تعاون کا سفر
  19  مئی‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

وقت کے ساتھ ساتھ انسانی رویے بھی تبدیل ہوتے ہیں اور باہمی تعلقات کے پیمانے بھی۔ کوئی وقت تھا دنیا ''مسابقت'' کی دوڑ میں تھی۔ اس دوڑ کو سرمایہ دارانہ نظام کا خاصہ سمجھا گیا۔ طاقتور کی بقا کا یہ فلسفہ مسابقت کی دوڑ میں کمزور کو پیچھے چھوڑتابلکہ مٹاتا چلا گیا۔ اس نظام پر نکتہ چینی ہوئی تو نظام کے وکیل اور بینی فشری یہ کہتے ہوئے سامنے آ گئے کہ''ہم ہر کسی کو مساوی موقع تو فراہم کر سکتے ہیں لیکن مساوی آٹ کم کی گارنٹی کیسے دے سکتے ہیں۔''کمیونزم متبادل معاشی نظام کی حیثیت میں آگے بڑھنے لگا تو سرمایہ داری نظام والوں کو فکر لاحق ہوئی۔ اس فکر کا نتیجہ یہ نکلا کہ یورپ اور امریکہ میں فلاحی ریاست کا تصور پنپنے لگا۔ سرمایہ داری نظام کوجدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور اس کی بنیادی خرابیوں کو دور کرنے کی یہ ایک سنجیدہ کاوش تھی۔ اس کاوش کا اثر معاشرہ پر اس طرح پڑا کہ ''مسابقت'' کے بالمقابل ''موافقت'' کی بات کی جانے لگی۔ یوں "Wine-loose"کی جگہ "Win-Win"کی اصطلاح مقبول ہوتی گئی۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ آج کی دنیا کو ہم نے کہتے سنا کہ ''ہنس لمبا عرصہ بارش اور طوفان میں اڑ سکتے ہیں چونکہ وہ جتھے کی صورت میں اڑتے ہیں۔'' دنیا کوتعاون کا سبق دیتے ہوئے کیسی خوبصورت مثال چینی صدر نے دی ہے۔ آج چینیوں کا تصورساری دنیا کو ون بیلٹ ون روڈ کے تحت آپس میں ملاتا ہے ۔ ظاہر ہے یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اختلافات کی ایک دنیا ہے اور اپنے اپنے مفادات لیکن اختلافات ہار جائیں گے چونکہ چینی دنیا سے جس تعاون کے خواہاں ہیں اس کے مقاصد سیاسی نہیں ہیں۔ چینی صدر نے واضح کیا ہے کہ ون بیلٹ ون روڈ وژن سے عالمی معیشت کو لاحق خطرات سے نمٹا جا سکتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ عالمی کساد بازاری صرف ایک خطے تک محدود نہیں رہتی۔ انیسویں صدی کے دوسرے اور تیسرے عشرے میں یورپ کی کساد بازاری سے امریکہ بھی متاثر ہوا تھا۔ یہ امریکہ کی عالمی تنہائی کا خاتمہ تھا۔ قبل ازیں امریکہ دنیا کے معاملات سے الگ تھلگ اپنی دنیا میں مگن تھا لیکن یورپ کی بگڑتی ہوئی معاشی صورت حال کے اثرات جب امریکہ پہنچنا شروع ہوئے تو پھر دنیا کو سمجھ آئی کہ ہر خطے کی معیشت اپنی جگہ ایک اہمیت رکھتی ہے۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کا وجود اس سوچ کا ایک مظہر ہے لہٰذا جہاں معاشی بدحالی پیدا ہونے لگتی ہے وہاں عالمی اداے پیکیج لے کر پہنچ جاتے ہیں۔کچھ عرصہ قبل مشرق بعید کی ریاستوں میں شدید مالی بحران پیدا ہوا۔ تووہاں اربوں ڈالر کے امدادی پیکیج تقسیم ہوئے۔ صرف انڈونیشیا اور تھائی لینڈ کے لیے بالترتیب 18رب ڈالرز اور 17.1ارب ڈالر کا اعلان کیا گیا۔ کوئی سوچ سکتا ہے کہ سات سمندر پار بیٹھے لوگوں کو کیا پڑی تھی کہ وہ بیسویں صدی کی تاریخ کے سب سے بڑے امدادی پیکیج کا اعلان مشرق بعید کی ریاستوں کے لیے کرتے۔ دنیاجان چکی ہے کہ معاشی بدحالی اور معاشی خوشحالی تمام دنیا میں ''انٹرلنکڈ'' (interlinked)ہے۔ چین آج معاشی خوشحالی پھیلانے کے مشن پر گامزن ہے تو اس کے پیچھے یہی سوچ کارفرما ہے۔ چینی معاشی خوشحالی اور معاشی ترقی کی راہ اسی صورت آگے بڑھ سکتا ہے جب وہ تمام دنیا کو اپنا شریکِ سفر کر لے۔ چین کے موجودہ صدر ذی جن پنگ کے انیشیٹو کی وجہ سے آج دنیا میں تعاون کی نئی راہیں کھل رہی ہیں اور بزنس کا نیا ماحول بن رہا ہے۔ معاشی ترقی کے لیے جنرل نیٹ ورک فٹنس کو بنیادی اہمیت حاصل ہے اور ہمیں یہ دیکھ کر خوشی ہو رہی ہے کہ چین اقتصادی راہداری کے منصوبوں میں اس کو خصوصی اہمیت دے رہا ہے۔ ماہر معاشیات ہمیں بتاتے ہیں کہ کسی ملک یا خطے کی معاشی نیٹ ورک فٹنس میں چار عوامل اہم سمجھتے جاتے ہیں۔ اول انسانی ترقی، دوم باہمی ربط، سوم انوسٹمنٹ پالیسی، چہارم پرائیویٹ سیکٹر کی شرکت۔ چین کا ون بیلٹ ون روڈ انیشیٹو محض سڑکوں اور شاہراہوں کی تعمیر تک محدود نہیں ہے۔ کوشش کی جا رہی ہے کہ باہمی ربط کے ساتھ ساتھ انسانی ترقی پر بھی کام ہو اور ایک اچھی انوسٹمنٹ پالیسی کے تحت پرائیویٹ سیکٹر کی شرکت بھی یقینی بنائی جا سکے۔ دنیا کے پسماندہ ممالک جن میں مسلمان ممالک کے ساتھ افریقی ممالک بھی سرفہرست ہیں میں باہمی ربط (Connectivity) اپنی جگہ اتنا بڑا ایشو ہے کہ اگر یہاں صرف سڑکیں ہی بن جائیں تو ایک انقلاب آ سکتا ہے۔ 2006 میں مسلمان ممالک کی تنظیم "Sesric"نے او آئی سی ممالک میں موجود سڑکوں کے حوالے سے اعداد و شمار مرتب کیے تو یہ خوفناک انکشاف سامنے آیا کہ 1998کے مقابلے میں سڑکوں کی تعداد گھٹ کر 1271ہزار کلومیٹر رہ گئی ہے۔ دنیا میں سڑکوںکی کل لمبائی کا یہ صرف 8.5فیصد حصہ ہے۔ یعنی مسلمان آبادی کے لحاظ سے تو دنیا کی آبادی کا ایک تہائی ہیں لیکن معاشی ترقی کے تمام اعشاریوں کے لحاظ سے ان کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ ریلوے لائنوں کے اعتبار سے صورت حال اور بھی دگرگوں ہے۔ اوآئی سی ممالک جن میں پاکستان ' ایران' ترکی اور مشرق وسطی کے ممالک کے علاوہ افریقہ کے مسلمان ممالک بھی شامل ہیں کی ریلوے لائنوں کی لمبائی صرف 75000 کلومیٹرہے جب کہ اکیلے روس میں 84000کلو میٹر طویل ریلوے لائن موجود ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو چین ون بیلٹ ون روڈ کے تحت پانچ براعظموں میں سڑکوں اور ریلوے لائنوں کا جو جال بچھارہا ہے اس کے سب سے بڑی بینی فشری مسلمان ممالک ہوں گے۔ چینیوں کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے کمیونزم اور کیپیٹل ازم کے فلسفوں کو ملا کر انسانی فلاح اور معاشی ترقی کا ایک نیا ماڈل تیار کیا ہے جس وجہ سے ہر گذرتا دن چین کی کامیابی کا دن ہے اور اچھی بات یہ ہے کہ اس کامیابی سے تمام دنیا بھی مستفید ہو رہی ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved