاحب! کیا آپ ملک کے آئین وقانون کے دائرہ اثر سے ماورا کوئی تقدس مآب آسمانی مخلوق ہیں؟ آپ کو عدالت نے بار بار بلایا، آپ کیوں نہیں جاتے ؟ یہ کھلی عدالتی توہین ہے۔ آپ لوگوں کے ذہن سے پرانی رعونت اور ایک اشارے پر پورا شہر بند کردینے کا گھمنڈ اسی طرح برقرار ہے مگر محترم !وقت اور کیلنڈر تبدیل ہوچکے ہیں ! دیواروں پر نئی تحریریں لکھی جا چکی ہیں۔ نئے سورج طلوع ہوچکے ہیں اور نئے پودے بلند ہو چکے ہیں،شائد آپ کو کسی نے نہیں بتایا! ٭بہت مختصر خبر: سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ وزیراعظم کے ہمراہ چین گئے ۔ ایک دوسرے سے جھپیاں ڈالیں۔ اکٹھے کھانے کھائے اور بھائی بھائی کے بول بولے …اور کراچی واپس آتے ہی وزیراعلیٰ نے پہلا بیان دیا ہے کہ نوازشریف کو وزیراعظم کے عہدے پر نہیں رہناچاہیے۔ ٭ضلع جھنگ کے گاؤں چک171منگانی میں ایک پٹواری کو10ہزار روپے رشوت لینے پر گرفتار کرگیا! بے چارا دیہات کا بھولا بھالا پٹواری تھا، صرف دس ہزارکی رشوت مانگی ! لاہور کے کسی پٹواری سے بات کرکے دیکھیں ! ٭پنجاب کے سابق دھڑلے دار آئی جی مشتاق سکھیرا نے ریٹائر ہونے کے بعد چار سرکاری گاڑیاں واپس نہ کیں۔ ان میں دو عام بڑی اور دونہائت لگژری والی گاڑیاں ہیں۔ سابق آئی جی کو بار بار لکھا گیا کہ سرکاری گاڑیاں واپس کریں۔ انہوں نے انکار کردیا۔ گزشتہ روز نئے قائم مقام آئی جی عثمان خٹک نے چار سرکاری ڈرائیور بھیجے جو گاڑیاں قبضہ میں کرکے واپس لے آئے ! پتہ نہیں بے چارے سابق آئی جی کے پاس کوئی ذاتی گاڑی ہے یا نہیں ؟ شائد رکشے پر جاتے ہوں! ٭ پیپلز پارٹی کے دور کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان کی تحریک انصاف میں شامل ہونے کی خبریں چھپی ہیں۔ موصوفہ گزشتہ انتخابات میں ہار گئی تھیں۔ وہ وزیر اطلاعات بنیں تو فوری طورپر اسلام آباد،کراچی، پشاور اورکوئٹہ میں صحافیوں کو فائیوسٹار ہوٹلوں میں ضیافتیں دیں( سرکاری خرچ پر) ۔ پھر کراچی میں کابینہ کے ایک اجلاس میں پھوٹ پھوٹ کر روئیں کہ ان کے محکمے کے افسر ان کے احکام نہیں مانتے! ٭مانسہرہ سے ایک قاری نے پوچھا ہے کہ یہ شعر کس شاعر کا ہے ''تندیٔ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب،یہ تو چلتی ہے تجھے اُونچا اُڑانے کے لیے''؟(یہ شعر شکر گڑھ کے معروف بزرگ شاعر سید صادق حسین شاہ کا ہے جوانہوں نے1919ء میں کہا تھا۔ ان کے شعری مجموعہ 'برگ سبز'میں موجودہے۔ ٭ایس ایم ایس: ہمارے گاؤں میں دو ماہ سے دونوں ٹیوب ویل خراب ہیں۔ دریائے کرم سے پانی لانا پڑتا ہے۔ اس سے بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ کوئی شنوائی نہیں ہورہی ۔ ایم این اے ، ایم پی اے کوئی بات نہیں سن رہے۔ اپیل چھاپ دیں ، شائد کوئی اثر ہو۔ ملک نعمت بازید گاؤں کچھ کوٹ بنوں۔ ٭2005ء کے زلزلہ سے ہمارا پرائمری سکول تباہ ہوگیا۔ آج تک تعمیر نہیں ہوا۔ بارش ہو تو بچوں کو چھٹی کرنا پڑتی ہے۔ اسے تعمیر کرنے کی اپیل چھاپ دیں ۔ محمد فیاض پوچھیریا بھجیرا آزاد کشمیر(0345-4807243) ٭پبلک سروس کمیشن والے ٹیسٹ لینے کے لیے بھاری فیس لیتے ہیں مگر ان کا کسی ڈویژن میں کوئی سنٹر نہیں۔ بھاری اخراجات اور طویل فاصلہ طے کرکے مظفر آباد جانا پڑتا ہے۔ ایسا سنٹر میرپور میں بھی بنایاجائے۔ سید افتخار شاہ کوٹلی آزاد کشمیر(0347-5225969)

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 




  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved